صادق اور امین کون؟

5,626

پاکستان کی سب سے بڑی اور مضبوط سمجھی جانے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ میاں محمد نواز شریف جو پاکستان میں تین بار اپنی حکومت بنا چکے ہیں، سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان کے آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے تحت صادق اور امین نہ ہونے پر تاحیات کسی بھی سرکاری عہدے یا الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے ہیں۔

1973ء کے آئین کی دفعہ 62،63 میں پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لئے تمام نکات بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

“ممبر آف پارلیمنٹ کا پاکستانی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ صادق اور امین ہونا بھی ضروری ہے۔”

“ممبر آف پارلیمٹ کا کردار پاک ہونا چاہئیے اور اسے گناہوں سے اجتناب کرنا چاہئیے۔”

“ممبر آف پارلیمنٹ کو عدالتی حکم کی تکمیل کرنا ضروری ہے۔”

“ممبر آف پارلیمنٹ کے لئے اسلام کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔”

سوال یہ ہے کہ کون سا ممبر آف پارلیمنٹ اس دفعہ کے تحت صادق و امین کہلوانے کا حقدار ہے؟

آصف علی زرداری کی جماعت پیپلزپارٹی نے 2008ء کے الیکشن جیت کر حکومت بنائی تھی۔ سیاست کے میدان میں انہیں مفاہمت کا بادشاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ سیاست سینٹ کے الیکشن کے لئے کرنی ہو یا ڈاکٹر عاصم کو کرپشن کیسز سے بچانے کے لئے، انہیں ہر معاملے میں ماہر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے الیکشن 2008ء جیتنے کے بعد پانچ سال اس قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کرپشن کے بڑے بڑے سکینڈل سامنے ائے، بات آصف علی زرداری کے کردار کی ہو تو، ماڈل ایان علی کا نام سرِفہرست اتا ہے۔

عمران خان ابھی تک وفاق میں کوئی حکومت نہیں بنا سکے۔ 2013ء میں بڑی جدوجہد کے بعد وہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ عمران خان کی شخصیت کو کرپشن کیسسز سے آزاد سمجھا جاتا ہے اور ان کی ایمانداری پر انگلی اٹھانا تھوڑا مشکل کام ہے مگر کہیں نہ کہیں عمران خان کے کردار پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ امریکی عدالت نے عمران خان کو سیتا وائٹ کے پانچ سالہ بچے کا باپ قرار دیا گیا۔ پی ٹی ائی کی ایم این اے عائشہ گلالئی بھی عمران خان کی کردار کشی کر چکی ہیں اور ان پر بداخلاقی کا الزام عائد کر چکی ہیں۔ ہو سکتا ہے عمران خان پر لگنے والے الزامات غلط ہوں۔ مگر اس پر تحقیقات کرنے کےلئے کمیٹی بننی چاہئیے تھی، اس حوالے سے عمران خان کی شخصیت بھی 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتی۔

کیا آئین کی دفعہ 62 اور 63 میں مالی بدعنوانی کے شکار لوگ ہی صادق اور امین نہیں ہیں؟ کیا یہ دفعات اخلاقی الزامات اور اخلاقی جرائم کو جرم نہیں سمجھتی؟ ہمیں بھی من حیث القوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم عوام کتنے صادق اور امین ہیں۔ ہماری اپنی سوچ باسٹھ اور تریسٹھ پر پوری نہیں اترتی مگر ہمیں حکمران صادق اور امین چائیے۔ ہم اپنے بے ایمان ہاتھوں سے کرپٹ ترین سیاست دان کو ووٹ دیتے ہیں اور ایماندری کی سب توقعات اس سیاست دان سے وابستہ کرلیتے ہیں۔ اگر تمام سیاستدان اللہ کو حاضر ناظر جان کر سچ بولیں یا کڑے سوالات کا جواب دیں تو کوئی بھی صادق اور امین نہیں رہے گا۔ نہ صرف سیاستدان بلکہ اگر ایک عام شہری سے لے کر سکول کالج کے کلرک تک سے حلف لیا جائے تو سب تاحیات نااہل ہوجائیں گے۔

مسئلہ حکمراںوں کا نہیں عوام کا ہے۔ کہتے ہیں کہ جیسی عوام ویسے ہی حکمران۔

 

 

.سلمان جاوید بھٹی صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا ٹی وی کے مانیٹرنگ ڈیسک سے وابستہ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Javed Iqbal کہتے ہیں

    میرے بھائی لیڈر کا صادق اور ام ہونا ضروری ہے۔ ۔ کیا ضیاء دور میں لوگوں نے ن باقاعدہ نماز نہیں شروع کردی تھی۔ اور کیا بھٹو کی تقلید میں عوام نے شلوار قمیض نہیں اپنا کی تھی۔ عوام لیڈر کو follow کرتے ہیں۔
    میرا خیال ہے کہ لکھنے والوں کو عوام کو بیوقوف سمجھنا کرنے دینا چاہیے۔

    1. Salman Javeed Bhatti کہتے ہیں

      میں نے اس بات سے اختلاف نہیں کیا کہ حکمران کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ بلکہ بتانے کا مقصد یہ ہےکہ موجودہ وقت میں کوئی 62اور 63 پر
      پورا نہیں اترتا، اس بات سےکوئی انکاری نہیں کہ حکمران ایماندار ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن جیسی عوام ہوگی ویسے ہی حکمران ہونگے، حدیث مبارکہ میں بھی یہ چیز واضح طور پر بتا دی گئی ہے، مقصد یہ ہے کہ عوام خود کو بدلے بجائے حکمرانوں کی نااہلی پر رونے کہ۔

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    آپ نے غالباً آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کا مطالعہ نہیں کیا ہوا۔ ان دونوں شقات میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ ممبر آف پارلیمنٹ کوعدالت کے حکم کی تعمیل کرنا ضروری ہے۔
    نیز اگر آپ سپریم کورٹ کا نااہلی کے ضمن میں لکھا ہوا مکمل فیصلہ پڑھ لیں تو آپ کو یہ سمجھ میں آئے گا کہ آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ میں کیا فرق ہے۔
    آئین کی شق باسٹھ کسی امیدوار کی اہلیت کے بارے میں ہے کہ آیا وہ پارلیمنٹ کے لیے انتخاب لڑنے کا اہل ہے یا نہیں۔
    اور شق تریسٹھ ممبر آف پارلیمنٹ کی نااہلیت کے بارے میں ہے جس میں جرم و سزا سے متعلق کسی شخص کے انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔

    1. Salman Javeed Bhatti کہتے ہیں

      جناب اویس احمد صاحب، میں نے1973 کےائین کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اس تحریر کو لکھا، میرے خیال سے اپ کو بھی کچھ مطالعہ کرنا چاہئیے، اور شاید اپ نے میری تحریر کو بھی غور سے نہیں پڑھا ورنہ اپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہ پڑتی کہ 62 اور 63 ممبر اف پارلیمنٹ کی اہلیت کے بار میں ہے۔
      کیونکہ 1973 کے ائین دفعہ 62 ون ایف میں یہ صاف صاف لکھا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبر کا عدالت کے قانون اور اس عدالت کے حکم کی پاسداری ضروری ہے۔ شاید یہ ہر بچے کو معلوم ہے کہ عدالت کے حکم کی پاسداری پاکستان کے قانون میں ہے ورنہ یہاں پر بھی جنگل کا قانون ہوتا۔ شکریہ

تبصرے بند ہیں.