صحافت کے طالب علموں کے نام ایک تحریر

4,624

صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو سننے میں تو بہت آسان لگتا ہے مگر حقیقت میں بہت مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی منزل ہے جہاں تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے، ہر کسی کو اپنے لیے خود راستہ بنانا پڑتا ہے۔ کسی پر انحصار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، بس اپنا ہی وقت ضائع ہوتا ہے۔

صحافت کے طالبعلم اپنی فیلڈ سے متعلق کئی ابہام رکھتے ہیں خصوصاً طالبات کو کچھ اساتذہ اور ساتھی طلباء “میڈیا لڑکیوں کے لیے اچھی جگہ نہیں ہے” کہہ کر بد دل کرتے نظر آتے ہیں۔

بیشتر طلباء اور کئی اساتذہ سمجھتے ہیں کہ صحافت کی تعلیم بہت ہی آسان ہے جبکہ حقیقت اس سے الٹ ہے۔ صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں انسان ہر روز سیکھتا ہے، جس روز وہ نہ سیکھے اسی روز وہ اپنے ہم عصروں سے کئی قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں صحافت کی جدید خطوط پر تعلیم نہیں دی جاتی۔ آج بھی کئی یونیورسٹیوں میں ایسے پروفیسرز طلباء کو صحافت اور ابلاغِ عامہ کی تعلیم دے رہے ہیں جو ریڈیو کے دور کے ہیں اور آج کے دور میں استعمال ہونے والے نیو میڈیا سے نا واقف ہیں یا اسے استعمال کرنا نہیں چاہتے۔

کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس میں بنے ریڈیو یا ٹی وی اسٹیشنز تو دور کمپیوٹر لیب تک طلباء کو استعمال نہیں کرنے دی جاتی۔ یونیورسٹی کے دور میں ہمیں اپنے ایک پراجیکٹ کے لیے آڈیو ویڈیو لیب کی ضرورت پڑی تو ہمیں کس طرح پروفیسر سے اس کی اجازت لینی پڑی، یہ ایک لمبی کہانی ہے۔  اجازت ملنے کے بعد جب وہاں پہنچے تو پتہ لگا کہ ہم ڈیپارٹمنٹ کے آلات کو ہاتھ نہیں لگا سکتے کیونکہ ہم ان کو خراب کر دیں گے۔ لیب میں موجود سٹاف نے خود ان آلات کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں ہمارا پراجیکٹ مکمل کر کے دیا۔ اب اگر اس پراجیکٹ کا مطلب اس سارے عمل سے گزر کر کچھ سیکھنا تھا تو کم از کم ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ پائے۔

یونیورسٹی کے پروفیسرز کی بات کریں تو کچھ پروفیسر ایسے ہیں کہ پورا سیمسٹر “خبر کیا ہے؟” میں ہی اٹکے رہیں گے تو کچھ پروفیسر ایسے ہیں جو “آپ مستقبل میں کیا کریں گے؟” کہہ کہہ کر آپ کی ہمت کو کم سے کم کرتے رہیں گے۔ کئی میڈیا کے بڑے نام ہوں گے جو اپنی مضبوط پروفائل کو مضبوط تر کرنے کے لیے کسی کورس کو پڑھانے کا ذمہ لے لیں گے۔ یونیورسٹی آنے کا ان کے پاس ٹائم نہیں ہوگا لیکن بنک اکائونٹ میں انہیں ہمیشہ پوری رقم ہی چاہئیے ہوگی۔

کچھ طلباء بھی ایسے ہوتے ہیں جو صحافت کو آسان سمجھ کر یونیورسٹی میں بس کھیل کود کر گھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کا کلاسز میں کام بس ساتھی طلباء پر آوازیں کسنا اور اساتذہ کو تنگ کرنا ہوتا ہے۔

کچھ یونیورسٹیز ایسی ہیں جو اپنے طلباء کی چار سالہ تعلیم کو بھی کافی نہیں سمجھتیں اور انہیں ایک روزہ یا سہ روزہ ا‌ینکرنگ یا رپورٹنگ کی ورکشاپس کرواتی ہیں جن کی مد میں اکثر دو سمیسٹر کی فیس کے مساوی رقم وصول کی جاتی ہے۔ اب ان ورکشاپس سے طلباء کا کتنا فائدہ ہوتا ہے، اس حوالے سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یونیورسٹیز کا ضرور فائدہ ہوتا ہے۔

جب طلباء “اتنا سب کچھ” سیکھ کر فیلڈ میں آتے ہیں تو انہیں معلوم پڑتا ہے کہ یہاں ان کی تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہیں دوبارہ سے ٹریننگ دی جاتی ہے، انٹرن شپ کے نام پر چھ، سات ماہ یا اس سے بھی زائد عرصہ تک مفت بیگار لی جاتی ہے۔ آپ کی قسمت اچھی ہہ تو آپ کو چند سکوں کے عوض نوکری دے دی جاتی ہے ورنہ آپ سے معذرت کر کے کسی اور کو آپ کی جگہ انٹرن شپ پر رکھ لیا جاتا ہے۔

میڈیا چینلز میں آپ کو کئی ایسے لوگ ملیں گے جن کے پاس نیچرل سائنسز، انجینئیرنگ حتیٰ کہ میڈیکل تک کی ڈگری ہوگی مگر وہ صحافی بنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ لوگ تو ایک طرف، آپ کو یہاں کچھ ایسے بھی ملیں گے جن کے پاس سرے سے کوئی ڈگری ہی نہیں ہو گی اور وہ دس بارہ سٹاف ممبرز پر مشتمل ٹیم چلا رہے ہوں گے۔ ان سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو کر ان کے ماتحت کام کرنا بالکل بھی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔

یہ سب پڑھ کر آپ دلبرداشتہ نہ ہوں۔ میڈیا کا ہر ادارہ اپنی ساکھ بہتر سے بہتر کرنا چاہتا ہے اور ساکھ بہتر کرنے کے لیے جو بھی طریقہ اپنایا جائے، کامیابی صرف معیاری کام سے ہی ملتی ہے۔ اگر آپ یونیورسٹی کے دوران اپنے اوپر کچھ محنت کر لیں تو آپ باآسانی اپنی پسند کے کسی بھی میڈیا ہائوس میں نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ اپنے آپ کو کیسے ایک بہترین صحافی بنا سکتے ہیں؟ اس کے لیے میں چند گزارشات نیچے لکھ رہی ہوں، امید ہے کہ کسی کے کام آ ہی جائیں گی۔

  1. روزانہ کم از کم دو اردو اور دو انگریزی اخبارات کا مطالعہ کریں۔ یاد رکھیں کہ آپ کا مقصد صرف خبر پڑھ کر معلومات حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ہر اخبار کا خبر لکھنے کا طریقہ دیکھنا اور آپس میں موازنہ کرنا ہے۔
  2. اسی طرح ہر اہم واقعے پر مختلف چینلز کا آپس میں موازنہ کیا کریں اور دیکھا کریں کہ یہ چینلز ایک ہی خبر کو کس طرح بیان کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کو مختلف چینلز کی پالیسی پتہ لگے گی اور آپ کے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔
  3. روزانہ کسی اردو خبر کا انگریزی میں ترجمہ کیا کریں اور کسی انگریزی خبر کا اردو میں بھی ترجمہ کیا کریں۔ اس سے آپ کی انگریزی اور اردو دونوں بہتر ہوں گی اور آپ کی ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔
  4. ہفتے میں ایک بار کسی بھی اہم موضوع پر اپنے خیالات قلم بند کریں اور کسی بھی آن لائن ویب سائٹ کے بلاگز سیکشن میں بھیج دیں۔ اگر آپ کی تحریر چھپ جائے تو اسے بغور پڑھیں۔ دیکھیں مدیر نے آپ کی تحریر میں کہاں کہاں، کیا کیا تبدیلی کی ہے۔ ان تمام تبدیلیوں سے سیکھیں اور اگلی تحریروں میں ان غلطیوں کو نہ دہرائیں۔ اگر آپ کی تحریر پبلش نہ ہو تو ہمت نہ ہاریں بلکہ اپنی تحریر کا خود ہی تجزیہ کریں اور سوچیں کہ اس کو مزید کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
  5. میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ اپنی انا کا پرچم اتنا بلند کر لیتے ہیں کہ ایک تحریر مسترد ہونے پر مدیر سے ہی ناراض ہو جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے صفر کے مہینے میں مجھے جشنِ ولادت نبیﷺ پر ایک تحریر لکھ کر بھیجی۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ اگلے مہینے چھپ سکتی ہے۔ ابھی تو صفر پر کوئی تحریر لکھی جائے تو وہ چھپ سکتی ہے لیکن وہ اس بات کو نہ سمجھے اور برا مان گئے۔
  6. اسی طرح ایک اور محترمہ نے مجھے ایک ایسی تحریر بھیجی جس میں خواتین کے لباس کو معاشرے میں پھیلی برائیوں کی وجہ بتایا گیا تھا۔ میں نے ان سے بھی معذرت کر لی۔ وہ دن اور آج کا دن وہ مجھ سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھتیں۔
  7. اسی طرح کئی حضرات ایسے ہیں جو ایک تحریر لکھتے ہیں اور اسے کئی اداروں کو بھیج دیتے ہیں۔ ایک ہی تحریر کئی اداروں میں چھپے اس سے بہتر ہے کہ آپ مختلف تحاریر مختلف اداروں میں چھپوائیں۔
  8. اگر آپ کی دلچسپی فوٹو جرنلزم، کارٹون جرنلزم یا براڈ کاسٹ جرنلزم میں ہے تو اسی کے مطابق اپنی سکلز پر کام کریں۔
  9. اپنی فیلڈ کے مشہور لوگوں کو سوشل میڈیا پر فالو کریں اور ان کے ہر نئے کام کو ضرور دیکھا کریں اور ان سے سیکھا کریں۔
  10. سوشل میڈیا پر ملکی و غیر ملکی میڈیا اداروں کو بھی فالو کریں اور دیکھیں وہ کیسے خبروں کی ترسیل کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
  11. ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ صحافت میں آپ کو اپنا نام بنانا ہے۔ صحافت میں جس کا جتنا بڑا نام ہو اس کی اتنی ہی زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کسی جگہ کام کرنے کا کم معاوضہ مل رہا ہے لیکن وہاں آپ کا کام آپ کے نام سے پبلش ہو رہا ہے تو اس جگہ کو ایسی جگہ پر ترجیح دیں جہاں آپ کا کام آپ کے نام سے پبلش نہیں ہو رہا۔

آخر میں بس ایک راز کی بات بتاتی چلوں، آپ اس فیلڈ میں جتنی مرضی محنت کرلیں تنخواہ کے لفافے کے علاوہ کبھی کوئی لفافہ موصول نہیں ہوگا۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

140 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    یہ بہت مددگار تحریر ہے۔ میڈم مجھے صحافی بننے کا بہت شوق ہے۔ میں نے پندرہ سال پہلے صحافت میں گریجویشن کیا تھا مگر میں اس پیشے میں نہیں آ پایا۔ میں روزانہ کم از کم تین سے چار اخبارات اور کم از کم پچیس تیس کالمز اور بلاگز کوشش کر کے پڑھ لیتا ہوں۔ پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی نہیں پڑھا۔ ابھی لکھنا سیکھ رہا ہوں۔ کاش مجھے صحافت کے کسی ایسے شعبے میں قسمت آزمائی کا موقع ملے جس میں لکھنے کے مواقع ہوں۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        بہت شکریہ۔ اللہ آپ کی دعائیں قبول فرمائے۔ آمین۔

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          آمین

  2. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت ہی زبردست تحریر

    میں خود کراچی یونیورسٹی میں صحافت کا طالبعلم ہوں آپ کی یہ تحریر لاکھوں صحافت کے طالب علموں کے جزبات ترجمانی کے ساتھ رہنماٸی بھی فراہم کر رہی ہے اور تلخ حقاٸق پر مبنی ہے جس کا میں خود مشاہدہ کر چکا ہوں

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ۔ بس بہت کچھ ہے کہنے اور بیان کرنے کو۔ آپ بھی اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔

    2. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      .آپ کا بلاگ نہیں پڑھا بہت ہفتوں سے کاشف بھائی

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        بالکل یہی بات میں بھی لکھنے والا تھا کہ کاشف احمد صاحب کی تحریر کافی دن سے نظر سے نہیں گذری۔ ان کا تجزیہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔

        1. کاشف احمد کہتے ہیں

          بھاٸی جس قسم کی تنقید ہورہی ہے میں نہ ہی لکھوں تو اچھا ہے مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس قسم کی تنقید جن بلاگز پر ہونی تھی وہاں تو ہوٸی نہیں اور آج تحریم نے اپنے ان نظریات سے زرا ہٹ کے لکھا تو اتنی سخت تنقید ؟ اویس بھاٸی آپ ٹھیک تھے

          1. تحریم عظیم کہتے ہیں

            بھائی یہ کوئی گروپ ہے جو جان کر ایسے کمنٹس کر رہا ہے ، ہم اب اتنے بھی بچے نہیں ہیں۔

          2. Awais Ahmad کہتے ہیں

            شکریہ کاشف بھائی میری تائید کرنے کا۔ مگر ایسی تنقید سے گھبرا کر لکھنے کا ارادہ مت چھوڑیں۔ ضرور لکھیں۔

      2. تحریم عظیم کہتے ہیں

        جی کاشف ضرور کوئی اچھا سا بلاگ لکھیں۔ آپ کے چاہنے والے آپ کی تحریر کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

        1. کاشف احمد کہتے ہیں

          تحریم کوٸی بھی انتظار نہیں کر رہا میرے تو گھر والے بھی میرا انتظار نہیں کرتے یہ جال پھینکا جارہا ہے جب بھی میری تحریر چھپے گی ایسا ہی کچھ انہونا ہوگا جیسا آج ہوا ہے لیکن میں لکھوں گا ضرور لیکن کچھ وقت کے بعد جب تک لوگ کھل کے سامنے نہیں آجاتے

          1. تحریم عظیم کہتے ہیں

            ان لوگوں سے نہ ڈریں، بس اپنے دل کی سنیں۔

    3. Aftab cheema کہتے ہیں
  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    انشااللہ ضرور

  4. wasif malik کہتے ہیں

    bohat khubsurat tahreer. sab kah dia aap ne. musalma asool. golden tips.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Thanks much

  5. Maham Aslam کہتے ہیں

    صحافت سے وابستہ ہوں لیکن خود کو صحافی کہتے ڈر لگتا ہے کہ کچھ نیا نہیں سیکھا شاید یونیورسٹی میں بہت سیکھا تھا، فیلڈ میں صرف سیاست دیکھی اور سینیرز نے نہ خود کچھ کیا نہ کرنے دیا اور دو سال صحافت کے ضائع ہوگئے ہیں ، بہتری کے لیے اپنے طور پر کوشش جاری ہے لیکن امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔۔۔ یہ ایک بحث ہے کہ صحافت میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا شخص آسکتا ہے اور آپ پر اسے فوقیت بھی مل سکتی ہے ۔۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Thats the biggest challenge we face.

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. نیا پاکستانی کہتے ہیں
  6. ڈاکٹر ثروت علی کہتے ہیں

    ڈئیر تحریم، مجھے آپ کے چند بلاگز پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اپ کم ہ بیش ایک ہی ٹاپک پر لکھتی ہیں۔ آپ کے بلاگز پرھ کر ایسا لگتا ہے کہ پورے پاکستان میں ہر مرد طالبان ہے اور ہر عورت ملالہ ہے جسے تعلیم اور کیرئیر بنانے کے ہر موقع سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپ کے کیس میں یہ درست ہو لیکن ایسا نہیں ہے۔ میرے اور میری تمام کولیگز اپنے والدین پر فخر کرتی ہیں جنہوں نے انہیں پروفیشنل تعلیم دلوائی اور اپنے پروفیشن میں خاطر خواہ کامیابی کے لئے پوری پوری حوصلہ افزائی کی۔ آپ پتہ نہیں کون سے پاکستان اور کون سے والدین کی بات کرتی ہیں۔ آپ صرف اپنے پہلے دو پہلے پیراگراف پرھ لین۔ اپ بار بار ایک ہی بات دہراتی جا رہی ہیں۔ اگر آپ نے صرف اپنے تجربات ہی بیان کرتے جانا ہے تو بہتر ہے آپ اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز اپنی ہی کتھا سنانے سے بہتر ہے کہ کسی اور بلاگر کو موقع دیں۔ تا کہ پڑھنے والے کو مختلف موضوعات اور خیالات کو جاننے کا موقع ملے۔ نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔ بہتر ہو گا کہ ہر روز اپنا بلاگ لکھ مارنے کی بجائے آپ ایڈینگ کی ذمہ داریاں پوری کریں اور نئے لکھنے والوں کہ نکھاریں۔ تا کہ ان کو آگے آنے کا موقع ملے اور آپ کی تنخواہ بھی حلال ہو گی اور اختیارات کے ناجائز استعمال بھی نہیں ہو گا۔ اور کل کلاں اپ کو کہنا بھی نہیں پڑے گا کہ اپ کو کیوں نکالا۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Hi, Thanks for your comment. Yes, i mostly write on sexual harassment and rights of women. Secondly, i always give space to the new bloggers that you can see by comparing the average gap between my two writings on Dunya blogs. I write seldom here. Thirdly, i have never received any blog by you. Do u just comment on the blogs of editors to tell them how bad they are working or you can actually write something.
      Lastly, keep assured that i will never say mujhay q nikala.

      1. Dr. Sarwat Ali کہتے ہیں

        Dear Tehreem! thanking you for your response. Having a particular area of interest is something valid but writing same thing over and over again is something we can term as idea deficit. Highlighting issues related to women is a commendable effort but writing something that is far from reality is unethical. my point was that there is huge proportion of parents in Pakistan who facilitate their daughters to pursue career in the field of their own choice. So why do u keep on lamenting the same thing that girls face these restriction from their families. I don’t say that this doesn’t happen anywhere here but the practice has evolved a lot why are you just counting on that half empty glass???? Why can’t we appreciate the change that has become evident to encourage rest of the community instead of cursing that old school.

        why are you expecting to see my blog. does reading blogs or critically appraising has to be justified by writing own blogs? or you write so that other writers only may read or appreciate your writing. i mean grow up girl be a grown up professional as you’ve sacrificed a lot to get on this position.

        Its good if u won’t say but trust me if this wasn’t Pakistan where ladies are privileged u could not have get or stayed on the post of editor with this kind of performance.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          Dr, thanks for your long but irrelevant comment again. I do appreciate the criticism as I believe that is essential for my growth as a journalist and a human being but don’t you think that you are commenting irrelevant to this post – and also illogical?
          you cant force any writer to write what is against your belief and liking. the writer writes what they want to write.
          As a journalist, I believe it’s my duty to highlight the flaws in our society. I do my job. If you have any objections on that, you also have the right of expression but use it with a grace.
          Instead of hurling hate and disgrace over the writer and proving how good your parents have brought you up, argue in a decent manner. these are basic etiquettes.
          Anyways, this blog was related to the problems of journalism students and suggestions for their bright career. I would love if you can focus just on that on this blog and take all these comments to the other blogs of mine as these comments will make sense there. I hope u understand.

          1. نیا پاکستانی کہتے ہیں

            .میں بھی متفق ہوں مس ثروت

        2. Naeem akram کہتے ہیں

          Agree with you dr.
          Me too.

        3. Aftab cheema کہتے ہیں

          Agree with you miss sarwat.

    2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      متفق ہوں.

    3. کامران شیخ کہتے ہیں

      بالکل صحیح فرمایا آپ نے ڈاکٹر ثروت. میرے والدین نے بھی ہم بہین بھائیوں میں کبھی تفریق نہیں کی. اس طرح کے مضامین لکھنے کے دو ہی مقاصد ہو سکتے ہیں. ایک اپنے والدین کو زلیل کروانا. دوسرا لوگوں کو بتانا کپ دیکھا ہم کیسے نابغے ہیں. ایسے لوگ اس حد تک خود غرض ہوتے ہیں کہ ان کو یہ بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ ماں باپ نے ہم کو کتنی مشکل سے پڑھایا اور پالا پوسا ہوتا ہے. ….. یہ پاکستان کی بدنامی کی وجہ بنتے ہیں.

      1. واجد خان کہتے ہیں

        سو فیصد درست فرمایا ڈاکٹر آپ نے

    4. Nadia کہتے ہیں

      Me too.Dr sarwat.

    5. Nadia کہتے ہیں

      ☝ احساس کمتری کا شکار کچھ ساتھی ہمارے گوروں کے پیچھے لگ کر ان کے مردوں کو اچھا اپنوں کو برا سمجھتے ہیں. ان کے ماں باپ کو اچھا اپنوں کو برا سمجھتے ہیں. ان نادانوں کو یہ نہیں سمجھ کے بان کی عورتیں پاکستانیوں جیسے مرد کے لئے سب کچھ چجوڑ دیتی ہیں. یہاں عورتوں کا کہنا ہے کہ جس عزت سے ایک پاکستانی اپنی عورتوں کو رکھتا ہے اس کی دوسری مثال نہیں. یہ میں بیت بار پہلے بھی کہہ چکی یوں. کہ پاکستانی عورت نے اپنے باپ بھائی اور شوہر کے نا شکرے پن کی وجہ سے جہنم میں جلنا ہے. آج آپ نے میری ہی بات کو سچ کہا ہے. ڈاکٹر ثروت صاحبہ.

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        اس بلاگ مین کہاں مردوں اور عورتوں کا ذکر ہے، میرا خیال ہے یہ بلاگ صحافت کے طلباء کی رہنمائی کے لیے لکھا گیا ہے۔ آپ کو اگر مجھ سے کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو وہ الگ بات ہے۔

        1. Nadia کہتے ہیں

          زاتی مسئلہ کوئی نہیں ہے. آپ ہر بلسگ میں اپنے ماں باپ کا تماشہ بنانا چھوڑ دیں. ٹیجرز اور پاکستان کے مردوں کو برا کہنا چجوڑ دیں. اچھی باتیں لکھیں. میں سب سے پہلے آپ کے بلاگز کی تعریف کروں گی.آپ چائینہ ہو آئی ہیں. کچھ کالے لوگوں کو مل کر ان کو عظیم ترین اور اپنے باپ بھائیوں کو گالیاں دینے لگی ہیں. آپ کو ابھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ لوگ اپنی عورتوں کے لئے کتنے خوفناک ہیں. صرف ایڈمیشن کروا دینے سے انسان “کیسا مرد” نہیں ہو جاتا. آپ بہت کم علم ہیں جب آپ کا علم بڑھے گا تو اپ کو سمجھ آئے گی ہ پاکستانی مرد کتنی بڑی نعمت ہیں.

          1. تحریم عظیم کہتے ہیں

            ہا ہا ہا ہا، جی میں ضرور آپ کے کمنٹ کو سیریس لوں گی اور مزید بہتری کی کوشش کروں گی۔ پاکستان اور یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ یہاں بچیوں اور بچون کے ریپ نہیں ہوتے، یہاں کے مرد اور خواتین مخالف جنس کو ہراساں نہیں کرتے، یہاں کرپشن نہیں ہوتی اور یہاں پنچایت عورت کا ریپ کرنے کا بھی حکم نہیں دیتا۔ اب آپ جاگ جائیں، صبح بہت دیر ہوئی، ہو چکی ہے

          2. تحریم عظیم کہتے ہیں

            اور یہ بہت بڑی نعمت آپ کو ہی مبارک ہو۔ اللہ مجھے اس بہت بڑی نعمت سے محروم ہی رکھے۔

          3. Nadia کہتے ہیں

            آمیں. آپ اس نعمت سے محروم ہی رہیں گی. آپ کو اللہ ویسا مرد دے جو “کیسا مرد” جیسا ہو. اور ریپ امریکہ سے لے کر ڈنمارک تک یر جگہ ہوتے ہیں. لیکن وہ تو آپ کا قبلہ و کعبہ ہیں . ان پر تنقید آپ کیوں کریں گی. اور “کیسا مرد” یعنی کہ آپ کی سرزمین پر ہر دوسرا فرد ایڈز کا شکار ہے. ایڈز تو ان کو روزے رکھنے سے ہوئی ہوگی نہ؟

          4. تحریم عظیم کہتے ہیں

            کوئی ریسرچ بتادیں جو کہتی ہے کہ وہاں کا ہر فرد ایڈز میں مبتلا ہے۔ شائد آپ کو معلوم نہیں کہ پاکستان میں ایڈز کس تیزی سے بڑھ رہا ہے اور شائد آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایڈز صرف سیکس کرنے سے نہیں منتقل ہوتا۔ لیکن خیر میرا تو علم ہی بہت کم ہے۔ یہ سب تو مجھے بھی نہیں معلوم۔ آپ زیادہ جانتی ہوں گی۔

          5. Nadia کہتے ہیں

            میری دعا ہے کہ آپ کو “کیسا مرد” ہی ملے اور او منتیں بھی کریں تو کوئی پاکستانی مرد اپ کو قبول نہ کرے. آپ نے ملالہ کی کتاب پڑھنے کا دعوای بھی کیا تھا لیکن آپ کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ملالہ نے کتاب میں پاکستان اسلام اور آرمی کے حوالے سے کیا کہا تھا. خیر، یہاں ایڈز پھیل رہی ہے یہ آپ کو نظر آ گیا لیکن کیسا مرد کے وطن جو کی ایڈز کے گھر ہیں. وہاں کے حوے سے ریسرچ نہ مل پائی . حیرت ہے ویسے. ایڈز جیسے بھی ہوتی ہے روزے رکھنے سے بابہرحال نہیں ہوتی. آپ کو امریکینوں کے والدین، کالوں گوروں کے برے نہیں لگتے؟ صرف اپنے ہی لگتے ہیں؟

          6. تحریم عظیم کہتے ہیں

            آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں ہر دوسرا فرد ایڈز کا شکار ہے تو آپ کو ریسرچ کا ھوالہ دینا چاہئیے نا۔ اور مین تو ویسے بھی کم علم ہوں، سارا علم تو آپ کے پاس ہے۔ اور آپ کو تو بغیر حوالے کے بات ہی نہیں کرنی چاہئیے۔ آپ کی اس دعا کے لیے آمین۔ یہ سارے مرد آپ ہی کو مبارک ہوں۔

    6. Jamshed asad کہتے ہیں
    7. Awais Ahmad کہتے ہیں

      میں نے اس بلاگ کو آپ کے کمینٹ کے بعد مزید دو مرتبہ غور سے پڑھا کہ والدین پر تنقید نظر آ جائے مگر مجھے ناکامی ہوئی۔ یا تو میری نظر کمزور ہو گئی ہے یا پھر اس بلاگ پر والدین کےحوالے سے بے جا تنقید کی ہے۔

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        مجھے خود وہ لائن نظر نہیں آ رہی جہاں میں نے اپنے ماں باپ کی شان میں بے پناہ گستاخی کر دی ہے جس کا مجھ سے زیادہ ان لوگوں کو غم ہو رہا ہے۔

  7. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    تحریم صاحبہ، آپ کی ہر بات والدین اور ٹیچرز کی برائی سے شروع اور اسی پر ختم ہوتی ہے۔ ایک ہی بات بار بار والدین اچھے نہیں، ٹیچرز اچھے نہیں۔ لوگ بہت برے، آپ سب سے پہلے اپنے آپ کو بہتر کریں پھر دوسروں پر تنقید کریں۔ آپ کو کس نے کہہ دیا ہے کہ آپ بہت بڑی اردو دان ہیں۔ کبھی اپنا بلاگ خود پڑھ لیا کریں۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Thanks Javed Siddiqui sahab for this comment. I will wait for your writing to see what actually is a good quality writing.
      ziada intezar na karwayee ga.

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        ویسے آفرین ہی آپ پر. آپ نے میری تحریر پڑھ کر ہی نصیحت پکڑنی ہے؟ پورے ملک میں کوئی اچھا نہیں لکھتا جس کو پڑھ کر آپ لکھنا سیکھ سکیں؟ آپ کو بھی معلوم ہے کہ آپ جو لکھتی ہیں وہ کیوں چھپ رہا ہے. آپ سمیت کسی کو اس حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہے. جن لوگوں نے آپ کے پاس بلاگ چھپوانے وہ تو آپ کی جھوٹی تعریف کریں. مین تو جو محسوس کروں گا وہی کمنٹ کروں گا.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          جی سر، آپ وہ کمنٹ کریں جو آپ محسوس کرتے ہیں۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں،یاعتراض ہوتا تو آپ کا کمنٹ یہاں موجود نہ ہوتا بلکہ ڈیلیٹ ہو چکا ہوتا لیکن کیا کریں تھوڑی سی صحافت بھی پڑھی ہوئی ہے اور کچھ اخلاقیات بھی آتی ہیں، میں نے اپنے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے درخوات کی ہے کہ وہ کمنٹس کو فیسبک کے ساتھ منسلک کر دیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس ‘کمنٹ وار’ کے پیچھے کون سے عناصر ہیں۔ جلد ہی انشاءاللہ یہ بھی ہو جائے گا۔
          اور ہاں انسان ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے میں آپ سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہوں۔ آپ کو نہین لگتا؟

          1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

            ضرور کیجئے. ہم انتظار کریں گے. کمنٹ کرنا پڑھنے وسلے کا حق ہے. جو اچھا لکھے گا تعریف بھی دل کھول کر کریں گے. جو برا لکھے گا اسے برا بھی لکھیں گے. وہ اور ہیں جن کو بلاگز چھپوانے کے لئے آپ جیسے لوگوں کو بھی خوش کرنا پڑتا ہے. ہمیں ضرورت نہیں. آپ پاکستانیوں کو برا کہتی ہیں. اگر یہاں سب کچھ اتنا ہی برا ہے تو اپ چلی جائیں تنزانیہ یا افریقہ جہاں آپ کو “عزت” کرنے والے مرد مل سکیں. ہم بھی خوش ہوں گے کہ آپ اپنے جیسے لوگوں میں پہنچ گئیں.

          2. تحریم عظیم کہتے ہیں

            میری کوئی تعریف کرے یا نہ کرے، اگر ان کا بلاگ چھپنے کے قابل ہو تو ضرور چھپتا ہے۔ آپ بھی لکھ کر دیکھ لیجئیے۔ عزت کرنے والے مرد، لگتا ہے وہ بلاگ آپ کو بہت زور سے لگا ہے۔میری کواہش ہے کہ میں وہاں ضرور جائوں۔ میں اللہ کی یہ زمین مکمل طور پر گھومنا چاہتی ہوں، ضرور گھوموں گی۔

          3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

            یہ اچھا طریقہ ہے کہ برا لکھو. جب کئی تمقید کرے تو یہ کہو کہ اس کے پیچھے کوئی ہے. میڈم تنقید کے پیچھے کوئی نہیں ہوتا اگر کچھ ہوتا ہے تو بری کارکردگی ہوتی ہے. اسسی کہ بہتر کروانے کےلئے تنقید کی جاتی ہے.

          4. تحریم عظیم کہتے ہیں

            جی وہ تنقید ایسے نہیں کی جاتی، وہ زرا مثبت تنقید ہوتی ہے۔ شائد آپ کی نظر سے نہیں گزری۔

          5. تحریم عظیم کہتے ہیں

            اور میں ایسی تنقید کو خوش آمدید کہتی ہوں کیونکہ اسی سے میں سیکھتی ہوں۔ میں آزادی اظہارِ رائے کی بھی حامی ہوں وگرنہ میرے پاس اختیار ہے آپ کے تمام کمنٹس اس پوسٹ سے غائب کرنے کا۔

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
  8. رانا فرمان کہتے ہیں

    آپ اپنی تعریف کو سچ سمجھ کر روز بلاگ لکھ دیتی ہیں. آپ کی غلط بات پر بھی کچھ لوگ اس لئے تعریف کر دیتے ہیں تا کہ آپ خوش ہو کر ان کے بلاگ بھی شائع کر دیں. جس دن آپ کا ارادہ نہ ہو لکھنے کا ان کو بھی موقع مل جائے. یہ سراسر نا انصافی ہے کہ روزانہ آپ ایک ہی طرح کا بلاگ لکھ دیں اور بہت سوں کا حق مارتے ہوئے وہ چھپ بھی اسی لئے جائے کیونکہ چھاپنے والی آپ خود ہیں. نئے لکھنے والے انتظار میں بیٹھے رہیں کہ کب آپ کا دل بھرے اور ان کو بھی موقع ملے. یہ نا انصافی ہے. اگر آپ واقعی چاہتی ہیں کہ آپ کے بلاگ پر میرٹ پر تبصرہ ہو تو سو کالڈ ایڈیٹری چھوڑ کر پھر لکھیں. ویسے مجھے یقین ہے کہ اگر میرٹ پر چھپنا ہو تو شائد ہی آپ کہیں چھپیں.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ۔ امید ہے آپ کے کمنٹ کی روشنی میں میری تحریر کبھی تو بہتر ہو ہی جائے گی۔

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      واہ کتنا سچا کمینٹ ہے۔ مجھے اس کمینٹ سے علم ہوا کہ تحریم عظیم کا روز ایک بلاگ شائع ہوتا ہے۔ اب میں روز پڑھا کروں گا اور زیادہ سے زیادہ تعریف کیا کروں گا تاکہ میرے بھی بلاگز چھپنا شروع ہو جائیں دنیا بلاگز پر۔

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        This was a new information for me too.

    3. Jamshed asad کہتے ہیں
  9. Farid khattak کہتے ہیں

    مصنفہ کے لئے
    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    جن کو پڑھ کر آپ جیسے ماں باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      was it mentioned in this blog?

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. Awais Ahmad کہتے ہیں

      یہ غالباً اکبر الٰہ آبادی کا شعر ہے۔

  10. Kiran noor کہتے ہیں

    110% agree with dr sarwat, my parents have also supported me wherever i required it. And even my friends never complained of this kind of behaviour what these so called liberals always cry about.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      I am glad that you were one of those lucky ones. I was not and there are many like me. As you have the right to say and support what happened with you, i also have the same. Btw this article was not about what you had focused in your comment. I would really love if you will post the relevant comment on the relevant blog. I appreciate the criticism but it should be relevant and constructive. when you start to comment “India is great” on a post about palestine, it means you are biased and u have some grudge over the writer.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        I would request you, if possible, to share my article اسلامیات کی استانی اور موسیقی ۔ میرے دو ادھورے عشق here so that the people who are objecting about criticism on parents will get a chance to criticize on true basis.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          these people are here for an agenda as i dont find any reason behind discussing, parents, women and men under a post which is related to the journalism students. These comments show their insecurity and repent of not being as good as others are.

          1. Awais Ahmad کہتے ہیں

            میں آپ سے متفق ہونے پر مجبور ہوں۔

          2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

            میم معافی چاہتا ہوں..میں آپ سے متفق نہیں
            ہوں. آپ کوئی عامر خان سلمان خان تو ہیں نہیں جو ہر وقت آپ اپنی کہیانیاں سناتی جائیں. آپ جرنلسٹ ہیں. ما ں باپ سے اپنی نفرت گھر چھوڑ کر آیا کریں. ان کو لوگوں کی نظر میں تماشہ نی بنائئں. جرنلسٹ کا یہ کام نہیں کہ اپنے دکھرے سنائے. بلکہ اس کو عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا چاہئیے.

          3. تحریم عظیم کہتے ہیں

            میں یہی جاننا چاہتی ہوں کہ اس بلاگ کی کس لائن میں میری اپنے ماں باپ سے نفرت جھلک رہی ہے۔ ذرا راہنمائی فرما دیں۔ اور آپ کی پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ میرا قلم ہے، میں جو مرضی سنانا چاہوں گی سنائوں گی۔ رائے پر مبنی تحریر میں یہی کچھ ہوتا ہے۔

      2. Dr. Sarwat کہتے ہیں

        Dear tehreem y would I have a grudge but obviously I would comment about monotonous on the later blogs. How can one talk about idea deficit and montony on the 1st piece. Off course it would be third or fourth one of the row.
        Lastly I never said that I didnt face it I said i dont see this issue in present era. As none of my colleagues have faced it either. Universities are full with girls in every field of study, so are the workplaces

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          Dr. Sarwat, I am sorry to inform you that there are many women other than you and your friends and colleagues live in this country. If you and your friends have not faced any specific issue, it does not mean that others have not. I wrote about sexual harassment at haram. many women not only from Pakistan but from other countries have experienced it. Many have not. there is a video, I have shared on my facebook account, in which an auto driver can be seen jerking off in front of two female students waiting for the bus at the bus station of Punjab University Lahore. No, you would say that man was not jerking off in front of you so it does not happen. I wrote on malala and my experience because it happened to her, me and many others. I wrote on the women who are forced to marry, might be you were not but many are. I would suggest you to read the newspaper daily and if you don’t believe on the media please observe the society.
          And thanks for highlighting that monotonous issue. In this blog, I have tried to break that. Did not you notice or you don’t want to?

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      But where is cry against parents in this blog?

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        اوکے میں جلد تفصیل سے اس کا جواب دوں گا.

      2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        آپ کا قلم آپ کی مرضی تو پھر ڈائری لکھیں. یہاں لکھنا ہے تو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں لکھیں ورنہ مت لکھیں.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          سر یہ بتانے والے آپ کون ہوتے ہیں؟ مدیر میں ہوں، یہ فیصلہ میرا ہوگا کہ یہاں کیا چھپے گا اور کیا نہیں ۔ ادارے کی ادارتی پالیسی کے مطابق میں یہاں کام کرتی ہوں، آپ کی پالیسی کے مطابق نہیں۔ ویسے یہ بلاگ اور میرے پچھلے بھی سارے بلاگز ملک و قوم کی خدمت کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ ان میں لکھی باتیں جس طبقے اور اس کے لوگوں کے بارے میں ہوتی ہین، انہین اکثر ہی تکلیف رہتی ہیں۔ آخر سچ تو کڑوا ہی ہوتا ہے۔

      3. تحریم عظیم کہتے ہیں

        یہ ایک ایسا راز ہے جو شائد قیامت تک کھل نہ سکے گا۔

  11. Waseem akhtar کہتے ہیں

    اویس احمد صاحب کا ایک بلاگ چھپا تھا چند روز قبل. اس کے مندرجات بہت اچھے تھے کہ پاکستان کو جتنا خطرہ مذہبی جنونیوں سے ہے اتنا ہی بے اس طرح کے شتر بے مہاروں سے بھی ہے. جب تک نفرت، حسد اور خود کو عقل کل سمجھبے کی بیماری ختم نہیں ہو گی تب تک تروی بھی نہیں ہو گی.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Thank you for your irrelevant comment.

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اویس احمد صاحب کا ایک اور بلاگ بھی آج چھپا ہے اور اس کے مندرجات بھی بہت اچھے ہیں۔ پڑھیئے اور سر دھنیئے۔

      1. کامران شیخ کہتے ہیں

        اویس صاحب، آپ کے بلاگز اچھے ہیں تو کوئی پاگل ہی تنقید کرے گا. لیکن ہر بلاگ میں اپنی والدین کی بے عزتی کرنا انسانیت نہیں ہے. یہ آپ کو بھی پتہ ہے. پاکستان کی ہر چیز بری نہیں. ہم کو ہمارے ماں باپ مے پڑھایا لکھایا اور اعتماد دیا. یہ میری بات نہیں ہر دوسری لڑکی ماں باپ سے خوش ہے. یہ اکیلی اگر اپنےاں باپ کو ناپسند کرتی ہیں تو بھی ان کو یہ حق کس نے دیا کہ یہ پورے پاکستان کے والدین کو برا کہیں؟

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          اس بلاگ کی کس لائن میں، میں اپنے ماں باپ پر تنقید کر رہی ہوں؟

        2. Awais Ahmad کہتے ہیں

          آپ نے یہ بلاگ پڑھا ہے؟ اس کی کس لائن میں والدین پر بات کی گئی ہے؟ اس بلاگ میں صحافت کے حوالے سے تعلیم اور ملازمت کی مشکلوں کی بات ہوئی ہے۔ غیر میعاری تعلیم اور ملازمت میں ماحول پر بات ہوئی ہے۔ والدین کو کہاں سے گھسیٹ لائے ہیں آپ؟ اور جہاں تک بات ہے اچھے بلاگر کی تو پاکستان کی بلاگز کی نمایاں ترین ویب سائٹ “ہم سب” پر اس وقت بھی تحریم عظیم کا کالم مقبول ترین کی فہرست میں شامل ہے اور یہ کالم تقریباً چار دن مقبول ترین میں سر فہرست ہے۔ میں “ہم سب” کا مستقل قاری ہوں۔ وہاں کہنہ مشق لکھنے والے چھپتے ہیں۔
          تحریم عظیم کے بعض خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہو گا مگر ان کی تحریر کی پختگی کی گواہی خود ان کی تحریریں ہیں۔
          مجھے نہایت حیرت ہو رہی ہے کہ کیسے پوری بحث کا رخ والدین کی طرف موڑ دیا گیا ہے حالانکہ اس بلاگ کا موضوع ہی دوسرا ہے۔
          اور میں نے جتنا تحریم عظیم کو پڑھا ہے ان کے کسی ایک بھی کالم یا بلاگ میں والدین کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں دیکھا۔
          ہاں یہ مردوں کے خلاف لکھتی ہیں لیکن اس میں بھی ذاتیات کے بجائے عورتوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ اور اس بات پر یقیناً داد کی مستحق ہیں۔

          1. Nadia کہتے ہیں

            افسوس کی بات ہے. ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ آپ نے ان کے تمام بلاگز پڑھے ہیں اور ساتھ ہی آپ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ کب انہوں نے والدین کو برا کہا؟ اور آپ کہتے ہیں کہ عورتوں کے حق میں لکھتی ہیں. جبکہ زیادہ تر عورتیں ہی یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے کدی بلاگ میں سچائی نہیں. اور پاکستان کی عورتیں خوش قسمت ہیں کہ ان کو اتنے اچھے باپ بھائئ یا شوہرملا. آل پھر بھی ان کو داد کا حقدار سمجھتے ہیں تودیتے رہئے داد. لیکن یہ جتنی برائیاں گنواتی ہیں پاکستان اور پاکستانیوں کی وہ ہم کو تو نظر نہیں آتیں. یا تو آپ کو واقعی پتہ نہیں چلتا یا پھر آپ کی کوئئ مجبوری یے. لیکن ہماری کوئی مجبوری نہیں ہے. ہم کسی کو یہ حق نہی دیں گی کہ وہ عورتوں کا نام استعمال کر کے اہم رشتوں کو رسواء کرے.

          2. تحریم عظیم کہتے ہیں

            میں اسی بات پر ھیران ہوں کہ ہر کمنٹ کرنے والا ایک ہی بات کیوں کر رہا ہے۔ مجھے قوی یقین ہے کہ یہ سب کسی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے لیکن اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے بہت سے لوگ ہمیں زندگی میں ملتے ہیں۔ جو خود تو کچھ نہیں ہوتے مگر دوسروں پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اب تو میں روزانہ دنیا بلاگز پر ایک تحریر لکھوں گی تاکہ میرے یہ سب چاہنے والے ہر روز میری تحریر دیکھ کر اپنا خون جلائیں اور مجھے ایک مشہور لکھاری بننے میں مدد دیں۔

          3. تحریم عظیم کہتے ہیں

            محترمہ ندا “زیادہ تر عورتیں نہیں، آپ اور آپ کی ساتھی” یہ کہہ رہے ہیں۔ جانے کیوں آپ کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ اس ملک میں خواتین سے مراد بس آپ اور آپ کی ساتھی ہی ہیں۔ آپ برائے مہربانی اخبار پڑھا کریں۔ آپ کو معلوم ہو عورتوں کے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے۔

  12. Shahida latif کہتے ہیں

    Our universties and our teachers are best in this world. Not agree with this blogger.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      I hope one day the whole world say this.

  13. Hammad کہتے ہیں

    Truely horrible thoughts.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      of whom Sir?

  14. Naeem akram کہتے ہیں

    لکھنے والوں کے لئے بھی ایک کرائیٹیریا ہونا چاہئیے. جس کا علم کم ہو یا سچائی کی بجائے فرسودہ خواہشات اور کمتری کے احساس تلے لکھتے ہوں. ان کی تحاریر شائع نہیں ہونی چاہیئں.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      We will definitely set a criteria. thanks for your suggestion.

      1. Naeem akram کہتے ہیں

        It will be for you too. Thank u.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          Your welcome, Sir.

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      میں اس بات پر آپ سے بالکل متفق ہوں۔ آپ ایسے لکھاریوں کے نام لکھیں تاکہ ہم سب واقف ہو سکیں کہ ایسے کون سے لوگ ہیں جو فرسودہ خواہشات اور کمتری کے احساس تلے لکھ رہے ہیں۔

      1. نعیم اکرم کہتے ہیں

        اویس صاحب نام کیا لکھوں. جیسے یہ میڈم ہر وقت پاکستان ،پاکستانی ٹیچرز،اپنے والدین، مردوں تک ک خلاف ہیں. اور اس کے مقابلے میں پسند بھی کیس تو سیک جمیکن. جنہیں دنیا میں کوئی پاس نہیں بٹھاتا اور جو عورتوں کے لئے بہت ظالم ہیں. منشیات فروشی تشدد عام بات ہے. ان میں تو چھپے گوہر دیکھ لئے. برا لگا تو باپ بھائی. اور احساس کمتری کیا ہوتا ہے؟

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          آپ کے کمنٹ سے لگ رہا ہے کہ آپ سیاہ فام افراد کے متعلق شدید شپبہات کا شکار ہیں اور آپ کی بیشتر معلومات میڈیا کے ذرائع سے لی گئی ہیں۔ میں ان میں بس ذرا سا اضافہ کرنا چاہوں گی۔ پوری دنیا میں مختلف جرائم ہوتے ہیں، ان جرائم کو کسی خاص قوم یا ملک سے نتھی کرنا کسی بھی نارمل انسان کو زیب نہیں دیتا۔ میڈیا کے بہت سے مسائل ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ چیزوں کو جنرلائز کرتا ہے۔ سیاہ فام کو جیسے میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اس پر بہت سے لوگ تنقید کرتے ہین اور میڈیا خصوصاً مغربی میڈیا اب ایسے سیاہ فام کی تحقیر بھی نہیں کرتا، اگر کرے تو معافی بھی مانگتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ثناء سفیناز نے بھی اپنی لان کیمپین میں سیاہ فاموں کو ایسے انداز مین دکھایا جس سے لوگوں کے دل دکھے۔ لوگوں کے تنقید کرنے پر انہوں نے اپنی وہ لان کمپین سوشل میڈیا سے ہٹائی۔ اس لیے آپ بھی ذرا کود معلومات حاصل کریں اور دوسری اقوام کے بارے میں معلومات کے لیے میڈیا پر انحصار کم کریں۔

      2. تحریم عظیم کہتے ہیں

        جی ضرور انہیں ان سب کے نام لکھنے چاہئیے بلکہ میرے دفتر آکر مجھ سے باضابطہ مل کر بتائیں تاکہ ہم دنیا بلاگز کو مزید سے مزید بہتر کر سکیں۔

  15. تحریم عظیم کہتے ہیں

    I am very thankful to all of you who are coming to my blog page to read and criticize it. it will surely help me to improve in my profession.

  16. Awais Ahmad کہتے ہیں

    آج مجھے واقعی یقین ہو گیا کہ میرے دو بلاگ “رنگ میں بھنگ” اور “الو کا ناقد” غلط نہیں لکھے گئے۔

    1. نعیم اکرم کہتے ہیں

      اویس صاحب،آپ کے کسی بھی بلاگ پر میں نے کبھی ایک حرف بھی تمقید کی ہے تو بتائیں؟ پھر مجھے ان سے کیا ناراضگی ہے؟ اپنے بلاگز تو آپ اخلاقی طعر پر بہت مضبوط لکھتے ہیں. اور تنقید میں بھی وقار گرنے نہیں دیتے
      لیکن حیرت ہے کہ یہاں آپ جیسا دانشور بھی ایک ایسی چیز کا دفاع کر رہا ہے جو اس کو زیب نہیں دیتا. کیا اپ بھی اپنے ماں باپ کے بارے ایسا لکھ سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ضرور دفاع خریں. ورنہ کلمہ حق کہنے کی عادت .ڈالئے جناب. مجھے اور کچھ نہیں کہنا

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        بھائی یہ کون سا کلمہ حق ہے؟ آپ برائے مہربانی وہ سطر یہاں پیسٹ کر دیں جس میں میں نے اپنے والدیں کی شان میں گستاخی کی ہر اور اگر وہ سطر اس بلاگ مین سے ہو تو کیا ہی کہنے۔

      2. Awais Ahmad کہتے ہیں

        آپ کو غالباً شدید غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تحریم کو گذشتہ تقریباً ایک سال سے پڑھ رہا ہوں۔ ان کا قلم وہ برائیاں تو ضرور لکھتا ہے جو معاشرے میں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات استثنائی صورتوں کے حوالے سے بھی لکھتی ہیں اور لکھنا بھی چاہیئے کیونکہ آج تک انہوں نے ایسا کچھ نہیں لکھا جو معاشرے میں برائی کی صورت موجود نہ ہو۔
        رہی بات والدین کو برا بھلا کہنے کی تو میری درخواست صرف اتنی ہے کہ اس بلاگ کی نشاندہی فرما دیجیئے جس میں انہوں نے اپنے والدین کو برا بھلا کہا ہو۔
        میں ان کو نہ صرف دنیا بلاگز بلکہ “ہم سب” پر بھی پڑھتا ہوں لیکن میں نے کبھی ان کی کسی تحریر میں ایسا کچھ نہیں دیکھا۔
        یہ مردوں کے خلاف لکھتی ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی ان کو کسی مخصوص مرد کے خلاف لکھتے دیکھا؟ یہ ان برائیوں کے خلاف لکھتی ہیں جو مرد اس معاشرے میں برائی نہ سمجھتے ہوئے روا رکھتے ہیں۔ ایسے میں بھی ان کا قلم لڑکھڑاتا نہیں ہے۔
        میں ان کا دفاع اس لیے کر رہا ہوں کہ میں ان کی تحریروں کو پڑھتا ہوں۔
        آپ نے میری تحریر اور تنقید کے حوالے دیئے۔ تنقید مثبت ہو تو بہت اچھی چیز ہے مگر منفی ہو تو مرزا تنقید بھیانک آبادی بن جاتی ہے۔
        اور ویسے تنقید کرنے والوں سے میری ایک درخواست بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ لوگ قلم اٹھائیں۔ لکھیں۔ اس سلسلے میں میری مدد چاہیئے تو میں حاضر ہوں۔ مگر اپنی تنقید پر مضامین لکھیں نا کہ کمینٹ میں بے جا تنقید شروع کر دیں۔

        اگر آپ نے دنیا بلاگز پر کچھ عرصہ قبل مضامین پڑھے ہوں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تحریم عظیم اور میرے درمیان ایک موضوع پر بحث ہوئی تھی اور ہم دونوں نے اس پر بلاگز لکھے تھے۔ دونوں نے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دیئے تھے۔
        یہ طریقہ ہے تنقید کرنے کا اور مؤقف غلط ثابت کرنے کا۔
        محض اس بات کو لے کر کہ یہ والدین کے خلاف لکھتی ہیں، شروع ہو جانا زیادتی ہے اور اس لیے بھی کہ ایسی کسی چیز کا کوئی وجود بھی نہ ہو۔

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          میں نے اس سے پہلے ان سب کو دعوت دی ہے مضمون لکھنے کی مگر یہ سب اس پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اگر یہ تحریر سے اختلاف رکھتے ہین تو ضرور رکھیں۔ جیسے میں نے آپ کی وہ تحاریر چھاپی تھیں، ان کی بھی ضرور چھاپوں گی، اگر املاء کی غلطیاں نہ ہوئیں تو۔

        2. نعیم اکرم کہتے ہیں

          اویس صاحب ، آپ ان کا کیسا مرد پڑھ لیں. جس میں صرف اپنے باپ کی برائی اس لئے کی کیونکہ وہ ان کو باہر جانے اور کالے مردوں کے ساتھ رہنے کی اجازت نہ دیتے تھے. ملالہ والے کو پڑھئے. جس میں یہ فرماتی ہیںجب ملالہ پکو باپ پڑھا رہا تھا تو یہ چطا ،تایا دادا،دادی کو ترکی بہ ترکی جواب دینا اور چھپ چھپ کے ان کی ناتیں سننا سکھایا. یہ سب ان کو محلے کا نور چند نہیں ان کہ گھر سے ہی کوئی سکھا رہا تھا نہ؟ اور دادا دادی پھپھو، تایا چچا کے خلاف کسی کا باپ تو نہیں ہو سکتا. اپنی والدہ کے متعلق ہی کہہ رہی تھیں. یہ کوئی طریقہ. نہیں کہ نالائق آپ خود ہین گناہگار ماں باپ کو بنا دیں. دوسری بات آپ ملالہ کی کتاب پڑھئیے اویس صاحب. پھر بتائے، اس میں اسلام پاکستان آرمی کی کتنی برائی ہے. یہ کہتےیں انہوں. ے کتاب پڑھی اس میں کچھ بھی برا نہیں ہے. تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کہ یا تو ان کا دماغ ہی نہیں یا یہ غلط بیانی کرتی ہیں. صرف اپنی بات کو سچا بنانے کے لئے. آپ فیصلہ کر دیں.

    2. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بالکل غلط نہیں تھے۔

  17. کاشف احمد کہتے ہیں

    میری ذاتی راۓ میں تحریم کا یہ بلاگ ان کے پہلے لکھے گٸے بلاگز سے ہہت مختلف تھا اور جن نظریات پر تنقید ہورہی ہے اس کا ذکر صرف شروع کے چند الفاظ میں تھا جبکہ باقی تمام حصہ بہت ہی عمدہ اور سو فیصد حقاٸق پر مبنی ہے کیونکہ اس بلاگ میں لکھی گٸ بیشتر باتوں کا میں اپنی زندگی میں مشاہدہ کرچکا ہوں جبکہ اس سے پہلے تحریم کٸ بلاگز تحریر کرچکی ہیں جس میں پورا کا پورا بلاگ مذکورہ نظریات پر مشتمل ہوتا تھا تب تو ایسی تنقید نہیں ہوٸی کبھی بھی یہ چیز اس تمام معاملے کو مشکوک بنا دیتی ہے یہ میرا تجزیہ ہے ذاتی راۓ ہے اس سے آپ سب اختلاف کر سکتے ہیں

    1. نعیم اکرم کہتے ہیں

      یہاں بات شروع ہی ان کے پچھلے بلاگز کے حوالے سے ہوئی تھی کاشف صاحب. ہر کسی کو تکلیف ہی یہ یر وقت پاکستان اور والدین، اساتذہ کرام کی برائی کرتی ہیں. یہان کسی ڈاکٹر نے ان کی ماضی کے بلاگ کا حوالہ دے کر ان کو سمجھایا کہ اگر اپ کچھ اچھا نہیں لکھ سکتیں تو ضروری تو نہیں کہ آپ ہی نے لکھنا ہےم آپ وہ کام کریں جس کی تنخواہ ملتی یے. اور اچھا لکھنے والوں کو موقع دیں. یہ ان کے پیچھے پڑ گیئں. جس وجہ سے اور لوگ بھی کود پڑے. آپ ایمانداری سے بتائیں کیا ان کے بلاگز اس لائق ہیں کہ چھپ سکیں.؟ کیا واقعی ہمارے والدین ، اساتذہ اور باپ بھائی بیٹا اتنے ہی برے ہیں جتنا یہ فرماتی ہیں؟ کیا واقعی ہمسری مسئیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ دادا دادی چچا تایا کی برائی کرو اور باتیں سن کر آو؟ آپ ہی انصاف کر دیں. صرف اس لئے چھپتے ہیں ” ہاتھ میں ماچس آئی ہوئی والی بات ہے نہ؟

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        نعیم صاحب، اول تو کاشف صاحب یا کوئی اور یہ فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں کہ دنیا بلاگز پر کس کا بلاگ چھپے گا اور کس کا نہیں۔ یہ اختیار دنیا نیوز گروپ نے مجھے دیا ہے اور میں اس میں خودمختار ہوں۔ دنیا بلاگز پر لکھنے والا ہر بلاگر جانتا ہے کہ اسے یہاں چھپنے کا کتنا مساوی موقع ملتا ہے۔ حتیٰ کہ کاشف صاحب بھی دنیا بلاگز کے لیے چند تحاریر لکھ چکے ہیں اور یہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کے ایک پیغام کو بھی میں کتنا سیریس لیتی ہوں اور فوری طور پر تبدیلیاں کرواتی ہوں۔ کیوں کاشف صاحب، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں؟ ایسے بھی بہت سے بلاگز دنیا بلاگز پر چھپتے ہیں جنکی مجھے 70-80 فیصد ایڈیٹنگ کرنی پڑتی ہے لیکن میں کرتی ہوں کیونکہ کبھی مجھے بھی کسی نے موقع دیا تھا اپنی ویبسائٹ پر اظہارِ خیال کرنے کا اور بہتر ہونے کا تو میرا بھی فرض ہے کہ میں بھی دوسروں کو موقع دوں۔ آپ نے تنقید برائے تنقید کرنی ہے تو ضرور کریں۔ میرے لکھاری جانتے ہیں کہ میں کس حد تک ان کی مدد کرتی ہوں۔

        1. کاشف احمد کہتے ہیں

          بلکل ایسا ہی ہے تحریم میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں

          1. تحریم عظیم کہتے ہیں

            بہت شکریہ آپ کے اتفاق کرنے کا۔ یہاں میں وضاحت کرتی چلوں کہ میرا یہ رویہ صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں تھا بلکہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

      2. کاشف احمد کہتے ہیں

        نعیم اکرم صاحب بہت شکریہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا میری ذاتی راۓ میں تحریم کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے پر لکھنا تو ان کو آتا ہے ان کے بلاگ ہم سب پر بھی چھپتے ہیں اس لیٸے آپ کا یہ اعتراض درست نہیں کہ بلاگ کہیں اورنہیں چھپ سکتا اور بلکہ میں تو یہ باوجود ان کے نظریات سے اختلاف کے یہ سمجھتا ہوں کہ میڈیا میں ان نظریات پر لکھنے والوں کے لیۓ زیادہ جگہ ہے بنسبت بنیاد پرست نظریات کے

        دوسری بات تحریم نے کچھ اکثر اور بیشتر لففظ کے بعد اساتذہ اور والدین اور یونیورسٹیوں کا ذکر کیا مطلب واضح ہے کہ سب نہیں کچھ اکثر یا بیشتر ایسا کرتے یا ہوتے ہیں

        آخری میں آپ سے میں راۓ مانگتا ہوں کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ہمارا تعلیمی نظام ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں خاصہ پرانہ ہے اور اساتزہ بھی پرانے طریقوں سے پڑھانے پر مجبور ہیں اس کی وجہ اساتذہ اکیلے نہیں اس کی وجہ وساٸل کی کمی ہے حکومت کی عدم توجہ اور وساٸل مہیا نہ کرنا بھی ہے کیا ایسا نہیں ہے ؟ کیا یونیورسٹی میں کسی بھی شعبے کی لیب میں جدید آلات اگر غلطی سے موجود بھی ہوں تو کیا اسی طرح منع نہیں کیاجاتا جیساکہ بیان کیا گیا ہے ۔ اں البتہ ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول پر صورت حال کافی بہتر ہوجاتی ہے کچھ آلات استعمال کرنے کی اجازت مل جاتی ہے

        یہ میری ذاتی راۓ ہے حامل ہذا کو مطالبے پر دی گٸ ہے
        عشرت حسین
        شکریہ

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          آپ کے کمنٹ کی آخری سطر مجھے بہت اچھی لگی کاشف صاحب۔

          1. کاشف احمد کہتے ہیں

            شکریہ

        2. Awais Ahmad کہتے ہیں

          واہ۔ کیا اختتام کیا ہے۔ بہت عمدہ۔

    2. تحریم عظیم کہتے ہیں

      جی، میں خود حیران ہوں کہ یہ سب تب کہاں تھے جب میرےپچھلے بلاگ چھپے تھے، تب تو یہ گونگے کا گڑ منہ میں ڈالے بیٹھے رہے اور آج انہیں اس بلاگ پر میرے وہ تمام بلاگ یاد آ رہے ہیں۔ اور یہ بھی یاد آرہا ہے کہ پاکستانی مرد کتنے شریف ہیں اور میں ناحق ہی ان کی برائی کرتی ہوں۔

  18. نیا پاکستانی کہتے ہیں

    یہاں ڈاگیز کی طرح جنگ کیوں جاری ہے؟

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      یہ تو آپ کو جنگ میں شامل فوجی ہیں بتا سکتے ہیں، انتظار کریں ان کے نئے حملے کا۔

      1. نیا پاکستانی کہتے ہیں

        آپ خود بھی اس جنگ کی مستند سپاہی ہیں. میں نے تو نہیں دیکھا کہ لکھاری خود آ کر ہر کمنٹ پر لڑائی لڑے. آپ نے جو کہنا تھا کہہ دیا. اب یہ عوام پر چھوڑ دیں کہ ان کی کیا رائے ہے.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          اس کے پیچھے بھی ایک فلسفہ ہے۔ آپ نہیں سمجھیں گے جناب۔ 😀

  19. کاشف احمد کہتے ہیں

    اس تحریر کی سب سے اچھی بات مجھے یہ لگی کہ اس میں مجھے ان سوالوں کے جواب مل گۓ جن کی وجہ سے میری کچھ تحریریں دنیا بلاگز میں نہیں چھپ سکیں اسی لیۓ میں اس تحریر کا دفاع کر رہا ہوں کوٸی یہ نہ سمجھے کہ میں ایڈیٹر خوش آمد کر رہا ہوں جیسا کہ کچھ لوگوں نے ایسا کہا ہے

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      میرا کوئی اتنا زیادہ تجربہ نہیں ہے لیکن چونکہ میں خود زمانہ طالب علمی میں بہت زیادہ ایسے شکوک و ابہام کا شکار رہی ہوں تو مین یہ سمجھتی ہوں کہ مجھے دوسرے طلباء یا نئے صحافیوں کی مدد کرنی چاہئیے۔

      1. کاشف احمد کہتے ہیں

        ایسی تحریر یں لکھتی رہیں آپ کیونکہ پردے کے پیچھے ایڈیٹنگ کس طرح اور کیا کیا باتیں مد نظر رکھ کر کی جاتی ہیں اور کن کن دباٶ اور ادارے کی پالیسی کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جب تک لکھنے والوں اس کا اندازہ نہیں ہوگا ان کی تحریریں چھپ نہیں سکیں گی اور میری نظر میں بہت سی باتیں ایسی بھی ہونگی جنہیں آپ بیان نہیں کر سکتی جن کا سامنا آپ کو کرنا پڑتا ہوگا امید ہے ایسی تحریروں سے لکھنے والوں کو بہت مدد ملے گی

        1. نعیم اکرم کہتے ہیں

          چلین آپ کو بہت دن سے نہیں پڑھا تھا کاشف صاحب. سمید ہے اب آپ کو تو پڑھا کریں گے. یہاں تو یہی ہے سہاگن وہی جو پیا بن بھائے.

  20. Ali کہتے ہیں

    Looks like you have mentioned too many culprits in this blog: famous journalists who do not teach but collect their salaries, incompetent people in media, no entry barriers which allows non professional behaviour, etc. Itna such karrva hota hay…

  21. عبدالصبور کہتے ہیں

    تحریر کے آخر میں تنخواہ کے علاوہ کوئی اور لفافہ نہ وصول ہونے کا بتا یا گیا ہے۔۔اگر واقعی ایسا ہو تو زبردست مگر تحریر میں خبر کی بجائے نصحیت ہونا چاہی تھی کہ تنخواہ کےلفافے کے علاوہ اور کوئی لفافہ وصول نہ کریں۔۔۔

  22. wasif malik کہتے ہیں

    صحافت بظاہر ایک آسان پیشہ مانا جاتا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔

    ””””””””””””’صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو سننے میں تو بہت آسان لگتا ہے مگر حقیقت میں بہت مشکل ہے”””””
    (یہاں سننے میں آسان لگتا ہے، درست جملہ نہیں ہے، ویسے تو صحافت اسان پیشہ سمجھا بھی نہیں جاتا لیکن

    چونکہ آپ کا مظمون ہے اس لئے صرف جملہ تک بات کر رہا ہوں۔ )

    یہ ایک ایسی منزل ہے جہاں تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے، ہر کسی کو اپنے لیے خود راستہ بنانا پڑتا ہے۔ کسی پر انحصار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، بس اپنا ہی وقت ضائع ہوتا ہے۔؛؛؛

    (منزل کھٹن ہے اور راستہ واضح نہیں۔ کامیابی کے لئے دوسروں کی بجائے خود پر انحصار کرنا بہتر ثابت ہوتا ہے۔)

    اگر میں اس مضمون کو ایڈٹ کرتا تو ابتدائیہ ضرور تبدیل کرتا۔

    باقی اتنی تنقید بھی نہیں بنتی جتنی کی گئی ہے۔ قارئین سے بھی درخواست ہے کہ اگر آپ کو کوئی تحریر پسند نہ ائے تو اپنی رائے ضرور دیں۔ اور جب مصنف آکر اپنا نقطہ نظر واضح کر دے تو پھر بات ختم کر دیا کریں۔

    1. کاشف احمد کہتے ہیں

      واصف صاحب آپ کی مجھے یہ بات اچھی لگی کے آپ نے بے نقطہ اور بغیر حوالے کے تنقید نہیں کی اس میں دوسرے نقادوں کے لیۓ بھی پیغام ہے

    2. Tehreem Azeem کہتے ہیں

      Bohat shukriya wasif. Har aik ka apna style hota hai likhne ka. Agr ap aik hi jumla kai likhaariyo ko apne andaz me likhne ko dain gay to ap dekhe gay k hr koi usay mukhtalif andaz me likhe ga. Anyhow, hm sb yaha seekhne k lye hain. Me ap or baki sb likhariyo se bht kuch seekhti hu or hr roz behatr hoti hu. Baki umeed hai k ap k ye followers ya dost bhi ab ap k is comment se seekhay gy or shayed aglay kis blog per hamla krna hai k lye ap k new order ka intezar kre gy. Shukriya

      1. Wasif malik کہتے ہیں

        Meri ap se kya dushmani hai jo maine kisi ko order dene hain? Na e maine ap wala kam krna hai aur na e mujy kou shikayat hai. Maine jb kbi kuch bheja ap ne chapa. Meri ye honest opinion thy. Apko bura lga tu muzrat. Aindha comment ni dunga. Lakin ap comments disable kr dijiye ta k koi ap pr tanqeed na kare.
        Thank u v much.

  23. Usman Butt کہتے ہیں

    اس بلاگ میں آپ نے صحافتی یونیورسٹیوں کے جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اس کی اشد ضرورت تھی، واقعی یونیورسٹیوں سے ہم جو ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں وہ ہماری فیسوں کی رسید ہی لگتی ہے، میرٹ پر اساتذہ ہوں تو طالب علموں کا مستقبل بنے، جو اچھا استاد آتا وہ جلد چھوڑ کے چلا جاتا،، خیر آپ کے اس بلاگ نے ایک طرح سے میرے خیالات کی بھی ترجمانی کردی ہے، شکریہ

  24. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    آپ کا دشمن کوئی اور نہیں آپ کی کارکردگی ہے. اگر آپ نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو کبھی اس پر کبھی اس پر الزام لگاتی رہیں گی لیکن تنقید ختم نہیں ہو گی. یہ تب ختم ہو گی جب آپ اچھا لکھنا شروع کریں گی. میں 1980 سے جرنلزم کر رہا ہوں. مجھے کوئی آرڈر نہیں دے سکتا. اگر ہم کسی کی سنتے ہیں تو اپنے دل کی. آپ آج اچھا لکھیں ہم آج ہی آپ کی تعریف کریں گے. ورنہ تنقید تو ہے ہی.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      میں آپ کی تنقید ضرور سیریس لیتی اگر آپ، واصف ملک، ڈاکٹر ثروت اور کئی اور ایک جیسے ہی آئی پی ایڈریس نہ استعمال کر رہے ہوتے۔

  25. تحریم عظیم کہتے ہیں

    I have to share this here. All this hateful and irrelevant comments on my article came from one person. he used different names and email ids to post comments dont knowing that i can see the IP address here. All comments were done using same IP address. what does it show? it shows that there are many people around us who are insecure and to come out of this insecurity they do such cheap things. I have given him a warning though i could have taken him to FIA cyber crime cell but i like to give chances.
    Thanks for understanding folks!

  26. Awais Ahmad کہتے ہیں

    ثناءخوان تخریب بلاگنگ کہاں ہیں؟

  27. راجہ کاشف جنجوعہ کہتے ہیں

    تحریم صاحبہ،
    دور جدید کے تقاضوں کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں مجھے بھی کچھ ایسے ہی مشاہدات و تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔
    جامعات کے شعبے اور ان کے اساتذہ عہد جدید کی بجائے قدیم اسلوب سے جڑے رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ، اس بات میں وزن ہے مگر مجھے اپنی جامعہ میں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اس کی وجہ اساتذہ کا عملی دنیا کے ساتھ ربط بھی تھا۔
    آپ نے جو نکات بیان کئے ہیں وہ قابل عمل ہیں۔
    میری رائے میں آپ اس حوالے سے مزید لکھیں تو طالبعلموں کے لئے سود مند ہوگا۔
    رہے کمنٹس جن میں کچھ مسائل کی نشان دہی آپ نے کی
    چلیں ان سے بلاگ کو مقبولیت کی سند مل گئی۔
    اسے خیر مستور کہہ سکتے ہیں

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ، جی بس واصف ملک صاحب نجانے کیوں ایسی اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔ اپنے ہی انٹرنیٹ سے نام بدل بدل کر کمنٹ کر رہے ہیں۔

  28. شہروز کلیم کہتے ہیں

    مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے، آج بھی جامعہ پنجاب میں جو سلیبس پڑھایا جا رہا ہے وہ طلباء کو کسی بھی طریقے سے جدید دور کے طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    شاید وہ آج بھی سوشل میڈیا اور آنلائن جرنلزم کو نصاب میں شامل نہ کر سکے، حالانکہ بلاگنگ وغیرہ شاید دور جدید کا سب سے مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      میں اس بات سے متفق ہوں۔ میں خود جامعہ پنجاب کی طالب علم رہ چکی ہوں۔ وہاں اب بھی کافی پرانا نصاب پڑھایا جاتا ہے بلکہ وہ نصاب بھی کوئی کوئٰ پڑھاتا ہے، زیادہ تر تو آ کر ہنس کھیل کر چلے جاتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.