جواں پاکستان کو بنائیں قوت کا نشاں

998

قوم کا سرمایہ روپیہ پیسہ، لباس، چاندی اور سونا نہیں ہوتا بلکہ قوم کی اصل دولت تندرست، ذہین، محنتی، چاق چوبند نوجوان ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ یہی ایک طبقہ ایسا ہے جس کی توانائیوں کو موثر انداز میں استعمال کر کے کوئی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی انقلاب اور تحریک ایسی نہیں ہے جس میں نوجوانوں کا قابلِ ذکر کردار موجود نہ ہو۔ نوجوانوں کے حوالے سے ہمارے ملک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں آبادی کی کثیر تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی مرتبہ اس وقت پاکستان کی ایک ریکارڈ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی کل آبادی کا 64 فی صد اس وقت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فی صد آبادی 15 سے 29 سال عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ۔ ۔ نوجوان یعنی امید ِ اقبال۔ ۔ زندہ ہے اور پوری آب وتاب سے رواں ہے، بس فکر اقبال نہیں، محرم ِ اسرار نہیں، مدبرانہ سوچ نہیں، اور خودی بھی نہیں۔

اس کی وجہ شاید بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کمی اور تعلیم وتربیت کا نہ ہونا ہے، جس کے لیے پہلا بیج ہمیشہ حکمرانوں کو بونا ہوتا ہے۔ نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں سال 2015ء کے دوران نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 9.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ 2007ء میں یہ شرح 6.5 فیصد تھی۔

یو این ڈی پی کی رپورٹ ’’ جواں پاکستان کو بنائیں قوت کا نشاں‘‘ میں تجویز دی گئی ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے اور انہیں درپیش رکاوٹوں کے اصل اسباب کو دور کرنے کے پر توجہ دی جائے۔

علامہ اقبال کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے اتنے برس بعد یہ رپورٹ اقبال کی خواہش کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے۔ علامہ اقبال کو نوجوانوں سے خاص لگاؤ تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ نوجوانوں سے ہم کلام ہونے میں خاص کشش محسوس کرتے تھے۔ دراصل نوجوانوں میں کسی پیغام کو قبول کرنے کی نہ صرف صلاحیت ہوتی ہے بلکہ اس کے مطابق زندگی کو تعمیر کرنے کا جذبہ اور عزم بھی ہوتا ہے۔ اقبال کے خیال میں کسی قوم کی ترقی اور عروج کا باعث مال و دولت کی کثرت نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کا وجود ہے جو ذہنی اور جسمانی اعتبار سے صحت مند اور پاکیزہ اخلاق و کردار کے مالک ہوں۔

علامہ اقبال نوجوان کو اس کے مقام سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ نوجوان ان کا پیغام سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ صاحبِ کردار بنیں اور صاحب فکر و نظر بھی۔

جوانوں کو مری آہ وسحردے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال وپر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے

علامہ اقبال نے مستقبل کو ہمیشہ نوجوانوں کی بصیرت، شعور اور آگہی سے عبارت کیا۔ اقبال نوجوان کو مستقبل کا معمار قرار دیتے رہے۔ وہ زندگی کے انداز کو بدل کر نئی جہتوں پر استوار کرنا چاہتے تھے جس کی باگ ڈورنوجوانوں کے ہاتھ ہوتی۔

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
مری خاک جگنو بنا کے اڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

بوسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر عادل نجم اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیصل باری کی لکھی ہوئی یواین ڈی پی کی رپورٹ ’’جواں پاکستان کو بنائیں قوت کا نشاں‘‘میں زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں کی معیاری تعلیم، ثمرآور روزگار اور بامعنی شمولیت ملک میں انسانی ترقی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

علامہ اقبال نوجوان کو سرمایہ سمجھ کر ہمیشہ اچھے دنوں کے لیے پرامید رہتے تھے۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

ہماری قوم بالخصوص نوجوان نسل میں کوئی کمی نہیں۔ اگر کمی ہے تو صرف ایک دیدہ ور کی، اچھے رہنما کی۔ جو پھر سے سوئی ہوئی قوم کو جگا دے۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.