اقبال اور اتحاد امت

2,785

شاعری ہو یا نثر ادب کی یہ دونوں اصناف ہی انسانی شخصیت کے پردوں کو چاک کرتی ہیں۔  انہی افکار اور خیالات کے توسط سے نہ صرف انسانی جذبات آشکار ہوتے ہیں بلکہ ایک شاعر اور ادیب کے علمی اور ادبی قد کا ادراک کرنے میں بھی آسانی رہتی ہے۔

علامہ اقبال کو جدید دور کا صوفی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایسے مرد قلندر ہیں جو نہ صرف تصوف کا درس دیتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ مسلم امہ کو ان کی کوتاہیوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔

اقبال کی شاعری درحقیقت زندگی کے تمام تر موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شاعر مشرق کا کلام بیک وقت آسان اور مشکل نظر آتا ہے اور آج تک بھی اقبال کے افکار کی توضیح و تشریح کوئی آسان کام نہیں۔ اگرچہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے اور اقبال اپنی ملت کو دنیا کی تمام تر اقوام سے اعلٰی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں قوم رسول ہاشمی کا مرتبہ جداگانہ اور منفرد ہے۔

(بحوالہ بی بی سی اردو تحریر ؛ عارف وقار اشاعت ۸ نومبر ۲۰۰۶)

اسی لئے ایک جگہ اقبال ملت اسلامیہ کو اتحاد کا درس دیتے ہوئے اسکی غیرت و حمیت کے بارے میں کہتے ہیں

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

حکیم الامت علامہ اقبال کے تصور ملت کو سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں ملت کے عناصر ترکیبی کو جاننا چاہیے۔ مجلس اسلامی تحقیق کے اہم مجلے محدث کے مطابق ملت کے لئے حاکمیت ، نبوت ، خلافت اور پھر امت جیسے عناصر ترکیبی کا ہونا لازم ہے۔ اقبال کے نزدیک حاکمیت بلا شرکت غیرے اللہ تعالی کی ہے جبکہ بنوت کے معاملے میں بھی وہ کھرے ہیں۔ اقبال سچے عاشق رسول ہیں۔ اقبال شناسی کے لئے ہمیں خودی ، بے نیازی ، تصوف اور مقام درویش سب کو سمجھنا ہو گا۔

الطمش لشکری پوری کلکتہ اپنے ایک مراسلے میں علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیتے ہیں کہ اقبال کے نزدیک اسلام کا ظہور بت پرستی کے خلاف ایک احتجاج کی صورت رکھتا ہے اور وطن پرستی بت پرستی کی ہی ایک صورت ہے۔ علامہ اقبال کے وحدت امت کے تصور کو سمجھنے کے لئے ان کی کتاب The Reconstruction of Religious thoughts in Islam کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی  “تشکیل جدید الہیہ اسلامیہ” کے نام سے دستیاب ہے امت مسلمہ کے لئے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اقبال کہتے ہیں۔

’’بحالت موجودہ تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ امم اسلامیہ میں ہر ایک کو اپنی ذات میں ڈوب جانا چاہیے انھیں چاہیے کہ اپنی ساری توجہ اپنے آپ پر مرتکز کر دیں، حتی کہ ان سب میں اتنی طاقت پیدا ہو جائے کہ باہم مل کر اسلامی جمہورتیوں کی ایک برادری کی شکل اختیار کر لیں۔ حزب الوطنی کے زعما ٹھیک کہتے ہیں کہ عالم اسلام کا ایک حقیقی اور موثر اتحاد ایسا آسان نہیں کہ محض ایک خلیفہ کے نمائشی تقرر سے وجود میں آجائے۔ میں تو کچھ یونہی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالی کی قدرت کاملہ شاید مسلمانوں کو بتدریج سمجھا رہی ہے کہ اسلام نہ تو وطنیت ہے نہ شہنشاہیت بلکہ ایک انجمن اقوام جس نے ہمارے خود پیدا کردہ حدود اور نسلی امتیازات کو تسلیم کیا ہے تو محض سہولت تعارف کے لیے، اسلئے نہیں کہ اس کے ارکان اپنا اجتماعی مطمع نظر محدود کر لیں۔

اقبال امت کے اتحاد کے لئے مذہب کو بنیاد قرار دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ تمام مسلمان ایک طاقت ہیں ایک عمارت کی مانند ہیں جس کی ہر اینٹ اہم ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں

مبتلائے درد ہو کوئی عضو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

بات ہو رہی ہے اقبال کے مذہب کے حوالے سے افکار کی بھی کیونکہ ملت کے اتحاد کے لئے وہ اسکو ضروری سمجھتے ہیں

قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں ، محفل انجم بھی نہیں۔

اقبال ذات اور نسل پرستی کی قید سے بالاتر ہیں، یہ ان کے اتحاد امت کا فلسفہ ہی تھا کہ انہوں نے ۱۹۳۰ میں قیام پاکستان کی بنیاد بننے والا تاریخی خطبہ الہ آباد پیش کیا۔ اقبال نوجوانوں سے کبھی مایوس نہیں رہے بلکہ انہیں شاہین قرار دیتے رہے۔ اقبال کے اشعار میں ہمیں باہمی یگانگت اور مسلمانوں کے لئے ہمدردی کے جذبات کی چاشنی بھی ملتی ہے

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ

ایک جگہ مسلم قوم کو نصیحت کرتے ہیں۔۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

خرم علی شفیق، جو ماہر اقبالیات ہیں، اپنے ایک بلاگ میں تحریر کرتے ہیں کہ اکادمی ادبیات کے ایک مجلے “اقبالیات” میں جو ۲۰۰۹ میں شائع ہوا۔ خرم شفیق  نے علامہ اقبال کو Consensus literature کا حامل شاعر قرار دیا۔ یعنی ایک ایسا مقبول عام شاعر جس کو خاص و عام میں ایک جیسی مقبولیت حاصل ہو۔ اس بات کا ذکر بھارتی رسالے “عالمی اردو ادب” (مدیر: نند کشور وکرم) میں بھی کیا گیا۔

روزنامہ ایکسپریس میں عدنان شریف ایڈوکیٹ نے اپنے ایک کالم بعنوان (اقبال میری روح کا استاد) میں لکھا ہے کہ اگرچہ اقبال جرمن فلسفیوں سے متاثر تھے لیکن وہ ہدایت کا سرچشمہ اور مسلمانوں کے لئے اتحاد کا منبع صرف اور صرف کعبۃ اللہ اور قرآن پاک کے ساتھ ساتھ نبی اکرم کو قرار دیتے ہیں۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے عطا تجھ کو جدت کردار

اقبال کا مخاطب ہمیشہ باشعور نوجوان رہا ہے۔ وہ خلافت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر فرد اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ چاہے تو وہ عام آدمی سے ولی بن جائے۔ بس عشق کی کاملیت ضروری ہے تاکہ وہ استعماری قوتوں کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر سکے

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

(بحوالہ ماہنامہ اشراق زیر سرپرستی جاوید احمد غامدی)

اقبال کی  رائے یہ ہے کہ ہر فرد امت کی یگانگت کے لئے اپنا کردار نبھا سکتا ہے تاہم شرط ہے کہ وہ خودی اور اسلام کے جدیدیت کے اصولوں سے واقف ہو۔

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاری

حاصل بحث یہ ہے کہ اقبال یورپ کے پیش کردہ نیشنل ازم کے خلاف ہیں؛ اسلئے کہ انہیں اس تحریک میں مادیت اور الحاد کے جراثیم دکھائی دیتے ہیں۔ اقبال ملت کا ایک وسیع تصور پیش کرتے ہیں۔ تمام مسلمان خواہ کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں ایک امت ہیں، ایک ملت ہیں اور ایک مضبوط رشتے کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ اقبال قوموں کی زندگی میں کسی معجزے کے نہیں، محنت اور لگن کے قائل ہیں۔ ان کا یہ شعر تو آج کل بچے بچے کی زباں پر ہے

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

موجودہ حالات میں ہمیں فکر اقبال کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے پاکستان بنایا تو علامہ اقبال کے انہی افکار کی روشنی میں اور اب اگر بچانا بھی ہے تو انہی فرامین کو مشعل راہ بنانا ہو گا۔

مصنفہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ دس سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق ، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک رہی ہیں، اور آج کل ایک نجی چینل میں کرنٹ افئیرز ڈیپارٹمنٹ میں بطور محقق ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.