اپریل فول ایک برائی ہے اور ہمیں اس سے بچنا ہوگا

1,822

ہر ملک، مذہب اور قومیتوں کے اپنے روائیتی تہوار اور ثقافت ہوتی ہے، بعض مذاہب اور قوموں کے تہوار ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں مگر کچھ نہ کچھ  فرق پھر بھی ہوتا ہی ہے۔ مگر چند دہائیوں سے کچھ ایسے تہوار منظرِ عام پر آئے ہیں جن کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ یا تاریخ موجود نہیں مگر پھر بھی دنیا بھر کے لوگ ان تہواروں کو منانے میں دلچسپی لیتے ہیں، جیسے کہ ہیلووین، ویلنٹائن ڈے اور اپریل فول ڈے۔ ان تہواروں کو منانے کا رجحان پاکستان میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر سال لوگ اس طرح کے بے تکے اور یورپیین/ایسٹرن تہواروں کو مناتے جا رہے ہیں۔

ویسے تو اپریل فول کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر اس کے بارے میں کئی مفروضے مشہور ہیں، کوئی کہتا ہے کہ ماضی میں اس روز یورپ کے عیسائیوں نے سبز باغ دکھا کر لاکھوں مسلمانوں کی جان لی تھی۔ اپنی اس کامیابی کو منانے کے لیے وہ ہر سال یکم اپریل کو اپریل فول ڈے منانے لگے۔

کچھ کا گمان ہے کہ رومی، بہار کی آمد پر یکم اپریل کو شراب کے نشے میں الٹ پٹانگ حرکتیں کرتے تھے اور لوگوں کو بیوقوف بناتے تھے۔ وہاں سے یکم اپریل کو لوگوں کو بیوقوف بنانے کی رسم چل پڑی۔

اس دوڑ میں آج کل سب ہی شامل ہیں۔ کئی اخبار تو اس دن کی مناسبت سے کوئی جھوٹی، سنسنی خیز خبر بھی شائع کردیتے ہیں اور آخر میں اپریل فول لکھ دیتے ہیں یا پھر اگلے روز ایک معذرتی خبر شائع کر دیتے ہیں۔

میں بھی جب بچہ تھا تو ایک بار گلاب کے پھول میں سرخ مرچیں رکھ کر اپنی استانی کو دے کر انہیں اپریل فول بنایا۔ جب استانی نے پھول سونگھنے کے لیے ناک کے قریب کیا تو سرخ مرچوں کی حدت اور تیکھے پن سے ان کو چھینکیں آنے لگیں۔ انہیں تکلیف میں دیکھ کر میں بہت خوش ہوا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ احساس ہوا کہ میرا وہ قدم کتنا غلط تھا۔ آج بھی میں اپنی ان استانی صاحبہ سے معذرت کرتا ہوں۔ اس دن کے بعد میں نے آج تک اپریل فول نہیں منایا۔

ہم پاکستانیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا تاکہ آزادی سے اس ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور آج ہم یہاں یہودیوں کے تہواروں کو بڑے شوق سے مناتے ہیں۔

یکم اپریل کو ہم لوگوں کو بیوقوف بنا کر ہنستے ہیں۔ اس دن ہم خصوصی طور پر لوگوں کو بیوقوف بنا نے کی پلاننگ کرتے ہیں، بہت سے معصوموں کو اپنے مزاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہم ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے کہ اگلے شخص پر کیا بیت رہی ہوگی۔ بس ایک عجیب سا تہوار بنا ہے اس پر عمل کیے جارہے ہیں۔

یاد رکھیں کہ  نبی آخرالزماں ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس شخص کے لیے بربادی ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے۔

جھوٹ کے بارے میں حضرت علی کا ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم خطا جھوٹی زبان ہے۔

اس سے اندازہ لگائیں کہ جھوٹ کتنی بڑی برائی ہے اور سوچیں کہ آپ کے شغل میلے میں آپ اپنی آخرت کا کیا سامان کررہے ہیں۔ مت بھولیے خدا کی نظر میں سب سے بڑا گناہ بھی وہی ہوتا جس کو کرنے کے بعد ابن آدم توبہ کی بجائے اکڑتا ہے اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ ہم اتنے بے شرم تو نہ تھے کبھی، نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔

بہرحال اپریل فول سیدھے لفظوں میں جھوٹ، دھوکے اور فریب کا نام ہے۔ جھوٹ ساری برائیوں کی جڑ ہے اور جھوٹ بولنے والو! سن لو قرآن میں اللہ پاک نے تم لوگوں کے لیے لعنت کا لفظ استعمال کیا ہے۔

آئیں آج مل کر ایک عہد کریں کہ ہر وہ کام ترک کردیں گے جو اللہ کی نافرمانی کا باعث ہو، چاہے اس کام میں لذت کیوں نہ ہو۔ زرا سوچیں اس چار دن کی دنیا میں معمولی سی خوشی کے لیے نہ ختم ہونے والی آخرت کیوں خراب کریں؟ اپریل فول ایک برائی ہے اور ہمیں اس سے بچنا ہوگا، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ!

 

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.