نفرت ہے عجب چیز جہان تگ و دو میں

19,370

نفرت انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔ خاص طور سے اس وقت جب انسان کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس نفرت کی وجہ کیا ہے۔ ایسے انسان قابل رحم ہوتے ہیں جو بغیر حقائق جانے کسی سے نفرت پر مجبور ہو جاتے ہیں یا مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی نفرت بڑھتی ہے اور بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اپنی نفرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کچھ کر جاتے ہیں جو ان کی اصل شخصیت سے میل نہیں کھاتا۔ ممکن ہے بعض اوقات وہ خود بھی اپنی اس نفرت پر حیران ہوتے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خود انہیں اپنی نفرت سے نفرت ہو مگر اپنی نفرت سے نفرت کرنے کے باوجود وہ نفرت کا پرچار کیے بنا نہیں رہ پاتے۔ یہ خیال مجھے ملالہ یوسفزئی کے حالیہ دورہ پاکستان میں اس بچی کے خلاف سوشل میڈیا پر پھیلتی ہوئی نفرت دیکھ کر آیا۔

ملالہ یوسفزئی وہ بچی ہے جو اپنی تعلیم دوستی کے باعث طالبان کے حملے کا شکار بنی۔ طالبان کے بہت سے شکاروں کے برعکس یہ خوش قسمت بچی زندہ بچ نکلی اور یہی زندہ بچ جانا اسے اپنی ہی قوم کے بہت سے لوگوں کی نفرت کا نشانہ بنا گیا۔ جو معروف اور حیرت انگیر وجوہات ملالہ سے نفرت کے لیے بیان کی جاتی ہیں ان میں “گولی کا لگنا ڈرامہ تھا۔ ملالہ نے پاکستان کی کون سی خدمت کی ہے۔ ملالہ یہودیوں کی ایجنٹ ہے۔ نہ صرف یہودیوں بلکہ مسیحیوں، ہندوؤں، ملحدوں، لبرلوں اور معلوم نہیں کن کن کی ایجنٹ ہے۔ ملالہ نے اپنی کتاب میں اسلام، پاکستان اور پاکستان کی فوج کے خلاف زہر اگلا ہے۔ ملالہ کو بیرونی طاقتیں تیار کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں وہ پاکستان کی وزیر اعظم بن سکے۔ ہماری ہیرو ملالہ نہیں بلکہ اے پی ایس کے بچے ہیں جو پاکستان میں ہی رہ رہے ہیں اور اسی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔” سرفہرست ہیں۔ ان کے علاوہ بھی لیکن بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں مگر ان وجوہات کے اعلیٰ اخلاقی الفاظ اور افکار کی بنا پر ان کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔

ان وجوہات کے اثبات اور تردید میں بہت سے لوگ لکھ چکے اور لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ جو ان وجوہات کو سچ سمجھتے ہیں وہ ان کی ترویج اپنے ایمان کاحصہ سمجھ کر فرما رہے ہیں اور جو ان وجوہات کو غلط سمجھتے ہیں وہ ان کی تردید اور رد میں اپنی رائے بیان کرتے چلے جا رہے ہیں۔ میں اس بارے میں جو بھی لکھ دوں وہ ان سب باتوں سے الگ نہیں ہو گا جو صاحب رائے اور کہنہ مشق قلم کار پہلے ہی بیان کر چکے ہیں لہٰذا میں ملالہ یوسفزئی کی صفائی میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ میری تحریر پڑھ کر کسی نے اپنی رائے تبدیل نہیں کرنی۔ جس نے جو تہیہ کیا ہوا ہے وہ اسی رائے پر قائم رہے گا۔ ملالہ کو برا سمجھنے والے مجھے گالیاں دے دیں گے اور اچھا سمجھنے والے میری تحریر کی تعریف کر دیں گے اور وقت آگے بڑھ جائے گا۔ چناچہ اس بحث کی بجائے ہم ایک اور حقیقت کی طرف چلتے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کے پاکستان کے دورہ کے ساتھ ہی جو حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم لوگ بلا لحاظ فکر انتہا پسندی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے عام طور پر مذہبی طبقات کو انتہا پسند مانا جاتا تھا اور روشن خیال طبقات کے بارے میں یہ رائے قائم ہو چکی تھی کہ وہ پاکستان کا معتدل چہرہ ہیں۔ مگر اب نظر یہ آ رہا ہے کہ پاکستان کا معتدل چہرہ بھی دراصل پاکستان کا وہ انتہا پسند چہرہ ہی ہے جس نے اپنے اوپر لبرل ہونے کا نقاب چڑھایا ہوا تھا۔ ملالہ کے دفاع میں بے دریغ مذہبی طبقات اور تعلیمات کو نشانہ بناتا ہوا یہ طبقہ اپنی اصل میں ان مذہبی انتہا پسندوں سے کسی بھی طرح مختلف نہیں ہے جس کی ہجو یہ جا بجا لکھتے چلے جاتے ہیں۔

ہمیں اب اس مغالطے سے باہر نکلنا ہوگا کہ پاکستان میں صرف مذہبی طبقہ ہی انتہا پسندی کا نمائندہ ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ انتہا پسندی ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ اب اس کی زد سے مذہبی، لبرل، سیکولر، ملحد کوئی بھی باہر نہیں رہا۔ بلکہ میں یہ بھی لکھنا چاہوں گا کہ اس وقت انتہا پسندی کسی بھی انداز فکر سے بالاتر ہو کر ہمارے معاشرے کی جڑوں میں گھس گئی ہے۔ اور انتہا پسندی کسی بھی قوم کی بنیادیں ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس معاملے کی نزاکت کو محسوس کرنے کی بجائے اس راستے پر قدم آگے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عزت نفس کو سفاکی سے مجروح کیا جا رہا ہے۔ علامہ اقبال کے مصرعے “جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو” کے مصداق ہم ہر اس نقش چاہے وہ کہنہ سال ہو یا جدید، اپنی راہ سے ہٹا دینا چاہتے ہیں جو ہمارے ذہنی میلان سے میل نہیں کھاتا۔ جب ہم اپنے مؤقف کے حق میں دلیل نہیں پیش کر پاتے تو دوسرے کے مؤقف پر تبرا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم ہر قیمت پر صرف اور صرف اپنی منوانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں بے چاری ملالہ کیا بچتی ہے۔ اس قوم میں تو جید علمائے کرام سے لے کر معروف فلسفیوں، علم دوستوں اور سائنسدانوں تک سبھی کے افکار کے پرخچے وہ لوگ اڑا رہے ہیں جن کی اپنی فکر ہمیشہ فکرمندی کا شکار رہتی ہے۔

یہی چیز نفرت کہلاتی ہے۔ ہم ہر اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جس کو ہم اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہم اس کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ البتہ نفرت کی انتہا پر جا کر اپنا آپ بگاڑ لیتے ہیں۔ ننانوے فیصد معاملا ت میں ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیوں نفرت کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم نے نفرت کرنی ہوتی ہے۔ چلیں پھر نفرت ہی کرتے ہیں۔ مگر ایک بات ضرور سمجھ لینی چاہیئے۔ نفرت کرنے والے لوگ یا معاشرے یا قوم دنیا میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ ہمیشہ پیچھے رہتے ہیں۔ پیچھے چلتے ہیں اور اپنے سے آگے چلنے والوں سے نفرت کرتے چلے جاتے ہیں۔ آیئے ہم بھی مزید نفرت کریں کیونکہ:

نفرت ہے عجب چیز جہان تگ و دو میں

پہناتی ہے ہر شخص کو تاج سرِ خارا

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

91 تبصرے

  1. واصف ملک کہتے ہیں

    ملالہ یوسفزئی کے پاکستان کے دورہ کے ساتھ ہی جو حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم لوگ بلا لحاظ فکر انتہا پسندی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے عام طور پر مذہبی طبقات کو انتہا پسند مانا جاتا تھا اور روشن خیال طبقات کے بارے میں یہ رائے قائم ہو چکی تھی کہ وہ پاکستان کا معتدل چہرہ ہیں۔ مگر اب نظر یہ آ رہا ہے کہ پاکستان کا معتدل چہرہ بھی دراصل پاکستان کا وہ انتہا پسند چہرہ ہی ہے جس نے اپنے اوپر لبرل ہونے کا نقاب چڑھایا ہوا تھا۔ ملالہ کے دفاع میں بے دریغ مذہبی طبقات اور تعلیمات کو نشانہ بناتا ہوا یہ طبقہ اپنی اصل میں ان مذہبی انتہا پسندوں سے کسی بھی طرح مختلف نہیں ہے جس کی ہجو یہ جا بجا لکھتے چلے جاتے ہیں۔

    یہی چیز نفرت کہلاتی ہے۔ ہم ہر اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جس کو ہم اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہم اس کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ البتہ نفرت کی انتہا پر جا کر اپنا آپ بگاڑ لیتے ہیں۔ ننانوے فیصد معاملا ت میں ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیوں نفرت کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم نے نفرت کرنی ہوتی ہے۔ چلیں پھر نفرت ہی کرتے ہیں۔ مگر ایک بات ضرور سمجھ لینی چاہیئے۔ نفرت کرنے والے لوگ یا معاشرے یا قوم دنیا میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ ہمیشہ پیچھے رہتے ہیں۔ پیچھے چلتے ہیں اور اپنے سے آگے چلنے والوں سے نفرت کرتے چلے جاتے ہیں۔ آیئے ہم بھی مزید نفرت کری

    ” اویس بھائی یہ دو پیراگراف حاصل بلاگ ہیں. بلاشبہ ملالہ پر اتنا کچھ لکھ اور چھپ چکا ہے کہ آگے کچھ بھی نیا کہنے کی گنجائش نہیں. سب کو حق حاصل ہے کہ ملالہ بارے جو رائے چاہیں رکھیں. لیکن جس چی کی واقعی ہمیں ضرورت ہے وہ ان پیراگراف میں واضح مر دیا گیا ہے، اعتدال پسند بننا ہوگا، عدم برداشت، حسد اور نفرت جیسے جذبوں پر قابو پانا ہوگا.واقعئ بہت عالیشان بلاگ لکھا ہے. اج تک آپ کو جتنا پڑھا ہے یہ ان میں سر فہرست ہے. اچھے سے اچھا لکھتے رہئے بھائی”

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ واصف ملک صاحب۔

      1. واصف ملک کہتے ہیں

        آپ کا شکریہ اویس بھائی. واللہ ایسا بلاگ کم کم پڑھنے کو ملتا ہے. حقیقی طور پر ہر کسوٹی پر پوری اترنے والی تحریرہے یہ. اس کو پڑھ کر اتنا اچھا لگا جس پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں. اللہ پاک آپ کو خوش رکھیں. آمین

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          ایک بار پھر بہت شکریہ۔

  2. Muhammad Zubair کہتے ہیں

    bhai ziada falsafi banne ki zarurat nahi hai. aap ka apna nazarya hai. jo sahi ya ghalat ho sakta hai. agar kisi k lye itni nafrat ka izhar kia ja raha hai tou apko chahiye k iski wajuhat ki tehqiq karen. aur jahan tk is ki kitab ka talluk hai tou uss per logon ko samjhane ki zarurat nahi ha. sb kuch saf saf likha ha. jo kisi musalman k lye qabil e qabool nahi hai. ya to khud malala iski tardeed kr de ya phir accept kr le k usi k alfaz hain. iske bad bhi agar apko kuch samajh nahi ata tu logon ko samjhane ki bajaye pehle khud samjhne ki koshish karen. logon ka time bara qeemti hota hai.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      جی درست فرمایا آپ نے۔ آپ کا وقت کتنا قیمتی ہے یہ تو آپ کے اس چھوٹے سے تبصرے سے واضح ہو گیا۔ آپ کا وقت اتنا قیمتی ہے کہ شاید آپ نے یہ بلاگ ٹھیک سے پڑھا ہی نہیں اور تبصرہ فرما دیا۔
      اور آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اس بلاگ میں پیش کیا ہوا میرا مؤقف بڑی حد تک درست ثابت کر دیا۔

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اور مجھے امید ہے کہ آپ واصف ملک صاحب کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب ضرور دیں گے۔
      سنہرا موقع ہے۔ اپنا مؤقف درست ثابت کر لیجیے۔

  3. Joseph Jacob کہتے ہیں

    Dear Brothers!

    Malala is just like a puppet. For what kind of services the western rewarded her a noble prize, no one knows. What significant work she did upon which she was recommended for such awards. Even Abdul Sattar Edhi the great Pakistani was never recommended/awarded for such kind of rewards. He dedicated his whole life for the humanity.

    Who wrote the Malala book no one knows as 5 and half years ago she was not of that stage or able to write such books specially regarding islam and ideology of Pakistan and like others.

    she was lounged by the media by her western trustees who always want to blame Pakistan and Islam.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you for your comment and thank you again for proving my stance correct.

    2. Jahanzeb کہتے ہیں

      Joseph Jacob I wish to remind you that this blog is about extremism and hate trend running among us. You mentioned Abdul Sattar Edhi..well, sadly enough, he was also badly criticized by extremists in Pakistan ..

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        I agree with you Jahanzeb

    3. Jahanzeb کہتے ہیں

      Whoever does good for his beloved Pakistan unfortunately becomes a target of extremism and hate …

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        ہم اپنے دشمن خود ہیں۔

    4. Awais Ahmad کہتے ہیں

      You have got a great chance sir. Wasif Malik sahib has raised few questions. You can win your argument by answering those question and prove him & me absolutely wrong.

  4. Minal کہتے ہیں

    Bohat umda tehreer hai. Nafret we kuch hasil nhi hota.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ۔ جی ہاں آپ نے درست فرمایا۔،

  5. واصف ملک کہتے ہیں

    آپ کا شکریہ اویس بھائی. واللہ ایسا بلاگ کم کم پڑھنے کو ملتا ہے. حقیقی طور پر ہر کسوٹی پر پوری اترنے والی تحریرہے یہ. اس کو پڑھ کر اتنا اچھا لگا جس پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں. اللہ پاک آپ کو خوش رکھیں. آمین

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  6. عدنان احمد کہتے ہیں

    شدید نفرت کرنے والوں کے لیے پیار بھرے انداز میں. بہت خوب سمجھایا آپ نے۔

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  7. Danish کہتے ہیں

    Love you Malala, From Sacramento California

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you for your comment.

  8. Wasif malik کہتے ہیں

    I want these questions to be answered
    1- where does the author declares malala to be potential candidate for nobel prize?

    2- where is it written that Malala could not be criticised?

    3- does writer implying that Malala and her father are true patriots?

    4- where is it written that you people should offer mlala a cordial protocol?

    Author didn’t intend to praise or criticised Malala but the subject was to highight increasing intolerance, hatred, negativity, and extremist attitudes. These traits have affected all levels of society equally. I believe it’s a wonderful blog. Please do not sabotage it for the sake of criticizing and to satisfy ego.
    If u ppl really feel like commenting then atleast read blog once before doing so. This kind of attitude condemn genuinely good writers and they may leave the platform just for this kind of nonsense comments.
    Awais bhai your this blog could hve been published on Washington post as well. Very well done. Keep writing.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      واصف صاحب۔ ایک بار پھر بے حد شکریہ۔ ایک درخواست کرنا چاہوں گا۔ جن لوگوں سے آپ یہ سوال اٹھا رہے ہیں وہ غالباً آپ کا انگریزی میں لکھا ہوا کمینٹ پڑھ ہی نہیں سکیں گے۔ اور اگر کسی نہ کسی طرح پڑھ بھی گئے تو سمجھ نہیں سکیں گے۔ اور اگر سمجھ بھی گئے تو یقین کریں یہ وہ لوگ نہیں ہوں گے جن سے آپ مخاطب ہیں۔ چناچہ میری درخواست ہے کہ کمینٹ اردو میں تحریر فرما دیں تاکہ حق کے طالبوں اور سچے محبوں کو سمجھ تو آ جائے۔
      باقی جہاں تک رہی بات تنقید سے گھبرا کر کنارہ کشی کی تو میرے خیال سے اگر میں نے کبھی لکھنے سے کنارہ کشی اختیار کی بھی تو اس کی وجہ تنقید بہرحال نہیں ہو گی۔

      1. واصف ملک کہتے ہیں

        میں اردو میں لکھ دیتا ہوں. مجھے آپ سے ییی توقع ہے کہ آپ ان جیسوں کی وجہ سے کبھی لکھنا نہیں چھوڑیں گے. بلکہ کسی کو بھی ان کی وجہ سے چھوڑنا نہیں چاہئے.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          میرا ماننا ہے کہ مثبت تنقید انسان کو مدد دیتی ہے اور انسان کو سیکھنےاور اپنی خامیوں پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ منفی تنقید انسان کو ہنسنے اور فریش ہونے کا موقع دیتی ہے۔

        2. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. Nadia کہتے ہیں

      True malik sb.

  9. Wasif malik کہتے ہیں

    Mujy in sawalon k jawab chahye…
    1-musanif ne kahan likha hai k malala ko nobel prize milna chahy tha?

    2-Kahan likha hai k malala buht achi hai uspar tanqeed karna haram hai?

    3- kab kaha hai k malala ka bap aur malala bohat muhab e watan hain?

    4- kab kaha hai k aap logon ko chahy k malala ko sar ankhon pr bithaye nahin tu aap ko jail main band kr dia jae ga?

    Musanf ka tu subject he malala ki tareef ya uspr tanqeed nahi bal k muashre mein barrhta adam e brdasht, manfi rawaiya,hasad, aur inteha pasandi hai.
    Jis se society ka har tubqa mutasir ho chuka hai.
    Wallah ye bohat khubsurat blog hai, sirf aur sirf apni ana ki taskeen aur makhalfat braye makahlfat mein aa kar isko tabah na karin.
    Ap logo ko comment ka bohat shoq hai. Shoq pura kijiye par pahle aik bar parrh tu lein k blogger kah kya raha hai.
    Khuda k liye ghalat tanqeed ka silsila band kr dijiye. Kahin aisa na ho k aap ka ghalat raviye ki waja se jo chand acha likhne walay hain woh b likhna chourr dein.
    Awais bhai, aap ka ye blog is qabil tha k washington post mein b chap skta tha. Buhat he khubsurat blog. Jazak allah.

    1. جہانزیب کہتے ہیں

      بے شک. بہترین بلاگ ہے.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        شکریہ

    2. کرن نور کہتے ہیں

      کوئی شک نہیں انتہائی معیاری اور شاندار کالم ہے. ایسا اچھا لکھنے والوں کی پاکستان کو ضرورت ہے.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        کالم کی پسندیدگی کا شکریہ۔

      2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. عرفان احمد کہتے ہیں

      آپ سے متفق ہوں واصف صاحب، بلاگ کا لفظ لفظ خرف خرف بہترین ہے. ملالہ کے اوپر سب کچھ چھپا ہے. لکھاری نے بالکل نیا زاویہ دیا ہے. بہترین تحریر

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        بہت شکریہ۔

    4. Jamshed asad کہتے ہیں
    5. سید عابد زیدی کہتے ہیں

      بے شک درست فرمایا.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        شکریہ

    6. Nadia کہتے ہیں

      true.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        Thanks

    7. Awais Ahmad کہتے ہیں

      I wish someone would come up with strong counter argument, but I am afraid it may not happen

  10. Kamran کہتے ہیں

    Excilent master piece. Awais sahaab.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you very much.

  11. علی عمران کہتے ہیں

    پڑھ کر مزہ آگیا. حالات کی بہترین عکاسی کی ہے

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ۔

  12. Agha Junaid Ahmad کہتے ہیں

    Awais sahab aap jo marzi likhtay rahein magar hamaray mulk mein phaili hui jahaalat apna bain jari rakhay gi. Malala Oxford se parh ker wapis bhi aa jaye gi magar yeh bain nahi khatam ho ga.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you for the comment.

  13. Jamshed asad کہتے ہیں

    Awais bhay

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      جی محترم؟

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        بہترین تجزیہ.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          بہت شکریہ جمشید اسد صاحب

  14. Salma khalid کہتے ہیں

    تنقید منفی اچھی نہیں ہوتی. آپ تو ہنس لیتے ہوں گے. بہت سے لوگ ٹوٹ بھی جاتے ہیں. یہ غلط رویہ ہے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اچھا برا زندگی کا حصہ ہے۔ اگر منفی رویئے نہ ہوں تو مثبت رویئے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔

      1. Jamshed asad کہتے ہیں
  15. نیا پاکستانی کہتے ہیں

    Beautifully discribed things.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  16. نعیم اکرم کہتے ہیں

    ملالہ یوسف زئی مجھے کبھی اچھی نہیں لگی. اور اس تحریر میں مجھے کچھ بھی برا نہیں لگا جس پر تنقید کی جا سکے. مثبت اور پیغام والا بلاگ ہے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      آپ کا ذوق نظر ہے۔ شکریہ۔

  17. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    تندہی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے.
    بہت اچھے صاحب.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ جناب

  18. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    بہترین تحریر اویس صاحب

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ جاوید صدیقی صاحب۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        ممنون. بہت اچھا لکھا بھائی. تعریف نہ کرنا منافقت ہوتی.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          نوازش صدیقی صاحب۔

  19. Wajid khan کہتے ہیں

    Very very nice.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  20. Waqar کہتے ہیں

    عمدہ بلاگ

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  21. Nadia کہتے ہیں

    Superb. Much needed article.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  22. دانش یوسف زئی کہتے ہیں

    What a thought. If we dont control extreamism we ll be vanished for sure. awais ahmed.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Same is the message of this article Yousufzai sahib

  23. Waseem akhtar کہتے ہیں

    انتہا پسندی، خود کو عقل کل سمجھنا، نفرت اور حسد. بے شک ہماری اخلاقیات کھا گئے ہیں.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      ☺☺☺

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      درست۔ ہمیں اب سنبھلنا پڑے گا۔ پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔

  24. امجد اقبال کہتے ہیں

    ماشاءاللہ یہ پوسٹ تو پہلے ہی دن دنیا نیوز کی مقبول ترین پوسٹس میں شامل ہو گئی. واقعی یی اسی کی مستحق تھی. بہترین کاوش اویس.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ محترم امجد اقبال صاحب۔

  25. Samina Roohi کہتے ہیں

    nicely given nice message.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  26. Maryam Ahmad کہتے ہیں

    nodoubt bohat acha likha h

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  27. Favaz ahmad کہتے ہیں

    wah Awais sb .shandar tehreer h.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  28. Saff shikan کہتے ہیں

    Bhai jan ham bohot seedhi or saada qoum hen. Hamen seedhi seedhi baat samajh me ati h. ADAB KI DUNYA ME HAM JESA BE ADAB SHAYAD HI KOI OR HO. Seedhi baat krni thi intolerance pe criticism pe. Ek controversial bndi ki misaal esay di k aksariyat ko saaray blog me sirf malala hi nzr ayi

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you for comment.

  29. محمد فرخ کہتے ہیں

    اسلام علیکم بهایوں ایک بات تو تہہ ہے جب تک ہمیں چوٹ نہیں لگتی تب تک ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا ہمارا دشمن کون تها

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Yes. You are right. Thanks for the comment.

تبصرے بند ہیں.