شادی کی خوشیاں

2,939

جس نے جلد بازی میں شادی کی اس نے اپنا سارا جیون بگاڑ لیا اور، جس نے سوچ سمجھ کر کی اس نے کونسا تیر مار لیا؟

شادی ایک ایسا عمل ہے جسے کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی ڈگری یا لائیسنس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ واحد ایسا عمل ہے جو ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان اپنی زندگی میں کرسکتا ہے۔ چاہے وہ سائیکل سوار ہو یا گدھا گاڑی رکھتا ہو، بی ایم ڈبلیو کا مالک ہو یا مرسڈیز پر سواری کرتا ہو۔

شادی عام پاکستانیوں کی طرح مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے وی آئی پی شخصیات کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی شادیوں پر پرتکلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جو ہمارے میڈیا پر بہت مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی شادی کی تصاویر دیکھ کر عوام بہت متاثر ہوتی ہے اور پھر ان کے فین ان کے لیے کمنٹ کے آپشن پر بہترین اور خوبصورت لکھ کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مگر کئی مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان تصاویر کو صرف ایک خبر کی حیثیت سے دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں شاید اس لیے کیونکہ ان کو زمینی حقائق کا مکمل اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری نہ تو ایسی دلھن ہونی ہے نہ ایسے کپڑے اور نہ ہی ایسی تقریب۔ مگر کیا کریں ان کی ہونے والی بیگمات کا جو ان تصاویر کو دیکھ کر اپنے ذہن میں تصور کر بیٹھتی ہیں کہ میں بھی ایسے ہی کپڑے پہنوں گی۔ ایسا ہی دولہا ہوگا اور تقریب بھی ایسے جوش و خروش سے ہوگی۔

feroze-khan-mehndi-pics

مگر زمینی حقائق کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ ان تصاویر میں صرف اور صرف دلہن کے کپڑوں کی قیمت اتنی ہوتی ہے جو کہ اس کے ہونے والے شوہر کی کل ملا کر پانچ ماہ کی مکلمل تنخواہ بنتی ہے۔

کتنے خوش نصیب ہیں وہ جوڑے جنہوں نے اجتماعی شادیاں کی یا کورٹ میرج کر کے وکیل اور مولوی کو مٹھائی کھلا کر ان تمام آفتوں سے اپنی جان چھڑوائی اور ہنسی خوشی اپنی بقیہ زندگی گزارنے لگے۔

مگر کیا کرے وہ معصوم غریب جو اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر زندگی کی تمام جمع کنجی اپنی شادی میں لگا دیتا ہے تاکہ عزت دار معاشرے میں اپنی عزت برقرار رکھ سکے۔ عام وقتوں میں دال روٹی کھانے والا اپنی شادی کی خوشی میں جذبات میں آ کر لاکھوں روپے ایک ہی رات میں اڑا دیتا ہے تاکہ دنیا والوں کو اس کی خوشی کا اندازہ ہوسکے۔ بے شک بعد میں ساری زندگی فاقوں میں گزر جائے مگر اپنے رشتہ داروں اور محلے میں ناک نہ کٹ جائے۔

J43GP

اس لیے وہ بہترین شادی کی تقریب کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے۔ اپنے رشتہ داروں اور عزیزو اقارب کو انویٹیشن کارڈ دیتا ہے تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ بول سکے کہ *آپ تو ہمیں بھول ہی گئے* بے شک یہ سارے وہی تھے جنہوں نے پہلے کبھی منہ بھی نہیں لگایا ہوتا۔ ان کے لیے مزے کے پکوان تیار کرنے ہوتے ہیں اور یہ تمام بھوکے احباب دولہے کو خوش دیکھ کر جلتے ہوئے انداز میں ایسے بےدردی سے کھانا کھا کر ضائع کرتے ہیں جس سے اپنوں کے اگلے پچھلے تمام بدلے پورے ہو جاتے ہیں۔

کاش چیف جسٹس صاحب اس پر بھی سوموٹو ایکشن لیں اور ایسی تمام شادیوں کی تقاریب کی تصاویر شائع ہونے پر پابندی عائد کردیں جن کو دیکھ کر غریب احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے تاکی اسکی مزید دل آزاری نہ ہو۔ کاش حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز میں شادی کے کپڑے کم دام میں فروخت کیے جائیں۔ کاش حکومت کی جانب سے کم دام میں شادی ہال مخصوص کیے جائیں۔ تاکہ شادی کرنے والے اپنی تمام جمع پونجی اس کام میں نہ بہائیں بلکہ شادی شدہ جوڑے یہ تمام رقم اپنے بہتر مستقبل کے لیے مختص کر سکیں۔

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    عدنان صاحب انتہاٸی اہم موضوع پر بہت عمدہ تحریر ہے آپ کی

    حکومت کو ڈر ہے کہ شادیاں آسان ہو گٸ تو آبادی تیزی سے بڑھنے لگے گی اور وساٸل کم پڑ جاٸیں گے

    جبک اسلام کہتا ہے کہ روزی دینے والی ذات اللہ کی ہے

    ہماری سوچ کا فرق ہے بس

    1. عدنان احمد کہتے ہیں

      اور اسلام میں صرف ولیمے کی دعوت دینے کا حکم ہے،
      باقی سب فراڈ ہے

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    خوبصورت تحریر ہے اور موضوع بہت عمدہ اور اہم ہے۔
    چلیں میں بتاتا ہوں۔ میری شادی ایک سال اور چار ماہ قبل ہوئی۔ میرا دولہا ڈریس ٹوٹل سات ہزار روپے میں بنا تھا۔ جس میں شیروانی، پگڑی، کھسہ اور کرتا شلوار شامل تھا۔ میری اہلیہ نے اپنی نانی اماں کا تاریخی اور روائتی غرارہ زیب تن کیا تھا۔
    ہماری دونوں کی طرف مہندی کی کوئی تقریب نہیں ہوئی تھی۔ میں کل پچیس لوگوں کی بارات لے کر گیا اور دوسری جانب کل سو لوگ بھی نہیں تھے۔ تین گھنٹے میں ہم لوگ گھر واپس آ چکے تھے۔
    گھر پر لائٹنگ بھی نہیں کی گئی تھی۔ اور آتش بازی و دھماکہ خیزی کا تو خیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
    سادہ سا ولیمہ جس میں ڈیڑھ سو لوگوں کو دعوت دی گئی اور ایک سو سینتالیس لوگ شامل ہوئے۔
    اور ہاں۔ جہیز نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں تھا اس مکمل شادی میں۔
    کل خرچہ جس میں سب کچھ شامل تھا۔ چار لاکھ کے لگ بھگ ہوا۔ اور ہم ایک خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    ابھی بھی میں سوچتا ہوں کہ ہم اس سے زیادہ سادگی بھی اپنا سکتے تھے۔

    1. عدنان احمد کہتے ہیں

      واہ اویس بھائی واہ، بہت بہت اعلیٰ ہوگیا۔ آپ نے مہلے اور رشتہ داروں میں ناک کٹنے کا نہیں سوچا، اور انشاءاللہ میں بھی نہیں سوچوں گا۔

  3. عدنان احمد کہتے ہیں

    بہت شکریہ کاشف صاحب۔

  4. Fayeza Saleem کہتے ہیں

    نہایت عمدہ تحریر..

تبصرے بند ہیں.