معذوری جائے عبرت ہے بے دانش لوگوں کی نظر میں

1,879

معذور بچے کا کسی کے گھر پیدا ہو جانا والدین کے ناکردہ گناہوں کی سزا سمجھا جاتا ہے۔ میں شاید 5 سال کا تھا جب ایک صوم و صلاۃ کی پابند بزرگ خاتون ہمارے گھر تشریف لائیں. آتے ہی میری ماں سے بولیں،

بیٹی! میں تُجھ سے ایک بات پوچھوں؟ سچ بتائے گی نا؟

ماں نے کہا، ہاں بے بے! سچ بتاؤں گی؟

وہ خاتون بولیں، اچھا تو پھر  تُو سوچ کر بتا کہ تُم نے شادی کے بعد کوئی ایسا گُناہ تو نہیں کیا جس کی وجہ سے تمہارے بیٹے کو اللہ نے نظر جیسی نعمت سے محروم کر دیا۔ دیکھ تیرا بیٹا کتنا پیارا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ بڑا ذہین ہے، جس سے ایک بار مل لے اُس کا نام نہیں بھولتا۔

اب وہ خاتون مجھ سے مخاطب ہوئیں، ہاں تے پُت توں دس میں کون واں؟

میں نے اُس کی ٹانگوں سے لپٹتے ہوئے کہا، توں بی بی رسولاں ایں۔

اُس نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا، چل چُوٹھا! کسے تھاں دا میں تے رسولاں نہیں۔

میں نے اُس سے زیادہ پُر اعتماد لہجے میں کہا توں بی بی رسولاں ہی ایں۔ چاچے اکرم دی ماں۔ فرمان دی دادی۔

اُس نے کھلکھلا کر ہنسنا شروع کر دیا۔ مجھے اُٹھا کر گلے سے لگایا۔ پیار کیا۔ اللہ ہو اکبر۔۔۔ اللہ ہو اکبر۔۔۔ ماشاءاللہ کی گردان کی اور مجھے کھیلنے کے لیے چھوڑ دیا۔ میں ماں کی طرف بھاگا اور ان کی گود میں سوار ہو گیا۔

خاتون نے اپنی گفتگو کا سلسلہ دوبارہ اسی سوال کی طرف موڑا۔ ہاں تو بیٹی! تو سچ بتا، تُو نے شادی کے بعد کوئی ایسا گناہ تو نہیں کیا جس کی اللہ نے تجھے ایسی سزا دی ہے۔

ماں بولی، بےبے! اللہ میرے گناہ کی سزا اس معصوم کو کیون دینے لگا؟ اگر گناہ میں نے کیا ہے تو اُس کی سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہئیے۔

یہ کہتے کہتے اُن کی آواز بھرا گئی۔ چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی جسے میری ہی ماں نے توڑا۔

بےبے! مجھے سب اس بچے کی وجہ سے گناہ گار ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ کیا ساری دنیا کے گناہ میں نے کیے ہیں؟ کیا تو، تیری بہو بیٹیاں اور یہ سب گاؤں والے پارسا ہیں؟ تم لوگوں میں سے کون کعبہ سے آیا ہے؟ کون گنگا نہایا ہے؟ ماں کے ظبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔

بی بی رسولاں نے اپنا تھیلا پکڑا اور “میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی” کہتی ہوئی بھاگ لی۔

یہ صرف میری ماں کی ہی کہانی نہیں بلکہ ہمارے اس معاشرے کی کہانی ہے جہاں ماں کی کوکھ کو مشین سمجھا جاتا ہے جس سے اپنی مرضی اور ڈیمانڈ کے مطابق بچے کا حصول پورا خاندان اپنا حق سمجھتا ہے۔ اولاد کی صنعتکاری پر پلنے والے اس معاشرے کو جدید خصوصیات کے حامل انسانی ماڈل کے حصول کی خواہش نے pick and choose  کا اسیر بنا دیا ہے۔ اسی پِک اینڈ چوز کے اصول نے معاشرے میں able persons اور disable persons جیسی تفریق امیز اصطلاحات متعارف کروائیں ہیں۔ اِنہیں اصطلاحات کی بنیاد پر جو بیانیہ تشکیل پایا اُس بیانیے نے پاکستان کی 10 فیصد آبادی کو ‘کُچھ نا کرنے کے قابل’ قرار دے کر معاشرے سے الگ تھلگ کر کے حقومتی امداد دینے والے اداروں اور صدقہ و خیرات کرنے والے افراد کے رحم و اکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

معاشرے کی اس بے ہِسی نے معذور افراد کی خودداری کو نہ صرف بُری طرح کچلا ہے بلکہ ان کے احساسات کو بڑی بے رحمی سے مسخ بھی کیا ہے۔ مالی امداد کلچر نے معذور افراد کو ان کی فطری صلاحیتوں سے محروم کر دیا ہے۔ آج معذور افراد اشرف اُلمخلوقات کا حصہ ہونے کے باوجود کئی مخلوقات سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یوں تو ہر طرح کی جسمانی معذوری رکھنے والے افراد اس بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں لیکن نابینا افراد نا قابلِ بیان حد تک مصائب و آلام کا شکار نظر آتے ہیں۔ تعلیمی قابلیت میں نابینا افراد پاکستان کے تمام معذور افراد سے دو قدم آگے رہے ہیں لیکن بےروزگاری کی شرح نابینا افراد میں 80 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

میرے نزدیک نابینا افراد میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کی بنیادی وجہ خود اُن کی حاصل کی ہوئی تعلیم ہی ہے۔  ہمارے سماجی نظام میں نابینا افراد کے لیے ترقی کرنے کے مواقع محدود سے بھی کم ہیں۔ نجی زندگی سے لے کر تعلیم جیسی نعمت اور با عزت روزگار تک کے فیصلے نابینا افراد اپنی مرضی سے نہیں حالات کے جبر سے کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر نابینا افراد اسلامیات، اردو، پنجابی، سپیشل ایجوکیشن ، انگریزی اور پولیٹیکل سائینس جیسے لسانی اور سماجی مضامین میں داخہ لینے پر مجبور ہیں۔ سماجی علوم میں وہ علوم آتے ہیں جنہیں ترقی یافتہ دنیا میں بھی دوسرے درجے کے علوم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں سوشل سائینس کے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد کو تو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں سوشل سائینس کے مضامین کا سب سے موثر استمال یہ ہے کہ پاکستان کی شرح خواندگی میں اضافہ دیکھنا اور کسی بڑے انقلاب سے بچ نکلنے کی خاطر متوسط اور غریب طبقے کے لیے social sciences کے مضامین کو مراعات یافتہ تعلیمی نظام کے متبادل کے طور پر فراہم کرنا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ social sciences میں اکثرو بیشتر وہ طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے انجینئیرنگ، میڈیکل اور نون میڈیکل سائینس میں no entery کا بورڈ لگ چکا ہوتا ہے۔

نابینا افراد بھی ایسے ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے لیے پاکستان میں سائینسی تعلیم حاصل کرنا فی الحال ناممکن ہے. سوشل سائینسز میں بھی نابینا افراد ایسے علوم تک محدود ہیں جن میں صرف تھیوری ہی پڑھائی جاتی ہے اور پریکٹیکل نہیں کروائے جاتے۔

 بحالی ِ معذوراں 1981ء کے اورڈیننس کے تحت اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ مقرر ہے۔ بیبائی سے محروم افراد کے علاوہ باقی تمام معذوریوں کے حامل افراد کسی حد تک اس کوٹہ سسٹم سے مستفید بھی ہو رہے ہیں لیکن وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اس نقطے پر بظاہر اتفاق نظر آتا ہے کہ نابینا افراد کو سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، لیکچرر شپ کے چند مضامین اور سول سروسس کے 1،2 گروپس کے علاوہ کسی بھی ادارے میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عالیٰ حکام اپنے موقف میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ یہ لوگ دیکھ نہیں سکتے اس وجہ سے نابینا افراد کو کسی انتظامی عہدے اور انتظامی مشینری میں کسی کل پُرزے کے طور پر فٹ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی یہ دلیل حرفِ حقیقت ہے کیوں کہ تکنیکی طور پر 1870ء کے دفتری نظام میں تو نابینا افراد کسی بھی دفتری عہدے کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے لیکن دفتری نظام میں بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق بر وقت اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا یہ موقف آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کے چیپٹر سے ٹکراتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عدالتیں حکومت کے اس موقف کو انسانی حقوق کے منافی سمجھتی ہیں۔

بنیادی حقوق کے چیپٹر کا سہارا لے کر کمزور سے کمزور وکیل بھی روسٹرم پر صفِ اول کے سرکاری وکیلوں کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔ انتظامی ستون کی یہ بودی دلیلیں اور عدالتی ستون سے کی جانے والی مفادِ عامہ کے مطابق اپنی تشریحات اور میڈیا کی دھواں دار کوریج نابینا افراد کے موقف کو تقویت دے رہی ہے اور نابینا افراد کے احتجاج میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔ حقومت عملی اقدامات کرنے کی بجائے معذور افراد سے بھی اپوزیشن کی طرح آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے موڈ میں نظر آتی ہے اور حکومت نابینا افراد کے خالص بنیادی حقوق پر مبنی مطالبات پر ریاستی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاٹھی چارج اور پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں کے ذریے زخمی اور ہراساں کرتی ہے۔

اگر حکومت نے اپنی مزاہمتی حکمت عملی میں مزید شدت پیدا کی تو ہلاکتوں کا خدشہ ہے اور اگر ایسا ہوا تو سول سوسائیٹی میں سانحہ قصور جیسا غم و غصہ پیدا ہو سکتا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہئیے کہ تحمل کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑے۔ نابینا افراد کی زندگیوں میں پیش آنے والے مسائیل پر سیاسی طور پر پُر کشش اور عارضی اقدامات کرنے کی بجائے حقیقت پر مبنی پائےدار جامع اور موثر حقمت عملی تشکیل دے اور نابینا افراد کے روزگار سے متعلق حقائق معلوم کرنے کے لیے facts findings commition تشکیل دے جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نابینا افراد کے ساتھ ساتھ ماہرِ تعلیم، ماہرِ معاشیات اور فَنی مہارتوں، انفرمیشن ٹیکنالوجی، انجینئیرنگ کے ماہرین پر مشتمل افراد تحقیق کر کے قابلِ عمل حل تجویز کر سکیں۔

میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ نابینا افراد عام افراد کے مقابلے میں زیادہ پریکٹیکل اور پرعزم ہوتے ہیں۔ اِن میں چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش دوسرے لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی خواہش اِنہیں زندگی کے کمزور لمحات میں بھی زندگی سے مایوس نہیں ہونے دیتی۔ آپ نے یہ کبھی نہیں سنا ہو گا کہ حالات سے دل برداشتہ ہو کر کسی نابینا شخص نے خُود کُشی کرلی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے نابینا افراد کو بے مثال ذہنی ذخائر سے نوازا ہے۔ اگر نابینا افراد کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت فراہم کر دی جائے تو نابینا افراد پاکستان کا مضبوط ترین بزنس کلاس اور working class طبقہ بن سکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت خوب موضوع اٹھایا ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

  2. اعجاز احمد کہتے ہیں

    جی آپ نے صحی فرمایا اس موزو پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے یہ آغاز ہے میں انشالہ لکھون گا بہت جلد آپ میری نءی تحریر پڑھیں گے انشالہ

تبصرے بند ہیں.