غیر متحرک خارجہ پالیسی اور پاکستان

1,949

ریاست اور ریاستی ادارے صرف ایک مفاد کے تابع ہوتے ہیں جس کو ریاستی یا قومی مفاد قرار دیا جاتا ہے۔ ریاست اداروں کے ذریعے اپنے مفادات کا تعین کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے موثر اور مربوط حکمت عملی ترتیب دیتی ہے۔ مقامی سطح پر داخلہ جبکہ بین الاقوامی سطح پر خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنے اہداف کا حصول یقینی بنایا جاتا ہے۔ داخلہ اور خارجہ پالیسی مل کے کسی بھی ملک کی دفاعی پالیسی تشکیل دیتی ہے۔ داخلی استحکام کے براہِ راست اثرات خارجہ پالیسی پر ہوتے ہیں اور موثر خارجہ پالیسی مضبوط دفاع کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ تمام پالیسیاں بھی قومی مفاد کو مدنظر رکھ بھی بنائی جاتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ قومی یا ریاستی مفاد ہمیشہ ایک سا رہتا ہے؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے گرد تمام ممالک کی خارجہ پالیسیاں گھومتی ہیں۔ ملکوں کے مفادات وقت کے ساتھ بدلتے ہیں اور اسی لحاظ سے انکی پالیسیاں بھی۔ سفارت کاری کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ کوئی آپ کا دوست یا دشمن نہیں ہوتا، کوئی آپکے مفادات کا حامی ہوتا ہے تو کوئی انکا مخالف۔

خارجہ پالیسی کے لیے جو عوامل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ان میں اس ملک کا جغرافیائی محل وقوع، معاشی صورتحال، طرزِ حکومت، عسکری قوت، داخلی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدات و برآمدات شامل ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کئی ادارے اورتھنک ٹینکس اس پالیسی سازی کے عمل میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ وہاں پر اداروں کا کردار اور اختیارات کی تقسیم کا اصول واضح ہے۔ طویل مشق، سوچ بچار اور بحث و مباحثے کے بعد حتمی پالیسی تشکیل پاتی ہے جو دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ معاملہ خاصا پیچیدہ ہوتا ہے۔ ان ممالک میں اداروں کی باہمی چپقلش، اختیارات کی جنگ، داخلی عدم استحکام اور حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے نہ تو کوئی واضح پالیسی ممکن ہوپاتی ہے نہ اس کا تسلسل دیکھنے کو ملتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک دنیا میں ہونے والے کسی بھی ایکشن پر اپنی خارجہ پالیسی کے تحت ری ایکشن دیتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کسی ایکشن کے ری ایکشن میں اپنی پالیسی تشکیل دینے کی زحمت کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو جمہوری عمل کا تسلسل برقرار نہ رہ پانے اور بار بار آمرانہ حکومتوں کی وجہ سے کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ لیکن سارا الزام آمرانہ حکومتوں پر بھی عائد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت نواز لیگ کی حکومت برسراقتدار ہے اس حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ پہلے چار برسوں میں اس جماعت نے کسی بھی شخص کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اسےوزارت خارجہ کی ذمے داری سونپی جاسکے۔ تاریخ میں اگر پاکستان کی واضح اور مربوط خارجہ پالیسی کی کوئی مثال دی جاسکتی ہے تو وہ شاید بھٹو دور کی پالیسی ہے جس کے تحت اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کوشش کا حصہ بننے والوں کا کیا انجام ہوا وہ ایک الگ تاریخ ہے۔

پاکستان اور بھارت ایک ساتھ آزاد ہوئے لیکن کیا دونوں ممالک آج سفارتی دنیا میں برابری یا ایک جیسا مقام رکھتے ہیں؟ جس کا جواب اثبات میں دینے کے لیے زمینی حقائق ساتھ نہیں دیتے۔ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور دونوں اطراف سے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن بھارت نے افغانستان کے اندر بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اسے اتحادی کا درجہ دے رکھا ہے۔ پاکستان اور ایران برادر اسلامی ممالک قرار دیئے جاتے ہیں اور سن پینسٹھ کی بھارت کے خلاف جنگ میں ایران کا برادرانہ کردار ہماری درسی کتب میں فخر سے بیان کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے سعودی عرب کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے ایران آج اسی بھارت کے قریب ہوچکا ہے۔ گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار کا منصوبہ اسکی مثال ہے۔

پاکستان کا تیسرا ہمسایہ ہے بھارت۔ دونوں ممالک میں بات چیت کا سلسلہ طویل عرصے سے بند ہے۔ پاکستان تو اپنی شہ رگ قرار دیئے جانے والے کشمیر کے باسیوں کے قتل عام پر بھی بین الاقوامی برادری کو قائل نہیں کرسکا۔ شمال مشرق میں واقع چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات استوار ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط یہ تعلقات اب عسکری، تجارتی اور تذویراتی نقطہ نظر سے مضبوط  سے مضبوط تر ہو رہے ہیں جس کا واضح ثبوت پاکستان چین اقتصادی راہداری کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ پاک چین تعلقات کو بھارت امریکہ تعلقات کا جواب بھی سمجھا جاتا ہے لیکن بھارت امریکہ عسکری اور تجارتی تعاون کا موازنہ پاک چین اور پھر بھار ت چین باہمی تجارت سے کیا جائے تو اس کا جواب بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔

بین الاقوامی منطر نامے پر بھی پاکستان کوئی قابل قدر پوزیشن نہیں رکھتا۔ جب تک امریکہ کو افغانستان کی حد تک پاکستان کی ضرورت تھی پاکستان کو کچھ وقتی ریلیف ضرور ملا رہا لیکن اب ٹرمپ انتطامیہ کے آنے کے بعد صورتحال خاصی تبدیل ہوچکی ہے۔ امریکہ کے غیر نیٹو اتحادی کا درجہ رکھنے والے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے بعد اب سویلین امداد میں کٹوتی کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی قرار داد بھی امریکہ نے ہی پیش کی تھی۔ پاکستان کے دوست تصور کیے جانے والے خلیجی ممالک کا جھکاؤ بھی پاکستان کے روایتی حریف بھارت کی جانب بڑھتا جارہا ہے۔ سعودی عرب نے بھارتی وزیراعظم کو سب سے بڑے سول اعزاز سے نواز تو دبئی کے بادشاہ راشد المختوم گذشتہ سال بھارت کے یوم جمہوریہ کےمہمان خصوصی تھے۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کرنے سے گریز کیا۔ روس کے ساتھ تعلقات میں میں ارتعاش ضرور پیدا ہوا اور بہتری کے کچھ اشارے ملے ہیں لیکن روس بھی افغانستان کے محاذ پر ہی امریکہ کا حساب چکانا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں چوکنا رہنا چاہیے کیونکہ ماضی کا غلطی کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی کوئی واضح خارجہ پالیسی ہے؟ اگر پالیسی ہے تو وہ جمود کا شکار کیوں ہے؟ پاکستان کے پالیسی ساز اذہان جدید وقت کے بدلتے تقاضوں ساتھ ہم آہنگ کیوں نہیں ہو پا رہے؟ اگر ہم سفارتی تنہائی کی جانب بڑھ رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے اور اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟ اگر پارلیمان اور ارکان پارلیمان بھی پالیسی کے بارے میں لاعلم ہیں تو پھر کون سا اداراہ یا قوت یہ پالیسی بناتی ہے؟

ضروت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقے دورحاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک واضح خارجہ پالیسی تشکیل دیں تاکہ ان معروضی حالات میں پاکستان کا مقدمہ موثر انداز میں اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ سفارتی دنیا میں کل کا دوست آج کا دشمن اور کل کا دشمن آج کا دوست ہوسکتا ہے تو پھر ہم دوستوں اور دشمنوں کے تعین میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟

لکھاری قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم ہیں اور دنیا
نیوز کے ساتھ بطور نیوز اینکر وابستہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Rehana Ambreen کہتے ہیں

    بہت اچھا تجزیہ کیا ہے ۔۔

  2. Usman Mansha Gondal کہتے ہیں

    It is a brilliant effort by Umar Daraz Gondal.
    Very informative.Keep it up bro.
    May Allah shower blessings on you…!

تبصرے بند ہیں.