ضمیر جاگتا ہے ہر الیکشن سے پہلے

1,609

ضمیر کے متعلق ہم اکثر جملے سنتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ میرے ضمیر نے گوارہ نہیں کیا، میرا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا، ضمیر مردہ ہو چکے ہیں، وہ شخص ہے ہی بے ضمیراور ایسے کئی اور جملے۔ آخر یہ ضمیر ہے کیا اور کا انسانی زندگی میں کردار کیا ہوتا ہے۔

ضمیر انسان میں موجود ایک ایسے احساس کا نام ہے جو اس کے اندر اس کی سوچ اور عمل پر احتساب کا کام کرتا ہے۔ جب انسان کوئی ایسا قدم اٹھاتا ہے جس سے انسانیت کی تدلیل ہو رہی ہو، کسی دوسرے کو نقصان پہنچ رہا ہو یا پھر انسان اپنے قول و فعل سے اپنے پروردگار کی بارگاہ سے دور ہو رہا ہو تو انسان کا ضمیر اس کو جھنجھوڑتا ہے، اس میں احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ضمیر انسان کے اعمال پر اس کا احتساب کر کے انتہائی رازداری کے ساتھ اس کی رپورٹ اس کو ہی دیتا ہے۔ ضمیر احساس سے زیادہ کوئی سزا دینے سے قاصر رہتا ہے۔ خدا کی زمینی مخلوق میں صرف انسان ہی ہے جس میں اللہ نے ضمیر کا عنصر رکھا ہے اگر ہم ضمیر کو اللہ کی طرف سے انسان کیلئے ایک نعمت سمجھیں تو غلط نہیں ہو گا جو انسان کو قدم قدم پراپنی اصلاح کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔

الیکشن کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ انسان کے ہمدری کی بولی بولنے والے اپنی اپنی تقریر لکھوانے میں مصروف ہیں۔ اگر کسی امیدوار کو اپنی پارٹی میں ٹکٹ کی امید نظر آ رہی ہو تو ضمیر جاگتا ہے اور اپنی ہی پارٹی کی کارکردگی مایوس کن نظر آتی ہے۔ جماعت کی پالیسی عوام دشمن نظر آتی ہے۔ اگر امیدوار کا تعلق حکومتی جماعت سے ہو تو پھر مجال ہے کہ 5 سال سے پہلے ضمیر کی کبھی آواز سنی ہو۔ حکومت کے پانچ سال سرکاری مراعات کے مزے لینے کے بعد الیکشن سے پہلے اپنے حلقہ میں سیاسی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اگر اپنی پارٹی کی گرفت کمزور محسوس ہو تو ضمیر کی آواز کا سہارا لیتے ہوئے پارٹی کی وفاداری تبدیل کر لی جاتی ہے۔ آپ کو پاکستان میں کئی امیدوار نہیں بلکہ اکثریت امیدواروں کی ایسی نظر آئی گی جو اب تک 3 سے زیادہ جماعتوں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں۔ یعنی ان کے ضمیر ہر الیکشن سے پہلے جاگتا ہے، اور ہر بار ضمیر ان کو ایک نیا پیغام دے کر جاتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ضمیر نہ تو سوتا ہے اور نہ ہی مرتا ہے بلکہ جب انسان اپنے مفاد کے مطابق اس کی آواز سننا بند کر دیتا ہے تو اس کیفیت کو ضمیر کا مرنا کہتے ہیں۔ ضمیر تو ہر وقت انسان کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے صاحب اقتدار بنایا ہے تو مخلوق خدا کی خدمت کر کے اپنے رب کے حضور سر خرو ہو جا لیکن انسان دولت کی ہوس میں اس قدر اندھا ہو جاتا ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرتے ہوئے دولت کے حصول کیلئے ہر جائز و ناجائز اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کی عارضی چمک دمک میں کھو جاتا ہے۔

عوام کے مفاد کیلئے کبھی کسی سیاستدان کے ضمیر کے جاگنے کی خبر نہیں سنی ہوگی۔ کسی سیاستدان کو عوام کے حقوق کیلئے وزارت سے مستعفی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہو گا۔ ملک میں درناک واقعات ہوتے ہیں کہیں قصور کی زینب اور کہیں معصوم کلیوں کا بے رحمانہ قتل ہوتا ہے تو کہیں 14 معصوم شہریوں کو میڈیا کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں بلدیہ فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے لیکن کسی سیاستدان کا ضمیر نہیں جاگتا۔ ضمیر تو تب جاگے گا جب وہ سویا ہوا ہو۔

ضمیر تو جاگ رہا ہوتا ہے صرف ہم نے اس کی آواز سننے سے انکار کیا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر ضمیر کے احتساب پر آج ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو روزِ قیامت اسی ضمیر کی رپورٹ کے مطابق پیش ہونا ہے لیکن اس وقت صرف سزا و جزا ہو گی، اصلاح نہیں۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.