سیاست میں ایک اچھا قدم

4,393

رواں سال ہونے والے سینٹ الیکشن میں تقریبآ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا لیکن ان خدشات میں جو سب سے عام تھا وہ سینٹ کے الیکشن میں پیسے کا بے دریخ استعمال ہے۔ سینٹ کے الیکشن میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر ایم پی ایز کی خرید و فروخت کا الزام لگایا۔

جو لوگ سینٹ کے الیکشن سے ناواقف ہے وہ یہ جان لیں کہ سینٹ کے الیکشن میں عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندگان سینیٹرز کی مختلف سیٹوں کے لئے ووٹ دیتے ہیں۔ اور جیتنے والے سینٹرز چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کا انتخاب کرتے ہیں۔ بات سینٹ کی طاقت کی ہو تو سینٹ کی منظوری کے بغیر کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ اس لئے پاکستانی سیاست میں سینٹ کا بہت اہم کردار ہے۔ پاکستان میں ہونے والے گزشتہ سینٹ الیکشن کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی اپنا چیئرمین سینٹ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ ایم پی ایز کا تعلق مسلم لیگ ن کی جماعت سے ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ن لیگ چئیرمین سینٹ کی سیٹ جیت لیتی مگر ایسا نہ ہوا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایم پی ایز کو پیسے دے کر ان کے ووٹ کو خریدا گیا اور ان کی نیلامی کی گئی۔ ورنہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی اتنی نہیں کہ ان کا چئیرمین سینٹ بنایا جائے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ ایم پی ایز کو خریدنے میں پیپلز پارٹی سرِفہرست ہے جس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے کے پی کے سے بھی سینٹ سے سیٹیں جیتیں جہاں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک ہفتہ قبل وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کے دوران ان تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حلفاً بیان دیں کہ ان کی جماعت نے سینٹ میں پیسے کا استعمال نہیں کیا۔ وزیراعظم نے سینٹ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر پیسہ استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے پریس کانفرنس کی اور اپنی ہی پارٹی کے ان تمام ایم پی ایز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے جن پر سینٹ الیکشن میں بکنے کا الزام تھا۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق ان پر شک و شبہ تھا۔ شوکاز نوٹس جاری کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایم پی ایز انویسٹگیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور خود کو بے گناہ ثابت کریں۔ اگر یہ تمام ایم پی ایز اپنی پارٹی کو مطمعن نہ کرسکے تو ان کے خلاف مزید ایکشن ہوگا اور ان سب کے نام نیب کو فراہم کر دیے جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اس اقدام پر بھی سیاسی جماعتوں نے تنقید کی جو کہ بلا جواز ہے۔ کہا گیا کہ یہ تو وہ سب لوگ ہیں جنہیں پی ٹی ائی نے آئندہ الیکشن میں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ پی ٹی آئی کا سیاست کو صاف کرنے کے لئے ایک اچھا قدم ہے ورنہ کسی سیاسی جماعت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنی ہی جماعت کا احتساب کرے۔ خصوصاً الیکشن کے دنوں میں جب سیاسی جماعتیں کسی بھی مجرم کو سیاسی جماعت میں شمولیت سے نہیں روکتیں۔

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی لیکن عمران خان کے اس فیصلے سے سیاست ضرور ایک اچھا قدم لے گی اور امید ہے اسی طرح دوسری سیاسی جماعتییں بھی اپنی جماعت کا احتساب کریں گی۔

.سلمان جاوید بھٹی صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا ٹی وی کے مانیٹرنگ ڈیسک سے وابستہ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    یہ میرے لیے ایک اطلاع ہے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ میں اپنا چیئرمین منتخب کروانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

    1. salman javeed bhatti کہتے ہیں

      کتوبر اگر بلی کے سامنے اپنے انکھیں بند کرلے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کبوتر کو بلی سے کوئی خطرہ نہیں۔

  2. Danish کہتے ہیں

    Thanks for duniya News mostly i saw your post against the Imran khan but today you talk on merit i am happy to see this post . Good work good topic good observation Pakistan zinda abad
    very good سلمان جاوید بھٹی ALLAH apko kamiyabi ata kary

  3. Mudassar sherazi کہتے ہیں

    Mashallah Salman Bahi buhattt achi information thi ap nay buhatt acha analysis Kia parh kar buhatt Maza aya ap isi thera likhty rhay

تبصرے بند ہیں.