ایک حبس ہے، زندانِ مذاہب میں بلا کا!

2,328

اس معاشرے کا اگر انسان نقشہ کھینچنے کی کوشش کرے تو ایک نہایت ہی بھیانک نقشہ ہو گا جو حاصل ہو گا۔ ہر شخص  دوسرے شخص سے زور آزما ہے۔ محبت، امن اور سکون دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا۔ نظریاتی اختلاف تو ہر معاشرے میں ہوتا ہے لیکن اس اختلاف کے باعث کبھی رویّوں میں نفرت نہیں آیا کرتی۔ دنیا میں دوستیاں تو مذہب، رنگ ، نسل ہر قسم کی تفریق سے مٹا کے کی جاتی ہیں اور نبھائی جاتی ہیں مگر کیا کہنے اس ریاست کے۔ جہاں دوستیاں، رشتے، کرنے سے پہلے متبادل فرد کا فقہ، برادری، ذات، قومیت دیکھی جاتی ہے۔ اور تو اور ہمارے ہیں خود کو عقل کُل سمجھنے والے لوگ ہر انسان کی کارکردگی کو اس کے مذہب کے ترازو میں تولتے ہیں۔ کیا عبدالسلام تو کیا سر ظفر اللّٰہ خان۔ ایک منظم کمپین محض کسی کے مذہب کی بنیاد پر فوراََ سے قبل چلا دی جاتی ہے اور کیا کہنے اس قوم کے، جس شخص کا آپ دلیل و منطق سے مقابلہ نہ کر سکو، اس کے خلاف چند لفظوں کا فتویٰ دے دیا جاتا ہے۔ پھر ایک ہجوم جانے اور وہ شخص جانے۔ حیرت کا مقام ہے، مسجد خدا کا گھر جہاں رحمان اور رحیم سے زیادہ کافر کافر کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ عدم برداشت تو اس قوم ۔۔۔۔ بلکہ ہجوم کی رگ رگ میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے، چھوٹے چھوٹے تنازعوں پر بندوقیں چل جاتی ہیں۔ ممبر پر بیٹھا ایک شخص فتویٰ دیتا ہے اور ایک ہجوم اس شخص کو سنگنسار کر کے جنت کمانے پہنچ جاتا ہے۔ مسجد کو دوکان بنا دیا ہے، جنت کو ڈی۔ ایچ۔ اے یا بحریہ کا پلاٹ سمجھ لیا ہے، کہ جلدی جلدی اس کو بیچیں اور اپنا کمیشن حاصل کریں۔ صد افسوس، انسان انسان کا رتبہ کیا پہچانتا انسان تو خدا کو بھی نہیں پہچان پایا۔۔۔۔۔

سیاست دنیا بھر میں کی جاتی ہے اور ایسی کی جاتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ الزامات لگتے ہیں، کیچڑ بھی اچھالا جاتا ہے۔ لیکن کبھی مذہب کی نام پر کہیں سیاست نہیں ہوتی۔ ہر الزام لگاتے ہیں لیکن کبھی مذہبی مسائل کو گیم اسکورنگ کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا کیوں کہ انہیں ادراک ہوتا ہے کہ یہ وہ آگ ہے جو محض مخالف فریق کا گھونسلہ نہیں جلائے گی بلکہ آپ کے آشیانے کو بھی جلا کر خاکستر کر دے گی۔ لیکن اس مملکت خداد کی سیاست تو نفرت کی غلاظت سے لتھڑی ہوئی ہے۔ کیا کوئی مذہبی معاملہ۔ ہمارے ہاں تو سیاسی شخصیات قصور کی ننھی زینب کے جنازے تک کو نہیں بخشتیں۔  وہ وہاں اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ جب ایک بل ایک مسلمان ہی اسمبلی میں پیش کرے اور مسلمان ہی اس بل کو منظور کریں لیکن اس کے پیچھے سازش جنابِ والا احمدیوں کی ہوتی ہے۔ اسی ملک میں ایک انتہا پسند افراد کا ٹولہ فیض آباد آ کر دھرنا دے دے اور کئی لاکھ لوگوں کی زندگی مفلوج کر دے ۔ اور ممبر پر بیٹھا ایک جنونی شخص ہر شخص کو اباؤ اجداد سمیت گالیاں بکتے رہے۔ مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اسی دھرنے پر جب رپورٹس عدالت میں پیش کی جائیں تو عدالت انہیں غیر تسلی بخش قرار دے دے۔ اور سپریم ادارے اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں۔ مقتدر اداروں کو کہا جائے کہ ان کے خلاف کاروائی کریں تو عدالتی فیصلوں کے عقب میں راہ فرار تلاش کرتے ہیں اور سونے پر سہاگہ ریاست کی رٹ کو چلینج کرنے والوں کو ہزار ہزار روپوں کے لفافے دئیے جاتے ہیں۔ جب لال مسجد کے ایک خطیب یہ دعائیں کروائیں، “یا اللّٰہ! داعش، طالبان اور حکومت پاکستان کو ایک کر دے۔” اور حکومت محض سوچ میں ڈوبی رہے اور تو اور وزیرِ داخلہِ وقت جا کر ان سے ملاقاتیں کرتے رہیں۔ جب ملک کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر کو محض اس کے نظریات کی بناء پر لاہور کے بھرے چوک میں ایک وحشی قتل کر دے اور کسی سیاسی جماعت و رہنما کی کھل کر بات کرنے کی جرات نہ ہو تو اس کا نوحہ کن الفاظ میں لکھا جائے۔ ایک جج جن کی توہین ان کے نام لینے سے ہو جاتی ہے اور وہ ماضی میں عبدالعزیز جیسے وحشیوں کے مقدمے بھی لڑتے رہے ہیں۔ وہ جب اس قادری کو دہشت گرد ڈکلئیر کرنے سے منع کریں۔ (جب ایک ذہنی مریض ممبر پر بیٹھ کے انہی ججوں کو دنیا بھر کی گالیاں بکیں تب صم بکم کی مکمل تصویر بنے رہیں) مذہبی جذبات اکسانے کے لئے انتہا پسندانہ ریمارکس دیں۔ اور اس ملک کے تین دفعہ وزیر اعظم بننے والے شخص کا داماد اور مستقبل کی وزیر اعظم بننے کی خواہش مند خاتون کے شوہر اور وفاقی وزیر اس قاتل کے ماتھے چومیں اور چند انتہا پسند دانشور اسے شہید لکھیں۔ راولپنڈی کے ایک سیاستدان جو ہر شخص کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لے چکے ہیں، آج کل عمران خان کے جلسوں میں رونق میلہ لگانے پہنچ جاتے ہیں، وہ جب اس قاتل کو سیاسی قوت کہیں اور سرعام کہیں۔ فیض آباد والوں کا استقبال کریں۔ جب سیال شریف سے آکر ڈیرہ ڈالنے والے پیر فقیر کے آگے وزیر اعلیٰ بچھ بچھ جائیں۔ جب خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے واے شخص کے خلاف محض اس لئے کارروائی نہ کریں کیونکہ اس کا تعلق ایک خاص مذہبی ماحول سے ہے۔ جب کیپٹن صفدر جیسے لوگ احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کریں اور اس کے اگلے ہی روز ربوہ میں دو احمدی مار دئیے جائیں۔ جب عبدالسلام کا نام اس ادارے سے ہٹوانے کی کوشش کریں (گو کہ اپنی کم عقلی کی بدولت کسی دوسرے ادارے کا نام بدل دیں، فعل کے پیچھے سوچ تو وہی گھٹیا کارفرماں ہو)، جس ادارے کی خدمت کی وجہ سے اس پاکستان کو اپنا پہلا نوبل انعام ملا۔ اور دوسری جماعتوں کے لوگ بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالیں۔اور حکومتی ارکان چپ چاپ بیٹھے رہیں۔ جب کچھ انتہا پسند ہر چیز کے پیچھے سے ایک یہودی و احمدی سازش نکال کر لے آئیں۔ جب ہر ایک صورت سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی جائے تب وزیرِ داخلہ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا ہے، تو آپ حیرت زدہ کیوں ہیں؟

ہمیں بحیثیت قوم ایسے لوگوں کا سدباب کرنا ہو گا، مذہبی مسائل کو اپنی سیاست دور رکھنا ضروری ہے۔ لازم ہے کہ اس کا ادراک تمام سیاستدان کر لیں وگرنہ یہ آگ ہر گھر میں پہنچے گی اور کسی کو نہیں بخشے گی۔ کیونکہ جنگ کا آغاز آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس کا اختتام قسمت یا تباہی کیا کرتی ہے۔

بقول شاعر،

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے

 

کیسا عاشق ہے ترے نام پہ قرباں ہے مگر

تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے

ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے

شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے
صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

8 تبصرے

  1. عبدالباسط کہتے ہیں

    آپ شاید پراگندہ خیالی کا شکار ہیں ـ آپ کے بلاگ کے خیالات میں کوئی ربط ہے نا جملوں میں کوئی ضبط ـ الفاظ کے چناؤ میں بھی احتیاط نہیں برتی گئی ـ ہو سکتا ہے آپ انگریزی کے آقا ہوں مگر اردو آپ کا میدان نہیں ـ جھلاہٹ کے عالم میں لکھی گئی یہ تحریر شاید صرف اپنے متنازعہ موضوع کی وجہ سے شائع کر دی گئی ورنہ اس میں کوئی خاص بات نہیں ـ باقی آپ کو میرا مفت مشورہ ہے کہ رات کا کھانا ذرا جلدی کھا لیا کریں انشاء اللہ آپ کی طبیعت کو کافی افاقہ ہو گا ـ

    1. Saqib کہتے ہیں

      Abudl Basit Allah pak aapko aur hum sab ko sabar aur AQAL atta farmye

  2. امِّ رباب کہتے ہیں

    طلال، ایک چیز جو میں میں نے آپ کی تحریر میں ہمیشہ دیکھی ہے… وہ ہے آپ کا اندازِ تسلسل آپ تحریر کو اگر ٹکڑوں میں بھی لکھیں تو ان کا ظبط کہیں نہیں ٹوٹتا…. ہر جملہ آپ کی گرفت میں رہتا ہے… لیکن آج جگہ جگہ ایسا محسوس ہوا جیسے تحریر آپ کے ہاتھ سے نکل چکی ہے… شاید آپ نے عجلت میں تحریر لکھی ہے… براہ کرم لکھنے کے لئے ایک وقت مخصوص کر لیں… آپ بلاگرز میں میری فیورٹ لسٹ میں آتے ہیں… سو خیال رکھیں…. بہتر ہے کہ منفی تبصروں کو نظرانداز کریں وہ اپنی موت آپ مر جائیں گے

  3. Khan کہتے ہیں

    I MUST REPLY TO YOUR ARTICLE BUT THIS FORMATE OF URDU IS illegible. Anyway Jinko Allama Khadim Hussain Rizvi Ki baat samjh main nahi ati unk leye siraf itna kahunga…….aik dafa phir paida ho kar ain aur samjhain phir samjh na aye tu phir paida ho kar ain phir b samjh na aye tu tab tak bar bar paida ho kar atay rahain jab tak unki baat samjh na ajayee…….

  4. M. Azam Zaki کہتے ہیں

    Mr. Talal Khalid
    Lagta hai kafi wazni lafafa mila hai aap ko ye article likhney k liye. aap se guzarish hai keh suspect ka aaj ka bayan bhi parh lein.

  5. Irtaza Farhan کہتے ہیں

    I would completely go with Talal’s analysis….. Yeh mazhabi dukaaandaar is tarhaan ki zubaaan deserve karte hn…..

  6. Muhammad Asif kHAN کہتے ہیں

    Baat intahai asaan aur sedhi hy…………………ju log Allama Khadim hussain rizvi ko kuch kahty hain unki perwarish main kami hy….. agar unk parents ya jis mahool main unki perwarish hoi hy wo unko iss kabil nahi bana saky kah what is the message of Khadim hussain rizvi tu iss main hamara koi qasoor nahi….ayse loog apny parents see rabta karain unka gireeban pakarain ya koshish karain aur dobaraha paida ho kar ain….thanks

  7. Muhammad Asif kHAN کہتے ہیں

    kAISE KAISE LOG PAIDA KIYE HUWAY HAIN LOGUN NY PEHLA KALMA CHAHEE PORA ATA NA HO USAY BATAIN KAR RAHY HAIN JINKI SARI UMEER DEEN KI KHIDMAT K LEYE GUZAR GAE HY ……AJAAB LOG HAIN PAHLY APNI PAIDAISH TU THEEK KARWA LO PHIR KISI KO BAAT TU KAR LAINA……

تبصرے بند ہیں.