ماضی کے جنگی مجرم بن گئے ناصح!

944

امریکا، برطانیہ اور فرانس، جو گذشتہ سات سال سے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باغی جہادیوں کو بڑے پیمانہ پر فوجی اور مالی امداد فراہم کر رہے ہیں، آج شام کی حکومت پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے ہیں اور شاید ساری دنیا بھی کہ 19ویں صدی میں فرانس کے جنرل بیگویاڈ نے تاریخ میں پہلی بار الجزایر میں فرانسیسی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف کیمیائی گیس اسفیاشن استعمال کی تھی۔ فرانسیسی جرنیل نے اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ فرانس کے خلاف لڑنے والے الجزائیریوں کو جنہوں نے غاروں میں پناہ لی ہے کیمائی گیس چھوڑ کر “لومڑیوں” کی طرح نکالا جائے۔

gen bugeud 3

اس کے ستر سال بعد 1917ء میں برطانوی جرنیل ایڈمنڈ ایلنبی نے غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیا تھا اور اسفیسیاٹینگ گیس کے دس ہزار پیپے استعمال کئے تھے۔

Edmund_Allenby

پھر 1920ء میں میسو پوٹیما (عراق) میں برطانوی مینڈیٹ کے خلاف عراقیوں کی بغاوت کچلنے کے لئے اس زمانہ کے برطانوی وزیر خارجہ سر ونسٹن چرچل نے بقول ان کے “غیر مہذب قبایل” کے خلاف زہریلی گیس استعمال کرنے کی سفارش کی تھی۔

اور پھر ایک صدی بعد امریکا، برطانیہ اور فرانس نے عراق اور ایران کے درمیان جنگ میں صدام حسین کوایران کے خلاف بڑی مقدار میں زہریلی گیس فراہم کی تھی۔

ماضی کے یہ جنگی مجرم آج اپنے سیاسی مقاصد کے لئے دوسروں پر کیمائی اسلحہ استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے 7 اپریل کو باغیوں پر زہریلی گیس کا حملہ کیا تھا۔ ابھی اس مبینہ حملہ کی تصدیق بھی نہیں ہوئی تھی کہ ان تینوں ملکوں نے مشترکہ کارروائی کر کے شام کے کیمیائی اسلحہ کے مراکز پر میزائل کے حملے کئے۔

misile attack

مغربی طاقتیں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ بشار الاسد کے کیمیائی گیس کے حملے زیادہ مہلک ہیں جب کہ خانہ جنگی میں زہریلی گیس کے حملوں کے مقابلہ میں نوے فی صد ہلاکتیں امریکا اور برطانیہ کی طرف سے جہادیوں کو فراہم کردہ روایتی اسلحہ سے ہوئی ہیں۔

کیسا ظلم ہے کہ شام کی خانہ جنگی دوسری عالم گیر جنگ سے بھی زیادہ طول کھینچ گئی ہے۔ میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں ننھے بچوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ ہے۔ آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد اس جنگ میں بے گھر ہو چکے ہیں اور یورپ میں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.