وعدوں کے بے تاج بادشاہ کا ایک اور وعدہ

کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا

1,228

پاکستانی عوام نے کئی بار یہ جملہ سنا ہے ” اگر ایسا نہ کیا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ۔” اپنے ہر وعدے کے ساتھ یہ جملہ بولناشہباز شریف کا تکیہ کلام بن چکا ہے۔ سیاستدان عوام سے ووٹوں کیلئے ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں جن کو وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتے۔ ان وعدوں کرنے والوں میں شہباز شریف اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ صوبائی اور قومی حلقوں تک محدود سیاستدانوں کے وعدوں میں نکاسی آب ، گلیوں کو پختہ کرنے، تھانہ کچری کے معمالات میں معاونت کے وعدے ہوتے ہیں۔جبکہ قومی جماعتوں کی قیادت کرنے والے سیاستدانوں کی طرف وعدوں کی گونج بھی اونچی ہوتی ہے ۔وہ عوام کی دُکھتی رَگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے مطابق وعدے کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس ملک میں عوام کو سب سے زیادہ جس مشکل کا سامنا ہے وہ لوڈشیڈنگ ہے۔ تو قومی سطح سے بجلی کے سب سے زیادہ وعدے کیے جاتے ہیں۔

لوڈشیڈنگ پر سب سے زیادہ اور دلچسپ وعدے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ہوتے ہیں۔ ہر بار نئے دورانیہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور ساتھ یہ کہنا نہیں بھولتے کہ اگر اس دورانیہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کی تو” میرا نام شہباز شریف نہیں ۔” ویسے یہ کہنے سے پہلے ہی وہ اپنا نام خود تبدیل کرکے اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہلواتے ہیں۔

اسی طرح جب 17 جون 2014 کو لاہور میں پنجاب پولیس نے حکومتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منہاج القرآن کے 14 کارکنوں کو موت کی نیند سلادیا تو شہباز شریف نے قوم سے ایک اور وعدہ کیاکہ اگر سانحہ ماڈل کے باقر نجفی کمیشن نے میری طرف انگلی بھی اٹھائی تو ایک لمحہ سے پہلے مستعفی ہو جاوں گا ۔ جب اس کمیشن نے انگلی تو کیا ہاتھ ہی پنجاب حکومت پر رکھ دیا اپنے وعدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے رپورٹ دبا دی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپریل 2018 میں اپنے کراچی کے پہلے دورے کے دوران ایک وعدہ کراچی کی عوام سے بھی کیا۔ فرماتے ہیں کہ کراچی کو نیویارک بنا دوں گا۔ اس سے پہلے لاہور کو پیرس بنانے کا بھی وعدہ کر چکے ہیں ۔ شہباز شریف نے اپنے پیرس کیلئے یہ اقدامات کیے کہ لاہور کے تمام بلدیاتی اداروں کی حالت بہتر بنانے کیلئے ان اداروں کی ڈینٹنگ پینٹگ کرنے کی بجائے ہر محکمے کے ساتھ ایک پرائیویٹ کمپنی بنا دی۔ اب ان اداروں کو کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کام صرف سرکاری بجٹ کو ان پرائیوٹ کمپنیوں کو ٹراسفر کرنے تک محدود ہو گیا۔ اور ان 56 کمپنیوں کے مالک گھوم گھما کر شریف فیملی اور ان کے حلقہ احباب ہی ہیں یعنی کہ,

خود ہی قاتل، خود ہی مخبر، خود ہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں خوں کا دعویٰ کس پر؟

کیا شہباز شریف نے پیرس اور نیویارک کے وعدے کرنے سے پہلے یہ سوچا بھی ہے کہ کہ ان شہروں میں عوام کی سہولیات کیلئے کتنے ہسپتال ہیں؟ کتنے کالج اور یونیورسٹیاں قائم ہیں ؟ شہریوں کے حقوق کیلئے کیا کیا نظام واضح کیے گئے ہیں؟ شہریوں کے لیے بنائے گئے قوانین پر کیسے عملدرآمد کیا جاتا ہے ؟ ان شہروں میں لیٹریسی کتنے فیصد ہے؟ جرائم کی شرح کس حد تک کم ہے ؟ کیا شہباز شریف ان شہروں میں جا کر صرف صاف ستھری سڑکیں دیکھتے ہیں ، ان شہروں کی عوام کے چہروں پر سکون اورخوشی کی وجہ دیکھنے کی کوشش کبھی نہیں کی ؟ شہبازشریف اور ہمارے قومی سیاستدانوں کا سب سے زیادہ آنا جانا لندن میں ہوتا ہے تو اس پر غور کیوں نہیں کیا کہ پاکستان میں ایک شہر ایسا بنا لیں  جس میں علاج کی ایسی سہولتیں ہوں کہ ہمیں لندن سفر نہ کرنا پڑھے۔ وقت بدل گیا، نسلیں بدل گئیں ، لیکن اگر نہیں بدلے تو ہمارے سیاستدانوں کے وعدے نہیں بدلے ۔ ہمارے سیاستدانوں کو اب سیاست کیلئے وعدوں سے آگے کا سوچنا ہو گا۔ عملی اقدام اٹھانے ہوں گے۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے نہیں کو بجلی دینی ہو گی۔ مقتولین کیلئے کمیشن نہیں انصاف دینا ہو گا۔ اگر ایسا نہ کیا تو سیاست میں بقا ممکن نہیں ہوگی۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.