وسط ایشیاء کے سفرنامہ سے ایک ورق

موت کا نشان جو موت کے حکم سے بچ گیا

2,370

بخارا کے چھوٹے سے ہوائی اڈے سے جب میں شہر کی سمت جارہا تھا تو پتلی سی سڑک کے دونوں طرف ریت کے بے ہنگم ٹیلے دکھائی دئے اور ان کے پیچھے دور تک وہ کھیت تھے جو کپاس کی پے در پے فصلیں اگا کر بد حال نظر آتے تھے۔پھر ان سے پرے دور تک روسی انداز کے فلیٹوں کی عمارتیں کھڑی پرولتاری دور کی ناکامی کی یاد دلا رہی تھیں۔

میرا دل دھک سے رہ گیا۔ کیا یہ زر افشاں دریا کی وہی سر زمین ہے جس نے دنیا کی تہذیب و تمدان کی تاریخ کو شان و شوکت اور فخر و افتخار سے مالا مال کیا تھا۔ اور کیا یہ پتلی سے سڑک، چین کو یورپ سے ملانے والی وہی، شاہراہ ریشم ہے جس پر واقع بخارا صدیوں تک علم و حکمت، فن و حرفت اور آرٹ اور ثقافت کا ایک درخشاں مرکز رہا ہے،

لیکن جیسے ہی زر افشاں دریا پار کر کے جب میں شہر کے مضافات میں پہنچا تو سامنے صدیوں پرانے، دو بڑے بڑے میناروں کے بیچ میں ایک دروازہ نظر آیا۔ یہ بخارا کے چار دروازوں میں سے بچا ہوا ایک دروازہ ہے جو تاریخ کے آشوب اور موسم کے ستم جھیل کر بھی ڈٹا کھڑا تھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی اینٹوں پر مجھے رشک آیا کہ انہوں نے کیسے کیسے دور دیکھے ہوں گے۔ کیسے کیسے لوگوں کو دیکھا ہوگا، ان کی باتیں سنی ہوں گی۔ ان میں سے بہت سوں کی آرزوئیں پوری ہوتی دیکھی ہوں گی اور بہت سو ں کی تمنائوں کی ناکامی کے درد کو محسوس کیا ہوگا۔ اس دروازہ کے مسمار شدہ دروازہ کا ایک حصہ ان سب باتوں کی شہادت دیتا نظر آتا تھا۔

بخارامحض چند صدیوں پرانا شہر نہیں۔ یہ تین سو تیس سال قبل مسیح میں بھی تجارت اور ثقافت کا اہم مرکز تھاجب یہاں سے سکندر اعظم گزرا تھا۔ کہتے ہیں اس شہر کا موجودہ نام بودھوں کے زمانے میں پڑا تھا ۔ یہاں بدھ مت کی ایک بڑی عبادت گاہ تھی جو ”ویہارہ” کہلاتی تھی اور یہ نام بدلتے بدلتے پہلے ”بے خارہ” اور پھر بخارا بن گیا۔

آٹھویں صدی تک یہ شہر زرتشتیوں کا اہم مرکز تھا۔ لیکن جب 711ء میں عین اس وقت جب محمد بن قاسم بحیرہ عرب پار کر کے سندھ میں داخل ہوئے، ایک اور عرب جرنیل ، قنیبہ ابن مسلم، آمو دریا پار کر کے وسط ایشیاء میں داخل ہوئے تھے اور دو برس کے اندر اندر یہ بخارا اور سمرقند فتح کرتے ہوئے مشرق میں سنکیانگ میں کاشغر تک پہنچ گئے۔ یہ فوجی فتح تھی۔۔لیکن در حقیقت اسلام کی روشنی اس سے کئی برس پہلے رسول اللہ ﷺ کے ایک عم زادے حضرت قاسم بن عباس نے پھیلائی تھی۔

Naqshbandi_bukhara

بخارا کی قدیم تاریخ کے اوراق ذہن میں الٹتا ہوا جب میں پرانے شہر کے مغربی سرے پر پہنچا تو دیکھا کہ سامنے گہرے آسمان کے پس منظر میں خاکی اینٹوں کا بنا ہوا ایک خوبصورت چوکور مقبرہ کھڑا ہے اپنی ایک نرالی آن بان کے ساتھ۔ مقبرہ سادہ اینٹوں سے اس ترتیب اور کاری گری سے سجا ہوا تھا کہ دیواریں اینٹوں سے بنی ہوئی نظر آتی تھیں۔ قندیلیں بھی دیواروں میں اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں اور اوپر گنبد بھی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔ کرشمہ ان اینٹوں کا یہ تھا کہ سورج کی روشنی کے ساتھ ساتھ ان کا رنگ بھی بدلتا نظر آتا تھا۔ معجزہ یہ کہ یہ مقبرہ چنگیز خان کے حملے کی تباہی سے بچ گیا کیونکہ جس زمانے میں بخارا پر چنگیزی تباہی ٹوٹی اس وقت یہ مقبرہ ریت میں دبا ہوا تھا۔

یہ سامانی سلطنت کے چشم و چراغ، اسمعیل سامانی کا مقبرہ ہے۔ نویں صدی میں بخارا، سامانی سلطنت کا دارالحکومت تھا جس کی سرحدیں افغانستان میں ہرات تک اور ایران میں اصفہان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں بخارا کی آبادی تین لاکھ تھی اور اس شہر میں ڈھائی سو دینی مدرسے تھے جہاں یمن اور اندلس ایسے دور دراز مقامات سے طالب علم دینی علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔ اُس زمانے میں یہ محض دینی مرکز ہی نہیں تھا بلکہ سائنس اور دوسرے علوم کا بھی سر چشمہ تھا۔ کہتے ہیں کہ سامانی حکمران کے کتب خانے میں 45 ہزار کتابیں تھیں اور اس زمانے میں بخارا، بغداد کا ہم پلہ مانا جاتا تھا۔

Samanid_Mausoleum1

اسی کتب خانے سے حسین ابن عبداللہ ابن سینا نے فیض حاصل کیا تھا اور دنیا میں ابن سینا کے نام سے ایک فلسفی، طبیب، ماہر نجوم، ریاضی دان، موسیقار اور شاعر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔

کہا جاتا ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے سامانی حکمران کے ایک پرانے مرض کا ایسا کامیاب علاج کیا کہ جس سے خوش ہو کر بادشاہ نے انہیں اپنے کتب خانے سے فیض حاصل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ پھر اسی کتب خانہ میں ان کی اپنی تحریر کردہ کتابوں کا اضافہ ہوا۔ ابن سینا ہی نے سب سے پہلے ارسطو کا ترجمہ عربی میں کیا اور انہوں نے ادویات کی مشہور کتاب ” قانون ” مرتب کی جو علم طب کی انسایکلوپیڈیا مانی جاتی ہے۔ کئی سال تک ابن سینا سامانی دربار میں وزیر اعظم بھی رہے۔

بادشاہ کے محل کے قریب ہی بخارا کا کلاں مینار ہے۔ بارہویں صدی کا یہ مینار جو ڈیڑھ سو فٹ بلند ہے ، وسط ایشیا ء کا سب سے بلند مینار مانا جاتا ہے۔ اینٹوں سے بنے اس مینار کا اوپری حصہ بالکل روشنی کے مینار، لایٹ ہاوس کی مانند ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مینار اُس زمانہ میں قافلوں کی راہ نمائی اور ان کی نگرانی کے لئے استعمال ہوتا تھا لیکن میری راہنما نتاشا کا کہنا تھا کہ اور بھی مصرف تھے اس مینار کے ۔ ایک زمانے میں اس کلاں مینار کو ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد یا بادشاہ کے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے استعمال یا جاتا تھا۔ جسے سزائے موت سنائی جاتی تھی اسے پہلے سیڑھیوں سے اوپر لے جایا جاتا تھا پھر اسے نیچے شہر کا آخری نظارہ کرایا جاتا تھا اور پھر اسے بوری میں بند کر کے نیچے گرا دیا جاتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ سزائے موت کا یہ طریقہ بیسویں صدی کے اوائیل تک جاری تھا اور زار روس کے دور میں بھی اس مینار کا یہ مصر ف تھا۔

IMG_5948

یہ ستم ظریفی ہے کہ بارہویں صدی میں جب چنگیز خان نے بخارا پر حملہ کیا اور تین روز تک محاصرے کے بعد شہر میں داخل ہوا تو وہ اس مینار کو دیکھ کی انگشت بد نداں رہ گیا۔ چنگیز خان نے موت کے اس مینار کے علاوہ بخارا کی تمام عمارتوں کو زمیں بوس کر دینے کا حکم دیا۔ موت کے حکم سے موت کا یہ نشان بچ گیا۔ جو اب تاریخ کا ایک نشان رہ گیا ہے۔

بخارا نے چنگیز خان کی تباہی و بربادی ہی کا سامنا نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے حکمرانوں کا ظلم و ستم بھی دیکھا ہے۔ ایسے ہی حکمرانوں میں بخارا کا ایک حکمران نصر اللہ تھا جسکا طویل دور 1826ء میں شروع ہوا تھا، اقتدار اس نے اپنے والد اور اپنے بڑے بھائی کو قتل کر کے حاصل کیا تھا اس کے بعد اس نے اپنے تین چھوٹے بھائیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا تاکہ اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ امیر بخارا کا محل، قلعہ نما ہے اس میں دربار میں داخل ہونے کا دروازہ اتنا چھوٹا تعمیر کیا گیا ہے کہ جو بھی دربار میں داخل ہوتا اسے جھک کر جانا پڑتا۔ کیسا نرالا طریقہ اختیار کیا تھا اس زمانے میں امیر بخارا نے لوگوں کو اپنے سامنے جھکانے کا۔

کلاں مینار کے نزدیک ہی بخارا کا وہ تاریخی مدرسہ ہے جو ” میر عرب” مدرسہ کہلاتا ہے۔ یہ تین سو سال پرانا ہے۔ اس کے بارے میں میری راہ نما نتاشا نے بتایا کہ میر عرب واحد مدرسہ تھا جس میں کمیونسٹ دور میں بھی دینی تعلیم کی اجازت تھی۔ اُس زمانہ میں اس مدرسہ میں صرف 80 طالب علموں کو داخلہ ملتا تھا لیکن موجودہ منتظمین نے بتایا کہ اب بارہ سو طالب علموں کو داخلہ دیا جاتاہے۔ میر عرب مدرسہ کے قریب ہی ایک خوب صورت مسجد ہے جو مسجد بالائے حوض کہلاتی ہے۔ یہ اٹھارویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی جو اصفہان کی مشہور مسجد کے طرز کی ہے۔

miri-arab

بخارا کے مضافات میں ممتاز صوفی اور نقشبندی طریقہ کے بانی عالم دین حضرت بہاء الدین نقشبندی کا مزار ہے۔ چھ سو سال پرانا یہ مزار نہایت سادہ لیکن وسیع مسجد کے احاطہ میں ہے اس احاطہ میں دو کنویں ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خود حضرت نقشبندی نے کھودے تھے۔ یہی وجہ ہے ان پر عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔ میں جب ان میں سے ایک کنویں پر پانی کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا تو دیکھا کہ مسجد کے دالان کے ایک کونے میں میری راہ نما نتاشا سر پر اسکارف ڈالے امام مسجد کے سامنے بڑے خضوع و خشوع سے دو زانو بیٹھی ہے اور امام صاحب اس کے لئے دعا مانگ رہے ہیں۔ روسی نژاد عیسائی نتاشا کی یہ عقیدت دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا ۔ جذبہ عقیدت کس تیزی سے مذہب کی حدوں کو پھلانگ گیا تھا۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.