قطرہ قطرہ سے بنا مسائل کا دریا

2,087

ایک حکایت ہے کہ ایک اونٹ بیٹھا سو رہا تھا۔ اس کی نکیل زمین پر گری ہوئی تھی ۔ وہاں سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ اس نے نکیل تھامی۔ اور اونٹ کو جگا کر بولا تیری نکیل میرے ہاتھ میں ہے۔ اب میں تیرا سردار ہوں، چل میرے پیچھے۔ اونٹ چوہے کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ چوہا سمجھنے لگا کہ اتنا بڑا جانور میرا ماتحت ہے، اس کا مطلب میں بہت طاقت ور ہوں اور جنگل کا بادشاہ ہوں۔ تمام راستے وہ اونٹ کو حقارت سے دھتکارتا رہا اور اس پر اپنا رعب جھاڑتا رہا۔

سلسلہ جاری تھا کہ ایک ندی بیچ میں آگئی۔ چوہا رک گیا۔ اونٹ بولا، سردار آگے چلو اور میری رہنمائی کرو۔ چوہا بولا، دیکھو کتنا گہرا سمندر ہے۔ اس میں تو صرف موت ہی موت ہے۔ اس خطرناک راستے پر میں کبھی نہ چلوں گا۔ یہ سن کر اونٹ نے اپنی نکیل اس چوہے کے ہاتھ سے ہٹائی اور بولا جب تجھ میں اتنی سکت نہیں کہ تو اتنا بار اٹھا سکے تو، تو نے اپنی اوقات سے بڑھ کر کام ہی کیوں کیا۔ اے کم نسل آ میری پیٹھ پر سوار ہو۔ چوہا سوار ہوا اور اونٹ ندی میں اترا جس میں اونٹ کی ٹانگیں بھی پوری نہ ڈوبیں۔ اونٹ نے کہا میں تجھ اور تیرے جیسے سینکڑوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر اس سے پار کراسکتا ہوں مگر تیرے جیسے سینکڑوں بھی مل کر مجھ ایک کو یہ ندی پار نہیں کرا سکتے۔ حکایت کا سبق یہ ہے کہ اگر حکمران نااہل ہوں تو وہ اپنی عوام کی رہنمائی کبھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی فلاح کیلئے کچھ کر سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے کی فلاح کیلئے رہنما کا بہترین اور قابل ہونا ضروری ہے۔

اس حکایت کو پڑھ کر فوراً ہی وطن عزیز اور اس پر اب تک مسلط حکمرانوں کا خیال آ جاتا ہے۔ انیس سو ستر کی دہائی کے بعد ملک میں کرپشن، جھوٹ، اقربا پروری، میرٹ کی دھجیاں اڑانے، دہشتگردی، شدت پسندی سمیت کئی منفی عوامل نے تیزی سے فروغ پایا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اب تک کے حکمران ہیں۔ اگر بڑے بڑے مسائل کی بات کی جائے تو کبھی دنیا کے اس زرخیز ترین ملک میں آٹے اور گندم کا بحران پیدا کیا جاتا ہے۔ کبھی گنے کے کاشتکاروں کا حق مار کر چینی کا بحران پیدا کیا جاتا ہے۔ نااہلی اتنی کہ سیاست کے کھیل میں ملکی مفاد کو حد درجہ تک دفن کیا جاتا ہے۔ سیاست چمکانے کیلئے ڈیموں کی مخالفت کی جاتی ہے اور پانی کا بحران پیدا کیا جاتا ہے۔ پانی کے حوالے سے اپنی نااہلی کا ملبہ بھارتی آبی جارحیت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سالانہ لاکھوں کیوسک میٹھا پانی سمندر کی نذر کر دیا جاتا ہے اور عوام کو نلوں میں مضر صحت اور سیوریج زدہ پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اپنے گھروں کو بھرنے والے سیاست دان بجلی کا بحران پیدا کرتے ہیں۔ اور عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

اگر بینکاری اور معیشت کی طرف دیکھیں تو ہر آنے والا حکمران گزشتہ حکمران سے زیادہ اور بڑا قاتل نظر آتا ہے۔ پاکستان دنیا کا شاید پہلا اور واحد ملک ہے جہاں ایک تنخواہ دار اپنی تنخواہ وصول کرنے سے پہلے ٹیکس کٹواتا ہے۔ اس کے بعد جوتی، کپڑا، مکان، روٹی، آٹا، پھل، کمپیوٹر، موبائل فون، گاڑی، سائیکل، ہوائی جہاز، سوئی، جھاڑو، بلیڈ یا ایک روپے والی ٹافی سمیت ضروریات زندگی کی کوئی بھی چیز خریدے، اس پر 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ایک پاکستانی کتنا بڑا مجبور اور بے وقوف ہے کہ موبائل کارڈ خریدتا ہے، اس کو لوڈ کرتا ہے اور اس پر بھی ٹیکس دیتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی بھی کال کرتا ہے تو ہر کال پر الگ ٹیکس کٹتا ہے۔ یہ سب ان حکمرانوں کے گورکھ دھندے ہیں۔

کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ اس ملک کا وزیر خزانہ ایک ایسا شخص رہا ہے جس نے قوم کو غربت اور مفلسی میں دھکیل دیا اور خود 15 سے 20 سال کے عرصے میں اپنی جائیداد کچھ لاکھ روپے سے اربوں ڈالر بنا لی ہے۔ یہ اسحاق ڈار ہی کی کارستانی تھی کہ ایک انوکھا اور عجوبہ نما ٹیکس کا نفاذ کیا گیا۔ پاکستان شاید دنیا کا پہلا ملک بنا جہاں ایک شہری بینک میں اپنا پیسہ نکلوائے اور اس پر بھی 3 سے 6 فیصد ٹیکس ادا کرے۔ اپنی محنت کی کمائی بینک میں رکھے تاکہ چوروں سے بچا جا سکے۔ لیکن عام شہری کو معلوم نہیں کہ عام چوروں سے بھی بڑے چور حکومت میں بیٹھے ہیں جو ان کی اپنی ہی رقم میں سے اپنا حصہ چرا لیتے ہیں۔ پولیس، نیب، ایف آئی اے، زراعت، تعلیم کسی بھی محکمے کو اٹھا کر دیکھ لیں کوئی کرپشن سے پاک نہیں۔ حکمران اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر اربوں کھربوں کی کرپشن کرتے ہیں اور اس کے بعد سرکاری ملازم یا کوئی بھی شہری اپنے عہدے اور پوزیشن کی وجہ سے ‘حسب استطاعت ‘ کرپشن کرتا ہے۔

بات کریں اجارہ داری اور بدمعاشی کی تو جو کمزور ہے وہ بیٹھا رہے اور ظلم سہتا رہے اور جو جتنا طاقت ور ہے اس حساب سے اپنی بدمعاشی کا مظاہرہ کرے۔ بڑے شہروں کی بڑی سڑکوں پر ٹریفک روک کر بیٹھ جاؤ اور اپنے مطالبات منوا لو۔ اگر احتجاج کرنے والا کمزور ہے تو پولیس کچھ ہی دیر میں ان پر ڈنڈوں کی بارش کر دے گی اور اس جگہ سے بوریا بستر گول کر دے گی لیکن اگر احتجاج کرنے والا بدمعاش ہے تو اس سے مذاکرات پہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ پھر چاہے فیض آباد کا دھرنا ہو یا پھر داتا دربا ر کے سامنے لاہور میں دھرنا۔ کوئی بھی احتجاج کرنے والوں کو کچھ نہیں کہے گا۔

پہلے فیض آباد اور اب داتا دربا ر کے سامنے کئی روز سے احتجاج۔ خواتین اور بچوں کا لحاظ نہیں۔ بزرگ کا احترام نہیں۔ عام شہری سے بدکلامی اور مار پیٹ۔ پولیس والا ہو یا کوئی صحافی اس پر تشدد۔ یہ ہیں دھرنا دینے والے۔ دو دو ہفتے لاہور جیسے بڑے شہر کا مرکزی راستہ بند ہے اور حکومت احتجاج کرنے والوں کے ڈر سے پونے دو کروڑ شہریوں کا حق مار رہی ہے۔

پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا دعویٰ، حملے کی صورت میں بھارت کو نہ بھولنے ولا سبق پڑھانے کا دعویٰ، دہشتگردی کیخلاف جنگ کا سب سے بڑا فاتح ہونے کا دعویٰ اور حقائق یہ ہیں کہ صرف چند درجن افراد کو داتا دربار کے سامنے سے اٹھایا نہ جا سکا۔ سڑکیں بند، راستے بند، ملحقہ آبادیاں پریشان، لوگوں کا کاروبار متاثر۔ مگر ہونے دو۔ حکومت اور حکمرانوں کا کیا جاتا ہے۔ دھرنے والوں کی ڈیڈ لائن ختم، ڈنڈا بردار دھرنا والے اور ان کے حواری لاہور میں پھیل گئے۔ لاہور کے تمام داخلی و خارجی داخلے بند کر دیئے۔ لاہور کے اہم سڑکوں کو 6 مقامات پر بند کر دیا گیا۔ سڑکوں پر بدمعاشی کا مظاہرہ کیا گیا۔ نہ کسی بزرگ کا احترام، نا کسی خاتون کی عزت کا پاس نہ کسی بچے کی معصومیت کا خیال نہ کسی مریض کی حالت پر ترس۔ بس جو بھی شہری راستہ مانگے اس کی ڈنڈوں اور لاتوں گھونسوں سے تواضع۔ پولیس اور میڈیا والوں پر بھی تشدد۔ جب لاہور بند ہوا تو پھر حکمران ایک بار پھر اس مضبوط مسلح گروہ سے مذاکرات پر آمادہ ہوئی اور تمام شرائط مان کر دھرنا ختم کرایا۔ اور مطالبات کیلئے ایک اور تاریخ دے دی۔ اب ایک اور ڈیڈ لائن آئے گی اور پھر وہی تماشا ہوگا۔

سب سے بڑے ذمہ دار ان حالات کے صرف عوام ہیں۔ اپنے ووٹ کے ذریعے نااہلوں کو اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں۔ اور جب ندی پار کرنے کی باری آئے تو یہی حکمران ان عوام کو پانی میں بہا کر خود نیا پار لگا لیتے ہیں۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

14 تبصرے

  1. Athar shah کہتے ہیں

    Jesi awam wese hukmaran… yahan awam khud ko paish krti hy k aao or muj py jabir hukmaran bno…. agree with you

  2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar Shah Sab shukriya

  3. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar Shah Sab thank you

  4. عدنان احمد کہتے ہیں

    سر حکومت مجبور اور بے بس ہے۔ آخر کیوں نا ہو۔ کچھ ایکشن لیں گے تو مولویوں کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ شروع ہوجائے گا۔ جوتے مارے جائیں، سیاہی مار کر منہ کالا کردیا جائے گا۔کسی سر پھاڑ دیا جائے گا۔ یا ہماری پولیس کو ڈنڈے مارے جائیں گے۔
    اور پھر کئی صحافی، بیشتر میڈیا چینلز ، اپوزیشن لیڈرز اور سوشل میڈیا پر اپوزیشن کے حمایتی حکومت کا مزاق بنائیں گے۔

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      عدنان آپ درست کہہ رہے ہیں ، اور میں بھی یہی عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ حکومت مظلوم کے آگے شیر اور مزاحمت کرنے والے کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے ۔ اور اس سب میں نقصان صرف عوام کا ہی ہوتا ہے ۔اور رہی بات مذاق بنانے کی تو مذاق تو اب بھی بن رہا ہے ۔تو کیوں نہ ایسا کچھ کر لیا جائے کہ عوام تو سکھ کا سانس لے

    2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      عدنان آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔لیکن حکومت معاملات کو اس نہج تک آنے ہی کیوں دیتی ہے

    3. محمد علی میو کہتے ہیں

      آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن حکمران کا کام یہی ہے کہ رعایا کا تحفظ کرے ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرے

  5. عبدالباسط کہتے ہیں

    تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ لشکر کشی ہونی چاہیے؟؟ قتل و غارت اور خون خرابہ؟؟ میزائل چلا دیے جائیں؟؟ جے ایف 17 تھنڈر یا کوئی ایٹم بم؟؟کوئی حل تو تجویز نہیں فرمایا آپ نے ـ رونا آپ نے حکومت کی نا اہلی کا رویا ہے اور تصویر صرف خادم رضوی کی لگائی ہے ـ خیر سے جن لوگوں نےقادیانیت کے طے شدہ مسئلے کو بلا وجہ چھیڑ کر یہ عذاب کھڑا کیا ان کی بھی تصویر لگاتے ـ سب جانتے ہیں کہ چاہے دھرنا دینے والے چند لوگ ہیں پرقادیانیت کے مسئلے پر سارا ملک ان کے ساتھ ہے ـ اس کا نظارہ فیض آباد میں کیا جا چکا ہے ـ اس حکومت کی سب سے بڑی نااہلی یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے وہ مسئلے بھی زنرہ کر لیے جو عرصہ دراز سے حل ہو چکے تھے اور وہ بھی پارلیمنٹ کے اندر ـ جب آپ کسی بھی سیاسی ذہن کو اپنا سیاسی ایجنڈا پیش کرنے کا نادر موقع دیں گے تو وہ اسے کیوں ضائع کرے گا ـ ویسے بھی ہمارے ملک میں مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی روایت ختم ہو چکی ہے ـ اب بات اسی صورت میں سنی جاتی ہے اگر آپ کم از کم 100 بندے اکٹھے کر کے شاہراہ بند کر سکیں ـ جب تک مقتول کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج نا کیا جائے تو مقدمہ درج نہیں ہوتا ـ قصور میں میں زینب کے مسئلے میں کیا ہوا تھا؟؟ یہ تاثر کہ جب تک احتجاج نہیں کریں گے تو بات نہیں سنی جائے گی نے بہت سے خطرناک رحجانات کو جنم دیا ہے ـ

  6. syed kashif naqvi کہتے ہیں

    Salaam,
    Kafi time bad aapki tehrir samne i hai lekin khair munasib hai or hum dil jalane k siwa or kar bhi Kia sakte hain,

  7. محمد علی میو کہتے ہیں

    عبد الباسط آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے ختم نبوت کے معاملے پر ہر مسلمان اپنی جان بھی دینے کیلئے تیار ہے ۔ مگر دیکھیں آپ کا جھگرا اگر آپ کے پڑوسی سے ہے اور آپ پکڑ کر کسی دوسرے محلے کے آدمی کو ماریں تو کون آپ کو ٹھیک کہے گا ۔ اس جماعت کو مسئلہ حکومت سے تھا تو حکومت کیخلاف احتجاج کرے ۔ہر بندہ اپنے علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے گھر کے باہر جاکر احتجاج کرے ۔ وزیراعلیٰ یا وزیر قانون کے گھر کا راستہ روک کر بیٹھے تاکہ ان کو احساس ہو ۔ یہ تو بیچارے عوام کو پریشان کرنے پر تلے ہیں ۔ عوام تو 70سال سے رل رہی ہے ان حکمرانوں کو کیا فرق پڑتا ہے ۔ راستہ روک کر بیٹھنا کونسا اسلام ہے ۔ معذرت کے ساتھ اسلام سلامتی کا دین ہے کسی کو نقصان پہنچانے کا نام نہیں ۔ اور میں کوئی مولوی یا عالم نہیں جو اس بارے میں بحت کروں ۔میں ایک صحافی ہوں اور وہ لکھا جو اپنی آنکھ سے دیکھا اور عوام کو پریشانی میں مبتلا دیکھا

  8. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Sayed Kashif Naqvi Sab . kch masrofiyat zada ho gai thi is liye waqt na nikaal ska . maazrat is k liye . r Dil jalana bht ho chuka hai ab hum sab ko bidar hona paray ga . isi trha qoamain bnati hain . ap column share krn logo ko isi trha agahi ati hai . apne Hisay ka qtra pani me dal dain baqi darya khud ban jye ga . ye mulk hum sab ka hai .is me jo gand para hai is ki safai b hum ne mil kr hi krni hai

  9. Noor کہتے ہیں

    MashaaAllah bohat Acha likhty ap bhai…

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Noor Thanks A lot

  10. سروش بن لطیف کہتے ہیں

    دراصل یہ راجہ مہاراجہ ہمارے ہی منتخب کردہ ہیں۔
    عمدہ تحریر علی صاحب۔

تبصرے بند ہیں.