نہ شرم آتی ہے نہ حیا آتی ہے

2,215

کبھی آپ نوٹ کریں۔ اچانک ریل گاڑی آتی ہے۔ آہنی پٹڑیوں پر چنگھاڑتی ہوئی گذرتی ہے۔ پہیئوں اور پٹڑیوں کی گڑگڑاہٹ کچھ دیر کے لیے اعصاب کو جھٹکا پہنچاتی ہے اور پھر سناٹا طاری ہو جاتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں سکون رگ و پے میں اترنے لگتا ہے۔

یہی کیفیت قومی اسمبلی کے ان ارکان کی ہو جاتی ہے جن کو عدالت آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیتی ہے۔

کل خواجہ محمد آصف کے دل کی دھڑکن کچھ دیر کے لیے تیز ہوئی ہو گی۔ اعصاب میں تشنج پیدا ہوا ہو گا۔ خون نے کنپٹیوں میں ٹھوکریں ماری ہوں گی اور پھر سکون آ گیا ہو گا۔

خواجہ محمد آصف سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 110 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ اس سے پہلے چار مرتبہ الیکشن جیت چکے ہیں۔ ایک مرتبہ سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ مگر یہ ان کے لیے پہلا موقع ہے کہ وہ اپنی مدت ہوری نہ کر سکے اور اسمبلیاں اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے عثمان ڈار کی رٹ پٹیشن پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں 2013 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی میں دانستہ غلط بیانی، معلومات چھپانے اور جھوٹ اور دھوکا دہی جیسے الزامات کا مرتکب قرار دے کر آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت سے برخواست کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ خواجہ محمد آصف 2013 کا انتخاب لڑنے کے لیے اہل ہی نہیں تھے۔

اب معلوم نہیں اس کو لطف کی بات کہا جائے یا افسوس ناک یا پھر المیہ قرار دیا جائے کہ ایک ایسا شخص جو عدالت کے نزدیک انتخابات میں حصہ لینے کا اہل ہی نہیں تھا، اس نے انتخابات میں حصہ لیا۔ انتخابات میں کامیاب ہوا اور پھر وفاقی وزیر پانی و بجلی، دفاع اور خارجہ امور جیسے حساس عہدوں پر تعینات بھی رہا۔

طرفہ تماشہ یہ ہے کہ خواجہ صاحب اور ان کی جماعت والے اس بات کو دوہرائے جا رہے ہیں کہ عدالت نے اقامہ پر نااہلی کر دی حالانکہ اقامہ تو انہوں نے چھپایا ہی نہیں تھا بلکہ پہلے سے ظاہر کیا ہوا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ اقامہ پوشیدہ نہیں تھا اور کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت پاسپورٹ کی فوٹوکاپی جمع کروائی گئی جس پر اقامہ موجود تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ خواجہ صاحب کی نااہلی محض اقامہ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

اگر عدالتی فیصلے کو پڑھا جائے تو جو سب سے پہلی بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ خواجہ محمد آصف 2011 سے متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی “انٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹرکل کو” کے کل وقتی ملازم تھے۔ جبکہ کاغذات نامزدگی کے کالم نمبر 8، جہاں موجودہ پیشہ درج کیا جاتا ہے، میں خواجہ صاحب کا موجودہ پیشہ کاروبار درج تھا۔ یہ ان کی پہلی غلط بیانی تھی۔ دریں اثنا خواجہ صاحب نے کاغذات نامزدگی میں اپنے کاروبار سے متعلق کاغذات بھی لف نہیں کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق خواجہ صاحب کی ملازمت کے تین معاہدے عدالت میں پیش کیے گئے جن میں سے پہلے معاہدے کے مطابق، جو 8 جون 2011 کو ہوا، خواجہ صاحب کا عہدہ قانونی مشیر اور تنخواہ 9،000 اماراتی درہم ماہانہ مقرر ہوئی۔ اس معاہدے میں خواجہ صاحب کو سالانہ تیس چھٹیاں، رہائش، گاڑی اور دیگر الاؤنسز بھی مہیا کیے گئے۔ اس معاہدے کی شق نمبر 10 کے تحت روزانہ کام کی مقررہ مدت 8 گھنٹے اور ہفتے میں چھ دن تھی۔

دوسرا معاہدہ یکم جولائی 2013 میں اس وقت ہوا جس وقت خواجہ صاحب 2013 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی کے رکن بن چکے تھے۔ اس معاہدے کی تفصیلات پہلے معاہدے والی ہی تھیں سوائے تنخواہ کے جو اب 30،000 اماراتی درہم کر دی گئی۔ اس وقت تک خواجہ صاحب وفاقی وزیر بجلی اور پانی کا حلف اٹھا چکے تھے۔ یہ معاہدہ چار سال تک کے لیے نافز العمل تھا یعنی 30 مئی 2017 تک۔

تیسرا معاہدہ ملازمت 31 مئی 2017 کو کیا گیا جس وقت خواجہ محمد آصف صاحب وفاقی وزیر دفاع تھے۔ یہ معاہدہ اب تک نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے مطابق خواجہ صاحب کا عہدہ مینیجمنٹ کونسلٹنٹ کر دیا گیا۔ جبکہ تنخواہ میں اضافہ کر کے 50،000 اماراتی درہم کر دی گئی اور فیملی کے لیے رہائش بھی فراہم کی گئی۔

ملازمت کے ان معاہدات کی روشنی میں خواجہ صاحب کو متحدہ عرب امارات کا اقامہ فراہم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ خواجہ صاحب متحدہ عرب امارات میں “اسکلڈ لیبر” یعنی ماہر مزدور کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہو گئے۔

جب عدالتی کارروائی مکمل ہو گئی اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تو عدالت نے اجازت دی کہ اگر کوئی اور دستاویزات جمع کروانا چاہے تو کروائی جا سکتی ہے۔ تب خواجہ محمد آصف نے وہ تاریخی دستاویز عدالت میں جمع کروائی جس نے اس مقدمے میں رہی سہی کسر بھی ختم کر دی۔

یہ ایک خط تھا جو اس کمپنی کے مالک نے لکھا تھا جس میں خواجہ صاحب ملازم ہیں اور اس کے مندرجات کے مطابق کمپنی کے مالک نے یہ انکشاف کیا کہ خواجہ محمد آصف اس کمپنی کے کل وقتی ملازم نہیں ہیں بلکہ وہ جز وقتی قانونی مشیر ہیں جن کا ملازمت یا مشورہ کے لیے متحدہ عرب امارات میں ہونا ضروری نہیں بلکہ ان کی قانونی مشاورت ٹیلی فون پر بھی لی جا سکتی ہیں یا پھر جب وہ کسی طے شدہ دورے پر متحدہ عرب امارات آئے ہوئے ہوں تب ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور ان خدمات کے عوض خواجہ صاحب کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جو سب سے عجیب بات اس خط میں لکھی گئی وہ یہ تھی کہ خواجہ محمد آصف کے ملازمت کے تین معاہدے محض متحدہ عرب امارات کے قوانین کی کارروائی کو پورا کرنے کے لیے تحریر کیے گئے جو کہ امارات کی حکومت کی جانب سے منظور شدہ ہیں۔ درحقیقت ملازمت کی شرائط خواجہ صاحب سے زبانی کلامی طے کر لی گئی تھیں۔ اور یہ بھی لکھا گیا کہ جو شرائط ملازمت کے معاہدوں میں تحریر کی گئیں وہ اصل شرائط تھیں ہی نہیں۔ اور یہ بھی لکھ ڈالا کہ خواجہ محمد آصف کبھی اس کمپنی کے کل وقتی ملازم رہے ہی نہیں۔

یہ ایک دھماکہ خیز خط تھا جس نے خواجہ صاحب کی دیانت اور صداقت پر سنجیدہ نوعیت کے سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے۔

اس کے علاوہ عدالت میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ 2013 کے انتخابات کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف کیے گئے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں میں خواجہ صاحب نے متحدہ عرب امارات کے نیشنل بینک میں موجود اپنا اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا حالانکہ کاغذات نامزدگی پر کرتے وقت اس اکاؤنٹ میں رقم موجود تھی۔ اس اکاؤنٹ کو 2015 میں الیکشن کمیشن کے سامنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشواروں میں ظاہر کیا گیا۔

یہ تمام معاملات عدالت میں تسلیم کیے گئے۔ تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے خواجہ محمد آصف کے انتخابات کو عوامی نمائندگی کے 1976 کے ایکٹ کی شق 52 کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا مگر اس وقت یہ تمام دستاویزی ثبوت میسر نہیں تھے چناچہ عثمان ڈار کی اپیل خارج کر دی گئی تھی۔ یہ ثبوت بعد میں سامنے آئے تھے۔

اس کے علاوہ کاغذات نامزدگی میں اڑسٹھ لاکھ بیس ہزار روہے کی فارن ریمیٹنس ظاہر کی گئی لیکن اس ساتھ کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے جبکہ تنخواہ کے خانے میں صفر درج کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ خواجہ محمد آصف کوئی تنخواہ وصول نہیں کر رہے۔ اس سے شکوک و شبہات میں اور اضافہ ہوتا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا کہ ملازمت کے معاہدے کو جان بوجھ کر ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ اگر ظاہر کیا جاتا تو پاکستان کے وزیر دفاع اور بعد ازاں وزیر خارجہ کو اس کثیر تنخواہ اور اقامے سے ہاتھ دھونے پڑتے جو انہیں ٹیلی فون پر دی جانے والی مشاورت کی بنیاد پر مل رہے تھے۔

عدالت نے یہ بھی لکھا کہ اس نے بہت باریک بینی سے اس نکتے کا جائزہ لیا مگر وہ کسی بھی طرح اس بات پر متفق نہ ہو سکی کہ جان بوجھ کر اقامہ اور تنخواہ چھپانا کسی بھی طرح سے جائز اور دیانت پر مبنی ہو سکتا ہے۔ چناچہ ملازمت کی بجائے کاروبار ظاہر کرنا اور تنخواہ چھپانا خواجہ محمد آصف کی بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد کے ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے اور دیگر دو اراکین میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق شامل تھے، نے خواجہ محمد آصف کو آئین کی شق “62 ایف ون” اور عوامی نمائندگی کے 1976 کے ایکٹ کی شق “99 ون ایف” کی شرائط پوری نہ کرنے کا خطاوار ٹھہراتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ خواجہ محمد آصف 2013 کا انتخاب لڑنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ خواجہ صاحب کو ان کی نشست سے ڈی نوٹی فائی کر دیا جائے۔

فیصلے کے آخر میں عدالت نے یہ لکھا کہ عدالت کے لیے یہ ایک تکلیف دہ اور ناپسندیدہ عمل ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں اپنے عدالتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس قسم کے فیصلے دے جس کی بنیاد پر عوام کے منتخب نمائندے نااہل قرار پائیں۔ اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد پارلیمنٹ پر کمزور ہوتا ہے بلکہ عدالتوں کی تنازعات کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔ سیاسی معاملات کو حل کرنے کا فورم سیاسی ہی ہونا چاہیئے اور اس کے لیے پارلیمنٹ بہترین جگہ ہے۔

عدالت نے آخر میں یہ بھی لکھا کہ پاکستان ان گنی چنی ریاستوں میں سے ہے جہاں پر پارلیمنٹ اور کابینہ کے لیے کسی قسم کا کوئی کوڈ آف ایتھکس اور کنڈکٹ سرے سے موجود ہی نہیں ہے جو سیاسی تنازعات میں تصفیہ طلب امور پر فیصلے صادر کر سکے۔

عدالت نے یہ فیصلہ انتہائی دکھی دل کے ساتھ تحریر کیا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف یہ کہ ایک ممتاز سیاست دان نااہلیت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ تین لاکھ بیالیس ہزار ایک سو پچیس ووٹروں کے خواب اور تمنائیں بھی چکنا چور ہو گئی ہیں۔

اس لمبے چوڑے مضمون کے اختتام پر صرف اتنا ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر اٹھنے والے کیا خود ووٹ کی عزت کرتے ہیں؟ کیا شرم اور حیا صرف دوسروں کو دلانے کے لیے رہ گئی ہے؟ ووٹ کو عزت دو کے نعرے بلند کرنے والوں کو خود تو نہ شرم آتی ہے نہ حیا آتی ہے!

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Azam Gilani Mirpur A.K. کہتے ہیں

    boht Khoob…. lekan bat yeh hay k jin logoon ne hakoomati ‘khota biryani’ raj k khai hui hay, unhen kia farq parna hay…. any how, boht khoob likha gya hay aur likhne waloon ko likhte rehna chaheyay…

  2. Shirazi کہتے ہیں

    One more “PAPI” is out but justice is still for from done yet. Just forcing him out of parliment is not what public will benefit from. All his stolen, laundered money which real oowners are taxpayers, should be forcefully snatched from him and then he should, for at least five years, put behind the bars. In future no one like him will breach the trust of his/her voters thus his boss demand “vote ko Izzat do” will be fulfilled. His boss is going to jail, by the look of it, for his sins committed in his thirty years long innings. His sins are much more punishable. He has not just stolen money he stole ethics of this nation…

  3. مرئم کہتے ہیں

    بہت اچھا کہا ۔کاش کوئ شرم ہوتی کوئ حیا ہوتی

  4. طارق کہتے ہیں

    عدالت کا دکھی دل. اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

تبصرے بند ہیں.