اپنے بچوں کے ساتھ بھلا کوئی ایسے بھی کرتا ہے؟

14,904

کہتے ہیں کہ جہاں ایک اچھی اننگز کسی بھی کرکٹر کا  کرئیر بنا سکتی ہے تو وہیں ایک بری اننگز  کرئیر ختم بھی کر سکتی ہے۔

مگر کیا آپ نے کبھی یہ سنا یا دیکھا ہے کہ ایک اچھی اننگز کسی کا  کرئیر خراب کر دے؟ میرے سامنے ایسی ایک زندہ مثال موجود ہے۔

یہ 12 اکتوبر 2008ء کا دن تھا۔ سری لنکا کے خلاف میچ میں محض 13 بالز پر 29 رنز درکار تھے۔ پاکستان کی سات وکٹیں گر چکی تھیں تب فواد عالم کی وکٹ پر انٹری ہوئی۔ ایک 20 سالہ نوجوان کلاسیکل بلے باز فواد عالم کو نمبر چار پر کھیلنا تھا مگر رن ریٹ پریشر کی وجہ سے تمام ہٹرز کو اس سے پہلے بھیجا گیا جس وجہ سے اسے نمبر نو پر شفٹ کرنا پڑا۔ ایک کلاسیکل بلے باز سے 15 رنز پر اوور کے حساب سے کھیلتے ہوئے میچ جتوانے کی امید کسی کرکٹ شائق کو ہرگز نہ تھی۔

fawad-Alam

مگر شومئی قسمت فواد عالم کی کہ یہ اس کا دن تھا۔ اس نے محض 8 بالز پر 3 چھکوں کی مدد سے 23 رنز ناٹ آوٹ بنا کر میچ لنکن لائینز کے جبڑوں سے صاف نکال لیا۔ وہ دن اور آج کا دن فواد عالم پر ٹی ٹونٹی کرکٹر کا ایسا ٹیگ لگا جو ٹی ٹونٹی میں بار بار ناکامی کے باوجود اتر نہ سکا۔ اس کے بعد فواد عالم نے آدھ درجن بھر دفعہ کم بیک تو کیا مگر صرف ٹی ٹونٹی میں۔ فواد عالم ہر دفعہ ناکام ہونے کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ اور لسٹ اے میں واپس آ جاتا ہے۔ 4 روزہ اور ایک روزہ کرکٹ میں رنزوں کے انبار لگاتا ہے جس کے نتیجے میں اسے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں کم بیک کروا دیا جاتا ہے۔ یہ کسی نے نہ دیکھا کہ اس نے ڈیبیو ٹیسٹ میں بھی سنچری بنائی تھی تو کیوں نہ اسے ٹیسٹ میچز کھلائے جائیں۔ یہ کسی نے نہ دیکھا کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں بہترین اوسط اور مناسب سٹرائیک ریٹ کے ساتھ تسلسل سے پرفارم کر رہا ہے تو ون ڈے مڈل آرڈر میں ہی اسے ٹرائی کر لیا جائے۔ ہاں ایک دو دفعہ اسے ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی واپس بلایا گیا اور پوری سیریز اسے بطور ہٹر آخری چند اوورز میں وکٹ پر بھیجا گیا۔

0-fawad-1373016420

فرسٹ کلاس کرکٹ کی پاکستانی تاریخ کی سب سے شاندار اوسط رکھنے والے فواد عالم کے لئے جب آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں تو چیف سلیکٹر انضمام الحق نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ فواد عالم کا بیٹنگ کا انداز انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتا جس کا سادہ سا مطلب تھا کہ مجھے اسے کھیلتے دیکھ کر مزہ نہیں آتا۔ ایک بیان اور کہانی ختم۔۔۔۔ یوں ایک بہترین ٹیسٹ اور اچھے ون ڈے کرکٹر کے  کرئیر کا پی سی بی نے اپنے ہی ہاتھوں گلا گھوٹ دیا۔ اپنے بچوں کے ساتھ بھلا کوئی ایسا بھی کرتا ہے؟

180819

فواد عالم جب انڈر 19 کرکٹ کھیل رہا تھا تو پوری دنیا کے کمنٹیٹرز اسے پاکستان کا مستقبل کا کپتان قرار دے رہے تھے مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ نہیں بلکہ پاکستان ہے جہاں مصباح جیسے لیجنڈ کو ایک عشرے سے زیادہ عرصہ نامعلوم وجوہات پر اگنور کیا جاتا رہا ہے۔

خیر جیسے تیسے کر کے سنا ہے کہ پی سی بی کو اب فواد عالم پر رحم آ ہی گیا ہے۔ انگلینڈ کے انتہائی مشکل دورے میں یونس اور مصباح کا خلا اگر کوئی کچھ حد تک بھر سکتا ہے تو وہ فواد عالم ہی ہے۔ شرط البتہ یہ ہے کہ اسے اس ٹور کے تینوں ٹیسٹ میچز کھلائے جائیں۔ اگر اس کے ساتھ اس دورے میں پھر کوئی “استادی” لگانے کی کوشش کی گئی تو سب لوگ یاد رکھیں کہ فواد عالم سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہو گا۔

Shahid Khan Baloch is a digital media journalist and a Ph.D scholar of Management Sciences in The Superior College, Lahore (Pakistan). Core areas of interest include Politics and Cricket.You may contact him here.

Twitter: @shahid7s25
Facebook: https://web.facebook.com/shaahidkhaanbaaloch
Email: shaaahidkhaan@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    فواد عالم کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
    فواد عالم کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ فواد عالم بین الاقوامی کرکٹ کا دباؤ غالباً برداشت نہیں کر پاتا۔ پاکستان کے بے شمار کرکٹرز ہیں جو بہترین کرکٹر ہیں جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھائی مگر بین الاقوامی کرکٹ کا دباؤ برداشت نہ کر سکے۔ فیصل اقبال، بازید خان، فواد عالم، عمر امین اس کی واضح مثال ہیں۔
    بہرحال موقع تو ضرور دینا چاہیئے تھا۔ مگر خیر۔ یار زندہ صحبت باقی۔

    1. شاہد خان بلوچ کہتے ہیں

      ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی اس کی 40 جبکہ 4 ٹیسٹ میں 45 کی اوسط رہی ہے

تبصرے بند ہیں.