یہ پیسہ کیا چیز ہے، کھلے نہ اس کا بھید

1,598

یہ پیسہ کیا چیز ہے؟

پیسہ ہماری ضرورت ہے، اس کے بغیر زندگی کا پہیہ نہیں چلتا۔ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، زندگی کی آسائشیں موبائل، گاڑی، بجلی، گیس غرضیکہ سب کچھ پیسے سے ہی خریدنا پڑتا ہے اور اس کیلئے پیسہ کمانا بہت ضروری ہے لیکن ان آسائشوں کے پیچھے بھاگ کر صرف پیسہ ہی کمایا جائے گا تو باقی زندگی کہیں گم ہوجائے گی،

؎ سب سے پہلے دل کے خالی پن کو بھرنا
پیسہ ساری عمر کمایا جاسکتا ہے

بنیادی ضروریات کیلئے پیسہ ساری عمر کمایا جا سکتا ہے، لیکن ایک وقت آئے گا جب عمر اور صحت جواب دے جائیں گی، پوری تندہی کے ساتھ کوئی کام کرنا مشکل ہو جائے گا، بڑھاپے میں آنے والی نسل کو بہتر مستقبل کے بجائے پھر پیسہ کمانے کی بھٹی میں جھونکنا پڑے گا۔ اس لیے بچت بہتر ہے جو مجبوری، حادثہ، یا کسی کی مدد کیلئے استعمال ہوسکے۔

عوام میں انفرادی سطح پر بچت کرنا اور اِس بچت کو منافع بخش اسکیموں میں لگانے سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر 31 اکتوبر کو یومِ بچت منایا جاتا ہے۔

انفرادی حیثیت میں پیسہ کمانا اور بچانا اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہو۔

پیسہ کسی کی زندگی ، تعلیم و تربیت پر کیسے اثر کرتا ہے ؟پیسہ کیسے لوگوں اور ملکوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے؟ روزگار کے حصول میں یہ کیسے مددگار ہے؟ اور کیسے کتنے پیسوں میں کوئی آجر یا تاجر بن سکتا ہے۔

ان سب سے آگہی فراہم کرنے کیلئے ہر سال مارچ کے مہینے میں global money week بھی منایاجاتا ہے، اس سال ویک کی تھیم تھی۔ ۔ ٹرپل ایم۔ ۔ Money Matters Matter، یعنی پیسوں کے معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ پیسے کی بھی قدر وقیمت ہے۔

اس لیے زندگی، اپنے اردگرد بسنے والوں کی اور آسائشیں فراہم کرنے کے بنیادی عنصر ’پیسہ‘ کی قدر کی جائے۔

؎ کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کرو

اس سال 137 ملکوں کے 78 لاکھ بچوں اور نوجوانوں نےیہ ہفتہ منایا، 2013ء میں 10 لاکھ نوجوانوں اور بچوں نے گلوبل منی ویک منانے کا آغاز کیا تھا۔

جہاں بچوں کو پیسے کی قدر کرنا، اس کے استعمال اور سیونگ کے طریقے بتائے جا رہے ہیں، وہیں کئی ملک امداد، تعاون اور قرض کے نام پر غریب اور مجبور ملکوں کو ایک خاص شرح سود پر ایک خاص مدت کیلئے پیسہ فراہم کرتے ہیں۔ کچھ شرائط عائد کی جاتی ہیں، دباؤ بڑھایا جاتا ہے، آہستہ آہستہ مجبور ملک کی خطے میں ساکھ متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے، کرنسی ڈی ویلیو ہوجاتی ہے۔

کرنسی کیا ہے؟

کرنسی سے مراد ایسی چیز ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا میں ہر ملک کی اپنی کرنسی اور نام ہے۔

ڈالر

ڈالر کا ماخذ ”جواشمز دالر(Joachimsthaler) ہے۔ یہ اس وادی کا نام ہے جہاں سے چاندی نکال کر سکے بنائے جاتے تھے، بعد میں جواشمز حذف ہو گیا اور صرف ڈالر کہلانے لگا۔

روپیہ

روپیہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چاندی ہیں۔ پہلی بار 1866ء میں برطانوی سامراج کے دوران یہ نام ہندوستان کی کرنسی کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

پاؤنڈ

پاؤنڈ قدیم روم کے وزن کے پیمانے لبرا(Libra) کا انگریزی ترجمہ ہے، اسےمختصراً lb بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ برطانیہ میں کرنسی کے نام اور وزن کے پیمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جب دوملک آپس میں اشیاء یا خدمات کی خرید و فروخت کرتے ہیں تو ایک دوسرے کی کرنسی کو دنیا میں اس کی قدر سے پہچانتے ہیں، اس کی جانچ پڑتال کے لیے بھی مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں، اور ان کو گلوبل فنانشل مارکیٹس کہاجاتا ہے،

کسی بھی ملک کی کرنسی میں شرحِ مبادلہ کا تعین مقامی مارکیٹ کرتی ہے۔ پاکستان میں شرحِ مبادلہ طے کرنے کے لیے 2 مارکیٹس ہیں، ایک انٹر بینک مارکیٹ اور دوسری اوپن مارکیٹ۔ انٹر بینک مارکیٹ میں بینکس ڈالر کا آپس میں لین دین کرتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا پاکستانی کرنسی کی سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں بڑی قدر تھی، ایک پاکستانی روپے کا سوا سعودی ریال ملتا تھا اور خلیجی ریاستوں میں اس سے بھی زیادہ درہم ملتے تھے۔ آجکل ہر طرف ڈالر کا رَولا ہے۔ ماضی میں پاکستانی روپیہ بھی امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کی طرح قابلِ قدر تھا۔

لیکن پھر!

؎ لائی بے قدراں نال یاری کہ ٹٹ گئی تڑک کرکے

آمر آئے یا جمہوری حکومتیں سب نے روپے کی قدر میں کمی کی اور ڈالر کی قدر بڑھتی ہی چلی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے 1972ء میں پہلی بار روپے کی قیمت کم کردی اور ایک ڈالر 11 روپے کا ہو گیا۔ 1999ء تک ڈالر 51.75 روپے کا تھا۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں ڈالر 62 روپے تک ٹریڈ کرتا رہا۔ آصف زرداری کی 5 سالہ دورِ حکومت میں ڈالر 98 روپے تک پہنچ گیا۔

جمہوریت کا تسلسل برقرار رہا، نوازشریف کی حکومت آئی، انہوں نے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنا دیا، امید کی جا رہی تھی، روپےکی قدر مستحکم ہوگی۔ لیکن انہوں نے بیرونی قرضے لے لے کر ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا اور اب عالم یہ ہے کہ امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں اپنی قدر بے پناہ بڑھا چکا ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان کی معیشت کو زبردست دھچکا اس وقت لگا جب صرف ایک دن میں پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ساڑھے 5 روپے گر گئی۔ ڈالر117 پر پہنچ گیا جب کہ ریال، درہم اور برطانوی پاؤنڈ میں بھی اضافہ ہوا۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے صدرکے مطابق اوپن مارکیٹ میں یورو 143 روپے اور برطانوی پاؤنڈ 163 روپے پر آگیا۔ سعودی ریال اور اماراتی درہم 31 روپے کے ہوگئے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بیرونی قرض بڑھ گیا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک روپیہ ڈی ویلیو ایشن سے غیر ملکی قرض میں 90 ارب روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حجم میں 594 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اب تو پاکستانی روپیہ بھی دہائیاں دے رہا ہے، کچھ قدر کرلو!

؎ بے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے۔ !

روپے کی قدر میں کمی سے سونے کی قیمت میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔ پاکستان میں سونا سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

5 سال کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت پہلی بار 58 ہزار روپے سے بڑھ گئی ہے۔ ا گر روپے کی قدر میں کمی جاری رہی تو سونے کی قیمت 60 ہزار روپے تولہ سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان میں موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال سے لگتا ہے کہ ذاتی مفادات کیلئےملکی مفادات کی بلی چڑھائی جا رہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں روپے کو ڈی ویلیو کرنے سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے رکھے گئے اثاثوں کی مالیت بڑھ گئی ہے اور اگر وہ یہ اثاثے پاکستان میں ظاہر کرتے ہیں تو انہیں فائدہ ہوگا۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    An eye opener. Good article

  2. امجد کہتے ہیں

    میں ایک اسٹوڈنٹ ہوں اج اپ کے اس بلاگ کے پڑھنے سے میرے علم میں اور بھی اضافہ گیا ہے کہ مجھے پہلے اس
    بارے میں کچھ نہیں پتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت بنت شکریہ

  3. Najeeb Ali کہتے ہیں

    بہت معلوماتی اور خوب صورت تحریر

  4. wasif malik کہتے ہیں

    عمدہ

  5. moviesbelt.com کہتے ہیں

    kamaal article yaar
    kabhi kabhi to article bohat enjoy karta hon main aap k or kabhi kabhi to bas time pas hai kam se kam facebook or dosri ghatya chizon se behtar hai yahan apna knowledge he barhta hai

تبصرے بند ہیں.