ٹوں ٹوں۔ ٹِک ٹِکا ٹِک۔

1,750

یہ عجیب نامانوس سی آواز سن کر وہ چونک اٹھا۔ رات کا کھانا اس نے ضرورت سے کافی زائد کھا لیا تھا جس کے بعد اسے بدہضمی ہونا ہی تھی۔ چناچہ کھٹی ڈکاریں لیتا ہوا وہ رات کے بارہ بجے چھت کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دھیمے دھیمے قدموں سے چل رہا تھا۔

بدہضمی ہونے کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ رات اس کے والد سے ملنے ایک مہمان تشریف لائے تھے۔ موضوع سخن اسی کی ذات تھی لیکن ازحد تکلیف اسے اپنے والد کے ان الفاظ سے پہنچی تھی جن میں اسے واشگاف انداز میں نااہل، نکما اور بے وقوف قرار دے کر کسی کام دھندے سے لگوانے کی درخواست کی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مصداق اس کے چھوٹے بھائی کی تعریفوں کے پل بھی باندھے گئے تھے۔

ٹوں ٹوں ٹِک ٹِکا ٹِک کی آواز سن کر اس نے قدرے خوف زدہ انداز میں ادھر ادھر دیکھا۔ تاروں کی دھیمی روشنی میں اسے پانی سے بھری پلاسٹک کی نیلی ٹینکی کے اوپر ایک مختصر سا ہیولا دکھائی دیا۔ اچانک وہ ہیولا اپنی جگہ سے بلند ہوا اور تیر کی طرح اس کی طرف آیا۔ اس کی گھگھی بندھ گئی۔ مگر وہ ہیولا اس سے قریب ایک فٹ کے فاصلے پر پینچ کر ہوا میں معلق ہو گیا۔ یہ محیر العقول منظر دیکھ کر وہ چکرا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

ہوش آیا تو تاروں بھرا آسمان نگاہوں کے سامنے تھا۔ وہ یہ سمجھا کہ زیادہ کھانے کی وجہ سے گیس اس کے دماغ کو چڑھ گئی ہے۔ جیسے ہی وہ اٹھا اسے ایک بار پھر وہی ٹوں ٹوں ٹِک ٹِکا ٹِک کی آواز سنائی دی۔ وہ اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے رونگٹے اور سر کے اطراف موجود چھدرے بال ایک بار پھر خوف سے کھڑے ہو گئے۔ دفعتاً اس کی نظر اسی ہیولے پر پڑی جو اس کی آنکھوں کے عین سامنے فضا میں معلق تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکل گئی۔ ہیولا بدستور نگاہوں کے سامنے تھا۔ اس کے انداز سے جارحانہ پن ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔

اس نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا اور وہ معلق ہیولا نرمی سے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اتر آیا۔ اب اس نے غور سے دیکھا۔ وہ تقریباً نو انچ کا ایک نہایت ہلکا پھلکا وجود تھا مگر اس کے خدوخال نہایت عجیب تھے۔ (مسٹر ڈینٹونک کو ذہن میں لایئے۔ یہ بالکل ویسا ہی وجود تھا)۔ اس کے گول گول چہرے پر دو مختصر آنکھ نما سرخ نشان تھے جن سے شعاعیں سے پھوٹ رہی تھیں۔ آنکھوں کے علاوہ چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔

اسی لمحے اس مخلوق کی آنکھوں سے پھوٹتی شعاعیں تیز ہوئیں اور ایک بار پھر اس کے کانوں سے ٹوں ٹوں ٹِک ٹِکا ٹِک کی آواز ٹکرائی۔

“کیا تم مجھ سے مخاطب ہو؟” اس نے سوال کیا۔

سرخ آنکھیں چمک اٹھیں اور ٹوں ٹوں ٹِک ٹِکا ٹِک کی آواز سنائی دی۔

“مگر مجھے تمہاری کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔” اس نے بے بسی سے کہا۔

اسی لمحے اس کی نظر مخلوق کے ننھے منے سے ہاتھ پر پڑی۔ اس میں ایک قرمزی رنگ کا چھوٹا اور چمک دار سا بٹن تھا۔ مخلوق نے وہ بٹن اس کی طرف بڑھا دیا اور اس بٹن کو کان میں لگانے کا اشارہ کیا۔ اس نے بٹن کان میں لگا لیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ حیرت کے شدید جھٹکے سے دوچار ہو گیا۔ اس کے کانوں میں ایک باریک مگر واضح آواز گونجی۔

“اب تم میری بات سمجھ سکتے ہو۔”

“ارے یہ تو کمال ہو گیا۔” وہ بے اخیار ہو کر چلا اٹھا۔ اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ مخلوق جھنجنھا کر اس کی ہتھیلی سے پرواز کر گئی۔ اسے بھی احساس ہو گیا کہ رات کے سناٹے میں اس کی آواز کافی بلند ہو گئی تھی مگر وہ اس حیرت کا کیا کرتا جو اسے ہو رہی تھی۔

یہ اس کی زندگی کے نہایت سنسنی خیز لمحات تھے۔ آج تک وہ زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام نہ کر سکا تھا۔ اپنے والد کے عتاب کا بھی شکار رہتا تھا اور اس بات نے اس کی شخصیت پر ایسے اثرات مرتب کیے تھے کہ اس کے لیے روانی سے اور مربوط بات کرنا ممکن ہی نہ رہا تھا اس لیے اسے ہر وقت پرچی کی ضرورت پڑتی جس پر وہ نوٹس لیتا رہتا تاکہ اگر کسی سے گفتگو کرنی پڑ ہی جائے تو وہ نوٹس دیکھ کر اپنا مافی الضمیر بیان کر سکے۔

اسی وقت اس کے کانوں میں باریک سی آواز گھستی چلی گئی۔

“میں خلائی مخلوق ہوں اور اب میں تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہاری مدد کروں گا۔”

“میرے ساتھ کیسے رہو گے؟ میں کیسے تمہیں دنیا سے چھپا کر رکھ سکتا ہوں؟”

“تم اس کی فکر مت کرو۔ بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ تمہاری قسمت کا ستارہ چمکنے والا ہے۔ بس ایک بات یاد رکھنا۔ تمہاری زندگی کا نیا موڑ میری وجہ سے ہو گا۔ اور اگر زندگی میں کسی لمحے تم نے میری کسی بھی بات کو ماننے سے انکار کیا تو تم ذلیل ہو کر رہ جاؤ گے۔ اگر یہ بات منظور ہے تو میرے ساتھ معاملہ طے کر لو۔ اگر نہیں تو میں تمہارے چھوٹے بھائی سے معاملہ کر لیتا ہوں۔” باریک سی مگر شاطرانہ آواز میں خلائی مخلوق نے اسے بتایا۔

اس نے بغیر سوچے سمجھے ہاں میں سر ہلا دیا اور معاملہ طے کر لیا۔ خلائی مخلوق نے اسے بتایا کہ دنیا میں صرف وہی اس مخلوق کو دیکھ سکتا ہے جس کو وہ خلائی مخلوق اپنا آپ دکھانا چاہے۔ اس لیے اگر کبھی زندگی میں اس نے خلائی مخلوق کا ذکر کیا تو لوگ اس کی بات کا یقین نہیں کریں گے۔

اس بات کو تقریباً چالیس برس ہونے کو آ رہے ہیں۔  ان چالیس برسوں میں خلائی مخلوق نے اس کی ہر قدم پر راہنمائی اور مدد کی اور اس کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔

مگر اب حالات اس کے لیے بدل گئے ہیں۔ اس نے خلائی مخلوق کی ایک بات ماننے سے انکار کر دیا تھا چناچہ اب خلائی مخلوق اس سے انتقام لینے پر اتر آئی تھی۔ اس کی قسمت نے یو ٹرن لے لیا تھا۔ وہ دنیا کو بتاتا تھا کہ اس کا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے مگر دنیا اس کی باتوں پر ہنستی تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کو اپنی بات کا یقین نہیں دلا پا رہا تھا۔

اور دوسری طرف خلائی مخلوق ایک اور گھر کی چھت پر اتر کر ٹوں ٹوں ٹِک ٹِکا ٹِک کرتے ہوئے معاملات طے کر رہی تھی۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. Maryam Ahmad کہتے ہیں

    hahahaha very nice

  2. Samina Roohi کہتے ہیں

    حالات حاضرہ پر انتہای دلچسپ تبصرہ۔

  3. عدنان کہتے ہیں

    خلائی مخلوق کا مذاق اڑا رہے ہو آپ۔۔۔۔۔ :-(

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      نہیں تو۔ میں نے تو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

  4. AbuFaizan کہتے ہیں

    آپ پانچ سال سے پڑھ رہے ہیں۔۔۔ ابھی پڑھتے رہیں

تبصرے بند ہیں.