کتنے آدمی تھے؟ جلسہ پلس کا آنکھوں دیکھا حال

13,579

پانی پت کا میدان برصغیر کی بڑی تاریخی  جنگوں کی وجہ سے مشہور ہوا تو مینار پاکستان  تاریخی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940ء کو پیش ہونے والی قرارداد پاکستان تو تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے ہی لیکن اس کے بعد بھی اس میدان نے اہم سیاسی لمحوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ ایک طویل جلاوطنی کے بعد 1986ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو  کی پاکستان واپسی ہوئی تو مینار پاکستان ہی اس فقیدالمثال استقبال کا مرکز ٹھہرا۔ اس میدان سے اٹھنے والی محترمہ کی سیاسی اڑان ایسا طوفان ثابت ہوئی کہ 1988ء کے عام انتخابات میں  سرکاری مشینری اور بھرپور وسائل کے ساتھ بھی آئی جے آئی  محترمہ کے سامنے  ٹک نہ پائی۔

30 اکتوبر 2011ء کو عمران خان نے اسی میدان میں ایک بڑا جلسہ کیا جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی بڑی تیسری سیاسی قوت کو جنم دیا وگرنہ اس سے پہلے پاکستان میں موثر طور پر  دو جماعتی نظام ہی چل رہا تھا۔ اس جلسے کے نتیجے میں تحریک انصاف  2013ء کے انتخابات میں تراسی لاکھ ووٹ حاصل کر کے مجموعی ووٹس کے لحاظ سے  پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بننے میں کامیاب رہی۔ 23 مارچ 2012ء کو ڈاکٹر طاہر القادری نے” سیاست نہیں ریاست بچائو “کے نام سے  اقبال پارک میں ایک بھرپور جلسہ کیا جس میں  اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا۔

اس لانگ مارچ کا اختتام آرٹیکل 62،63 کے موثر نفاذ کے معاہدے پر ہوا۔ اس کی زد میں آنے والی پہلی بڑی شخصیت جنرل پرویز مشرف کی تھی جنہیں 2013ء کے انتخابات میں صادق اور امین نہ قرار پانے کہ وجہ سے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا۔ اس کے بعد میاں نواز شریف  ، خواجہ آصف اور جہانگیر ترین بھی اسی آرٹیکل کے نفاذ کی وجہ سے نااہل قرار دئیے گئے۔  29 اپریل 2018ء کو تحریک انصاف نے ایک بار  پھر  سے مینار پاکستان پر عوا م کا جم غفیر  جمع  کر کے  وہ مومینٹم پکڑ لیا ہے جو  عام انتخابات 2018ء کے لئے پی ٹی آئی کی بڑی “لہر” کو جنم دے گا۔ اگر تحریک اصاف نے آئندہ دنوں میں کوئی بڑی غلطی نہ کی تو کسی بھی جماعت کے لئے  تحریک انصاف کو 2018ء کے انتخابات میں ہرانا  بہت مشکل ہو گا۔

میں شام 5 بجے کے قریب  گلبرگ سے مینار پاکستان کی طرف روانہ ہوا تو مال روڈ پر سینکڑوں  گاڑیاں اور موٹر بائیکس مجھے ہمسفر نظر آئے۔ مال روڈ سے لے کر مینار پاکستا ن کے احاطے  میں پہنچنے تک جگہ جگہ پرجوش انصافینز کا یہ نعرہ کانوں سے گونجتا رہا “دو نہیں۔ ایک”۔  تبدیلی اور نیا پاکستان کے بعد یہ نعرہ بھی انصافینز میں خاصا مقبول ہوا ہے۔  داتا دربار کے سامنے والی سڑک پر بھی  تحریک انصاف کے روائتی سبز اور لال رنگ میں رنگے انصافینز  کا جم غفیر تھا جس وجہ سے تمام لوگوں کو گاڑیاں وہیں پارک کرنا پڑ رہی تھیں۔ وہاں سے مینار پاکستان تک کے ایک کلو میڑ سفر کو پیدل عبور کرنا مشکل نہیں لگا اور اس کی وجہ وہاں کا پرجوش ماحول اور پارٹی ترانوں کی بھرمار تھی۔

مینار پاکستان کا احاطہ رات کے 9 بجے تک کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ پرویز خٹک اور شیخ رشید کو سٹیج پر آنے کی دعوت ملی تو عوام نے خاص جوش کا مظاہرہ کیا۔ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران آتش بازی کا شاندار مظاہرے نے عوام کی توجہ ایسے کھینچی کہ پورے میدان میں شائد ہی کوئی شخص ہو جس نے شاہ محمود قریشی کی تقریر دھیان سے سنی ہو۔ جب عمران خان کو سٹیج پر بلایا گیا تو پورا میدان فلک بوس نعروں  سے گونج اٹھا۔  یہ جوش وخروش اور عمران خان کے لئے لوگوں کی دیوانگی کا   ایسا منظر تھا  جو شائد پاکستان کی کوئی  بھی اور سیاسی جماعت بس تصور ہی کر سکتی ہے۔عمران خان نے جب  شوکت خانم کی تعمیر کے دوران  رونما ہونے والے اور سیاست میں آنے کی  وجہ بننے والے جذباتی واقعات سنائے تو  فرط جذبات میں بہت سے لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جلسہ پلس میں کتنے لوگوں نے شرکت کی؟ یعنی کتنے آدمی تھے؟ اب تک آپ لوگ پولیس اور سیکیورٹی ایجینسیز کے ایک لاکھ کے فگر کے متعلق تو پڑھ اور سن ہی چکے ہوں گے مگر میرا اندازہ اس سے مختلف ہے۔ اس حقیقت سے تو  کوئی بھی شخص انکار نہیں کرتا کہ پرانے  اقبال پارک  کے احاطے میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی گنجائش موجودتھی۔  اب  اس کے احاطے میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور محتاط سے محتاط اندازے کے مطابق بھی یہ گراونڈ اب دو لاکھ لوگوں کو با آسانی سمو سکتا ہے۔  رات 9  بجے  کے قریب  یہ گرائونڈ اس قدر بھر چکا تھا کہ اس میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں تھی۔ یعنی کم از کم بھی دو لاکھ افراد گرائونڈ کے اندر موجود تھے۔ میں جس راستے سے جلسہ گاہ پہنچا اس پر داتا دربار کے سامنے والی سڑک سے مینار پاکستان تک بھی عوام کا جم غفیر موجود تھا۔ یہی حال مینار پاکستان کے دوسرے اطراف   بھی ہو گا۔ اگر سڑک پر موجود لوگوں میں    سے  آدھی تعداد بھی انصافینز کی تصور کر لی جائے تو کم از کم ایک لاکھ افراد مینار پاکستان کی اطراف کی سڑکوں پر موجود تھے۔ اس لیے میرے ناقص اندازے کے مطابق آج تین لاکھ کے قریب لوگوں نے اس جلسے میں شمولیت کی ہے۔

Shahid Khan Baloch is a digital media journalist and a Ph.D scholar of Management Sciences in The Superior College, Lahore (Pakistan). Core areas of interest include Politics and Cricket.You may contact him here.

Twitter: @shahid7s25
Facebook: https://web.facebook.com/shaahidkhaanbaaloch
Email: shaaahidkhaan@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.