عام آدمی کا بجٹ

3,137

پاکستان کے نو منتخب وزیرِ خزانہ جناب مفتاح اسماعیل نے 2018ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے حسب روایت دعویٰ کیا کہ یہ عوام دوست اور ٹیکس فری بجٹ ہوگا۔

حکومت کی مدت اپنے اختتامی دنوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ حکومت کو تین مہینے کا بجٹ پیش کرنا چاہئیے اور بعد کے معاملات نئی آنے والی حکومت پر چھوڑ دینے چاہئيے مگر حکومتِ وقت نے تمام اعتراضات کو نظرانداز کر کے اپنا چھٹا بجٹ پیش کر دیا ہے جسے جلد ہی کابینہ سے منظور کروا لیا جائے گا۔

اس بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10؍ فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مالی سال 2019ء-2018ء کے بجٹ میں کھاد، الیکٹرک گاڑیاں، پولٹری، ڈیری مصنوعات، ایل ای ڈی لائٹس، لائیو اسٹاک، زراعت، زرعی اور صنعتی مشینری، ایل این جی، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اسکی اسمبلنگ، ٹائر، اسٹیشنری، نظر کے چشمے، الیکٹریکل اسٹیل شیٹس، استعمال شدہ کپڑے اور جوتے سستے ہوگئے ہیں جبکہ موبائل، سیمنٹ، سگریٹ اور چھالیہ مہنگے ہوگئے ہیں۔

وفاقی بجٹ کا کل حجم 5 ہزار 932 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ معاشی شرح نمو کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 5 ہزار 246 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 4.9 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔

بجٹ تقریر کے ساتھ ہی ایک خبر بھی چلتی رہی کہ اوگرا نے فیول پرائس میں مزید اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے جو کہ یکم مئی 2018ء سے نافذ العمل ہوگا۔

بجٹ میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے عام افراد کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ وہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جہاں بجلی، گیس اور پانی کی بنیادی سہولیات 70 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک لوگوں کو مکمل طور پر میسر نہ ہو سکیں، وہاں ایک عرصہ سے ایندھن کے قیمتوں میں ردوبدل کر کے ہر مہینے منی بجٹ غریب عوام کے منہ پر مارا جاتا ہے۔

حکومت کی مدت ختم ہوجاتی ہے لیکن لوڈ شیڈنگ جیسی بلا ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ غریب کسان کا تو حال ہی مت پوچھیں۔ رمضان المبارک میں چینی 70 روپے کلو بکے گی جبکہ غریب کاشتکاروں کا گنا 120 روپے من لیا جا رہا ہے جسکی ادائیگی میں بھی شوگر ملز کے مالکان مہینوں لگا دیتے ہیں۔

واقفانِ حال کہتے ہیں کہ شوگر ملز کی ایک بڑی تعداد کے مالک حکومت اور اپویشن کے صفِ اول کے رہنما ہیں جن کے دل سے عوام کا درد نکلتا ہی نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی عدالتی فیصلے سے نکل جائیں تو پھر کہتے پھرتے ہیں، مجھے کیوں نکالا۔

جس طرح تھانے کچہری عدالتوں کی زبان عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے اور وہ قانون موشگافیوں سے نا واقف ہوتے ہیں۔ اسی طرح مالی بجٹ میں استعمال کی گئی زبان یا اصطلاح بھی عام آدمی کے سر سے گزر جاتی ہے مگر اس کا بنیادی سوال اپنی جگہ پر برقرار رہتا ہے کہ تعلیم، روزگار اور صحت کی مناسب سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ریاست ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بجٹ خسارہ کیا ہوتا ہے یا ٹیکسز کی شرح میں رد و بدل سے کیا انقلاب آتا ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکے۔ اپنے بچوں کو سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے انہیں دو وقت کا کھانا کھلا سکے۔ تعلیم اور صحت اگر سرکاری سطح پر کہیں مل گئے تو کیا کہنے ورنہ زندگی کی گاڑی تو گھسیٹنی ہے۔

5900 ارب کا بجٹ پیش کرنے والے وزیرِ خزانہ سے پرانا گھسا پٹا سوال تو بنتا ہے کہ 15000 روپے آمدنی والے مزدور کے گھر کا بجٹ بنا کے دکھاؤ تو مانیں۔

ہر سال پیش ہونے والے بجٹ کا خسارہ بڑھتا جاتا ہے۔ قرضوں کا سود اتارنے کے لیے بھی قرضے لیے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر بانڈز جاری کیے گئے جسکی ضمانت کے لیے موٹروے، ائیرپورٹ، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارات گروی رکھی گئی ہیں۔

شنید ہے کہ نگران وزیرِاعظم اقتصادی امور کے ماہر ہو سکتے ہیں اور نمایاں نام اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کا سامنے آ رہا ہے تا کہ مالی معاملات چلانے میں آسانی ہوسکے اور وہ عالمی مالیاتی اداروں سے بہتر ڈیلنگ کرسکیں۔

سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ جب پانچ پانچ سال وزیرِ خزانہ رہنے والے ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتے ہیں، عوام کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے اور موٹرے کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں تو پھر تین ماہ کی نگران حکومت کے پاس کونسی جادو کی چھڑی ہوگی جو عام آدمی کی قسمت بدلے گی جبکہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح عام انتخابات کا منصفانہ انعقاد ہوتا ہے۔

سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح آخری ایام میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پیش کرنا پری پول گنگ تھی۔ اسی طرح اس موقع پر بجٹ پیش کرنا بھی انتخابی فوائد سمیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ بجٹ میں عام آدمی کو کتنی عزت ملے گی، اسکا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا کیونکہ حکمرانوں کا زور ابھی بھی ووٹ کی عزت پر ہے۔ ووٹرز کی عزت کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.