12 مئی کے بعد کا کراچی

923

بارہ مئی 2007ء ہفتے کا دن چیف جسٹس افتخار چودھری کی کراچی آمد پر ان کا استقبال کرنے کا دن تھا۔ جب ایک منصف کو انصاف کیلئے عوامی عدلت کا سہارا لینا پڑا۔ سارے ملک کے وکیل چیف جسٹس کے ساتھ قدم سے قدم ملائے کھڑے تھے۔ یہ وہ دن تھا جب انہیں کراچی میں وکیلوں سے خطاب کرنا تھا۔

ان دنوں کراچی میں ایم کیو ایم لندن سے براہ راست کنٹرول ہوا کرتی تھی۔ ابھی فاروق ستار اور دیگر گروپ وجود میں نہ آئے تھے۔ ابھی بانی ایم کیو ایم کے ایک دو تین کہنے پر جناح گراؤنڈ میں سارا مجمع خاموش ہو جایا کرتا تھا۔

گیارہ مئی کی رات سے ہی شہر بھر میں موت کا سناٹا طاری تھا۔ ابھی صبح ہی تو میں کراچی کے مقامی ٹی وی چینل پر صبح آٹھ بجے اپنا لائیو پروگرام کرکے اٹھا تھا۔ جس میں فقط پچاس افراد کی ہلاکت کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ وہ بھی اگر تصادم ہو گیا تو لوگوں کی تعداد کم از کم پچاس ہوگی۔ کیا خبر تھی میری وہ پیشن گوئی درست ثابت ہوگی۔
ppp-haqiqi-terrorists01ان دنوں میرے یہاں صرف اخبار آیا کرتا تھا، کیبل ٹی وی تو تھا نہیں۔ یہ الگ بات کہ میں ٹی وی پر ان دنوں پروگرام بھی کر رہا تھا۔ جمعہ کا روز گزر گیا۔ صبح ہفتہ بارہ مئی تھی۔ ہفتہ اتوار پروگرام نہیں ہوتا تھا تو صبح آرام سے جاگا کیونکہ ان دنوں شہر میں ہڑتال یا ہنگاموں میں لوگ آرام ہی کیا کرتے تھے۔

ان دنوں میں ٹی وی کے ساتھ ایک این جی او کے ساتھ بھی کام کرتا تھا اور اخبار کیلئے ہفتہ وار کالم بھی لکھتا تھا۔ تیرہ مئی کو مجھے اسلام آباد این جی او کی آٹھ روزہ ٹریننگ میں شرکت کرنا تھا۔ میرا ٹکٹ بن چکا تھا۔ اگر رہ جاتا تواین جی او کی نوکری بھی جاتی اورچلا جاتا تو ٹی وی کا پروگرام ہاتھ سے جاتا تو سوچا ٹی وی والوں نے کب وقت پر پیسے دینے ہیں، صرف شہرت سے پیٹ تو نہیں بھرتا ورنہ میں تین کام ایک ساتھ کیوں کرتا بھلا۔

132435_20150512-joharcomplex-01تیرہ مئی اتوار گھر کے باہر سڑک پر ٹیکسی یا رکشا کا انتظار میں خاصا وقت گزرا۔ کوئی ایئرپورٹ جانے کو تیار ہی نہ تھا، گویا بارہ مئی کا خوف ابھی باقی تھا۔ ابھی سڑک کنارے کھڑا تھا کہ سامنے واقع گھر سے میرے واقف فیضی بھائی اپنی موٹر سائیکل پر نکلے۔ مجھے سڑک پر کھڑے دیکھا اور ساتھ بیگ رکھا دیکھا تو قریب آئے اور پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے۔ ان کو بتایا تو بولے میں ایک اور کام سے جا رہا ہوں۔ چلو تھوڑا آگے چھوڑ دیتا ہوں۔ کوئی ٹیکسی یا رکشا مل جائے گا۔ یقین کریں کہ ہم ایئر پورٹ جا پہنچے مگر راستے میں کسی بھی ٹیکسی اور رکشے نے خوف کے مارے ایئرپورٹ جانے کی حامی نہ بھری۔

32267094_1729753250449077_8811562592465059840_n

فیضی بھائی گویا میرے لئے تو اس لمحے فرشتے سے کم نہ تھے جب سارا شہر خوف کے عالم میں تھا وہ ایک شخص مجھے جان کی بازی کھیل کر اپنے ساتھ لے گیا۔ میرا صحافتی کارڈ کئی جگہ کام آیا۔ ہر جگہ پولیس نے روکا بھی اور ہم رکے بھی۔ ایئرپورٹ پر پہنچ کر میں نے فیضی بھائی کو اپنا صحافتی کارڈ تھمایا کہ وہ اسے اپنے پاس رکھیں، کوئی مسئلہ ہو تو دکھا دیں۔ یوں میں اسلام آباد چل پڑا۔

l_118625_033123_updatesپڑی رہیں لاشیں راہوں میں
نہ ملے اماں بانہوں میں
گھومتی رہے موت نگاہوں میں
کرتے رہیں دفن آہوں میں
ڈوبا ہے لہو میں شہر
بہتی ہے خون کی نہر
قتل ہے انسان کا حرام
پیتا ہے قاتل خونی جام
بگڑ رہے ہیں حالات مزید
کھلے پھر رہے ہیں یزید

کلام راجہ کاشف جنجوعہ

ذہن ایک ہی بات سوچتا ہے کہ ہم نے بارہ مئی سے کیا سیکھا۔ کیا انداز ِحکمرانی تبدیل ہو گیا یا اس کے بعد وکیل گردی جیسی اصطلاح بھی ہمارے سامنے آئی۔ ہر ادارہ اور ہر جماعت اپنے اندر سے تشدد پسند افراد کو ابھرنے سے نہ روک سکا۔ کسی دور میں طالب علم جماعتیں درس گاہوں میں تشددپسندی کی علامت ہوا کرتی تھیں۔ مگر پھر کیا ہوا نہ وکیل بچے اور نہ کوئی جماعت۔ اس بارہ مئی کے بعد تو سب ہی تشدد پسند ہوگئے۔ ہمیں اس تشدد پسندی کو اپنے ذہنوں میں سے نکال پھینکنا ہوگا ورنہ سارا معاشرہ برباد ہو جائے گا۔ سوچئے گا ضرور۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. محمدزبیرشرفی کہتے ہیں

    ہمارے ملک کی بد نصیبی کہ مشرف جیسے خود غرض ملک کے حاکم رہے

تبصرے بند ہیں.