نوازشریف الزامات کا دفاع کریں یا قوم سے معافی مانگیں

2,059

بہت دلچسپ صورت حال ہے۔ سیاست کی ہنگامہ خیزی اپنے عروج پر ہے۔ حکمراں جماعت مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان میں عام طور پر اقتدار پر براجمان رہنے والی سیاسی جماعت پر انتخابات کے قریب قریب مشکل حالات ضرور آتے ہیں۔ چناچہ اب بھی تاریخ اپنے آپ کو دوہرا ہی رہی ہے۔

اس مرتبہ البتہ ایک چیز نئی ہو رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے عدلیہ کو نشانے پر رکھا ہوا ہے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ نواز شریف کی پارلیمانی سیاست سے نااہلی کا فیصلہ گذشتہ برس جولائی میں آیا تھا۔ اس کے بعد نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد ہوگئی۔ نواز شریف عدالت کے ہاتھوں اپنی نااہلی برداشت نہیں کر پائے اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کے بعد عدلیہ کی آزادی کے خلاف جدوجہد پر اتر آئے ہیں۔ اس مہم میں انہوں نے اپنا نعرہ ووٹ کے تقدس کا اپنایا ہے۔ بظاہر ان کا نعرہ بہت پرکشش ہے۔ عوام کی دلی خواہشات کے عین مطابق ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نواز شریف اس نعرے کے ساتھ مخلص ہیں یا وہ عوامی جلسوں کی مدد سے اپنے خلاف چلنے والے بدعنوانی کے مقدمات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اس کا جائزہ نواز شریف کے دور حکومت میں ہونے والے چند واقعات کو سامنے رکھ کر لیتے ہیں۔

ووٹ کے تقدس کا نعرہ لگانے والے نے اپنی حکومت کے دوران ووٹ کے تقدس کا کتنا خیال رکھا؟ جس عوام نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ دے کر انہیں اسمبلی میں بھیجا اسی عوام نے حزب اختلاف کو بھی ڈیڑھ کروڑ ووٹ دیئے۔ ووٹ کے تقدس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ حکومت اپوزیشن کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتی جتنی وہ خود کو دیتی ہے مگر ہم نے دیکھا کہ اپوزیشن کو اپنے مطالبات کی شنوائی کے لیے طویل دھرنوں سے لےکراحتجاج کے تقریباً تمام حربے استعمال کرنے پڑے۔

پانامہ کیس کو ووٹ کی بنیاد پر تشکیل پائی قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کی بجائے نواز شریف نے سب سے پہلے سپریم کورٹ کو خط لکھ ڈالا تھا۔ ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آئی پارلیمنٹ میں پانامہ کیس پر لاحاصل بحث چھ سات ماہ جاری رہی حتیٰ کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اور پھر جب عدالت نے طویل سماعت کے بعد نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو وہ خم ٹھونک کر عوام کا اعتماد رکھنے والی عدلیہ کے مقابل میدان میں نکل آئے اور عدلیہ کو بے رحمانہ تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کیا عوام نے اس لیے انہیں ووٹ دے کر سرخرو کیا تھا؟

سینیٹ کے انتخابات میں جب گیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی تو انہوں نے 500 ووٹ حاصل کرنے والے عبدالقدوس بزنجو اور سینیٹ کے نو منتخب شدہ چیئرمین کو ماننے سے انکار کر دیا اور ان کا مضحکہ اڑایا۔ کیا یہ دونوں حضرات عوام کے ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں نہیں پہنچے تھے؟

ووٹ کے تقدس کے ضمن میں نواز شریف کا عمل ان کے اس نعرے سے یکسر الٹ ہے۔ اس کی سب سے تازہ مثال مسلم لیگ نواز کی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا نفاذ ہے۔ ووٹ سے تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بحث کے قابل نہیں سمجھا گیا اور عوام کے نمائندوں سے بالا بالا اس اسکیم کی منظوری حاصل کر کے اس کا نفاذ کر دیا گیا اور یوں نواز شریف کے ووٹ کے تقدس کے نعرے کی توثیق کر دی گئی۔

2013ء کے انتخابات سے پہلے آمر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی امیر مقام، ماروی میمن، طارق عظیم، دانیال عزیز، طلال چوہدری اور ان کے علاوہ مزید لوگ جب مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تو جمہوریت کا بول بالا ہوا تھا۔ آج جب نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیانات کے باعث لوگ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں تو انہیں جمہوریت کے خلاف سازش نظر آنی شروع ہو گئی؟ ایک چیز جو جمہورت کے سر کا تاج تھی پانچ برس کے بعد جمہوریت کی رسوائی کا سبب کیسے بن گئی؟ نواز شریف نے کہا کہ چھوڑ کر جانے والے کبھی ان کے ساتھ تھے ہی نہیں جبکہ مریم نواز نے انہیں فصلی بٹیرے کہ دیا۔ تو جب یہ فصلی بٹیرے ان کی فصل میں آ کر پانچ برس کے لیے بسیرا کر رہے تھے تب انہیں کیوں نہ یہ خیال آیا؟ کیا جمہوریت کا مطلب صرف نواز شریف اور مسلم لیگ ن ہے؟

نواز شریف نے ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کیا تھا اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کبھی ڈکٹیشن نہیں لی تو پھر جو کام انہوں نے ڈکٹیشن لیے بغیر کیے وہی کام اب ان کے خلاف ہو رہے ہیں تو انہیں ان کے پیچھے ڈکٹیشن دینے والے کیوں نظر آ رہے ہیں؟ کیا ان کا ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان جھوٹا تھا یا پھر اب ان کی جانب سے لگایا جانے والا الزام جھوٹا ہے؟

اور پھر ووٹ کا تقدس انہیں تب ہی کیوں یاد آیا جب احتساب عدالت میں ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا مقدمہ چل رہا ہے اور جھوٹا بیان حلفی داخل کروانے پر ان کو عدالت نے صادق اور امین کے برعکس قرار دیا ہے؟ اگر ووٹ کے تقدس کا ذرا برابر بھی خیال عدالت کے فیصلوں سے قبل ہوتا تو نواز شریف بطور وزیر اعظم اپنی کابینہ اور پارلیمنٹ کو کچھ نا کچھ اہمیت تو ضرور ہی دے دیتے۔ مگر اس وقت ووٹ کا تقدس بالائے طاق رکھا ہوا تھا جس کو نااہلی کے بعد کھینچ کھانچ  کر نیچے اتارا گیا اور جھاڑ پونچھ کر گلے کا ہار بنا لیا گیا۔

جناب نواز شریف صاحب! ووٹ کا تقدس بحال کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بجائے سازشی عناصر کی دھائی دینے کے آپ اپنے اوپر لگے بدعنوانی کے الزامات کا کامیاب دفاع کریں اور عوام پر یہ ثابت کریں کہ عوام نے آپ کو جو ووٹ دیئے ان کا تقدس آپ کے ہاتھوں سے پامال نہیں ہوا۔ اگر آپ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر عدلیہ پر تنقید کرنے سے پرہیز کریں اور حوصلے سے عدالت کے فیصلے کو قبول کریں اور اس قوم سے ووٹ کا تقدس پامال کرنے کی معافی مانگیں جس نے آپ کو تین مرتبہ اپنا حکمراں منتخب کیا۔

پاکستانی قوم بہت بڑا دل رکھتی ہے وہ یقیناً آپ کو معاف کر دے گی۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. عمر انعام کہتے ہیں

    زبردست

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ عمر انعام صاحب۔

  2. Iffat Navaid کہتے ہیں

    نواز شریف نے ہمیشہ کیچڑ ہ
    کیچڑ اچھا لنے کے لیے کسی کاغذ پر دیکھنا پڑتا ہے نا ہی اس کے لیے کسی مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کیا کبھی کسی نے نواز شریف کی زبان سے کوئی شعر سنا ، کسی بڑے آدمی کا قول سنا ۔ وہ تو کسی سربراہ کو شکریہ ادا کرنا ہو تو بھی کاغز پر لکھوا لیتے ہیں ۔ جس شخص کے علم وہ فہم کا یہ عالم ہو وہ ایسی ہی بے سرو پا باتیں کرے گا موصوف بھول گئے کہ افتخار چودہری نے ان کے احسانات اتارنے کے لیے سارے فیصلے ان کے حق میں کیے تھے ۔ اور انہوں نے بھٹو کے قتل ، بے نظیر کی حکومت برطرف کرنے اور افتخار چودھری کی طرف سے گیلانی کو نا اہل کرنے پر کیسی خوشیاں منا ئی تھیں ۔
    انہوں نےاپنے ووٹر کو بھی اسی کیچڑ میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ووٹر کو عزت چاہیے ۔ ووٹ کا مطلب شریف خاندان ہر گز نہیں

  3. شاہد خان بلوچ کہتے ہیں

    میاں صاحب کے پاس قانونی جواب دینے کے لیے کچھ نہیں ہے تو اب؛ نکے پاس واحد آپشن سازش پر اپنی کمپین کھڑی کرنے کا ہے. اور وہ اسے ہی لے کر چل رہے ہیں

تبصرے بند ہیں.