سفید کالر جاب والے بھی مزدور ہیں

422

تو قادر مطلق ہے لیکن تیرے جہاں میں ہر برس ہی یکم مئی کو انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد یومِ مزدور بھرپور انداز میں منا کر مزدور طبقے سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں میونسپل کمیٹی کے لوگ اپنے اپنے ورکرز کو ایک دن پہلے آگاہ کر دیتے ہیں کہ کل آپ کا عالمی دن ہے، لہٰذا فلاں جگہ جلسہ کیا جائے گا۔ فلاں صاحب کی خاص تقریر ہو گی۔ ضرور شرکت کریں۔ بڑے بڑے شہروں میں سیمینار نامی چیزیں منعقد ہوتی ہیں۔ پریس کلبوں کے باہر مزدور محنت کشوں کی خدمات کے اعتراف میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ کوئی نا کوئی سیاسی یا سماجی شخصیت تقریر کرتی ہے۔ ان میں مزدور بھی شریک ہوتے ہیں لیکن بہت کم۔ اس کے علاوہ گرمی کے موسم میں ٹھنڈے کمروں میں ٹشو پیپرز سے پسینہ پونچھتے سفید کالر والے لوگ بھی لیبر ڈے نامی پروگرام منعقد کرتے ہیں جس میں مزدوروں کی بات انگریزی میں کی جاتی ہے۔

چند مزدوروں کو چھوڑ کر باقی اس دن بھی چھٹی نہیں کرتے۔ وجہ وہی ضرورتوں کے خوفناک سائے، دو وقت کی روٹی کی فکر، چولہا ٹھنڈا ہونے کی فکر۔۔۔ اور ایسی ہی کئی فکریں ان مزدوروں کو چھٹی کیا اپنے حقوق کے بارے میں بھی سوچنے کا وقت ہی نہیں دیتیں۔ پوری دنیا مزدوروں کے حقوق کی بات کر رہی ہوتی ہے، کچھ شکاگو کے شہید مزدوروں کو بھی یاد کرتے ہیں۔ مملکت پاکستان میں بھی مزدوروں کے استحصال کی بات کی جاتی ہے۔ مجھ سمیت کئی لوگ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مزدورو کے حقوق پر تحریریں لکھ کر اپنی سی کوشش کرنے میں مگن بھی ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر یکم مئی کو کی جانے والی باتوں کا کتنا فیصد ہم سب کے عمل سے گزرتا ہے؟ یقینی طور پر جواب نفی میں ہی سامنے آتا ہے۔ وجہ وہی اپنے اپنے لوازمات کو لئے ضرورتوں کی شاہراہ پر تیز بھاگنا۔ اپنی مشکلات، ضرورتوں اور دلچسپی کی چیزوں کی تلاش میں زندگی کاٹتے ہوئے چھ سو یا سات سو دیہاڑی لینے والے مزدور کی فکر کم ہی ہوا کرتی ہے۔

مزدور کا استحصال کب، کہاں اور کس کس صورت میں ہوتا ہے۔ یہ سوال جواب طلب ہے۔ کام کرنے کا دورانیہ عالمی اصولوں کے مطابق آٹھ گھنٹے ہے۔ انہی حقوق کے حصول کے لئے شکاگو کے محنت کش بھی خون آلود ہوئے تھے۔ مزدوری کے آٹھ گھنٹوں کے اصول پر سفید کالر جاب کرنے والے افراد بھی کاربند ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا بھی شمار مزدوروں میں ہوتا ہے؟ ہم بھی مزدوروں کی کوئی قسم ضرور ہیں۔ ہم بھی استحصال کا شکار رہتے ہیں۔ دفتر میں باس کی ہاں میں ہاں ملانا، نہ ملانے پر جلی کٹی سنائے جانے کا خوف اور مزید انتہائی حالات میں نوکری سے نکال باہر دیے جانے کے طعنے وغیرہ وغیرہ۔

ہم وائیٹ کالر لوگوں کا بھی استحصال کیسے کیسے جاری رہتا ہے۔ پہلے پہل تو ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ترقی اور روشن خیالی کے سارے خواب یونیورسٹی کے آخری سمسٹر میں پہنچ کر عملی زندگی کے تقاضے جان کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ پھر عملی زندگی میں قدم رکھنے کی تگ و دو پہلے بیگار کی صورت کسی ادارے کے لیے اپنا آپ جلانا اور اخراجات تک خود سے برداشت کرنا، پھر خدا خدا کر کے طعنوں سمیت معمولی سی تنخواہ پر نوکری کا ملنا اور روز اپنے سے سینئرز کی خوشنودی کی فکر ہم کو کیسے کھائے جاتی ہے۔ یہ استحصال کی کتنی سنجیدہ قسم ہے، آپ بہتر طور سے سمجھ سکتے ہیں۔

ایک کے بعد ایک زینہ عبور کرتے ہم تعلیم مکمل کرتے ہیں اور عملی زندگی کی طرف چلے آتے ہیں تو وہ تمام رنگینیاں بھی دم توڑ دیتی ہیں جو دوران طالب علمی ہمیں دکھائی جاتی ہیں یا ہم خود دیکھتے ہیں۔ بہر حال کرنی ہم نے بھی مزدوری ہی ہوتی ہے۔ اس بات کا ادراک یونیورسٹی ختم ہونے کے کچھ وقت بعد ہونے لگتا ہے۔

یہ سفید کالر جاب والے لوگ جو روزانہ خود اتنا استحصال کا شکار رہتے ہیں، کبھی کبھار خود بغیر اجرت کے مہینوں گزار دیتے ہیں۔ ان کو کڑی دھوپ میں پسینے سے شرابور مزدور کے استحصال کی فکر کے بارے میں سوچنے کا وقت کب ملتا ہو گا۔ بہر حال وہ طبقہ جن کی دو وقت کی روٹی کا انحصار روزانہ کی سخت مشقت میں پنہاں ہے، انہیں اپنے حقوق کی پرواہ کم ہوا کرتی ہے۔ انہیں پرواہ ہے تو کام ملنے کی اور دیہاڑی ملنے کی جس سے ان کے گھر کا چولہا چلتا رہے۔ انہیں تو اس دن یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کے دن دنیا ان کے حقوق کے لئے ریلیاں نکال رہی ہے، جلسے کر رہی ہے، بینرز اور پوسٹرز لئے سڑکوں پر ہے۔

استحصال یہ ہے کہ اجرت اتنی نہیں مل پاتی کہ اس میں ضرورتوں کا منہ بند کیا جائے اور یہ المیہ وائیٹ کالر جاب یعنی دفتروں میں نوکری کرنے والوں کے ستھ بھی ہے۔ جنہیں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آپ تو فلاں دفتر کی نوکری کرتے ہیں آپ کی تو اچھی خاصی ہو گی۔ استحصال یہ بھی ہے کہ یہ مشقت کرتا طبقہ عدم توجہ کا شکار ہے۔ یہ مجبوریوں اور ضرورتوں کی رسیوں میں بندھا طبقہ کم از کم بنیادی حقوق صحت، تعلیم اور گھر جیسے حقوق کا متقاضی ہے۔ قادر ملطلق کی اشر المخلوقات مخلوق کے ہاں سفر کرنے کو ٹھنڈی گاڑیاں، رہنے کو پر آسائش گھر، کھانے کو اچھے کھانے اور پینے کو بھی اعلیٰ مشروبات مہیا رہتے ہیں لیکن اسی خدائے بزرگ و برتر کی کچھ اشرف المخلوقات سر پر چھت، صحت، علاج و تعلیم جیسے حقوق سے محروم ہونے کے ساتھ بغیر جوتوں کے گرم سڑکوں پر چلنے کو مجبور ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مشقت کے معمولات میں کبھی ہاتھ تو کبھی پائوں کی صورت میں اعضائے جسم سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔

تو قادر مطلق ہے لیکن تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.