پاکستانی فلم “موٹرسائیکل گرل” پر ایک مختصر تحریر

3,766

جب فلم کا مقصد بڑا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم نے باکس آفس پر بڑا بزنس کیا یا نہیں۔ اداکار، ہدایت کار، قلم کار عدنان سرور کی فلم موٹرسائیکل گرل کا مقصد بھی بڑا ہے، یہ الگ بات کہ بڑے بڑے سنیما خالی پڑے ہیں۔ یقین جانئیے یہی فلم اگر بھارت میں بنتی توپروڈکشن اور پروموشن سے ڈسٹریبیوشن تک تمام معاملات میں بے انتہا توانائی بھر دی جاتی۔ سارا مسئلہ شاید پیسے کا ہے۔

عدنان سرور اس سے پہلے معروف اولمپین حسین شاہ پر “شاہ” نامی فلم بھی بنا چکے ہیں۔ کیونکہ یہ ہے بایوپک کا معاملہ لہٰذا پاکستان میں انہوں نے اتنی ہمت بھی کرلی تو بڑی بات ہے۔ 2015 میں سوا کروڑ کی لاگت سے بننے والی فلم شاہ باکس آفس پر بمشکل اپنی لاگت پوری کرپائی تھی۔ اس فلم نے تقریباً ایک کروڑ سے کچھ زائد کا بزنس کیا تھا (یہ معلومات انٹرنیٹ سائٹس سے لی گئی ہیں)۔

3_2254

اس بار عدنان نے پھر ہمت کی اور لاہور کی حقیقی موٹرسائیکل گرل زینتھ عرفان کی زندگی پر ایک فلم بنا ڈالی۔ “شاہ” میں عدنان نے خود مرکزی کردار ادا کیا تھا اور موٹرسائیکل گرل میں وہ مرکزی کردار نبھانے والی سوہائے علی ابڑو سے جڑے دکھائی دیے۔ ان کا کردار کیا ہے اس کے لیے فلم دیکھنا ضروری ہے ورنہ سسپنس ختم ہوجائے گا۔

دیگر کرداروں میں ثمینہ پیرزادہ، سرمد کھوسٹ، علی کاظمی، شمیم ہلالی، مندانا زیدی اور دانیال راحیل شامل ہیں۔ ثمینہ پیرزادہ کی اداکاری پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا البتہ فلم میں ان سے زیادہ دلچسپ اور نمایاں رول شمیم ہلالی کا ہے جن کے بے ساختہ اور سادہ جملوں نے فلم بینوں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ مندانہ زیدی کا بے باک کردار بھی نوجوان لڑکیوں کوبھائے گا جو معاشرے کی تنگ نظری سے تنگ ہیں۔

30742541_10160482282595311_4531896259190980608_n

فلم میں امریکا پلٹ علی کاظمی جو پاکستان کے مشہور و معروف اداکار جوڑی راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی کے بیٹے ہیں اپنے کردار کو بخوبی نبھانے میں کامیاب رہے۔ زینتھ کے باس کا رول کرنے والے سرمد کھوسٹ نہ جانے کیوں سنجیدہ کردار میں بھی غیر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ شاید میرے ذہن پر اندھیرا اجالا کا “کرمداد ڈریکٹ حوالدار” سوار ہے، یعنی عرفان کھوسٹ۔ بڑے فنکار کے یہاں پیدا ہونا بھی بڑا مسئلہ ہے، آپ کو جسٹیفائی کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے سخت محنت۔ اس فلم میں بھی کئی بار ایسا لگا کہ سوہائے کو سخت انداز میں ڈانٹتے ڈانٹتے وہ اچانک ہنس دیں گے، پر ایسا ہوا نہیں۔ میرے خیال میں منٹو کے کردار میں وہ زیادہ اچھے لگے۔ دانیال راحیل کا تعلق بھی فنکار گھرانے سے ہے لہٰذا انہیں پتہ ہے کب کیا اور کون سے ایکسپریشنز دینے ہیں۔

sarmad-khoosat

جیسے میں نے شروع میں کہا کہ جب فلم کا مقصد بڑا ہو تو بہت سے معاملات، غلطیاں اور کمزوریاں پس پشت ڈالی جاسکتی ہیں۔ فلم میں سوہائے کا ایک ڈائیلاگ “۔۔۔تو لائف کتنی فرق ہوتی” کھلم کھلا اردو کا منہ چڑا رہا تھا۔ سوچیں کوئی کہے یا لکھے، “اگر ہم نمک ڈال لیتے تو کھانا کتنا فرق ہوتا”۔ “اگر ہم رنگ کرلیتے تو دیوار کتنی فرق ہوتی”، وغیرہ وغیرہ۔ایک سین میں سوہائے لفظ “خاص” کو “کھاص” کہتی ہیں تو علی کاظمی ان کی تصیح کرتے دکھائی دیے۔ لیکن دوسرے سین میں یہی سوہائے “خنجراب پاس” کو “کھنجراب پاس” نہیں کہتیں، البتہ علی کاظمی پوری فلم میں خنجراب کے “خ” پر پیش لگاتے رہے اور سوہائے “زبر”، اسی تکرار میں ان کا خواب تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ اب چونکہ عدنان خود ہی فلم کے رائٹر ہیں تو اتنا تو بنتا ہے لیکن کوئی بھی ناقد یا فلم بین چھوٹی سی غلطی بھی دل پر لے سکتا ہے۔ فلم میں سوہائے کا میک اپ بھی اچھا نہیں ہوا۔ کئی سینز میں گردن اور چہرے میں فرق صاف ظاہر تھا۔ سوہائے سے اچھا میک اپ تو پیاری دوست، کولیگ اور بہن عظمیٰ نعمان کا تھا جو محض چند لمحوں کے لئے بریکنگ نیوز دیتی دکھائی دیں۔ اس سب کے باوجود سوہائے نے اداکاری کمال کی کی ہے۔

5acdbb7477581

اب آئیے فلم کے مقصد کی جانب جو بے شک بڑا ہے لیکن بعض لوگوں کے لیے بہت برا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عورت کا موٹر سائیکل چلانا معیوب سمجھا جاتا ہے یا یوں کہیے کہ آرام سے ہضم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ مووی میں گلگت بلتستان کے باسیوں کے رہن سہن، روز مرہ زندگی اور ذہنی کشادگی کو خصوصی طور پر دکھایا گیا ہے۔

سینیئر صحافی مسعود رضا جب عطا آباد جھیل کا واقعہ کور کرکے آئے تھے تو ایسے بہت سے ۡقصے ساتھ لائے تھے۔ فلم کے دوران میں ساتھ بیٹھے دوست باقر کو بتا ہی رہا تھا کہ اس خطے میں خواتین بی اے اور ماسٹرز کرکے بھی کھیتی باری کرنے سے نہیں گھبراتیں کہ اچانک اس سے ملتا جلتا ڈائیلاگ سننے کو ملا۔ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ یہ خطہ دیکھنے میں جتنا خوبصورت ہے اس کے لوگ اندر سے بھی اتنے ہی شاندار ہیں۔ فضاؤں اور ماحول کی طرح صاف و شفاف، ملنسار، غمگسار، مددگار اور مہمان نوازی کے لیے ہر دم تیار۔ بلند و بالا پہاڑوں سے مالامال جب ملک کا ایک علاقہ اخلاقیات کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو باقی حصے کیوں نہیں۔ کیوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خواتین ایسے کام نہیں کرسکتیں جنہیں معاشرے میں عام طور پر ان کے لیے غیر موزوں سمجھا جاتا ہے۔

1686686-sohai-1523857953

زینتھ عرفان نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے معاشرتی بیڑیوں کو توڑا اور وہ کیا جو انہوں نے چاہا۔ اب سوال یہ ہے کہ عدنان سرور نے ایک بامقصد فلم بھی بنالی، فلم لگ بھی گئی، بہت سوں نے دیکھ بھی لی، دیکھ کر تعریف بھی کردی۔ لیکن یہ پیغام اکیاون فیصد خواتین میں سے کتنوں تک پہنچا اور کتنوں نے اپنے پیروں میں بندھی معاشرتی زنجیروں کو توڑا۔ سوال یہ بھی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور خود انحصاری جیسے مقصد کے لیے اگر بڑے پردے کا سہارا لیا جائے تو کیا کامیابی ملے گی؟ کیونکہ بہت سی باپردہ خواتین بڑے پردے پر فلم نہیں دیکھتیں۔

ڈسکلیمر:

1۔ یہ تجزیہ ایک ذاتی رائے ہے جس کا کسی دوسرے کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

2۔ جو فلم آپ نے دیکھی نہ ہو اس پر سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر تعریف اور تنقید بے جا ہے۔

3۔ فلم سنیما کے لیے بنتی ہے اور فلم کی کامیابی کا انحصار فلم بینوں کے سنیما جا کر دیکھنے پر ہے۔

4۔ ضروری نہیں ہر فلم آپ کے مزاج کی ہو، اسی لیے تھوڑی بہت معلومات حاصل کرکے سنیما کا رخ کریں تو پیسہ اور وقت دونوں بچیں گے۔

5۔ فلم کا مقصد فلم سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ آپ کو ہنسانے، رلانے، کچھ یاد دلانے، کچھ بھلانے اور کچھ بتانےکے لیے ہوتی ہے نہ کہ کچھ کھونے اور کچھ پانے کے لیے۔

سلمان حسن دنیا نیوز کے سینئر اینکر اور پروڈیوسر ہیں۔ گزشتہ 13 سال سے میڈیا انڈسٹری سے وابسطہ ہیں اور جیو نیوز اور سما ٹی وی جیسے اداروں کے لیے کام کرچکے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عدنان احمد کہتے ہیں

    میں نے یہ مووی دیکھی تھی۔ اور دیکھتا دیکھتا سوگیا۔

تبصرے بند ہیں.