ووٹ کو اہمیت دو

1,526

پاکستان میں جولائی کے مہینے میں عام انتخابات متوقع ہیں۔ حالیہ کی گئی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی لگ بھگ 21 کروڑ ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 2017ء کے اعداد وشمار کے مطابق کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 کروڑ 70 لاکھ ہے۔ اس میں سے 4 کروڑ 22 لاکھ ووٹرز کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں یعنی کہ ووٹرز کا آدھا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

عوام اور خاص طور پر نوجوانوں میں امیدواروں اور سیاسی قیادت کو لے کر بہت بد اعتمادی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا ایک بڑا حصہ ووٹ نہیں دیتا ہے۔ اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں سب ہی بددیانت اور نااہل لوگ ہیں تو اپنا وقت ضائع نہ کیا جائے، چاہے ووٹ ضائع ہو جائے یا وہ آپ ہی کے نام سے کوئی اور کاسٹ کر رہا ہو اور پھر بعد میں دھاندلی کا شور بھی اٹھے۔

ہم ایک جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں اور اس ناطے ہمارا یہ فرض بنتا ہے مخلص اور دیانتدار لوگوں کو چن کر ان کو اپنا سربراہ مقرر کریں۔ خلافت کے زمانے میں بھی مجلس شوریٰ ہوا کرتی تھی جو کہ نا صرف اہم عہدوں کے لیے سربراہوں کا تعین کرتی تھی بلکہ خلیفہ وقت بھی چنتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ موروثی بادشاہت کا تصور مسلمان بادشاہوں نے خود ایجاد کیا اور اس کی واضح جھلک آج کی جمہوریت میں بھی نظر آتی ہے۔

ہمارے ہاں اردگرد کے بہت سے لوگ ووٹ نہیں دیتے بلکہ شاید ہم خود بھی ان میں شامل ہوں۔ الیکشن کا دن ہمارے لیے تو بس ایک چٹھی کا دن ہوتا ہے کہ جسے یا تو سو کر اور تھکان اتار کر گزارا جاتا ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہئیے کہ بدعنوان اور بد دیانت حکمران ہماری ہی غلطیوں کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوتے ہیں۔ ہم یا تو ووٹ دینے کا اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے یا پھر ایک بریانی کے ڈبے یا چند ہزار روپوں کے پیچھے اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں کہ ایک ہمارے ووٹ سے کونسا تبدیلی آ جائے گی۔ اس طرح وقتی فائدے کی خاطر اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں اور اس آنے والے نقصان کا اندازہ بھی نہیں کر پاتے جو ہمیں ہی تہی دست کر دیتا ہے۔ اس سب کے بعد حسبِ روایت موردالزام حکمرانوں کو ہی ٹہراتے ہیں۔

اس بات کی افادیت سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ قطرہ قطرہ ملنے سے ہی دریا بنتا ہے۔ ہمارا ایک ووٹ دراصل ایک ووٹ ہی نہیں بلکہ ایک نئی اور بہتر سوچ کی کرن ہوتی ہے، جو ہمارے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہمارا کچھ وقت، ہمت اور ایک صحیح فیصلہ مانگتا ہے۔

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں اسی میں رہ کر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے بہتری لانی ہے۔ مگر ہم خود کام چوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ووٹ رائیگاں جانے دیتے ہیں یا چند ٹکوں کے عوض اپنے فرض کا سودا کر لیتے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں ہمارے حکمران فرض شناس اور دیانتدار ہوں۔ اس طرح تو معاشرے میں تبدیلی لانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ الیکشن میں کھڑے ہونے والے امیدوار وں کی زیادہ تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو امیر، عیار اور طاقتور ہوتے ہیں مگر ہم بھی تو ایسے ہی لوگوں کو چنتے ہیں۔ ان بڑے بڑے جاگیرداروں کے سامنے اگر کوئی عام آدمی الیکشن میں کھڑا ہو بھی جائے تب بھی ہم کب اسے چنتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیاست صرف سرمایہ دار، عیار اور طاقتور طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اور کچھ نہیں تو ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ زیادہ برے آدمی کی نسبت کم برے آدمی کو چنیں کہ کوئی تو افاقہ ہو۔

اس دفعہ ہم سب کو مل کر اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ اپنا ووٹ کا ضائع نہیں جانے دیں گے۔ اپنی فہم وفراست کے مطابق ایسے امیدوار کے حق میں انگوٹھا لگائیں گے جو ہمیں بہتر لگے گا۔ اسکے بعد بھی اگر نااہل قیادت سامنے آتی ہے تو اس بات کا تو اطمینان تو ہوگا کہ ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ انفرادی اعمال ہی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

عمارہ گوندل لاہور کی ایک یونیورسٹی میں بائیو کیمسٹری کی طالبہ ہیں۔ یہ مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرتی مسائل کا تجزیہ کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عوام کہتے ہیں

    تمام پولنگ اسٹیشن کے باہر مفت ریفریشمنٹ کا انتظام ہونا چاہیے
    پھر عوام کا سمندر چیک کریں الیکشن میں۔

تبصرے بند ہیں.