بے حسی آدھی موت ہے

1,020

سنا ہے انسان بہت ترقی کر چکا ہے۔ سنا ہے انسان چاند پر جا چکا ہے۔ زمین مسخر کر چکا ہے۔ سمندروں پر حکمرانی کر رہا ہے۔ پرند چرند کو اپنا تابع بنا چکا ہے۔ پتھر کے دور کو ماضی کا قصہ بنا چکا ہے۔ مگر دیکھنے میں لگتا ہے کہ انسان انسانیت کو یکسر فراموش کر چکا ہے۔ اتنی ترقی کے باوجود ہر طرف چیخ و پکار کیونکر ہے۔ کشت و خوں کا بازار کیوں گرم ہے۔ عزتیں کیوں آج بھی نیلام ہیں۔ آخر بے حسی کا تماشا ختم کیوں نہیں ہوتا؟

اتنے دکھ کیوں ہیں کہ سوگ منانے کو وقت نہیں ملتا۔ آنکھوں کی زمیں بنجر ہوئے عرصہ ہوا۔ گرم لو کے تپھیڑے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔

کہیں قصور کی زینب کی چیخ وپکار سنائی دیتی ہے تو کہیں پشاور کی آسیہ کو خون میں رنگ دیا جاتا ہے۔ جڑانوالہ کی مبشرہ کی قبر کی مٹی ابھی گیلی ہی ہوتی ہے کہ کشمیر کی آصفہ کا لہو جواب مانگتا ہے۔ انسانیت کا جنازہ بڑی دھوم سے سر بازار اٹھایا جاتا ہے۔ کچھ دیر کو سب بیوپار رُک کر سوگ مناتے ہیں مگر پھر وہی بازار کی رونقیں واپس اپنی اصل حالت میں آ جاتی ہیں۔

اب تو ہم ایسے بے حس ہو چکے ہیں کہ گویا سن ہوں۔ کہیں سے کسی بم دھماکے کی خبر آئے تو نئی نہیں لگتی۔ کسی کی عزت پامال ہوتے ہوئے دیکھیں تو کوئی خاص بات نہیں لگتی۔ کسی ماں کا اکلوتا بیٹا یا سات بہنوں کا اکلوتا بھائی مارا جائے تو فرصت کے چند لمحے ایک خفیف سے صدمے کی نظر ہوتے ہیں۔ زیادہ صدمہ ہوا تو فیس بک پر ڈی پی کالی کر دی اور فرض ادا ہوگیا۔ پر جب اسی طرح کا کوئی ظلم ہم پر گزرے تو ہمری چیخ و پکار سننے والی ہوتی ہے۔ اس وقت معاشرے کی بے حسی کو ہم ہی للکار رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے؟

روزانہ ہمارے سامنے کتنے ہی حادثات ہو کر گزرتے ہیں۔ ٹی وی پہ مسلسل بریکنگ نیوز چلتی ہیں۔ مگر ہم تو ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ ہم سوائے اپنے چند لمحے سوگ کی نظر کرنے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ہم میں کوئی قائد کی روح تھوڑی بستی ہے۔ ہم کسی نیلسن مینڈیلا کے علاقے کے باسی نہیں ہیں۔ ہم حسین ابن علی جتنے بہادر نہیں کہ ظالم کے سامنے سر اٹھا سکیں۔

یاد رکھیں اپنے اردگرد اپنے ہم جنسوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کیلئے کسی بہت بڑے عزم یا بڑی بہادری کی ضرورت نہیں ہے، صرف احساس کی ضرورت ہے۔ آج جو آگ ہمارے پڑوس میں ہمارے ہم جنسوں کو جھلسا رہی ہے وہ ضرور کل کو ہمارے تک بھی پہنچے گی اگر ہم اسی طرح خواب غفلت میں کھوئے کسی اقبال کے انتظار میں بیٹھے رہے تو نقصان ہمیں ہی ہوگا۔ اگر آج ہم اپنے راحت کدے سے نکل کر دوسروں کیلۓ نا لڑے تو کل کو ہماری التجائیں بھی بے سود جایئں گی۔

بے حسی آدھی موت ہے
یعنی ہم لوگ نیم زندہ ہیں

عمارہ گوندل لاہور کی ایک یونیورسٹی میں بائیو کیمسٹری کی طالبہ ہیں۔ یہ مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرتی مسائل کا تجزیہ کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت اچھی تحریر

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Good one.

  3. عمر انعام کہتے ہیں

    تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
    ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

تبصرے بند ہیں.