اپنے مردوں کی تربیت کیجئے

3,842

خواتین کو حراساں کیے جانے کے واقعات بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں بڑھ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ کہیں کسی زینب کی عزت پامال ہوتی ہے تو کہیں کسی مبشرہ کے کپڑے تار تار کیے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر گھر سے روزی کمانے یا علم کے حصول کیلئے نکلنے والی خواتین کو حراساں کئے جانے کے واقعات کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔

جہاں پہلے ان مسائل پر بات کرنا نامناسب سمجھا جاتا تھا وہیں اب ان واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سنگینی کے پیش نظر ان معاملات کو اٹھایا جا رہا ہے اور ان کے متعلق بات کی جا رہی ہے تاکہ ان واقعات کی وجوہات اور مناسب حل تلاش کیے جا سکیں۔

سوشل میڈیا پر ایک سے بڑھ کے ایک شخص ان واقعات کی مذمت کرتا نظر آتا ہے۔ ان کی پوسٹس دیکھ کر ایسے گمان ہوتا ہے کہ یہاں فرشتے ہی بستے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں فرشتے بستے ہیں تو یہ درندے کیا آسمان سے اترتے ہیں یا غاروں سے اچانک ظہور پذیر ہوتے ہیں؟

جی نہیں۔ یہ لوگ ہمارے ہی معاشرے میں ہمارے ہی درمیان رہنے والے لوگ ہیں جو کسی ماں کے بیٹے، کسی بہن کے بھائی، کسی بیٹی کے باپ اور کسی بیوی کے شوہر کی صورت میں ہمارے درمیان ہی موجود ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں عام تاثر یہی پایا جاتا ہے ان سب کے پیچھے قصور اس عورت یا اس لڑکی کا ہے جو گھر سے نکلتی ہے اور بیچارے مردوں سے گناہ سرزَد کرواتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی ذمہ دار واقعی عورت ہے۔

اس سب کی قصوروار وہ ماں ہے جو اپنی بیٹیوں پر تو پوری نظر رکھتی ہے مگر اپنے بیٹوں کے اعمال سے جانتے ہوئے بھی لاعلم رہنے کی اداکاری کرتی ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں کو تو زمانے سے بچا کر رکھتی ہے مگر دوسروں کی بیٹیوں کو اپنے بیٹوں سے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔

وہ بہن بھی قصوروار ہے جو اپنی بھائیوں کے اُن عیبوں پر پردہ ڈالے رکھتی ہے جنہیں چھپانے سے کسی اور کی زندگی عیب دار ہو سکتی ہے۔ اس سب کی قصوروار  وہ بیوی بھی ہے جو سمجھوتے کے نام پر دوسری عورتوں کی عزتیں اچھلنے پر خاموش رہتی ہے اور وہ بیٹی بھی یقیناً قصوروار ہے جو اپنے باپ کی حرکتوں سے انجان رہنے کی کوشش کرتی ہے۔

ہمارے معاشرے کی عورت کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ اس طرح کے مرد اب خود نہیں سدھر سکتے۔ ہمارے یہ کہنے سے کہ  ”مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں” کچھ حاصل نہ ہو گا اور نہ یہی درندے انسان بن سکیں گے۔ انہیں سدھارنے کے لیے ہمیں اب سامنے آنا ہوگا۔

ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے بیٹوں کی بھی ویسی ہی تربیت کریں جیسے کہ اپنی بیٹیوں کی کرتے ہیں۔ اپنے مردوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی کسی بھی غلطی کو لاابالی پن یا کھیل کود کہہ کر نظرانداز نہ کریں۔ یقین رکھیں کہ آج اگر ہمارے گھر کے مردوں سے کوئی دوسری عورت محفوظ رہے گی تو کل کو ہم بھی دوسرے گھروں کے مردوں سے محفوظ ہوں گیں۔

عمارہ گوندل لاہور کی ایک یونیورسٹی میں بائیو کیمسٹری کی طالبہ ہیں۔ یہ مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرتی مسائل کا تجزیہ کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

18 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Good article. I will surely write an article on this issue as well.

  2. Rana Imran Javed کہتے ہیں

    ایک انتہائی اہم نقطے کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا ہے، تربیت کے بغیر انسان ایک جانور سے بھی بدتر ہوتا ہے. جزاک الله

  3. imran hassan cheema کہتے ہیں

    i am agree with you but practically it is little bit difficult to supervise the men,s activities.

    1. Ammara Gondal کہتے ہیں

      but we have to do it!!
      now its necessary.

  4. Muhammad Zubair کہتے ہیں

    Beta Jb tk murd apni nazren nichi nahi rakhe ga aur jb tk orat munasib libas ya parda nahi karegi tb tk ye maashra theek nahi ho sakta. tali dono hathon se bajti hai.Jitni chahe koshish karlo murd aur maashra theek nahi hosakta.

    1. Ammara Gondal کہتے ہیں

      Uncle ab pani sr sy uncha ho gya hai or talian kahen peechy reh gai hain….ab baat dupatty y nazron sy kahen aagy barh chuki h or ic k liy hmy ab khd koshish krna hgi

  5. Ghazan Awais کہتے ہیں

    Agreed

  6. امجد کہتے ہیں

    بہت ہی اُمدہ

  7. عدنان احمد کہتے ہیں

    بہت عمدہ،
    معصوم بچیوں کے ساتھ وہی درندے زیادتی کرتے ہیں جن کوعورت جو شعور رکھتی ہے، وہ اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتی۔ یہ درندے پھر بچوں کے باشعور نا ہونے کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      واٹ؟ باشعور عورت مرد کو قریب آنے دیا کرے؟

      1. عدنان احمد کہتے ہیں

        نہیں میرا ہر گز یہ مطلب نہیں اور میرے کہنے سے بھی عورت کونسا انکو اپنے قریب آنے دے گی،
        مطلب کہ یہ بیمار ٹھرکی چھوٹے بچے بچیوں کو ٹوفی کا لالچ دے کر اپنی گودھ میں بیٹھا لیتے ہیں۔ مگر کسی عورت کے ساتھ یہ کرنا ممکن نہیں۔
        بچپن سے والدین اپنے بچوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ اپنے سے ہر بڑے کی عزت کرو، اور پھر وہ بیمار ٹھرکی معصوم بچوں کی لاشعوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      ہیں؟ کیا مطلب؟ واقعی؟ مجھے سمجھ نہیں ائی ذرا بھی۔

      1. عدنان احمد کہتے ہیں

        اویس بھائی، میرا مطلب ہے کہ درندہ سفت انسان کو جتنا چاہے برا بھلا کہدیں مسئلہ حل نہیں ہوگا، بچیوں کے ساتھ زیادتی ہونے کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ بالغ عورتیں اس کو گھاس نہیں ڈال رہی، پھر وہ درندہ لاشعور معصوم بچیوں کو نشانا بنا رہا ہے ۔
        حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے درندہ سفت انسان بھی موجود ہیں جو جانوروں کو بھی نہیں چھوڑتے۔

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          یعنی بالغ عورتیں درندے کو گھاس ڈالنا شروع کر دیں؟ بھائی جان۔ بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ جنسی درندگی کا تعلق مردوزن کے اخلاط کی کمی سے نہیں ہوتا۔ یہ فطری کجی ہے۔

          1. عدنان احمد کہتے ہیں

            میری گزارش بس یہ تھی کہ بالغ عورتیں گھاس نہیں ڈال رہی اسکو،
            اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھاس ڈالنی چاہیے!!

  8. irfa kiran کہتے ہیں

    good article
    umdha alfaz
    ik nihyat nazuk tabsra h jissy sanjedgi sy smjhny ki zaroorat h

  9. کاشف احمد کہتے ہیں

    صرف مرد نہیں لڑکیوں کی بھی تر بیت کی ضرورت ہے مجموعی طور پر تربیت کا فقدان ہے

  10. نمرہ خان کہتے ہیں

    لگام صرف گھوڑی کو نہیں بلکہ گھوڑے کو بھی ڈالی جاتی ہے تبھی وہ ٹریک پر رہتا ہے…شتر بے مہار چھوڑیں گے تو نتائج دیکھ کر خود کو پیٹیں گے ایک دن!بالکل درست کہا

تبصرے بند ہیں.