کیا آپ شمالی کوریا جانا پسند کریں گے؟

9,524

دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں وہاں عوام کی سہولت کیلئے دن رات کام کیا جا رہا ہے۔ عوام کی آسانی کیلئے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہیں ہیں مگر ایک ایسا ملک بھی دنیا میں موجود ہے جہاں انسانی حقوق نہ ہونے کے برابر ہیں۔

دنیا میں کوئی بھی ملک ہو وہاں یا تو جمہوری نظام ہے یا بادشاہت ہے۔ اگر برطانیہ اور عرب ممالک کی بات کرلی جائے تو وہاں جمہوریت اور بادشاہت ایک ساتھ بھی ہے۔ دنیا میں ایک ایسا عجیب و غریب ملک بھی ہے جہاں عوام اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتی۔ یہ ملک شمالی کوریا ہے۔

چائنہ اور جاپان کے درمیان موجود شمالی کوریا، جنوبی کوریا سے علیحدگی اختیار کرکے 15 اگست 1948ء میں باقائدہ معرض وجود میں آیا تھا۔ شمالی کوریا میں سال 2018ء کی بجائے 106 چل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 15 اپریل 1912ء کو “کم ایل سونگ” جوکہ شمالی کوریا کا بادشاہ رہ چکا ہے، پیدا ہوا تھا تب سے شمالی کوریا کا نیا کیلنڈر شروع ہوا تھا۔ شمالی کوریا میں تین طرح کی زبانیں، چائینیز، جاپانی اور کورین بولی جاتی ہیں۔

شمالی کوریا جنگی ہتھیاروں کی تیاری میں  بہت سرگرم ہے۔ اب تک پانچ ایٹمی دھماکے جو کہ بلترتیب 2006ء، 2009ء، 2013ء اور 2016ء بھی کرچکا ہے۔ آخری ایٹمی دھماکے کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایٹم بم جاپان پر ماضی میں گرائے گئے ایٹم بم سے بھی زیادہ شدت کا تھا۔ حال ہی میں شمالی کوریا ہائیڈروجن بم کا بھی کامیاب تجربہ کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کے پاس ایک ایسا میزائل بھی ہے جو 4000 کلومیٹر تک جا کر تباہی مچا سکتا ہے۔

شمالی کوریا کے ملٹری حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کی ملٹری طاقت امریکا سے پانچ گنا بڑی ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاریوں میں تیزی سے اضافہ پر امریکہ اور جاپان کی جانب خطے میں امن کو خطرہ سمجھ کر کئی بار وارننگ بھی دے چکے ہیں مگر شمالی کوریا اس کی پرواہ کیے بغیر اپنے جارحانہ کاموں میں مصروف عمل ہے۔

شمالی کوریا میں عجیب و غریب قسم کے قانون ہیں۔ وہاں کے شہری اپنی پسند کے بال نہیں رکھ سکتے۔ وہاں مردوں کے لئے 10 ہیئر سٹائلز اور عورتوں کے لئے 18 سٹائلز ہیں۔ ان کے علاوہ وہاں کے لوگ بالوں کا سٹائل نہیں بنا سکتے اور نہ ہی شمالی کوریا کے بادشاہ “کم جونگ ان” جیسا ہیئرسٹائل بنا سکتے ہیں۔ شادی شدہ عورتوں کو بال چھوٹے رکھنے کا حکم ہے جبکہ بغیر شادی کے لڑکیاں بال لمبے رکھ سکتی ہیں۔

شمالی کوریا کا اپنا انٹرنیٹ ہے جو کورین زبان میں ہے۔ اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد سات سو کے قریب ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یہ تمام افرداد گورنمنٹ افسران ہیں۔ وہاں کی عوام فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سماجی ویب سائٹس تک رسائی نہیں رکھتی۔ ایپل، سونی اور دیگر بڑی کمپنیوں کو یہاں پراڈکٹ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

میڈیا کو حکومت کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں جرم کرنے والے کے باپ اور بیٹے کو بھی سزا دی جاتی ہے۔اپنا نیا گھر خریدنے کے بعد اپنی مرضی کا  دیواروں پر رنگ بھی نہیں کرواسکتے۔ اس کے لئے بھی سرکار کی اجازت لینی پڑتی ہے۔

شمالی کوریا میں عورتوں کیلئے پینٹ اور مردوں کیلئے جینز کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ شمالی کوریا کی حکومت ہر امریکن اشیا کے استعمال سے منع کرتی ہے،

شمالی کوریا کے دارلحکومت میں ہر عام شہری کو جانے اور گھر بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ وہاں صرف حکومتی عہدیداران ہی گھر بنا اور رہ سکتے ہیں۔ شمالی کوریا میں رہنے والے اپنی ذاتی گاڑی بھی نہیں خرید سکتے۔ اس کا حق بھی صرف سرکاری اور آرمی کے افسران کو ہی حاصل ہے۔

شمالی کوریا میں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور نمائندہ ایک ہی ہوتا ہے جو کہ بادشاہ کی نسل سے ہوتا ہے، عوام نے اسی کو ووٹ دینا ہوتا ہے۔ کسی عام شہری کو الیکشن لڑنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس الیکشن کے ڈرامے سے شمالی کوریا خود کو جمہوری ملک کہلواتا ہے۔ ملک میں ہر گھر میں ریڈیو لگا ہے۔ ریڈیو کو بند نہ کرنے کا حکم ہے، چاہے آپ کا سننے کا دل نہیں چاہ رہا ہو یا آپ کے سر میں درد ہو۔

شمالی کوریا میں کسی شخص کو ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سیاحوں کے ملک میں داخل ہوتے ہی ان کا موبائل ضبط کر لیا جاتا ہے اور اگر کوئی سیاح شمالی کوریا میں آ کر کسی سیاحتی ماہر کوساتھ نہیں رکھتا تو اس کو جرم مانا جاتا ہے۔

شمالی کوریا کی عوام اتنا ظلم و ستم اور جبر برداشت کر رہی ہے۔ وہاں قانون کے نام پر انسانیت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام  اس جہنم جیسی زندگی سے نفرت بھی نہیں کرسکتی کیوں کہ اجازت اس کی بھی نہیں ہے۔

آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنی آزاد زندگی کو چھوڑ کر شمالی کوریا میں سخت اور مشکل زندگی گزارنا چاہیں گے؟

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. میاں حامد کہتے ہیں

    اچھے عثمان بھائی
    السلام علیکم
    یہ جو آپ نے اتنی خوفناک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کو دوسرے اینگل سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے؟ ، میں جو بات کرنے لگا ہوں اس سے کوئی غلط مطلب نہ لی جئے گا صرف ڈسکشن کے لئے بات کر رہا ہوں:
    آپ دیکھیں ہمارے ملک کو اس جمہوریت نے کیا دیاہے، انٹرنیٹ، فیس بک ، اسمارٹ فونز تک ہماری رسائی نے زندگی کو آسان بنانے کے بجائے مشکل ترین بنا دیا ہے، ہم ایک قوم بننے کے بجائے بے شمار ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں اور یہ معاشرے ہمارے لئے مسلسل تکلیف کا باعث بن گیاہے۔ آدھے سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے یعنی آدھی روٹی پر گزارہ کر رہی ہے۔ دنیا کے بڑی قوموں نے ہمیں غلام سمجھ لیا ہے۔
    ذرا غیر جانب دار ہو کر سوچیں تو لگتا ہے کہ پاکستانی عوام کے مصائب ، شمالی کوریا کے عوام سے زیادہ ہیں۔
    شمالی کوریا نے اپنی عزت نفس پر کوئی سودا ابھی تک نہیں کیا ہے، البتہ اپنے عوام کو ایک خاص طرز زندگی پر آمادہ کرکے، اپنے وسائل میں رہنے اور اپنا دفاع اپنے بل بوتے پر کرنے کی زبردست مثال قائم کی ہے۔
    میں تمام پڑھنے والوں سے دوبارہ عرض کروں گا کہ درج بالا تحریر صرف اپنے اذہان کو کھولنے ، سوچنے اور غوروفکر کے لئے لکھی ہے

  2. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    بہت خوب،

  3. sulman کہتے ہیں

    Can someone who has first hand experience of Korean life, may validate all the points mentioned in this article. It seems little exaggerated.

  4. Usma کہتے ہیں

    Sulman sir it’s fact and not exaggerated, if you are still not clear about then please visit North Korea and prove me wrong,, i will be very thankful to you..
    Thanks!

تبصرے بند ہیں.