سیاسی مکافات عمل

14 4,907

چند برس قبل اسلام آباد میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے پی ٹی آئی کے نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائیں تو مظاہرین میں سے ایک خاتون نے بولا کہ ‘ہائے اللہ یہ تو ہمیں مار رہے ہیں، ہم تبدیلی کیسے لے کر آئیں گے’۔

اس جملے پر کئی بار ٹی وی شو کے دوران حنیف عباسی اور سعد رفیق سمیت دیگر لیگی رہنماؤں نے پی ٹی آئی  کے نوجوانوں کا مذاق اڑایا اور انہیں برگرز کہا۔

وقت نے پلٹا کھایا، جنوبی ایشیا کے چند طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک شریف خاندان پر ایسا وقت بھی آیا کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو چار بار سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیا گیا لیکن کوششوں کے باوجود عوامی طاقت کا کوئی حقیقی مظاہرہ کہیں نظر نہ آیا۔

جمعہ کی صبح جب میں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں پہنچا تو بہت تلاش کیا لیکن حکمران جماعت کا مجھے ایک بھی رہنما نظر نہ آیا۔

فیصلے سے دس منٹ پہلے اینکر پرسن سمیع ابراہیم صاحب نے سینئر صحافی عبد القیوم صدیقی صاحب سے پوچھا کہ کیا فیصلہ آئے گا؟
اے کیو ایس بھائی نے بلا کے اطمنان سے جواب دیا کہ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجا جائے گا اور ساتھ ہی چند وزنی دلائل بھی دے ڈالے۔ اس جواب سے سمیع ابراہیم صاحب، نادر حسین صاحب، ساجد گوندل صاحب اور میں تو مطمعن ہو گئے لیکن صدیق جان کے چہرے پر موجود ذومعنی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اسے قیوم بھائی سے بالکل اتفاق نہیں۔

گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر بنچ کے چاروں معزز جج صاحبان کمرہ عدالت میں پہنچے۔ چیف جسٹس نے کارروائی شروع کرتے ہوئے بتایا کہ فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا ہے اس لیے وہی پڑھیں گے۔

جسٹس بندیال نے دو منٹ میں مختصر فیصلہ سنایا اور جیسے ہی انہوں نے ‘پرمننٹ بین’ کا لفظ بولا تو میڈیا کے سارے دوست بریکنگ نیوز دینے کے لیے کمرے سے باہر دوڑے۔ ہم نے چونکہ کوئی بریکنگ نہ دینی تھی اس لیے خراماں خراماں چلتے ہوئے اس امید پر سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر میڈیا والے چبوترے تک پہنچے کہ یہاں شاید کوئی حکمراں جماعت کا چے گویرا مل جائے لیکن مایوس ٹھہرے۔

تھوڑی ہی دیر بعد شور سنائی دیا کہ مریم اورنگزیب صاحبہ پہنچ رہی ہیں۔ وہ آ کر عدلیہ پر خوب برسیں اور وہیں سے واپس چلی گئیں۔
ہم بھی باہر پارکنگ میں پہنچے تو مکافات عمل کے کئی مناظر دیکھے۔

ایک درجن سے بھی کم خواتین اور تین مرد حضرات میاں نواز شریف کے حق میں اور میاں ثاقب نثار کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

یہ خواتین احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی پارکنگ سے شاہراہ دستور پر پہنچی تو ان آٹھ خواتین میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ احتجاج کھڑے ہو کر کرنا ہے یا بیٹھ کر، روڈ پر کرنا ہے یا روڈ سائڈ پر، نعرے چیف جسٹس کے خلاف لگانے ہیں یا نہیں۔

ایک خاتون نے سب کو سمجھایا کہ احتجاج ہمیشہ بیٹھ کر کیے جاتے ہیں اس لیے ہمیں سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ جانا چاہیے۔ خیر بیٹھنے پر اتفاق ہوا، لیکن ایک ہی منٹ میں سب کھڑے ہو گئے کیونکہ سڑک گرم تھی۔

ایک خاتون نے بڑھ کر سپریم کورٹ کے گیٹ کے آگے لگے بیریئر کو کھینچ کر سڑک پر لانے کی کوشش کی تو لیڈی کانسٹیبلز نے اسے سختی سے پکڑا، اور اسی وقت وہ جملہ بولا گیا جو مجھے کئی سال پیچھے لے گیا۔ میاں نواز شریف کی اس ووٹر نے اپنے ساتھ کھڑے مرد سے کہا کہ ‘ہائے اللہ یہ تو ہمیں گرفتار کرنے لگے ہیں، آپ نے کہا تھا کچھ نہیں ہوگا’۔

ایک خاتون نے چیف جسٹس کے خلاف نازیبا گفتگو کی تو اس کے نوجوان بیٹے نے آگے آکر روکا اور کہا کہ امی ایسا ہرگز نہ کریں۔

عمران خان کے برگرز سے نواز شریف کے برگرز کا موازنہ کرنا ہو تو دو نومبر 2016ء کے اسلام آباد لاک ڈاؤن سے پہلے ای الیون کی مارکی پر پولیس کا چھاپہ اور سیمابیہ طاہر کا ویڈیو کلپ ضرور دیکھنا چاہیے۔

وقت پلٹا کھا چکا ہے، پاور والے پاورلیس اور ٹانگہ پارٹی والے پاورفل ہو چکے ہیں۔

 

عمر انعام اسلام آباد میں مقیم ایک نوجوان صحافی ہیں۔ یہ نیوز ون اور بول ٹی وی سے منسلک رہے ہیں۔ آج کل انگریزی اخبار دی نیشن کے ساتھ منسلک ہیں اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں امریکن سٹڈیز میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔ ملکی اور عالمی سیاست انکے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ان سے ٹویٹر کے ذریعے @UmerInamPk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

14 تبصرے

  1. راجہ کاشف جنجوعہ کہتے ہیں

    عمر انعام صاحب
    خبر سے ہٹ کر منظر کشی اتنی خوبصورتی سے کی ہے لگا ۔پڑھنے والے کو بھی آپ اپنے ساتھ اس ماحول میں لے گئے۔
    پھر وہ سامنے لانا ہو کسی خبر میں نہ ہو وہی تو اصل تحریر کا حصہ ہوتا ہے جو آپ کے یہاں پڑھنے کو ملا۔
    لکھتے رہیں

    1. عمر انعام کہتے ہیں

      راجہ صاحب، انتہائی مشکور ہوں آپکے خوبصورت الفاظ کے لیے. جزاک اللہ خیر. آپکی تحریر بھی اثر انگیز ہے.

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Interesting. Quite humorous and well defined.

    1. Umer Inam کہتے ہیں

      Thank you so much Awais bhai.

  3. asif کہتے ہیں

    70 years and still political engineering is going on
    be happy on this political engineering because i already saw this three times
    but
    when you reach 50 years u will write like i am writing now
    aakh thoo fojistan
    and black masters

    1. Umer Inam کہتے ہیں

      Asif sb, you might be right but everyone has its own opinion.

  4. kashif ahmed کہتے ہیں

    totally disagree with u

    1. Umer Inam کہتے ہیں

      It’s your basic right brother. You can :)

  5. Wasim taj کہتے ہیں

    سر زبردست الفاظ کشی کی ہے۔نے

    1. Umer Inam کہتے ہیں

      Thank you so much Wasim sb. So nice of you.

  6. شاہد خان بلوچ کہتے ہیں

    واہ مکافات عمل کی بہترین مثال دی ہے اس بات سے قطع نظر کہ کون سا شخص کون سی جماعت درست ہے

    1. Umer Inam کہتے ہیں

      Thank you so much dear Shahid sb.

  7. نادر حسین کہتے ہیں

    آپ کا تجزیہ شاندار ہے

    1. عمر انعام کہتے ہیں

      نوازش نادر صاحب، یہ آپکے سکھائے گئے الفاظ ہیں جو کچھ لکھ پاتے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.