ایک اچھی تحریر کیسے لکھیں؟

1,079

گو میں ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ کسی کو ‘اچھی تحریر کیسے لکھی جائے’ پر لیکچر دوں مگر پھر بھی اپنی مفت مشورے دینے کی عادت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ سب کو اپنے محدود تجربے کی بنیاد پر اچھی تحریر لکھنے کے چند نکات بتانا چاہتی ہوں۔

ایک اچھی تحریر کا مقصد قاری کو صرف اپنی زبان پر مہارت دکھانا نہیں ہوتا بلکہ اسے کسی اہم معاملے سے روشناس کروانا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی خاص موضوع پر لوگوں میں ابہام پایا جاتا ہے اور آپ اس ابہام کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں تو ضرور قلم اٹھائیں اور اپنے خیالات کاغذ پر تحریر کریں۔ موجودہ دور میں یہ کام کمپیوٹر پر کیا جاتا ہے۔ تحریر کو مکمل کرنے کے بعد اسے کم از کم تین بار ایک قاری کی نظر سے پڑھیں۔ ہر دفعہ پڑھنے کے بعد جو غلطیاں نطر آئیں، انہیں درست کریں۔ جب مزید کوئی غلطی نہ نظر آئے تو اس تحریر کو اپنی پسند کے کسی بھی ادارے میں بھجوا دیں۔

یاد رکھیں کہ اخلاقی اصولوں کے مطابق آپ کو اپنی تحریر ایک وقت میں صرف ایک ہی ادارے کو بھجوانی چاہئیے۔ ایک ہی تحریر مختلف اداروں کو ایک ساتھ بھجوانا اور اس تحریر کا کئی اداروں میں بیک وقت چھپنا، ادارے کی تو نہیں مگر آپ کی ساکھ کو ضرور نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے بھی ایسا کرنا غلط ہے۔ یہ نہ سوچیں کہ معلوم نہیں وہ اپنا ای میل باکس دیکھیں گے بھی یا نہیں۔ ای میل کھول لیں گے تو تحریر چھاپیں گے بھی یا نہیں۔ ہر ادارے میں بلاگز ای میل چیک کرنے والا کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ ادارہ جتنا بڑا اور نامور ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ تحاریر موصول ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی تحریر ان تحاریر کے ڈھیر میں نظر انداز ہو جائے یا ہو سکتا ہے آپ کی تحریر سے بہت اچھی تحاریر اس ادارے کو موصول ہوئی ہوں۔ اپنی تحریر بھیجنے کے بعد کم از کم تین دن انتطار ضرور کریں۔ چوتھے دن یا تو ای میل کر کے مناسب انداز مین تحریر کے متعلق سوال کر لیں یا خود ہی سمجھ جائیں کہ تحریر مسترد ہو چکی ہے۔ اب آپ اپنی تحریر کسی اور ادارے کو بھیج سکتے ہیں۔

مدیر کو ای میل کرتے ہوئے بھی خاصی احتیاط برتیں۔ مدیر آپ کا دوست یا کوئی قریبی رشتے دار نہیں ہے جس سے آپ بے تکلف ہو کر کسی بھی انداز میں بات کریں۔ ایک صاحب جو کہ دنیا بلاگز پر کچھ تحاریر لکھ چکے ہیں، مجھے بہت ہی بے تکلف ای میلز مجھے بھیجتے تھے جن سے مجھے شدید کوفت ہوتی تھی۔ وہ شائد مدیر اور محبوبہ میں فرق بھول چکے تھے۔ بالاخر مجھے انہیں بلاک کرنا پڑا۔ ایک صاحب ایسے بھی ہیں کہ ادھر وہ ای میل بھیجنے کے لیے سینڈ کا بٹن دباتے ہیں اور ادھر ہر سوشل میڈیا اور موبائل ایپ پر مجھے پیغام بھیج دیتے ہیں کہ آپ کو بلاگ ارسال کیا ہے۔ ایک صاحب نے چھٹی کے روز بلاگ بھیجا جو کہ میں ظاہر ہے اگلے روز جا کر دیکھتی. انہوں نے واٹس ایپ پر پیغام بھیج دیا کہ آپ کو بلاگ بھیجا ہے. میں نے انہیں بتا دیا کہ آج میری چھٹی ہے، میں یہ بلاگ کل ہی دیکھوں گی اور اس کی باری پر ہی لگائوں گی. انہوں نے کہا ٹھیک ہے. جیسے آپ مناسب سمجھیں. میں نے ان کی سمجھداری کو دل ہی دل میں سراہا. پورے دو گھنٹوں کے بعد ان کا دوبارہ پیغام ملا جس کے الفاظ یہ تھے، “باجی، میرا بلاگ لگا دیں.” میں نے اوپر لکھا اپنا پیغام پڑھا جس میں صاف لکھا تھا کہ اس دن میری چھٹی تھی اور میں ان کا بلاگ باری آنے پر لگائوں گی. اس کے باوجود دوسرے ہی گھنٹے یہ پیغام بھیجنا مجھے تو سمجھ نہیں آیا. میں نے انہیں کہہ دیا کہ دیکھیں میں تو چھٹی پر ہوں. آپ چاہیں تو کسی اور ادارے کو اپنا بلاگ بھجوا دیں.

آپ کی تحریر اگر کسی اچھے موضوع پر ہے اور اس میں غلطیاں بہت کم یا بالکل نہیں ہیں تو اس کے چھپنے کے مواقع خود بخود زیادہ ہو جائیں گے۔ تحریر چھپوانے کے لیے مدیر کو مکھن لگانے یا بار بار میسج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خود بولنے کی بجائے اپنی تحریر کو بولنے دیں۔ اگر آپ کی تحریر میں دِم ہوگا تو وہ ضرور چھپ جائے گی بس تھوڑے سے صبر اور تھوڑے سے انتظار کا مظاہرہ کریں.

ہر ادارے کی اپنی ایک پالیسی ہوتی ہے۔ وہ اس کے مطابق اپنے پلیٹ فارم پر تحاریر چھاپتے ہیں۔ تحریر بھیجتے ہوئے یہ دیکھ لیں کہ کیا آپ کی تحریر اس ادارے کی اداراتی پالیسی کے دائرے میں آتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ کسی ادارے کی پالیسی کافی تنگ نظر ہو اور آپ انہیں ایک ایسی تحریر بھیج دیں جو ان کے دائرہ کار سے باہر ہو تو آپ جتنا بھی انتظار کرلیں وہ آپ کی تحریر کبھی نہیں چھاپیں گے۔

بعض دفعہ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ مصنف اپنی تحریر لکھنے کے بعد ایک بار بھی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنی تحریر کو کم از کم ایک بار بھی پڑھ لیا کریں تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کی تحریر دیر سے اور دوسروں کی جلدی کیوں چھپتی ہے۔ کچھ تحریروں میں تو عنوان بھی نہیں لکھا ہوتا۔ کئی مصنفین ہر حرف کے بعد سپیس بار دبانے کے عادی ہوتے ہیں تو کئی سپیس بار کو اپنا دشمن جانتے ہیں۔ کئیوں کو کومہ سے اتنی محبت ہوتی ہے کہ ان کی تحریر میں الفاظ سے زیادہ کومہ ہوتے ہیں یا یوں کہیے کہ کوموں کے درمیان کہیں کہیں الفاظ بھی ٹانک دیتے ہیں۔ کئیوں کو فل سٹاپ سے چڑ ہوتی ہے۔ ان کی تحریر میں کہیں فل سٹاپ نہیں ملتا۔ جملہ کہاں ختم ہو رہا ہے، کہاں شروع ہو رہا ہے، کچھ معلوم نہیں پڑتا۔ سونے پر سہاگہ پھر بار بار ای میل کر کے پوچھتے ہیں کہ میری تحریر اب تک کیوں نہیں چھپی؟ پہلے پہل میں نے ایسی تحاریر بھی ایڈٹ کیں پھر مجھے ایک سینئیر نے بتایا کہ ایسی تحریر مصنف کو واپس بھیجا کرو اور کہا کرو کہ ٹھیک کرکے دوبارہ بھیجے۔ جب وہ خود ٹھیک کرے گا تو دوبارہ تحریر بھیجنے سے پہلے دس بار پڑھا کرے گا۔ اب میں ایسے ہی کرتی ہوں۔ اگر دوسری بار بھی مصنف انہیں غلطیوں کے ساتھ تحریر بھیج دے تو میں تحریر مسترد کر دیتی ہوں۔ ۔ ۔ وقت کم اور مقابلہ سخت۔

ایسے بھی مصنفین ہوتے ہیں جو نقل پر جتنا یقین رکھتے ہیں، انٹرنیٹ کو اتنا ہی جھٹلاتے ہیں۔ میں ہمیشہ تحریر چھاپنے سے پہلے اس کا عنوان اور تحریر کے کچھ حصے گوگل کر کے دیکھ لیتی ہوں۔ اس سے ایک تو نقل شدہ تحریر پکڑی جاتی ہے، دوسرا یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ تحریر پہلے بھی کہیں چھپ چکی ہے یا نہیں۔ میرے پاس وقت ہو تو میں مصنف کو ای میل کر دیتی ہوں کہ چونکہ اس کی تحریر پہلے کہیں چھپ چکی ہے تو میں اس تحریر کو مسترد کر رہی ہوں۔ کئی بڑے اداروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ یہاں میں نے تحریر چھاپی اور ایک گھنٹے بعد کسی اور ویب سائٹ پر بھی چھپ گئی۔ اس صورت میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟

مدیر کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ اس نے موصول ہونے والی ہر تحریر کو دیکھنا ہوتا ہے، پڑھنا ہوتا اور پھر اچھی تحاریر کو چھانٹنا ہوتا ہے۔ ہر ادارہ روزانہ ایک مخصوص تعداد میں تحاریر لگاتا ہے جیسے کہ دنیا بلاگز پر اب روزانہ چار تحاریر لگتی ہیں۔ مدیر ہمیشہ ایسی تحاریر کو فوقیت دیتے ہیں جن میں کم سے کم غلطیاں ہوں کیونکہ اسے اور بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔ وقت کم ہوتا ہے اور مقابلہ سخت۔ اب اس مقابلے میں سرخرو ہونے کے لیے وہ ایسی تحاریر کا انتخاب کرتے ہیں  جو ان کا کم سے کم وقت لیں، حالاتِ حاضرہ پر ہوں اور عوامی بہتری کا نکتہ رکھتیں ہوں۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ میں دنیا بلاگز پر اپنے محدود اختیارات کے اندر رہتے ہوئے مختلف نکتہ نظر کو جگہ دوں۔ جیسے گزشتہ روز میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے پر دو بلاگ پبلش ہوئے تھے۔ ایک بلاگ مردوں کے نکتہ نظر سے تھا اور عورتوں کے مردوں پر لگائے جانے والے جنسی ہراسانی کے الزامات کو یکسر جھٹلا رہا تھا تو دوسرا خواتین کو ان کی روزمرہ کی عام زندگی میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے واقعات پر مبنی تھا۔ بطور خاتون، مجھے پہلے بلاگ سے شدید اختلاف تھا مگر اپنی ذاتی ناپسندیدگی کو پیچھے ڈالتے ہوئے میں نے اس بلاگ کو بھی پبلش کیا۔

دنیا بلاگز آپ کا پلیٹ فارم ہے۔ اس پر آپ کی آواز لفظوں کی صورت ابھرتی ہے۔ اس آواز کو مناسب جگہ دینا میری  ذمہ داری ہے جو میں پوری ایمانداری سے نبھاتی ہوں۔ بہت سی اچھی تحریروں کو چند خامیوں کی وجہ سے مسترد کرنا بہت برا لگتا ہے۔ اسی لیے یہ تحریر لکھ ڈالی۔ امید ہے کہ ہمارے بہت سے اچھے لکھاری اب اپنی تحریر کو مزید سے مزید بہتر بنائیں گے اور میرے کمپیوٹر کے ریسائیکل بن کو ہمیشہ خالی رہنے دیں گے۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

11 تبصرے

  1. امجد مجید کہتے ہیں

    میں ایک اسٹوڈنٹ ہوں آپ سے میرا گُرارش ہے کہ سائنس پر بھی لکھا کریں ناسا والوں کی باتین اودو میں ٹرانسلیٹ کر کے لکھا کریں

  2. عدنان احمد کہتے ہیں

    آپ دنیا چھوڑ کر گئیں تو تمام نئے بلاگرز کی دنیا اْجڑ جائے گی۔ یہ تمام نئے بلاگرز وہی ہیں جن کی گھر میں کوئی نہیں سنتا تھا۔ اسلیے اپ کو ای میل کرتے تھے۔

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      دنیا چھوڑ کر گئیں۔ ہاہاہا
      کمال کا جملہ لکھ دیا عدنان صاحب۔

      1. عدنان احمد کہتے ہیں

        دنیا نیوز *
        خدا میڈم کو لمبی زندگی دے،

  3. Usman Butt کہتے ہیں

    جی ٹھیک ہے میں آپ کی تمام باتوں سے مکمل طور پر مطفق ہوں

  4. خورشید ملک کہتے ہیں

    یہ تحریر کیسے لکھیں سے زیادہ مدیر سے کیسے پیش آ ئے جایا کے گرد گھومتی محسوس ہوئی ………لیکن پھر بھی ایک عمدہ تحریر ……….اخلاقیات کیسے لکھیں سے زیادہ اہم ہے ……….

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      وہ بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ مدیر سے اچھے سے پیش آئیں گے تو وہ آُ کو بلاک نہیں کرے گا اور آپ کی تحریر چھپنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔ یہاں میں طاقت نہیں دکھا رہی لیکن کچھ لوگ اتنا تنگ کرتے ہیں کہ انہیں بلاک کرنا ہی بنتا ہے۔

  5. Awais Ahmad کہتے ہیں

    جی بہتر۔ آئندہ میں خیال رکھوں گا۔ ماضی کی نادانیوں اور غلط کاریوں پر معذرت :p

  6. Awais Ahmad کہتے ہیں

    اس تحریر کے ویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اچھی تحریر لکھنے سے کتنی زیادہ دلچسپی ہے۔

  7. Iffat Navaid کہتے ہیں

    تحریم ایک باوقار ، محنتی اور پر خلوص مدیر ہیں ۔ ان کی تمام باتوں کو سنجیدگی سے لیا جا ئے تو دنیا بلاگ اظہارِ رائے کا بہترین پلیٹ فارم ہے ۔ یہاں پر غیر جانب داری کا احساس قوی ہے ۔

  8. kashif ahmed کہتے ہیں

    buhot achi tehreer ha or ap na buhot mehnat se duniya blogs ka plat form chalaya or humein likhny ka moqa diya apka shukriya ALLAH apko mazid traqi or imandari se kam karny ki tofiq ata farmye.
    or
    kash hamein pehly pata hota k ap is trhan tang b hoti han to hum apko kabhi tang nahi karty 😀

تبصرے بند ہیں.