ہوشیار، خبردار۔ بادشاہ سلامت آرہے ہیں!

1,054

بادشاہ ایک ریاست کا حکمران ہوتا ہے جس کو ریاست کے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اس طرزِحکومت کو بادشاہت کہتے ہیں۔ کئی ملکوں میں اب بھی بادشاہت قائم ہے اور بادشاہ عوام کو خوش کرنے کیلئے کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے، ہمارے ہاں بھی بادشاہ سلامت ہیں، جو عوام کی دادرسی کرنے کے بجائےاپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ خیر جو بھی ہو، ان سب بادشاہوں کے دلوں کا بھی ایک بادشاہ ہے، جنھوں نے برصغیر پر سو برس سے زائد حکمرانی کرنے والے مغل شہنشاہوں کو بھی اپنے وَش (فرمانبردار) میں کر رکھا تھا۔

کچا ہو یا پکا۔ ہر لحاظ سے ہے دل میں بستا۔ ذکر ہے پھلوں کے بادشاہ ’آم‘ کا۔

یقینا ً سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا قومی درخت دیودار، قومی پرندہ چکور، قومی جانور مار خور، قومی کھیل ہاکی اورقومی مشروب گنے کا رس ہے۔ اور قومی پھل ہے ’آم‘.

بس! آم کا نام آتے ہی طبیعت مچل جاتی ہے کہ جھٹ اس کا سارا رس چوس لیا جائے، وہ بھی ایسے روایتی انداز سے کہ ہاتھ منہ سب آم سے رام ہو جائیں۔

خدارا ان سے نسبت نہ کیجئے گا جو آم عوام کو اسی طرح کھلانے کیلئے مشہور ہیں۔

رمضان بھی آ رہا ہے اور گرمی بھی۔ شاید اسی لیےآم کے ساتھ عوام کے ہر دلعزیز کا تذکرہ بھی ہوگیا۔ تو کیا ہم آموں کو بھی اس غم میں فراموش کر دیں۔

نہیں نہیں، آم اور آم سے بنی مزیدار ڈشز لب دوز بھی ہوں گی۔ لب سوز بھی ہوں گی۔ اور شب و روز بھی۔

مینگو آئس ٹی، مینگو مارگاریٹا، مینگو یوگرٹ، مینگو تڑکا سلاد، مینگو شیک، مینگو آئس کریم اور نجانے کیا کیا۔

پھلوں کے حساب سے آم کوئی ایسا نامور پھل بھی نہیں مگر جب بازارمیں اس کی نمود ہوتی ہے تو باقی سب پھل پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ اس کا شاہی پیلاپن دوسرے تمام پھلوں کے رنگوں کو دھندلا دیتا ہے۔ آم اپنی مٹھاس کے ساتھ مزے سے پُر، گودے دار اور رسیلا پھل ہے۔

سنسکرت ادب میں یہ آمر کے نام سے مذکور ہے اور 4000 سال سے موجود ہے۔

انگریزی میں مینگو تمل کے لفظ منگائی سے آیا۔ اصل میں پرتگالیوں نے تمل سے لے کر اس کو منگا کے طور پر قبول کیا، جہاں سے انگریزی کا لفظ مینگو تیار ہوا۔

برصغیر کی تاریخ میں آم کے پیڑ کا ہر خواہش پوری کرنے والے پیڑ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔ سنسکرت ادب میں آم کا ذکر الوکک یعنی غیر مرئی محبت کی علامت کے طور پر ہے۔

صوفی شاعر امیر خسرو نے فارسی شاعری میں آم کی خوب تعریف کی اور اسے فخر گلشن کہا۔

ارے آپ کو پتہ ہے کہ آموں کے عشاق میں ہمارے دو نامور شاعر بھی شامل ہیں۔ غالب اور اقبال۔

غالب نے اپنےشعر میں آم کو بہشت کا پھل قرار دیا :

باغبانوں نے باغ جنت سے

انگبیں کے بہ حکم رب الناس

بھر کے بھیجے ہیں سر بہ مُہر گلاس

مرزا غالب اپنے گھر کے چبوترے پریار دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ سامنے سے کچھ گدھے گزرے۔ گزر گاہ کے ایک گوشے میں آم کی گٹھلیوں اور چھلکوں کو دیکھ کر ایک گدھا ٹھٹھکا۔ گٹھلیوں چھلکوں کو سونگھا اور آگے بڑھ گیا۔ آم سے نالاں ایک دوست نے کہا مرزا صاحب آپ نےدیکھا:’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘۔ مرزا مسکرائے۔ بولے ’’ہاں گدھے آم نہیں کھاتے۔ ‘‘

اکبر الہٰ آبادی کی آموں سے الفت سنئے:

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے

ایسا ضرور ہو کہ انھیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگر بیس تو دس خام بھیجئے
معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الٰہ آباد مرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی! پہلے مگر دام بھیجئے

ایک بار اکبر الہ آبادی نے علامہ اقبال کو لنگڑے آموں کا تحفہ بذریعہ ڈاک بھجوایا، علامہ اقبال نے پارسل کی رسید پر یہ شعرلکھ بھیجا :

اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔ

الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں آموں کی 1500 سے زیادہ قسمیں ہیں۔ جن میں تقریباً ایک ہزار قسمیں ہندوستان میں تیار ہوئیں۔ جن میں مشہورہاپس، مالدہ، راجہ پری، پیری، سفیدا، فضلی، توتاپری اور لنگڑاہ یں۔

پاکستان میں 110اقسام کا بہترین اور عمدہ معیار کا آم کاشت کیا جاتا ہے۔ ان میں چونسا، دسہری، لنگڑا، انور رٹول، سندھڑی، فجری، سرولی، بینگن پھلی، الفانو، محمدوال اور نیلم کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔

پھلوں کے بادشاہ سلامت نام کے ہی نہیں دام کے بھی بادشاہ ہیں، اور کبھی کبھی توخریداروں کو خوب لال پیلا کر دیتے ہیں۔ مشہور کہاوت ہے”آم کے آم گٹھلیوں کے دام، “ لیکن اب یہ کہاوت اس طرح ہونی چاہئیے ”آم کے آم گٹھلیوں اور چھلکوں کے دام۔ “

شعلہ، سردگولہ، جاگیر، باک، ، کامل، آرام، بوتل، گل مہر، تربت، امن، سنگم، حاجی والا اور مسٹرٹو۔

کیا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہیں؟ یہ سندھ میں پیدا ہونے والے آموں کی اقسام ہیں۔

اگست یا ستمبر میں آپ جو آم کھائیں گے، وہ سندھ کا نہیں ہوگا۔ وہ پنجاب اور دوسرے علاقوں سے آئے گا۔

ذائقے میں لاجواب آم صحت کیلئے بھی ہے انتہائی مفید۔

آنکھوں کی حفاظت:

آم میں اینٹی آکسیڈینٹ ذیاکسن تھن پایا جاتا ہے جو بلیوریز کو ختم کرکے آنکھوں کی خرابی سے حفاظت کرتا ہے اور آنکھوں کے گرد حلقوں اور داغ دھبوں کا خاتمہ کرتا ہے۔

دمے اور کینسر سے بچاؤ:

آم میں بیٹاکیروٹین پایا جاتا ہے جو دمہ اور سانس کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ آم میں بیٹا یروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو چھاتی اور پھپیھڑوں میں کینسر کے خطرے کو روکتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی:

آم میں موجود وٹامن ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور کیلشیم کو جذب کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ کی بہتری:

آم فائبر کے ساتھ ہائیڈروجن بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ پانی کی کمی کو دور کرتا ہے اور قبض کی شکایت کو بھی ختم کرتا ہے۔

امراضِ قلب اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ:

آم میں موجود پوٹاشیم امراض قلب سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آم کے جوس کو پانی اور شوگر کے ساتھ استعمال کرنے سے لو سے بچا جاسکتا ہے۔

جلد اور بالوں کیلئے:

آم میں موجود وٹامن اے بالوں کی نشوونما اور جسم کے ٹشوز کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ چہرے کی جلد اور بالوں کو خوبصورت اور دلکش کرنے میں مدد دیتا ہے۔

رس رسیلا آم ہی نہیں اس کا چھلکا بھی غذائی اعتبار سے فائدہ مند ہے۔ اس میں پائے جانے والے اجزا کئی اقسام کے کینسر اور شوگر سے محفوظ رکھتے ہیں۔ خون میں کولیسٹرول کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آم کا چھلکا کیسے کھائیں؟ بس جب مینگو شیک بنائیں یا کوئی ڈش بنائیں تو چھلکوں سمیت آم ڈال دیں۔

آم وہ بادشاہ ہے جس کی ریاست دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی ہے اور یہ دلوں پر حکمرانی کرتا ہے، اسے عوام سے کچھ نہیں چاہئیے بلکہ یہ ہر طرح سے عوام کو فائدہ بہم پہنچاتا ہے۔ درخت ہو تو چھاؤں، گرمی لگے تو مزیدار ڈشز۔ یہ ایسا بادشاہ ہے جس کی آمد سے سب خوش ہوتے ہیں اور ہرکوئی اسے اپنے گھر لاسکتا ہے۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    واہ۔ کیا آمیانہ مضمون ہے۔ زبردست۔

تبصرے بند ہیں.