رنگ میں بھنگ

1,865

ہدایات برائے مطالعہ زیرِ نظر بلاگ:

بلاگ پڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ:

1۔ آپ بلاگ کی درجہ بندی کرنے کے عادی تو نہیں؟

2۔ آپ ہر دوسرے بلاگ کو بوگس یا دو نمبر قرار دینے کے عادی تو نہیں؟

3۔ کہیں آپ کو اکثر بلاگ کاپی پیسٹ تو نہیں محسوس ہوتے؟

4۔ کہیں آپ بلاگ میں معلومات کے فقدان کے شکایتی تو نہیں؟

5۔ کہیں آپ بلاگرز کو جائز یا ناجائز نصیحتیں کرنے کے عادی تو نہیں؟

6۔ کہیں آپ جان بوجھ کر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے شوقین تو نہیں؟

اگر مندرجہ بالا تمام نقاط میں سے کوئی ایک بھی نقطہ آپ پر لاگو ہوتا ہے تو آپ مہربانی فرمائیں اور اس بلاگ سے صرف نظر کریں۔ یہ بلاگ آپ کے لیے نہیں ہے۔

اب آتے ہیں بلاگ کی جانب۔

یہ آج سے تین ہزار سال قبل کا واقعہ ہے۔ زمین کے کسی خطے پر ایک ملک آباد تھا۔ بلاگستان نامی اس ملک میں ایک اخبار شائع ہوا کرتا تھا۔ اخبار کا نام “رنگ میں بھنگ” تھا۔ اس اخبار کو چلانے والے چار نامور اور سینیئر صحافی تھے۔ پہلے کا نام مرزا تنقید بھیانک آبادی تھا۔ دوسرے صاحب شیخ تائید کنندہ ایسی تیسوی تھے۔ تیسرے صاحب کا نام اچھل کود بیگ پھدکوی اور چوتھے صاحب مشاورت خان پھینکوی صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔

روزنامہ “رنگ میں بھنگ” بلاگستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والا اور معتبر اخبار تھا۔ بلاگستان کے ہاکر ہر روز گھروں میں “رنگ میں بھنگ” ڈالتے تھے اور عوام دانت پیستی رہ جاتی تھی۔ بلاگستان میں اور بھی کئی اخبارات شائع ہوتے تھے مگر “رنگ میں بھنگ” کی مقبولیت کے آگے کسی کا چراغ نہیں جلتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جو کاغذ “رنگ میں بھنگ” کی اشاعت میں استعمال ہوتا تھا وہ تیل بہت اچھی طرح چوس لیا کرتا تھا اس لیے پکوڑے، سموسے اور جلیبی وغیرہ بھی اسی اخبار پر رکھ کر بیچے جاتے تھے تاکہ ان کا تیل زیادہ سے زیادہ خشک ہو سکے۔

مرزا تنقید بھیانک آبادی روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کے ایڈیٹر تھے اور ان کا کام ہر وقت بھیانک قسم کی تنقید کرنا تھا۔ ہر نیا لکھنے والا ان کے نام سے لرزتا رہتا تھا۔ اچھی سے اچھی تحریر پر تنقید کی ایسی گولہ باری کرتے تھے کہ نیا لکھنے والا کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ تلا کرتا ہوا لکھنے سے تائب ہو جاتا تھا۔ یہ مرزا تنقید بھیانک آبادی کی ذمہ داری بھی تھی کیونکہ اگر نئے لکھنے والے لکھنا شروع کر دیتے تو روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کی مقبولیت داؤ پر لگ سکتی تھی اور اس طرح بہت سوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جاتی۔ چناچہ گربہ کشتن روز اول کے مصداق جوں ہی کسی نئے لکھنے والے کا علم ہوتا تو مرزا تنقید بھیانک آبادی اپنے تنقیدی چھری کانٹے لے کر پل پڑتے اور لکھنے والے کے وہ لتے لیتے کہ الامان و الحفیظ۔

شیخ تائید کنندہ ایسی تیسوی اس کام میں بھیانک آبادی صاحب کے معاون خصوصی تھے۔ جوں ہی مرزا تنقیدبھیانک آبادی کا رخ کسی نئے لکھنے والے کی طرف ہوتا، شیخ صاحب اس بے چارے لکھنے والے کی ایسی کی تیسی پھیرنے کے لیے بھیانک قسم کی تائید کے ساتھ آن موجود ہوتے۔ مرزا صاحب کی تنقید پر آمنا و صدقنا کے نعرے لگاتے شیخ صاحب مرزا صاحب کی باتوں کی تائید کرتے چلے جاتے اور نئے لکھنے والوں کی پیشانی عرق ندامت میں بھیگتی چلی جاتی۔ مرزا تنقید بھیانک آبادی کی تنقید کو وہ نظر انداز کر بھی دیتے تو شیخ تائید کنندہ ایسی تیسوی کی تائید ان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی کہ شاید مرزا تنقید بھیانک آبادی کی تنقید جائز ہی ہے۔ چناچہ وہ اپنی تحاریر پر خود ہی شرمندہ ہوتے پھرتے۔

روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کے تیسرے صاحب اچھل کود پھدکوی تھے جو بلاگستان میں شائع ہونے والے دیگر تمام اخبارات پر پھدکتے پھرتے اور نئے لکھنے والوں کی فہرست مرتب کرتے۔ جوں ہی انہیں شبہ گذرتا کہ کوئی نیا لکھنے والا کوشش کر رہا ہے کہ میدان میں جمے پرانے بلکہ “کھانگڑ” قسم کے لکھاریوں کے مقابلے میں اپنی شناخت بنائے، پھدکوی صاحب فوری طور پر اس کے نام کو خط کشیدہ کر لیتے۔ خط کشیدہ کرنے کے بعد وہ کشیدگی پھیلانے کی غرض سے ایک چبھتا ہوا تبصرہ فرما کر فوراً روزنامہ “رنگ میں بھنگ” جا پہنچتے اور مرزا تنقید بھیانک آبادی کو اطلاع دیتے۔ مرزا صاحب کی باچھیں کانوں تک کھل جاتیں اور وہ فوراً اس لکھاری کی تحریر پر آ دھمکتے اور پھر وہی ہوتا جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ حالات کچھ کشیدہ ہو جاتے اور روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کی مقبولیت کو چار چاند لگ جاتے۔

چوتھے صاحب مشاورت خان پھینکوی تھے جو جا بجا مشورے دیتے پھرتے۔ ان کا اصل کام تو روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کی ادارت اور سرکولیشن میں مشاورت مہیا کرنا تھا مگر یہ اتنے عمدہ قسم کے مشیر تھے کہ ہر اس جگہ مشورہ دینے پہنچ جاتے جہاں مشورے کی قطعاً ضرورت نہ ہوتی۔ یہ اکثر نئے لکھاریوں کو بھی مشورہ دے جاتے جس سے مرزا تنقید بھیانک آبادی کے حلق سے بھیانک قسم کی آوازیں نکلنا شروع ہو جاتیں۔ وہ ہمیشہ مشاورت خان پھینکوی کو لتاڑتے رہتے کہ اگر ان کے مشوروں کی بدولت کسی نئے لکھنے والے نے سکہ جما لیا تو روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کی مقبولیت میں کمی واقع ہو جائے گی۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک نیا اخبار بلاگستان میں شائع ہونا شروع ہو گیا۔ اس اخبار کا نام روزنامہ “بنیا” تھا۔ ظاہر ہے اخبار ہی بنیا تھا تو کام بھی مفت میں لینے کا عادی تھا۔ اس اخبار نے مفت میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی شروع کر دی اور ان کی تحاریر کو چھاپنا شروع کر دیا۔ اب مرزا تنقید بھیانک آبادی اور ان کے عملے کو فکر پڑی کہ اگر یہ مفتے والا اخبار چل نکلا تو عوام نے روزنامہ “رنگ میں بھنگ” کو پکوڑوں اور سموسوں کے لیے بھی لیناچھوڑ دینا ہے۔ چناچہ ان چاروں حضرات کا پورا لاؤ لشکر بمع دیگر “پس پشت قوتیں” روزنامہ “بنیا” کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا۔ ایسی بھیانک تنقید شروع ہوئی۔ ایسی تائیدیں آئیں۔ ایسی اچھل کود ہوئی اور ایسے ایسے مشورے ارزاں کیے گئے کہ نئے لکھنے والوں نے روزنامہ “بنیا” میں لکھنے پر نظر ثانی شروع کر دی۔

مسئلہ یہ آن پڑا کہ نئے لکھنے والے جائیں تو کہاں جائیں۔ روزنامہ “رنگ میں بھنگ” نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ لکھنے والا محنت سے کچھ لکھتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کی تحریر چھپے۔ بھلے اس کو اس کا معاوضہ نہ ملے مگر لوگ اس کو پڑھیں۔

تین ہزار سال قبل کا ادب اسی لیے ہماری دسترس میں نہیں ہے کہ اس وقت تنقید کی گولہ باری سے نئے اور اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کر دی گئی۔ تین ہزار سال بعد بھی اگر ہم اسی روش پر چلیں گے تو تین ہزار سال بعد آنے والے ہمارے بارے میں بھی یہی لکھیں گے۔

“سراہا جانا ہمیشہ سے انسان کی خواہش رہی ہے۔ جب بھی کسی کی کسی بھی کاوش کو سراہا جاتا ہے تو اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی چھلانگیں لگانا شروع نہیں کر دیتا بلکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں وقت لگتا ہے۔ پھر وہ قدم قدم چلنا شروع کرتا ہے۔ ایسے میں اس کا ہاتھ تھام کر اور اس کو سہارا دے کر اس کے اندر کا خوف دور کیا جاتا ہے۔

ذرا تصور کیجیے۔ آپ کا بچہ پہلی مرتبہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا مگر کچھ ہی دیر میں لڑکھڑا کر گر پڑا۔ تو آپ کیا کریں گے؟ اس پر تنقید کریں گے؟ اس کو مشورے دیں گے؟ یا پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا ہونے میں مدد دیں گے۔ اس کی دل جوئی کریں گے اور اسے شاباش دیں گے؟

آپ اپنی انسانیت کو مدنظر رکھ کر خود فیصلہ کر لیجیئے۔”

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

26 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    اویس صاحب اس بلاگ میں مجھے کونسا کردار دیا ہے آپ نے مجھے بہت ہنسی آرہی ہے پڑھ کر

    میری رائے یہ ہے خوش آمد اور جھوٹی تعریف سے کبھی بھی بہتری نہیں آسکتی ہاں لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید مہزب انداز میں کی جانی چاہیے اس میں تضحیک کا پہلو نظر نہیں آنا چاہیے پہلے میں اس بات کا خیال نہیں رکھتا تھا لیکن اب کوشش کرتا ہوں کہ اس کا خیال رکھوں دوسری بات یہ کہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا دفاع مصنف کو خود کرنا چاہیے دنیا گروپ کا سہارا لینا کس طور پر بھی درست نہیں ہے دنیا گروپ سب کو ایک جیسے مواقع فراہم کرتا ہے ہرقسم کے نظریات پر مشتمل بلاگ کو شایع کرتا ہے اگر کوئی شخص کسی تحریر پر اپنی رائے دیتا ہے یا تنقید کرتا ہے تو اس سے دنیا گروپ کا کوئی لینا دینا نہیں دنیا گروپ بہت اچھا کام کر رہا ہے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو دنیا گروپ سے جوڑ نا کسی طور پر بھی درست نہیں اس طرح کر کے آپ غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں میں نے جب بھی تنقید کی اپنی ذاتی حیثیت میں کی نہ کسی لالچ میں کی نہ کسی سازش کے تحت کی اور ویسے بھی تنقید کسی کی ذاتی رائے پر مشتمل ہوتی ہے اور ذاتی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی میں نہیں سمجھتا کہ نئے لکھنے والوں کو بچوں سے تشبہہ دینا درست ہے میری نظر میں کوئی اس لیول پر لکھنا تب شروع کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر محسوس کرتا ہے آپ کو برا لگے یا اچھا یا پھر آپ کی تحریر سے متاثر ہوکر دنیا گروپ میرے بلاگ پبلش کرنا بند بھی کردے تب بھی میں تنقید کا سلسلہ جاری رکھوں گا

    کسی کی خوش آمد آج تک نہیں کی نہ آئندہ کرونگا اپنی رائے ضرور دونگا

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      دنیا بلاگز کسی کی وجہ سے آپ کے بلاگ چھاپنا بند نہیں کرے گا، آپ کے بلاگ اگر کبھی نہ چھاپے گئے تو اس کی وجہ آپ خود ہوں گے۔

      1. Roshina amjad کہتے ہیں

        اس چیز کی کیا گارنٹی یے کہ آپ ہمیشہ اس پیج کی انچارج رہیں گی؟ آپ حادثاتی طعر ہر ہی انچارج بنی ہیں.آپ نے اپنے بلاگ میں خود اعتراف کیا ہے کہ چند ماہ قبل ہی آپ دنیا میں نوکری مانگنے آئی تھیں اور پہلا بلاگ لکھا تھا. چند ماہ میں انسان تو سب ایڈیٹر نہیں بن سکتاآپ خود کو ایڈیٹر سمجھ بیٹھی ہیں. اسی لئے تو میرٹ کی بجائے بھرتی کے بلاگز چھپ رہے ہیں. جب آپ کا ہی میرٹ مشکوک ہے تو آپ میرٹ کو کیسے پہچانیں گی؟ جلد کوئی قابل انسان آپ کی جگہ سنبھالے گا تو میرٹ پر لکھنے والے بھی آئیں گے.آپ ادارے کی مالک نہیں ایک نوکر ہیں. اس لئے لوگوں کو یہ کہہ کر ڈرانا چھوڑ دیں کہ وہی چھپے گا جسے آپ چاہیں گی.

        1. Tehreem Azeem کہتے ہیں

          Bht shukriyaa mera wo blog parhne kaa. Agr thora or ghor kiyaa hita to ap ko maloom par jataa k is website k lye pehle blog ki baat ki thi, mere apne pehle blog ki baat nai ki thi.
          Han zaroor intezaar kre mere jane kaa. Tb ap ko pta lg jayee ga merit pe kon kon c tahareer ati ha.

          1. واصف ملک کہتے ہیں

            تحریم، آپ کو کسی کو بھی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے. آپ کا کام بولتا ہے. جو لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ سب جگہ بلاگز پڑھتے ہیں تو ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ کون سی دوسری جگہ ہے جہاں اتنی پابندی سے بلاگز اپ ڈیٹ ہوتے ہیں؟ اور نہ ہی ستنے لوگ کسی اور جگہ لکھ رہے ہیں. جتنے لوگوں کو دنیا پرمواقع مل رہے ہیں اس کی دوسری مثال نہیں ہے. جہاں تک بات میرٹ پر بلاگز شائع ہونے کا تعلق ہے تو میں سب سے بڑا گواہ ہوں اس بات کا کہ یہاں میرٹ کے سوا کوئ کرائیٹیریا نہیں ہے. میں نہ تو تحریم عظیم کو جانتا ہوں اور نہ ہی کبھی ملا یوں. لیکن جب بھی کبھی کچھ بھیجا ہے اگر وہ دنیا کی پالیسی سے متصادم نہیں تو وہ فورا چھپا ہے. میرے علاوہ بھی بہت سے لوگوں کا تجربہ مجھ سے الگ نہیں ہو گا. مجھے یقین ہے. ایڈیٹر صاحبہ ، یاد رکھئے یہ عزت آپ کو اللہ نے دی ہے. اور اللہ اسی کو دیتا ہے جو اس قابل ہوتا ہے. آپ بلاشبہ دور حاضر کے ڈیجیٹل میڈیا جرنلزم کے زہین اور باصلاحیت لوگوں میں سے ایک ہیں. آپ کو ہر کسی کو خوش رکھنے یا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے. ہمیشہ کی طرح اپنے کام کو ہی بولنے دیں.
            شکریہ

        2. کاشف احمد کہتے ہیں

          مس روشینہ آپ نے جو کچھ بھی کہا اور جن الفاظ اور انداز میں کہا میں اس سے اتفاق نہیں کرتا اور دوسری بات میں یہ سمجھتا ہوں کے مس تحریم کو یہاں وضاحت نہیں دینی چاہیے تھی دراصل مجھے تحریر پڑھ کر یہ گمان ہوا کہ شاید مصنف مجھ سے بھی مخاطب ہیں کیونک میں بھی اکثر بلاگز پر اپنی راۓ تنقید اور تعریف کی صورت میں دیتا ہوں اب چونکہ یہاں ادارے کا سہارا لے کر تنقید کی گٸ تو اس پیراہے میں میں نے یہ بات کی اگر ادارہ آپ کی راٸے سے متفق ہوکر میرے بلاگ بھی روک دے تب بھی میں اپنی راۓ ضرور دونگا

          پھر بھی میں مس تحریم سے معذرت چاہتا ہوں کیونکہ میری وجہ سے آپ کو ایسے کمنٹ کا سامنا کرنا پڑا جو کہ بلاجواز ہے

          ساتھ ہی میں یہ بھی کہونگا کہ“ وجہ آپ خود ہوں گے ” یہ الفاظ زرا سخت تھے

          1. تحریم عظیم کہتے ہیں

            وجہ آپ خود ہوں گے سے میری مراد یہی تھی کہ آپ کی تحریر اچھی نہ ہو یا کوئٰ بھی ایسی وجہ جس کے پیچھے آپ کی ذات یا فعل ہو۔

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      ڈیئر کاشف احمد صاحب۔ مجھے افسوس ہے کہ اس بلاگ میں آپ کے لیے کوئی کردار نہیں رکھ سکا میں۔ میرا مقصد آپ کو ہنسانا تھا۔ وہ پورا ہو گیا۔ باقی تنقید جاری رکھیئے۔ اس سے مجھے مدد ملتی ہے۔
      آپ کو میرا بلاگ “ٹیل اینڈر کا چھکا” یاد ہے؟ دیکھیئے کیا وہی سب کچھ نہیں ہوتا جا رہا؟

      1. کاشف احمد کہتے ہیں

        وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
        وہ ہمیں ہے یاد زرا زرا
        تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

        سوچیں اگر دنیا میں اجالا ہی اجالا ہوتا ایک لمحے کے لیٸے بھی سورج غروب نہ ہوتا تو اجالےکی کیا اہمیت ہوتی اجالے کی کیا پہچان ہوتی؟ کوٸی اجالے کا ذکر تک کوٸی نہ کرتا اس لیٸے یہ کہا جاسکتا ہے اجالا بھی اندھیرے کے ہی دم سے ہے

        اس لیۓ ہمیں اندھیرا ہی سمجھ لیا جاۓ اگر ہم نہ ہوں تو آپ کا بھی وجود بے معنی ہوجاۓگا

  2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    انسان منافق نہ ہو کچھ بھی ہو. آپ تو کہتے تھے کہ آپ کو تنقید بہت پسند ہے. لیکن حقیقت میں آپ ایک منافق شخص ہیں. کسی لالچ یا شرپسندی کے بغیر صرف اور صرف آپ کی بہتری کے لئے کی گئی تنقید بھی اپ سے برداشت نہیں ہوئی. تو پھر کرتے رہئے صفحے کالے. آج کے بعد اپ کے بلاگز میرے لئے شجرممنوعہ ہیں. آپ لوگ مفت میں برا لکھنے والے ہی تو اچھا لکھنے والوں کا حق مارتے ہیں. بہر حال اب کیا ہی کچھ کہنا. . اللہ آپ کو نیک ہدائت دے. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ خود کو بہتر کرتے. تنقید کو تعمیری اندازمیں لیتے. اپنی اصلاح کرتے. آپ نے تو سازشی تھیوری برآمد کر ڈالی.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      سر آپ ایک اچھی تحریر لکھ کر کیوں نہیں بھیج دیتے تاکہ انہیں بھی پتہ لگے کہ اچھی تحریر کیا ہوتی ہے۔

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بس جی۔ آج کل منافقت کا دور دورہ ہے۔ مثبت باتیں بھی دوسروں کی عزت نفس پر حملہ کر کے کی جاتی ہیں۔
      ویسے آپ نے شجر ممنوعہ کا بہت خوب کہا۔ اب خیال رکھیے گا۔ شجر ممنوعہ چکھنے سے ستر کھل جایا کرتا ہے۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        آپ کا پہلے سے کھلا ہوا ہے. ہمارا بھی کھل جسئے گا. کیا فرق پڑتا ہے.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          اطلاع دینے کا شکریہ جناب۔ چلیئے آپ اپنا کام جاری رکھیئے۔ میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔

  3. منال کہتے ہیں
  4. Minal کہتے ہیں

    Apnay khas andaz me bohat zabrdast likha hai..I can’t stop laughing …tankeed krna achi baat hai mgr bila maqsad tankeed or be nukta tankeed samajh nhi aty kisee ko.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ۔

  5. سلیم عابد کہتے ہیں

    ہمیشہ کی طرح ناکارہ بلاگ.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      میں آپ کی رائے سے سو فیصد متفق ہوں۔

  6. Abdulla کہتے ہیں

    Another great piece of writing Sir, have to say that.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you :)

  7. شاہد علی کہتے ہیں

    کہنا کیا چاہتے ہیں کچھ واضح نہیں. تحریر میں روانی اور یکسوئی کا فقدان ہے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔ آپ کو واقعی سمجھ میں نہیں آسکتا۔

  8. واصف ملک کہتے ہیں

    ویسے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح کی اختلافی بحث کا حصہ نہ بنوں۔ مگر آج باامر مجبوری اپنی رائے دے رہا ہوں۔ مس روشینہ امجد ٹیلنٹ اور اسکلز انسان کے اندر ہوتی ہیں۔وقت ان کو پالش تو کر سکتا ہے لیکن صرف تجربے کی بناء پر آپ تجربے کو صلاحیت پر فوقیت نہیں دے سکتے۔ صلاحیت ہو تو تجربہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر صلاحیت نہ ہو تو تجربہ بےکار رہتا ہے۔ مس تحریم عظیم اس مقام پراگر ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس پوزیشن کی حقدار تھیں۔ کوئی بھی ادارے کے مجاز حکام بے و قوف نہیں ہوتے جو کسی نا اہل کو ٹاپ بیورو کریسی میں شامل کر لیں۔ آپ کو اگر تحریم عظیم کے ٹیلنٹ یا پوزیشن پر بات کرنی ہے تو پہلے تو ان کی اہلیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دنای نیوز نے ان کو یہ زمہ داری دی ہے تو سوچ سمجھ کر ہی دی ہو گئی۔ آپ یا کسی اور کو کیوں نہیں دے دی گئی؟ پھر بھی اگر آپ کو کوئی شک ہے تو ہم سب پر ان کے بلاگز پڑھ لیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی تسلی ہو جائے گی۔ آپ کو حق حاصل ہے کسی بھی پوسٹ پر کمنٹ کریں۔ اپنی رائے سے نوازیں۔ لیکن رائے مضمون پر ہونی چاہئیے نہ کہ صاحب مضمون پر۔ بہت شکریہ۔

  9. مطربہ شیخ کہتے ہیں

    بہت بہت مزے دار تحریر ، کرداروں کو نام بہت عمدگی سے دیئے گئے اور بہت خوب نام ہیں :) . آخری سطر حاصل کلام ہے

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      تعریف کا بے حد شکریہ مطربہ صاحبہ۔ اس میں مرزا تنقید بھیانک آبادی کا کردار ایک حقیقی شخصیت کو سامنے رکھ کر لکھا تھا۔ یہ صاحب غالباً آج بھی روزنامہ رنگ میں بھنگ میں ہوتے ہیں۔
      دیکھیے اگلے بلاگ میں کیا ہوتا ہے۔ :p

تبصرے بند ہیں.