مضبوط، بااختیار راجپوت خواتین بطور رول ماڈل

3,692

ڈاکٹر ضیاء الدین، ڈین عبدالحق کیمپس، جامعہ اردو تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ حال ہی میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ دو گھنٹے وہ میرے سامنے تاریخ کے اوراق پلٹتے رہے اورمجھے ایسا لگا کہ وہ تاریخ کا ایسا سمندر ہیں جو اپنا خزانہ لٹا رہا ہے۔ ذہن میں خیال آیا کہ اس خزانے میں اپنے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔

تاریخ پر بننے والی فلموں کا ذکر جو نکلا تو پدماوتی کی بات بھی ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے راجپوت ہندوستان کا روشن چہرہ ہیں، ایسے ہی ہندوستان کی راجپوت خواتین بااختیاراورمضبوط کردار کی مالک رہی ہیں۔ یہی فلم پدماوت کا موضوع ہے جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں فلم بینی کے رجحان میں کمی اور سینما گھروں کا ختم ہونا ان کی نظرمیں انتہائی افسوس کا مقام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں راجپوتوں میں سوئمبر، ستی اور جوہر کی رسوم معروف ہیں۔ انہی کی بدولت ہندوستان کی عورت بہت مضبوط تاریخی کردار کی حامل رہی ہے۔ پھر رکھشا بندھن یا راکھی کا تہوار ہے جو عورت کوسماج میں اعتماد دیتا ہے۔ پوری دنیا میں کسی تہذیب میں یہ سب نہیں ملتا ہے۔

ساتویں صدی سے بارہویں صدی تک راجپوتوں کی حکومت نظر آتی ہے جو بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ راجپوت آج بھی اپنی بہادری کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ بہادری و شجاعت میں ان جیسا کوئی نہیں پیدا ہوا۔ ان کی گھروں کی لڑکیاں اپنی پسند کی شادی کرتی تھیں۔ راجپوت عورتیں اپنی پاک دامنی اور عصمت پر جا بجا ناز کر سکتی تھیں۔ ستی اور جوہر کی رسم اس جذبے کی ترجمانی کرتی تھی۔

یہاں راجپوتوں میں رائج رسوم کی وضاحت ضروری ہے۔

رسم سوئمبر

راجپوت حکمرانوں کے گھرانوں میں لڑکیوں کو اختیار تھا کہ وہ اپنی پسند کا دولہا چن سکتی تھیں۔ اس کے لئے رسم سوئمبر منعقد کی جاتی تھی۔

رسم ستی

ستی کا مطلب پاکدامن، ساتھ دینے والی ہے۔ بیوہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندہ جل جاتی تھی۔

رسم جوہر

راجپوتوں میں اگر جنگ کے حالات میں شکست یقینی نظر آتی توعام طورپر رات کے وقت جوہر کی رسم ادا کی جاتی۔ خواتین اپنی شادی کے لباس پہن کر اس رسم کا حصہ بنتی تھیں۔ اس موقع پر پجاری وید کے منتر پڑھتے۔ اگلی صبح راجپوت مرد نہا دھو کر کیسری(زعفرانی)رنگ کے کپڑے پہن کر اپنی بیویوں اور بچوں کی چتا سے راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر قلعے سے نکلتے تھے اور دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ مردوں کا جوہر کے بعد لڑتے ہوئے مارا جانا ساکا کہلاتا تھا۔ یہ دونوں رسمیں راجپوتوں میں بہت اہمیت کی حامل تھیں۔ تاریخ کی روایت ہے کہ علاؤدین خلجی نے جب جیسلمیر کے قلعے کا محاصر ہ کیا توسات ماہ کے محاصرے کے بعد چوبیس ہزار خواتین نے جوہر کی رسم ادا کی تھی۔

سوئمبر کی رسم جہاں جیون ساتھی چننے کا اختیار دیتی تھی تو وہاں ستی ہونا آنے والے وقتوں میں غیر مناسب رسم سمجھی جانے لگی اور اس پر انگریز دور میں پابندی بھی لگ گئی اور اب تو نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ لیکن تاریخ میں جوہر کی رسم کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں سماجیات یا سوشیالوجی میں ایمائیل ڈرخائم کے نظریہ خودکشی کو سامنے رکھنا پڑے گا۔

ایمائیل ڈرخائم کے نظریہ خودکشی میں خودکشی کی تین اقسام ہیں:

انائی خودکشی Egoistic 

جب انسان سماج سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرتا اور اپنی ذات میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں خودکشی کا رجحان پیدا ہوتا ہے، اگر اس رضھان سے مغلوب ہو کر انسان خود کشی کر لے تو اس کی خودکشی کو انائی خودکشی کہتے ہیں۔

غیر معمولاتی خودکشی anomic

جب سماج میں افراتفری ہو، سماجی معمولات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں اور سماجی زندگی میں بے نظمی پیدا ہوجائے تو افراد کے درمیان قوانین اور سماجی اقدار کا احترام کمزور پڑ جاتا ہے اور ایسے میں فرد خودکشی کا مرتکب ہوتا ہے۔

ایثارانہ خودکشی altruistic 

جب کوئی فرد یا افراد کسی عظیم مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی قربان کر دیتے ہیں، ڈرخائم کے نزدیک یہ ایثارانہ خودکشی ہے۔ ایثارانہ خودکشی میں رسم جوہر بھی شامل ہے۔

ہمارے سامنے ہند کی زمین پر کئی ریاستیں وجود میں آچکی ہیں۔ کہیں بھارت ہے تو کہیں پاکستان تو کہیں بنگلہ دیش ہے۔ ہندوستان کے جغرافیے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں مگر تاریخ وہی ہے جس سے مستقبل نکلتا ہے۔ جب ہمارے پاس اپنی تہذیب ہے تو کیوں مغرب کی طرف دیکھیں۔ ہمیں بحیثیت پاکستانی اس تاریخ سے سیکھنا ہوگا۔ اپنے سماج کو بہتر بنانا ہوگا۔ اپنے بچے، بچیوں کو ظلم و ستم سے بچانا ہوگا۔ اپنی عورتوں کو راجپوت عورتوں کی طرح مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر ضیاء الدین سے علم کا جو خزانہ مجھے ملا وہ آپ تک منتقل کر دیا ہے اور اب اس سے فیض اٹھانا آپ کا کام ہے۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.