الو کا ناقد یا الو کا پٹھا؟

2,864

اس نوجوان کا اضطراب دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

کچھ دیر قبل وہ قصبے کے واحد حجام کی دکان میں داخل ہوا تھا۔ براؤن نامی حجام گاہک کی شیو بنانے میں مصروف تھا اور اس کے ہاتھ ماہرانہ انداز میں استرے کی دھار کو گاہک کے گالوں پر چلا رہے تھے۔

دکان میں پہلے سے موجود دو تین گاہک اپنی باری کے انتظار میں مختلف اخبارات کے مطالعے میں محو تھے۔ نوجوان کبھی ایک پہلو بدلتا تو کبھی دوسرا۔ اسے غالباً جلدی تھی یا پھر وہ انتظار کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔

ایسے میں اس کی نظر دکان کے اندر قدرے اونچائی پر بنے ہوئے ایک چھجے پر پڑی۔ وہ کچھ دیر غور سے دیکھتا رہا پھر اس کے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات ابھرے جیسے اس نے کوئی کڑوی چیز نگل لی ہو۔

“اس الو کو کس نے حنوط کیا ہے؟” اچانک وہ ترش اور بلند آواز میں تقریباً چلا کر بولا۔

حجام شیو بنانے میں مصروف تھا۔

اس نے نوجوان کی آواز پر کان نہیں دھرے۔ گاہک جو اخبارات کے مطالعے میں غرق تھے انہوں نے ایک اچٹتی ہوئی نظر نوجوان پر ڈالی اور دوبارہ مطالعے میں غرق ہو گئے۔

“کیا تم دیکھ نہیں رہے مسٹر براؤن؟” نوجوان ایک بار پھر تیز لہجے میں بولا۔

“یہ سارے کا سارا الو کس قدر بے ہودگی سے حنوط کیا ہوا ہے۔ ذرا اس کے پروں پر تو نظر ڈالو۔ کس قدر بے ہنگم پر بنائے ہیں۔ اور اس کا سر۔” نوجوان نے ایک لمحے کو توقف کیا۔

“اس کا سر دیکھا ہے تم نے؟ کیا الو کا سر ایسے چپٹا ہوتا ہے؟” نوجوان نے گہری سانس لی۔

“گردن کس طرح نیچے کی طرف جمائی گئی ہے۔ کمال ہے۔ بھلا کسی الو کی گردن کیسے اس زاوئیے پر قائم ہو سکتی ہے؟ قصہ مختصر۔ یہ پورا کا پورا الو بالکل برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ چچ چچ۔” نوجوان نے افسوس کا اظہار کیا۔

“مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ میں نے الوؤں کے بارے میں بہت پڑھا ہے۔ بہت تحقیق کی ہے۔ دن رات لگا کر الوؤں کی سیکڑوں اقسام کے بارے میں جانا ہے۔ دنیا میں پائے جانے والے الو مجھے ازبر ہیں۔ اور میں کسی ایسے الو کو برداشت نہیں کر سکتا جس کو اس بری طرح سے حنوط کیا ہو۔ پتا نہیں کس اناڑی نے اس کو چونچ سے لے کر دم تک مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔” اس نے گردن ہلائی۔

“مسٹر براؤن! مسٹر براؤن! خدا کے لیے اس پرندے کو نیچے اتارو ورنہ پورے قصبے میں تمہارا مذاق اڑےگا۔” نوجوان نے باقاعدہ التجا کرتے ہوئے کہا۔

حجام بدستور شیو بنانے میں مصروف تھا۔ اس نے نوجوان کی التجا کو بھی گویا نظر انداز کر دیا۔

نوجوان نے سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔

“میں نے الوؤں کے بارے میں باقاعدہ علم حاصل کیا ہے۔ اور دوسرے پرندوں کے بارے میں بھی جن کو کھایا بھی جا سکتا ہے۔ جو کچھ میں نے علم حاصل کیا ہے اس کی بنیاد پر میں تمہیں بالکل سچ بتا رہا ہوں کہ ایک الو کبھی ایسے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر آرام نہیں کر سکتا۔ اور دنیا میں کوئی بھی الو ایسا نہیں ہے جس کے پنجے اس طرح خم کھائے ہوئے ہوں یا اس کی ٹانگیں اس قدر ٹیڑھی ہوں جس قدر اس الو کی ہیں۔” نوجوان سانس لینے کے لیے رکا۔ اس کا لہجہ غصیلا ہو چلا تھا

“میں نے اپنی زندگی میں کسی الو کی کبھی بھی اس قدر واہیات چونچ نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی الو کی گردن پر اس طرح جھالر یکھی ہے۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا۔ حنوط کرنے والے نے بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے جب کہ پرندوں کی ساخت کے قوانین کسی حنوط کرنے والے کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔” نوجوان کے لہجے میں تپش بڑھ گئی۔

“حنوط کرنے والا پرندوں کی اناٹومی سے بالکل ناواقف ہے۔ پرندوں کا علم بتاتا ہے کہ کسی الو کا پنجہ اس طرح خم دار ہرگز نہیں ہو سکتا۔ میں نے سفید الو پر برسوں تحقیق کی ہے اور اس بدصورت حنوط شدہ الو نے میرے آنسو نکال دیئے ہیں۔” نوجوان نے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے کہا۔

“مسٹر براؤن میں حیران ہوں۔ تمہیں تو ایسے واہیات پرندے کو یہاں سجا کر رکھنے کی بنا پر پاگل خانے میں ہونا چاہیئے تھا۔ مجھے تو اس الو کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں ابھی دھڑام سے گر جاؤں گا۔ جس کسی نے بھی اس الو کو حنوط کیا ہے وہ فن حنوط کی الف بے سے بھی واقف نہیں ہے۔” نوجوان نے اس بار حجام کا باقاعدہ مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا۔

حجام خاموشی سے شیو بنانے میں مصروف رہا۔

“ذرا اس کی آنکھوں کو تو دیکھو۔” نوجوان کی تسلی نہیں ہوئی تو وہ پھر سے شروع ہوا۔

“اس کو حنوط کرنے والے نے کس قدر گھٹیا آنکھیں لگائی ہیں جو کہیں سے بھی قدرتی معلوم نہیں ہوتیں۔ بلکہ اگر “آڈوبان” اس کو دیکھ لے تو اس کی چیخیں نکل جائیں۔ اور جس قسم کی پرتیں اس الو کی بنائی گئی ہیں ان پر “جان بارو” بھی قہقہے لگائے۔” نوجوان نے پرندوں کا علم رکھنے والے مشہور ماہرین فن کے نام لیتے ہوئے قہقہہ لگایا۔

“اس الو کو نیچے اتارو تاکہ اس کو ازسرنو حنوط کیا جا سکے مسٹر براؤن۔”

حجام مسلسل شیو بناتا چلا جا رہا تھا۔

نوجوان نے پرجوش انداز میں کہنا شروع کیا۔

“میں اس کو مٹی اور لکڑی کے باریک برادے سے تیار کروں گا۔ اس پر درختوں کی چھال سے تہ جماؤں گا۔” نوجوان کا لہجہ خواب ناک ہو گیا۔ پھر جیسے اس کے ذہن میں کوئی خیال آیا۔

“اس الو سے تو بہتر ہے کہ میں ایک پرانی ٹوپی بنا دوں۔ وہ اس نہایت واہیات الو سے بہتر قسم کا الو دکھائی دے گی۔ یہ تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے کھردرے چمڑے کے باہر والی جانب سے بنایا گیا ہو۔ اس کا تو ایک پر بھی قدرتی معلوم نہیں ہوتا۔” نوجوان باقاعدہ توہین آمیز انداز میں بولا۔

اور عین اسی وقت چھجے پر بیٹھے الو کے پروں میں پھڑپھڑاہٹ ہوئی۔

نوجوان کی آنکھیں مارے حیرت کے پھٹ گئیں۔

ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ آنکھ مارتے ہوئے چھجے پر بیٹھا ہوا الو جیسے بے اختیار ہو کر آگے کوجھکا اور نہایت متانت سے وہ چھجے سے نیچے اتر آیا۔

نوجوان منہ کھولے الو کو حرکت کرتے دیکھ رہا تھا۔ اس کا وہ حال تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو تک نہ ہو۔

ادھر ادھر مٹکتے ہوئے الو نے اپنی خامیاں گنواتے ہوئے نوجوان کو (جو اسے حنوط شدہ سمجھ رہا تھا) نہایت طنزیہ نظروں سے دیکھا اور پھر نہایت نپی تلی اور بلند آوازمیں، جیسا کہ اسے ہونا چاہیئے تھا، گویا ہوا۔

“تمہارا سیکھا ہوا علم بہرحال اس مرتبہ غلطی پر ہے۔ تمہاری مہربانی اگر تم ایک زندہ پرندے پر اپنا قیمتی وقت ضائع مت کرو۔” الو کی کاٹ دار آواز نے نوجوان پر جیسے گھڑوں پانی ڈال دیا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا تو دوسرا جا رہا تھا۔

“میں تو ایک الو ہوں۔ مگر تم یقیناً الو کے پٹھے ہو جناب تنقید نگار صاحب۔ خوش رہو۔” الو چہکا۔

نوجوان خاموشی سے اٹھا اور چپ چاپ دکان سے باہر نکل گیا۔ گاہکوں کے قہقہے دور تک اس کا پیچھا کرتے رہے۔

حجام بدستور شیو بنا رہا تھا۔


نوٹ: یہ تحریر انگریزی زبان کے ایک شاعر جیمز تھامس فیلڈز کی ایک نظم “دی آئول کریٹیک” سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔


اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

33 تبصرے

  1. منال فاطمہ کہتے ہیں

    علم کے حصول کی کوئی حد نہیں ہوتی- اور جب آپ کچھ علم حاصل کر کے یہ سمجھ لیں کہ آپ ایک بہت بڑے عالم بن گئے ہیں تو اسی وقت یہ غرور ٹوٹ جاتا ہے- أپ نے جیمز تھامس فیلڈ کی اس نظم سے متاثر ہو کر بہت عمدہ تحریر لکھی ہے- میں نے یہ نظم پڑھی ہے- آپ نے اصل نظم کی خوبصورتی کو خراب نہیں ہونے دیا-

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ منال فاطمہ صاحبہ

  2. Samina Roohi کہتے ہیں

    boht acha likha h.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ ثمینہ روحی صاحبہ

  3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    اچھی تحریر ہے

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ صدیقی صاحب

  4. Nadia کہتے ہیں

    .بہترین بلاگ ہمیشہ کی طرح

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ نادیہ صاحبہ

  5. رانا فرمان کہتے ہیں

    ناقدین کو کرارا جواب دیا

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      کبھی دینا پڑ جاتا ہے۔ بعض ناقدین بھی حد کر دیتے ہیں۔ زندہ الو کو حنوط شدہ سمجھ کر تنقید کرتے ہیں پھر اپنا سا منہ لے کر نکل جاتے ہیں۔

      1. رانا فرمان کہتے ہیں

        ☝ آپ کو میں. ے ملالہ کے بعد پڑھنا شروع کیا ہے. بہت خوبصورت لکھتے ہہں اپ. آپ سے تنقید بھی قبول ہے.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          بہت شکریہ۔ پھر میں درخواست کروں گا کہ آپ اسی ویب سائیٹ پر میرے پرانے بلاگز بھی پڑھیئے۔

          1. رانا فرمان کہتے ہیں

            جی سب دے پہلے ملالہ والہ پڑھا تھا. اب تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھ رہا ہوں. میں آپ کے مضامین کا قدردان ہوں.

  6. bilal ahmed کہتے ہیں

    bohat he umda wah kia qarara jawab naqdin ko is tarha k writers ki pakistan main bohat kami hai kamal likhte hain sir aap

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ بلال احمد صاحب بلاگ کو پسند کرنے کا۔ آپ کا تبصرہ میرے لیے حوصلہ افزا ہے۔

  7. نعیم اکرم کہتے ہیں

    زندگی میں آپ کو ایسے لکھنے والے ملتے ہہں کہ آپ ان کہ کڑوی کسیلی باتیں بھی سنتے ہیں. کیونکہ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ آپ کی بہتری کے لئے لکھتے ہیں. اپ ان میں سے ایک ہیں. ہم کو بھی نقاد بننے کا شوق نہیں. ہم صرف سچی تعریف یا تنقید کرتے ہیں. جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر اچھی تحریر کی ہم نے تعریف کہ ہوتی ہے. جس کے خلاف کمنٹ کرتے ہیں. ان میں بھی کوئی لالچ نہیں ہوتا نہ ہی ساذش. بلکہ آپ نفرت کی عینک اتار کر دیکھیں گے تو ویسے بلاگز کو آپ بھی نا پسند کریں گے. کل کسی دوسرے بلاگ کے نیچے آپ ہمارے پہچھے پڑ گئے تھے. آپ یہی سوچ لیتے کہ اگر ہم واقعی برے ہوتے تو اچھے بلاگز کی بھی برائی کرتے
    . وہ تو کبھی نہہں کی ہم نے

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      نعیم صاحب۔ پیچھے پڑ جانا تو تب درست ہوتا جب میں ذاتیات پر بات کرتا۔ میرا سوال یہی تھا کہ “وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر بھی نہ تھا” ہے کہاں۔ میں ابھی بھی اسی بات کا اعادہ کروں گا کہ تحریم عظیم پر کی جانے والی تنقید ٹھوس وجوہات نہیں رکھتی۔ میں نے ان کی کسی تحریر میں والدین کے خلاف بات نہیں دیکھی۔ بلکہ ان کی فیس بک پر تو ان کی اپنے والدین سے محبت کے ثبوت موجود ہیں۔
      سوچ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر حامل سوچ کی ذات کو موضوع بحث لانا سطحی رویہ ہے۔
      کل کوئی صاحب افریقہ اور کالے لوگوں تک پہنچ گئے۔ نہایت ہی گھٹیا حرکت تھی۔
      میں تحریم عظیم کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر آپ دنیا بلاگز میں اگر دیکھیں تو تحریم عظیم نے ایک مضمون جنسی گھٹن پر لکھا تھا۔ مجھے ان سے اختلاف ہوا تو میں نے جواب میں لکھا تھا کہ مسئلہ جنسی گھٹن کا نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے اپنا مؤقف مزید واضح کیا اگلے مضمون میں۔ جواب میں پھر میں نے جنسی گھٹن کو سمجھنے کی کوشش کی۔ بیچ میں ڈائنوشوہر نام کا ایک مزاحیہ بلاگ لکھ دیا۔
      میرے نزدیک تنقید کا یہ طریقہ بہتر ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھ کر یہی سیکھا ہے۔
      کمینٹس میں ذاتیات کو زیر بحث لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ غصہ مضمون پر نہیں بلکہ لکھنے والے کی ذات پر ہے۔ اسی لیے میں بقول آپ کے “پیچھے پڑ گیا تھا”
      ویسے بھی تنقید کرنے کا حق یہ ہے کہ تنقید کرنےسے پہلے جس مواد یا شخص پر تنقید کرنا ہو اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر لینی چاہئیں۔ بدقسمتی سے کل تنقید کرنے والوں نے ایسا نہیں کیا۔ تحریم کو لکھتے ہوئے ایک برس سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ان کے بیشتر مضامین نہایت اعلیٰ اور ٹو دی پوائینٹ ہوتے ہیں۔
      اور یہ کلمہ حق ہی ہے جو میں نے اپنی سوچ کے تحت ادا کیا ہے۔ :)

      1. نعیم اکرم کہتے ہیں

        آپ درست فرما رہے. آپ نے تہزیب کا دامن نہیں چھوڑا ہاتھ سے. لیکن میں معافی چاہتا ہوں کہ میرا کوئی ایجنڈا نہیں ہے پر میں ان محترمہ سے متفق نہیں ہوں. ان کی تحاریر میں جابجا غلطیاں ہیں. اور ان کا موقف بھی درست نہیں ہے. یہ میری سوچ ہے. آپ اختلاف کر سکتے ہیں

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          آپ کے اختلاف کے حق سے کسی بھی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔

      2. Nadia کہتے ہیں

        افریقہ کی بات میں نے کی تھی اور مجھے پاکستان اور پاکستانیوں پر فخر ہے. جو بھی کوئی ان کی بدنامی کرے گا وہ مجھے قابل قبول نہیں ہو سکتا. اور شرم کی بات ہے کسی کو پاکستانی اتنے برے لگتے ہیں کہ نیگرو بھی اسے بہتر انسان دکھبے لگے. کس نے روکا ہے. مادام چھوڑیں پاکستان اور کیسے مردوں میں جا کر رہیں. کس نے روکا ہے؟

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          معاف فرمائیے گا مگر یہ ذاتیات پر حملہ تھا۔

  8. Awais Ahmad کہتے ہیں

    اور رہی بات نفرت کی عینک اتار کر دیکھنے کی تو صاحب میں ایک عام انسان ہوں۔ میں سب کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ ایسے میں نفرت کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔
    کالم یا بلاگ لکھنے والے اپنے ذہن کے مطابق لکھتے ہیں۔ ان کی ایک سوچ ہوتی ہے۔ سوچ سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن نفرت نہیں کی جا سکتی۔ اور لکھنے والے کی حوصلہ افزائی ہی کرنی چاہیئے کیونکہ کبھی بھی اس کے قلم سے شاہکار تخلیق ہو سکتا ہے۔ اگر حوصلہ شکنی کر دی جائے تو یہ ناانصافی ہو گی۔

  9. Hammad کہتے ہیں

    True blog.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  10. Shahida latif کہتے ہیں

    Strong contents. Good work once again.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you :)

  11. کرن نور کہتے ہیں

    .بااخلاق تنقید. بہترین مزاح

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ۔

  12. wasif malik کہتے ہیں

    master piece once again awais sb.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Oh thank you Wasif Malik sb.
      It is based on an English Poem “The Owl-Critic”

  13. Dr. Sarwat Ali کہتے ہیں

    very well written.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you Dr. Sarwat Ali Sahib/Sahiba

تبصرے بند ہیں.