بڑے جلسے، وکٹ اور انتخابات

3,585

تحریک انصاف نے ایک بار پھر لاہور میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا جس میں لاہور سمیت پورے ملک سے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ غیر جانبدارانہ ذرائع کے مطابق اس جلسے میں عوامی شرکت بھرپور تھی مگر یہ جلسہ تحریک انصاف کے اپنے 29 اکتوبر 2011 والے جلسے سے چھوٹا تھا۔

جبکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اب سے بڑے جلسوں میں 1986 میں بے نظیر بھٹو شہید کا عوامی استقبال اور 23 دسمبر 2012 کو ڈاکٹر طاہرالقادری کا ‘سیاست نہیں ریاست بچاؤ’ کے عنوان سے عظیم الشان جلسہ تھا جس میں کوئی کرسی نہیں لگی تھی اور تا حد نگاہ پاکستانی پرچم اور عوام کا جم غفیر تھا۔

بڑے جلسے کرنا عمران خان صاحب کے لیے بھی کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ وہ آئے دن ملک کے طول و عرض میں جلسے کرتے رہتے ہیں۔

عمران خان نے اس جلسے میں اپنے 11 نکاتی ایجنڈے کا بھی اعلان کیا جو کہ درج ذیل ہیں۔

  1. یکساں تعلیم
  2. غریب عوام کیلئے مفت علاج
  3. ٹیکس کا یکساں نظام اور اداروں کو مضبوط بنانا
  4. کرپشن کا خاتمہ
  5. سرمایہ کاری کو بڑھانا، بجلی اور گیس پر ٹیکس کم کرنا
  6. روز گار مہیا کرنا
  7. سیروسیاحت یہ ترجیح دینا
  8. زراعت پہ خصوصی توجہ دینا
  9. فیڈریشن کو مضبوط کرنا اور تمام صوبوں کو یکساں حقوق دینا، پولیس کا نظام بہتر کرنا
  10. انصاف کی فراہمی
  11. خواتیبن کی معاشی و سماجی مضبوط حیثیت

خان صاحب کی تقریر طویل تھی۔ اس میں شوکت خانم ہسپتال اور دوسرے معاملات کا ذکر زیادہ تھا۔ تقریر کے دوران جلسہ حاضرین تھکے تھکے نظر آئے کیونکہ انہیں آئے ہوئے بہت دیر ہو چکی تھی۔

جلسہ بھی ہوگیا، عوام کو پیغام بھی پہنچ گیا مگر وکٹ نہ ملنے کی تشنگی نمایاں تھی۔ عام دنوں میں تحریک انصاف میں ممبران شامل ہوتے رہے جبکہ اتنے بڑے جلسے کے لیے کوئی نئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔ چوہدری نثار مخالف ٹیم کے نئے کپتان کے اوپننگ بیسٹمین بنے رہے۔ بہرحال ابرارالحق اور عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے خوب رنگ جمایا اور عوام کو محظوظ کیا۔

موجودہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی نگران حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔ تب عمران خان کا اصل امتحان شروع ہوجائے گا۔

پچھلی بار کی طرح اب بھی خان صاحب کو یقین ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کا تاج انکے سر ہی سجے گا اور یہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں۔ جب صادق سنجرانی بغیر کسی جماعت کے سینٹ کے چیئرمین منتخب ہو سکتے ہیں تو عمران خان وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتے۔ ان کے پاس تو بہت بڑی جماعت، کارکنان، وسائل اور وننگ ہارسز کا جم غفیر ہے۔ ان کے لیے تو بڑا مسئلہ یہی ہوگا کہ کسے ٹکٹ دیں اور کسے نہیں۔

نوجوانوں کو اور باصلاحیت خواتین کو انتخابات میں کتنی ترجیح دی جائے گی، اس پر کوئی تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔ مڈل کلاس، کسانوں، مزدوروں اور اقلیتوں کے نمائندے کون ہوں گے، یہ منظر بھی دیکھنے والا ہوگا۔

آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر عام کارکن اور اقلیتوں کو ہمیشہ نمائندگی دینا پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ تحریک انصاف کو اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسکا نعرہ ہی انصاف کا ہے۔ پچھلی بار بھی ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر بہت سی باتیں گردش کرتی رہی ہیں۔ امید ہے کہ غیر جانبدار پارلیمانی بورڈ کا قیام ان کی پہلی ترجیح ہوگا جو شفاف طریقہ کار سے ٹکٹ دے سکے۔

متحرک کارکنان کے ساتھ گراس روٹ لیول تک رابطے اور ہم خیال جماعتوں سے اگر اتحاد ممکن نہیں تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ضرور کی جائے کیونکہ بہت سے حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے اور ہار جیت کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ جاتا ہے ۔

میڈیا مینجمینٹ اور منشور کی تشہیر بھی بہت اہم ہے۔ عام آدمی تک اپنے بیانیہ کو پہنچانا بہت اہم ہے۔

اگر نیا پاکستان بنانا ہے یا سب کے لیے ایک پاکستان کی حقیقی تشکیل دینی ہے تو چلے ہوئے کارتوسوں کے بجائے اپنے نظریاتی نوجوان پر بھروسہ کرنا ہوگا اور انہیں آگے لانا ہوگا۔

کیونکہ اصل جنگ ووٹ کی عزت یا ووٹر کی عزت کے درمیان ہے۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.