یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

1,493

سیدھے سادھے اور بول چال کے انداز میں اپنے درد اور جذبات کا اظہار کرنے والے شاعر میرتقی میرؔ کوخدائے سخن کہا جاتا ہے ، ان کی شاعر ی خود کلامی ہے ،، جسے پڑھ کر لگتا ہے انسان خودسے باتیں کررہا ہے ،، میر ؔ کی شاعری ایک نشے کی مانند ہے ، جوسرچڑھ کر بولتی ہے ۔

؎ یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

اب دوتوجام خالی ہی دومیں نشے میں ہوں

اک زمانہ تھا جب صرف شراب کا نشہ ہی نشہ تصور کیا جاتا تھا۔

زمانہ بدلتا گیا، نشے بھی کئی ہوگئے ، نشے کی اقسام اور معیار سب بدل گئے ۔

ہر نشہ پہلے سے مختلف اور زیادہ جاندار بنتا گیا۔ پر حضرت انسان کو لگا نشے کا نشہ، جو سب سے زیادہ طاقتور رہا۔

نشہ کیا ہے۔

جب کوئی کسی چیز کا عادی ہو جائے اور وہ نہ ملے تو زندگی میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی چیز اچھی نہیں لگتی، اور انسان چڑچڑے پن کا شکار ہو کر ڈیپریشن میں چلاجاتا ہے۔

نشہ ایک ایسی کمال شے ہے جس میں نہ کسی کی جیت ہوتی ہے نہ ہار۔ بس ایک کیفیت مسلسل ہے جو کم وزیادہ تو ہوسکتی ہے ختم نہیں۔

؎ قرض کی پیتے تھے مےلیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

اردو کے مشہورشاعر اسد اللہ خان غالبؔ کو قرض لینے کا نشہ تھا اور وہ قرض نشے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لیتے تھے۔ اور بقول ابراہیم ذوقؔ,

؎ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

دولت کا نشہ ۔۔ ۔انسان کے پاس جب بے تحاشہ دولت آجاتی ہے تو وہ اپنے ساتھیوں سے ملناتک گوارا نہیں کرتا۔ دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔غریبوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے۔

عہدے کا نشہ۔ ۔اختیار، اقتدارمل جائے توانسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے ۔ ما تحتوں کے لیے فرعون بن جاتا ہے۔ اور سامنے والے کو سراسرنقصان پہنچاتا ہے۔

خوبصورتی کا نشہ ۔۔اس کے لیے صنفی تقسیم لازم نہیں ۔نسوانی حسن کے نشے میں چور خواتین جنس مخالف کو تو چارہ ڈالتی نہیں ، بلکہ دوسری خواتین کو بھی کمتر سمجھتی ہیں ، بالکل اسی طرح مردانہ وجاہت کے حامل افراد کسی کوخاطر میں نہیں لاتے، اپنے آپ میں مگن اپنا ہی نقصان کر ڈالتے ہیں۔

کسی بھی نشے کا ایک اصول ہے ، اول تو وہ سکون پہنچاتا ہے اور پھرنقصان۔

انٹرنیٹ کا نشہ۔۔اس کے لیے باقاعدہ طبی اصطلاح Internet Addiction Disorder وضع کی جا چکی ہے، جس کامطلب ہے’انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔’

سیلفی کا نشہ ۔۔اسے Selfitisکہتے ہیں۔ کوئی شخص ایک دن میں چھ سے زیادہ سیلفی لےکراسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ذہنی خلل کاشکار ہے۔

لندن کے ایک شہری کے تو کیا کہنے،، جناب ایک دن میں 200 سیلفیاں لیتے اور انسٹاگرام پر پوسٹ بھی کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو لکھنے کا نشہ ہوتا ہے۔۔ کوئی بھی موضو ع، شے، ترکیب ملے بس لکھنا شروع کردیتے ہیں بھلے اس کا کوئی نتیجہ نکلے نہ نکلے۔۔ لکھنا ہے تو بس لکھنا ہے۔

کچھ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا نشہ ہوتا ہے, دن بھر میں 10-12 نہ پڑھ لیں تو سکون نہیں ملتا۔

کچھ لوگوں کو بولنے کا نشہ ہوتا ہے،، منہ میں جب جہاں جیسے آتا ہے کہہ دیتے ہیں، نہ سامنے والے کی عزت کا پاس نہ اپنی کا خیال۔ نہ اس بات کا پتہ کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، اچھا ہوگایا برا، بس بولنا ہے۔

لکھنے، پڑھنے اور بولنے کے نشے پر بات ہورہی تھی تو ہمارے ایک ساتھی صحافی، سینئر پروڈیوسرعبدالقادر قاسم کہنے لگے کہ صحافت بھی ایک نشہ ہے، کھانے کو ہو نہ کمانے کو پہننے کو۔ فیملی کے لیے وقت ہو نہ اپنے لیے، زندگی میں سکون ہو نہ دوپل سونے کو، بس صحافت جاری رہنی چاہئیے، ویسے بھی اب صحافت ایک دھندا بن گئی ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے تو صحافت میں آنا اور کسی کی بھی جے جے کار کرنا بھی نشہ ہی ہے۔

گزشتہ دنوں ایک اور نشہ سامنے آیا جس کی نشاندہی کی وفاقی وزیرمملکت مریم اورنگزیب نے، کہتی ہیں نواز شریف بھی ایک نشہ ہیں، جسے دیکھنے، سننے اور نظرئیے پر عمل کرنے کے لیے عوام کا سمندر کھنچا چلا آتا ہے۔

اسے آپ شخصیت کا نشہ بھی کہہ سکتے ہیں، ویسے ایک بات ہے۔ نشے میں ڈوبے افراد کی حرکتیں معقولیت کی سرحدوں سے پرے ہی رہتی ہیں۔ جب عقل کا دامن ہاتھ سے جانے لگے تو ذہن سے ایسے ایسے پھول جھڑتے ہیں کہ یقین آ جاتا ہے کہ نشہ جس کو لگ جائے اس کی مت مار ی جاتی ہے۔

؎ غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جوشرابوں میں ملیں

شراب کی خاص خوبی سکون دینا ہے۔ کوکین تحریک دینے اور ہیروئن درد ختم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ چرس خیالات اور نظریات بدل دیتی ہے۔ تاہم ان کا تواتر سے استعمال انسان کی صلاحیتوں اور ان خصوصیات کو زنگ آلود کردیتا ہے۔ پھریہ عادت نشہ بن کر مریض کیلئے دردِ سر ہوجاتی ہے۔

دنیا میں جتنے لوگ نشہ کرتے ہیں، اتنی ہی نشہ کرنے کی وجوہات ہیں، جن میں سے چند ایک گھریلو ناچاقی، جنسی کمزوری، ڈپریشن، عشق میں ناکامی، خرابی صحت، بیروزگاری، بوریت اور ٹینشن ہیں۔

جنگ اور محبت کی طرح نشے میں مبتلا شخص اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے۔ نشے کی خاطر وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فحش فلموں کی عادت بھی نشہ ہے، یہ لت کسی کو ایک بار لگ جائے تو اس سے جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے۔ انسان کے دماغ میں کیمیکل “ڈوپامین” کا اخراج بڑھ جاتا ہے اور اسے سکون ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فحش مواد دیکھنے سے قوت حافظہ کمزور ہوتی ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کاجذبہ ماند پڑجاتا ہے۔ چہرے کی تازگی اور خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

اس وقت 25 سے زائد اقسام کی اشیائے نشہ موجود ہیں۔ جسے غریب طبقہ سے لے کر امیرلڑکیاں لڑکے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں بوٹی ، بھنگ، ہیروئن، چرس، صمد بونڈ، انجکشن، کوریکس، ٹینو شربت، کوکین، شراب، پیٹرول، نشہ آور 81 گولیاں، نشہ آور پکوڑے، بھنگ کے پاپڑ، افیون، گانجا، گٹکا مقبول ہیں۔

طلبہ میں منشیات کی ایک نئی قسم ‘آئس یا کرسٹل میتھ ‘(میتھ ایمفیٹامین) کااستعمال بڑھ رہا ہے، جو کہ حشیش سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ بیشترطلبہ نیند بھگانے اور تا دیرپڑھائی کے لیے اسکااستعمال کرتے ہیں۔ کرسٹل میتھ ایک کیمیائی عمل کے ذریعے ایفیڈرین سے بنایا جاتا ہے جو وقتی طور پر توانائی دینے کے ساتھ انسان کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔

ایک نشہ ہوتا ہے پیرو مرشد کی صحبت کا، ان کے عمل اور فیض کا، مرشد کی اک نظر پیروکاروں کی دنیا وآخرت سنوار دیتی ہے ۔

خبردار !کسی نے پیر کو پیرنی پڑھا ہو تو

؎ تینوں ساڈی ورگی نئیں چڑھنی

اساں یاردی اکھ و چوں پیتی اے

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    ہاہاہا۔ واہ کیا نشہ آور بلاگ ہے۔ اس بلاگ کا خمار دیر تک رہے گا۔
    خیال رہے۔ اس بلاگ کا چھپنا منشیات فروشی کے ضمن میں بھی آ سکتا ہے۔ 😀 😀 😀

تبصرے بند ہیں.