نوجوان نسل بہتر تربیت سے محروم کیوں؟ 

1,641

پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ وسائل اس مناسبت سے نہیں بڑھ رہے جس کی وجہ سے ہر ‎‎‎شعبہ بالخصوص نوجوان نسل زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ آبادی کا بہت بڑا حصہ بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے جسے کارآمد شہری بنا کر ملک کے بہت سے مسائل کوحل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس جانب توجہ نہ دینے سے جہاں قومی مسائل گھمبیر سے گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں وہیں نوجوانوں کے لئے اچھے اور شاندار مستقبل کی امید باندھنا بھی دشوار بنتا جا رہا ہے۔

یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس جانب کنبے سے لے کے حکومتوں تک سب کو توجہ دینی چاہیے۔ لیکن ستم تو یہ ہے کہ کوئی بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہے اور دوسروں کو الزام دے کر جان چھڑوالیتا ہے۔ ہماری آبادی کا بہت بڑا حصہ ناخواندہ ہے تاہم ایسے والدین جو اپنی ناخواندگی اور غربت کے باعث بچوں کو تعلیم دلانے سے قاصر ہیں،اول تو انہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں۔ اگر ایسا نہ کر سکیں تو بھی اپنے بچوں کو ذاتی تجربے کی بنیاد پر اخلاقی و معاشرتی رہنما‏ئی فراہم کرنا سب سے پہلے والدین کا فرض ہے۔ ایسے والدین جو خود ناخواندہ ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھانے کی سکت رکھتے ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کو شعور دلانے کے لئے تعلیم کی طرف راغب کریں اور یہی کام پڑھے لکھے والدین کو بھی کرنا چاہیے۔

ازل سے آج تک اولاد کی پرورش ماں باپ کی ہی ذمہ داری ہے۔ پرورش میں صرف اچھا کھانا اور اچھا لباس نہیں آتا بلکہ اس کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ بعد میں والدین اور معاشرے کے لئے ایک اچھا شہری ثابت ہو۔ لڑکپن اور جوانی کی عمر میں قدم رکھتے وقت زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں سخت پابندیوں کا شکار کر دیا جائے بلکہ ان کی نفسیاتی کیفیت اور حرکتوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے انہیں اچھے برے کی تمیز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اچھائی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے۔

نئی نسل کو تربیت فراہم کرنے کے لئے دوسری بڑی ذمہ داری استاد پر عائد ہوتی ہے۔ گو آبادی کا نصف حصہ سکول جانے سے محروم رہتا ہے لیکن جو خوش قسمت سکول پہنچ جاتے ہیں، انہیں بھی تعلیم تو حاصل ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ اہم ادارہ بھی ان بچوں کی تربیت اور فکری رہنمائی کے سلسلے میں اپنا کردار پوری طرح سے نہیں نبھاتا۔ ہمارے معاشرے میں استاد گوناگوںمسائل کا شکار ہے معاشرتی حیثیت اور تنخواہ کی کمی تو سرکاری و نجی اداروں کے اساتذہ کا مسئلہ ہے۔ سرکاری اساتذہ کو حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی بہت سی اخلاقی ذمہ داریوں کے مسئلے کا سامنا ہے جس سے وہ اپنے بنیادی فرٖٖٖض پر پوری طرح سے توجہ نہیں دے پاتے۔ ایماندار فرض شناص استاد بھی بچوں کو تعلیم تو دیتا ہے، انہیں اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے فارمولا بھی بتاتا ہے، لیکن ایک اچھا انسان بننے کے سلسلے میں رہنمائی دینے پر توجہ نہیں دیتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو ڈانٹ پٹ کی شکل میں سزا دی جاتی ہے۔

نوجوان نسل کو کارآمد شہری بنانے کی تیسری بڑی ذمہ داری حکومت کی ہے جو اپنے ملازم اہلکاروں کی مدد سے ملک کا نظام چلاتی ہے۔ حکومت کو سب سے پہلے تو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ بیوروکریسی اور اساتذہ کے معاملات کو سدھارنا چاہیے۔ محکمہ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ بیوروکریسی کو فعال اور کرپشن سے پاک بنا کر استاد کے مسائل میں کمی اور وسائل میں اضافہ کرنا چاہیے تا کہ استاد تعلیم و تربیت کے مقدس فریضے کی جانب زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے سکیں۔

صداقت علی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے طالب علم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.