فیس بک پاکستان کے آئندہ الیکشنز کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟

3,712

حال ہی میں فیس بک کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل منظر عام پر آیا جس میں فیس بک صارفین کی معلومات کا سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کا انکشاف ہوا۔ “کیمبرج اینلیٹکا ریسرچ پروجیکٹ” نے فیس بک صارفین کا ڈیٹا ڈونلڈ ٹرمپ کی مارکیٹنگ ٹیم کو 12لاکھ ڈالرز میں فروخت کیا۔ پہلے تو فیس بک نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا لیکن زیادہ دیر تک وہ اپنی غفلت پر پردہ نہ ڈالے رکھ سکے۔ اسی حوالے سے فیس بک کے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے پرسوں امریکا کی سینٹ کمیٹی کے سامنے پیشی دی اور سینٹرز کے کڑے سوالات کے جواب دیئے۔ مارک زکربرگ نے صارفین کی معلومات کے غلط استعمال ہونے پر معافی مانگی اور کہا کہ
“میں نے فیس بک شروع کی، میں اس کوچلاتا ہو اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں صارفین کی انفارمیشن کو غلط استعمال ہونے سے محفوظ رکھوں”

فیس بک صارفین کی معلومات  کا غلط استعمال پاکستان کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ فیسبک ڈیٹا کے ذریعے صارفین کی پسند نہ پسند کا پتہ چلتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صارفین کی شئیر کی گئی پوسٹس سے ان کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے ڈیٹا کو استعمال کر کے صارفین کی نفسیات کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ مارک زکربرگ نے بتایا کہ “کیمبرج اینلیٹکا ریسرچ پروجیکٹ” نے ایک اپلیکیشن کے ذریعہ صارفین کی معلومات حاصل کیں اور پھر اُس پر تحقیق کی۔ اپنے اس وضاحتی بیان میں انہوں نے 2018ء میں بھی انفارمیشن کے غلط استعمال کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

2018ء پاکستان میں الیکشن کا سال ہے۔ فیس بک کی جانب سے پاکستان کو بھی محتاط کر دیا گیا ہے۔ فیس بک نے اندیشہ طاہر کیا ہے کہ فیک نیوز اور صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فیسبک صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فیس بک کو کچھ وقت درکار ہے۔

آج پاکستان میں 4 کروڑ 40لاکھ فیس بک اکاونٹ ہیں۔ لوگ فیس بک کو انفارمیشن حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک غلط خبر صارفین پر بہت برے انداز سے اثرانداز ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان میں الیکشنز کے دوران دھاندلی کا مسئلہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال قبل از وقت دھاندلی قرار دی جا سکتی ہے جو جمہوریت کے لئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ اس “قبل از وقت” دھاندلی سے عوام کو اپنے نمائندگان کا انتخاب کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ دھاندھلی پاکستان میں ہونے والے الیکشن 2018ء کا رخ کسی بھی سمت میں موڑ سکتی ہے۔

الیکشن 2018ء کو محفوظ بنانے کے لئے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غط خبروں اور ایسی تمام ایپلیکشنز جو صارفین کا ڈیٹا حاصل کرتی ہیں، ان کی سخت نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔ فیس بک پر موجود فیک اکائونٹس کو بھی بلاک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی اپنی خفیہ شناخت کا فائدہ اٹھا کر سنسنی خیزی نہ پھیلا سکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ فیس بک کس حد تک صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کو روک سکتا ہے تاکہ رواں سال مختلف ملکوں میں ہونے والے الیکشنز پر پڑنے والے فیس بک کے غلط اثرات کو روکا جا سکے۔

.سلمان جاوید بھٹی صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا ٹی وی کے مانیٹرنگ ڈیسک سے وابستہ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    مارک زکربرگ نے ضرور خبردار کیا ہے مگر وہ بے چارہ اس بات سے لاعلم ہے کہ پاکستان کے 4 کروڑ اور 40 لاکھ اکاؤنٹس میں سے تقریباً 1 کروڑ تو وہ پاپا کی پرنسسز ہیں جو مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے فخریہ اپنے آپ کو پاپا کی ڈول کہتے ہیں۔
    اس کے علاوہ ہماری قوم میں سوشل میڈیا کے پراپیگنڈا سے متاثر ہونے کی صلاحیت موجود ہی نہیں کیوں کہ یہ پڑھے لکھوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
    اور تیسری بات یہ کہ فیس بک صارفین میں کثیر تعداد ان صارفین کی ہے جو ابھی ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں ہیں۔
    لہٰذا پاکستان کے انتخابات کو فی الوقت فیس بک سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیئے۔

    1. شاہد خان بلوچ کہتے ہیں

      بالکل متفق

  2. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    پڑھے لکھے عوام تو سوشل مٰیڈیا پر کئے جانے والے پروپوگینڈا کو سمجھ سکتے ہیں مگر مسئلہ تو اسی عوام کا ہے جو اس سے خبردار ہیں، چاہے وہ پاپا کی پرنسزز ہوں یا مونچھوں کو تاو دینے والے افراد

تبصرے بند ہیں.