ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

891

بھوک، پیاس، غربت سب صفر۔ اچھی صحت اور بہتر معیار زندگی، آلودگی سے پاک صاف آب وہو، اعلی ٰ تعلیم، صنفی مساوات، منظم نکاسی آب، سستی اور صاف توانائی، مہذب ملازمت اور اقتصادی ترقی۔ امن، انصاف اور مضبوط ادارے۔ یہی ہے پائیدار مستقبل کی ضمانت۔ اس کے حصول اور ہر بدلتے دور کے ساتھ ان میں آنے والے تغیرو تبدل کو قبول کرنا نئی نئی تخلیقات اور جدت پسندی سے اسے بہتر بنانا ہی سفرِ زندگی ہے۔

بنیادی ضرورت کے حصول سے فراغت کے بعد ہی انسان نئے آسمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے۔

بنی نوع انسان کو عقلِ سلیم عطا کی گئی ہے جس کے استعمال سے مختلف انواع و اقسام کی اختراعات وجود میں آتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اپنے خیالات کو یکسوئی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں تو وہ ہمارے لئے نئی نئی ایجادات لانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ایجادات ہمارے تخیل کو تجمل کی روشنی سے ہمکنار کر کے ہمیں اوج کمال کی جانب رواں رکھتی ہیں۔ اگر آج کا انسان موجودہ دور میں کامیاب و کامران ہے تو اس کا واحد سبب ذہنی صلاحیتوں کو کام میں لا کر نئی نئی تخلیقات کرنا ہے اور جدت پسندی کو قبول کرنا ہے۔

اکثر بزرگ دورِ جدید سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے اور ان کی قدامت پسندی انہیں سمجھوتے سے روکتی ہے۔ وہ نت نئی ایجادات کو وبال سمجھنے لگتے ہیں اور نئی نسل کے ساتھ چلنے کے بجائے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید کم علمی اور فصاحت و بلاغت کی عدم موجودگی ہے۔

؎ اس قدر جدت سے کیوں ہے کد مجھے
ذہن و دل ہیں کیوں روایت کے اسیر

سوچنے کی بات ہے انسان صرف چاند پر ہی نہیں پہنچ گیا بلکہ اس نے خلا میں نئی کائنات تسخیر کرلی ہے، جہاں ستاروں کی لاتعداد کہکشائیں اور سیارے موجود ہیں اور مزید کی تلاش جاری ہے۔

بقول علامہ اقبال

؎ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

حقیقت تو یہ ہے کہ معاشرتی ترقی کا راز جدت پسندی اور تعمیری سوچ میں پوشیدہ ہے۔ انسان جب اپنی سوچ میں جدت کو رقم طراز کرتا ہے تو ہر روز نئی اختراعات سامنے آتی ہیں اور اس کی سوچ کی بلندی اسے روز ایک نئی دنیا کی تلاش میں کوشاں رکھتی ہے۔ اس کے لیے دنیا اور اس سے باہر خلا یا مادی اشیا ہی نہیں بلکہ سوچ و فکر کا منفرد رجحان بھی ایک نیا جہاں ہی ہے۔

؎ نکل آئے ہیں دیواروں پہ چہرے
تصور کی یہ جدت کس لیے ہے

انسان خود کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھال رہا ہے، جدت پسندی کو اپنا رہا ہے اور اس کے رہن سہن اور زندگی گزارنے کے انداز بھی بدلتے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی ملک و قوم کی ترقی تعلیم و تربیت پرمنحصر ہے۔ جیسے جیسے انسان سائنسی دور میں آگے بڑھ رہا ہے، اس کے آس پاس کی دنیا بدلتی جا رہی ہے۔

یوں سمجھ لیں کہ جب لوگوں میں علم حاصل کرنے کا رجحان بدرجہ اتم موجود ہوگا تو ان کی ذہنی صلاحیتیں انہیں نئی دنیا سے روشناس کرائیں گی اور یہی صلاحیتیں ملکی ترقی کا سبب بنیں گی۔

؎ کسے خبر کہ یہ جدت ہے یا سیاست ہے

اقوام متحدہ کے تحت تخلیق و جدت کا عالمی دن 21 اپریل کوپہلی بار باضابطہ طور پرمنایا جا رہا ہے۔ “ورلڈ کریٹویٹی اینڈ انوویشن ڈے” منانے کا مقصد پائیدار مستقبل کے حصول کیلئے تخلیقی کثیر النظریاتی سوچ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ 21 ویں صدی میں قوموں کی اصل دولت پائیدار مستقبل کے حصول کیلئے تخلیق اور جدت پسندی بن گئی ہے۔ “ورلڈ کریٹویٹی اینڈ انوویشن ڈے” پر دنیا کا دھیان انفرادی اور اجتماعی طور پر اس جانب راغب کیا جائے گا کہ قوموں کی اقتصادی صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے جدت ضروری ہے۔ تخلیق و جدت اور بڑے پیمانے پر کاروبار سے ملازمت کے نئے مواقع اور اقتصادی ترقی کو نئی رفتار فراہم کی جاسکتی ہے، جو خواتین اور نوجوانوں سمیت، سب کے لئے مواقع بڑھا سکتے ہیں۔ بھوک وافلاس جیسے سب سے پریشان کن مسائل کے حل میں بھی مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں ترے نورِ سحر سے
خورشید کرے کسبِ ضیاء تیرے شرر سے
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے
دریا متلاطم ہوں تری موجِ گہر سے
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہنر سے
اغیار کے افکار و تخیّل کی گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟

ان اشعار میں علامہ اقبال نے علم و تعلیم اور تحقیق و جستجو کے ذریعے جدید دنیا پیدا کرنے کا فارمولا پیش کیا ہے۔ اقبال کی خواہش ہے کہ ہم کسی غیر کے افکار و نظریات کے مرہون منت نہ ہوں اور نہ ہی علم و تحقیق میں کسی کے محتاج ہوں بلکہ اپنی دنیا آپ پیدا کریں، ہر زمانے کی تعمیر خود کریں اور ہر زمانے کے تقاضے پورا کرنے کا سامان خود فراہم کریں۔

ڈاکٹر سرعلامہ محمد اقبال کی جاودانی کا ایک اہم راز یہی ہے کہ ان کی شاعری اور نثری افکار میں محدودیت یا تنگ نظری نہیں بلکہ ہر معاملے میں رہنمائی ہے۔ اقبال کا خاصہ ہی یہی ہے کہ وہ قدیم پر قائم رہتے ہوئے جدیدیت کی حمایت کرتے ہیں اور جدت کے تمام مثبت انداز اپنانے کے لئے نہ صرف زور دیتے ہیں بلکہ عمل کی دنیا میں خود بھی جدید خیالات سے کاملاً استفادہ کرتے ہیں۔

؎ زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت عمدہ

تبصرے بند ہیں.