صوبہ محاز اور سیاسی لوٹے

3,704

آج کل پاکستان میں سیاست کے بدلتے رنگ اور الٹ پلٹ نے ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا کر دیا ہے کہ جنرل الیکشن میں کیا ہوگا اور کونسی پارٹی برسر اقتدار آئے گی؟ ان سوالات کے جواب موجودہ سیاسی صورت حال کو دیکھ کر دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔

موجودہ سیاسی منظر میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کو اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ ن لیگ سے بہت سے کبوتر اڑ چکے ہیں اور مزید اڑنے کے لیے تیار ہیں۔ حال ہی میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 8 افراد، جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے تھا، انہوں نے ن لیگ کو خیرباد کہا اور ساتھ ہی جنوبی پنجاب صوبہ محاز ایک الگ صوبہ بنانے کے لیے زبردست تحریک کا اعلان بھی کردیا۔ اعلان کے بعد اگلا سوال جو ہر پاکستانی اور مجھ جیسے طالب علم کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاز تحریک کیا ہے، اسکا فائدہ کیا ہوگا اور اسکا پس منظر کیا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک کا مختصر تعارف بیان کر کے واپس انہیں حضرات پہ آؤں گا جنہوں نے پھر سے اس تحریک کو اٹھانے کا ذمہ اپنے سر لیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی تقسیم سے پہلے بہاولپور ایک ریاست تھی اور پنجاب کی وہ واحد ریاست تھی جو کہ اپنے کلچر، میٹھی زبان، رنگ اور نسل کے اعتبار سے ایک الگ پہچان رکھتی تھی۔ بڑے بڑے مہاراجہ اور بادشاہ یہاں تک کہ برٹش راج بھی اس ریاست کو پنجاب میں سب سے زیادہ ترجیج دیتے تھے۔ پاکستان اور انڈیا کی تقسیم کا نقشہ بنا اور جب نقشہ ریڈ کلف کے سامنے آیا تو اس میں لاہور کو انڈیا میں شامل کیا گیا۔ ریڈ کلف نے برطانیہ میں رابطہ کیا اور نقشے پہ اعتراض اٹھا دیا کہ لاہور کو پاکستان میں شامل کیا جائے۔ برطانیہ نے ریڈ کلف کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا کہ جو وہ چاہے جیسا وہ چاہے اس میں تبدیلی کر کے فائنل کر سکتا ہے اور یوں لاہور کو پاکستان کے حصے میں شامل کیا گیا۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد 1949ء میں جنوبی پنجاب سرائیکی صوبہ موومنٹ کا آغاز ہوا۔ بہاولپور ریجن کے لوگوں کی زمین، زبان اور کلچر کو سامنے رکھتے ہوئے اس موومنٹ کا اعلان کیا گیا کہ اس کو الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ لوجک یہ دیا گیا کہ جیسے پاکستان الگ قومیت کی بنیاد پہ حاصل کیا گیا اسی طرح یہ صوبہ بھی لسانیت کی بنیاد پہ قائم کیا جائے۔

ایوب خان کے دور میں اس تحریک نے زرا زور پکڑا لیکن آمر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور تحریک کو بند کردیا گیا۔ ایوب خان دور کے مشہور اور طاقتور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ (صفحہ نمبر 180 ) میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت کے 20 سے زائد سرائیکی لکھاریوں کو جمع کیا اور کہا کہ وہ اپنی آواز بلند کریں کہ سرائیکی اور پنجابی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اس لیے صوبہ سرائیکی بنایا جائے لیکن یہ منصوبہ بھی ناکام رہا۔

قدرت اللہ شہاب کے اس منصوبے کو بنگالیوں نے اٹھایا اور وہ ایسٹ پاکستان لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ایسٹ پاکستان کی علیحدگی کے بعد سرائیکی ایم این ایزاور ایم پی ایز بشمول کھوسہ، لغاری، قریشی، ضراری، وٹو اور نواب آف بہالپور خاندان نے اپنی سیاسی ساکھ اور وڈیرے پن کو بحال رکھنے کے لیے زوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملایا اور پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کر کے اپنی سیاست شروع کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے ایک دفعہ پھر جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کی تحریک کو اٹھایا جس کا اثر سندھ تک جا پہنچا اور سندھ میں موجود سرائیکی بھی جنوبی پنجاب ( صوبہ سرائیکی ) کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور وزیر اعلیٰ سندھ کی کاوشوں سے پہلی آل پاکستان سرائیکی کانفرنس ملتان میں ہوئی جس میں رسول بخش پلیجو نے خصوصی شرکت کی اور جنوبی پنجاب صوبہ سرائیکی کی ڈیمانڈ کو سراہا۔

بھٹو کی حکومت کا تخت الٹنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے حکومت کو سنبھالا۔ اس وقت ایڈووکیٹ تاج محمد لنگا کی قیادت میں جنوبی پنجاب سرائیکی صوبے کی تحریک اپنے عروج پہ تھی جسے انہوں نے SQM (سرائیکی قومی موومنٹ) کا نام دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے سندھ اور پنجاب کی صورت حال کو دیکھا اور کراچی کی مہاجر برادری کو اکٹھا کیا اور SQM کو دبانے کے لیے MQM (مہاجر قومی موومنٹ ) کو فروغ دیا اور سرائیکی صوبے کی بنیاد کوپھر سے ڈکٹیٹر کی نظر کر دیا گیا۔ تاج محمد لنگا کو کمیونسٹ ہونے کی وجہ سے اس تحریک سے الگ کردیا گیا۔

1992ء میں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے معاہدے اور میٹنگز ہوئیں جوکہ بے سود رہیں۔ اسی طرح مشرف دور میں اس پہ کوئی بات نہیں کی گئی۔پیپلز پارٹی کے دور میں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے۔ ان کا چونکہ تعلق ملتان سے تھا تو ایک دفعہ پھر اس تحریک نے سر اٹھایا لیکن پنجاب میں موجود پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے پیپلز پارٹی سے ڈیل کی اور یوں یہ تحریک پھر سے ٹھپ ہوگئی۔

آج پانچ سال بعد اس وقت جب حکومت کا وقت ختم ہونے میں صرف ایک ماہ رہ گیا ہے پھر سے اس تحریک کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چار دن پہلے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز جن میں خسرو بختیار ( ایم این اے + منسٹر فار فارن افئیرز)، طاہر اقبال ( ایم این اے وہاڑی )، رانا محمد قاسم ( ایم این اے ملتان )، باسط بخاری ( ایم این اے مظفرگڑھ)، سردار دریشک اور سلیم اللہ چوہدری نے ن لیگ کو خیرباد کہا اور ساتھ ہی جنوبی پنجاب کے مسائل گنواتے ہوئے علیحدہ صوبہ محاز کا اعلان بھی کر ڈالا۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ایک عام شہری ہونے کے ناطے ہر ایک کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے اس کے حقوق یکسر مہیا کیے جائیں۔

ہوا کا رُخ دیکھ کر سیاسی وفاداریاں بدلنے والے یہ لوگ کیا واقعی اس تحریک کو کامیاب بنا پائیں گے؟ یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں آتا ہے لیکن اگر انہی لوگوں کے ماضی کی طرف ایک نظر دوڑائیں تو لگتا یہ ہے کہ یہ شوگر مل مافیا پھر سے کسی نئے محاز کے لیے تیاری پکڑے ہوئے ہے اور وہ محاز ہے اپنی جیب گرم کیسے کی جائے؟ صوبہ محاز کے نام پر سیاسی پارٹی چھوڑنے والے جنرل الیکشن میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ الیکشن سے پہلے صوبہ محاز کا اعلان کر کے جنوبی پنجاب کی عوام سے ان کے حقوق کی بنیاد پہ ووٹ حاصل کریں گے۔ ووٹ حاصل کرنے کے بعد وہ پارٹی جو اقتدار میں آئے گی اس سے ڈیل کی جائے گی۔ عوام کے ووٹ اور اعتماد کو ماضی کی طرح بیچ کر اپنی جیب کروڑوں اربوں روپوں سے بھر کر پھر اسی پارلیمنٹ میں بیٹھ جائیں گے جسکی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ پہلے یہ اس پارلیمنٹ کو چھوڑ چکے ہیں۔ بیوقوف بنے گی تو صرف جنوبی پنجاب کی عوام۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاز جسکی کوشش پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوگئی تھی، اس کو یہ چار سال حکومت کا مزہ لینے والے اور سیاسی وفاداریاں بدلنے والے لوٹے کبھی بھی مکمل نہیں کر سکتے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. hayat کہتے ہیں

    Rana sahib aap ne shahab nama ka ref. dia he lekin wahan page 180 per yeh maujood nai he. can u plz check it.

تبصرے بند ہیں.