حیدرآباد میں ایک جنرل یونیورسٹی بنائی جائے

3,711

عام تعلیمی ادارے اور جامعہ میں بنیادی فرق تحقیق کا ہے۔ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق جامعات کی بنیادی ذمہ داری اورمیدانِ خاص ہے۔ تحقیق کا اظہار جدت اوراختراعات لیے ہوتا ہے، جامعات اس میں نمایاں کردارادا کرتی ہیں۔ عموماً یہ طنزسننے میں آتا ہے کہ جب برصغیرمیں تاج محل بن رہا تھا اس وقت انگلستان میں جامعات کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی۔ بے شک حقیقت یہی تھی لیکن ہماراعلم درس گاہوں سے نکل کر اس سطح پر آ چکا تھا کہ اس کا اظہار دنیا کے منفرد عجوبے تاج محل کی صورت میں رونما ہو رہا تھا۔

سائنس، دفاع اورمعیشت سمیت ہرمیدانِ علم کی بنیاد روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے، نت نئی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، نصاب پرمسلسل نظر ثانی ہو رہی ہے، کتب شائع ہو رہی ہیں، تراجم کے ذریعے علوم وفنوں کو اپنے ہاں منتقل کیا جا رہا ہے, برقی ذرائع ابلاغ سے مدد لی جا رہی ہے۔ ایک طرف طلبہ کی تربیت کی جا رہی ہے دوسری طرف اساتذہ کو نئی جہات سے روشناس کیا جا رہا ہے۔ ملک میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائرایجوکیشن کمیشن میں بدل کر اس کے فرائض میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی سطح پر ہائرایجوکیشن کمیشن تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ پرائمری تعلیم سے جامعہ تک اعلیٰ تعلیم کے لیے پورے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ سندھ میں بھی جابجا تعلیمی ادارے تعمیر ہوتے جا رہے ہیں۔ شہر کیا دیہات کے لیے بھی جامعات کے چارٹر منظورکیے جا رہے ہیں۔ مگر ملک کا پانچواں اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد یونی ورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے محروم ہے۔

اندرونِ سندھ کا مرکز حیدرآباد ایسا بدقسمت شہر ہے جس میں سرکاری و نجی سطح پرکوئی جنرل یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی کو ملک کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد سندھ یونیورسٹی کو حیدرآباد میں اُس جگہ منتقل کیا گیا جہاں آج سندھ یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس قائم ہے، وہ کیمپس آج صرف ایجوکیشن فیکلٹی کا کام کر رہا ہے۔ بعد ازاں جامعہ سندھ بھی یہاں سے جام شورو منتقل کر دی گئی۔ لیاقت میڈیکل کالج اورمہران انجینئیرنگ کالج بھی حیدرآباد کے لیے منظور ہوئے تھے اوریہیں قائم تھے، انھیں بھی جام شورو ضلع میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دونوں پروفیشنل کالج یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ یعنی پہلے حیدرآباد کے طلبہ و طالبات کو جنرل یونیورسٹی اور انجینئیرنگ اور میڈیکل کالج جیسے پروفیشنل ادارے میسر تھے۔ ماضی کی نسبت یہ ادارے گنجائش میں کم ہیں اور حیدرآباد کی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں مگر ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارے موجود نہیں ہیں۔

البتہ سرکاری سطح پر حیدرآباد دیہی میں ایک زِرعی جامعہ اور نجی سطح پر مہنگی ترین میڈیکل اورایک آدھ سائنسی شعبے پر مشتمل جامعہ ضرور ہے۔ چھٹی مردُم شماری کے مطابق حیدرآباد ضلع کی کل آبادی 20 لاکھ 20 ہزارایک سو اُناسی ہے۔ تعلیمی بورڈ حیدرآباد سے ہرسال پچاس ہزارسے زائد طلبہ و طالبات انٹر کا امتحان پاس کرتے ہیں جن میں پری انجینئیرنگ کے طلبہ و طالبات کی تعداد 18 ہزار ایک سو چھتیس، پری میڈیکل کے 27 ہزار ایک سو اڑسٹھ اور جنرل سائنس کے 993 طلبہ و طالبات شامل ہیں۔

حیدرآباد میں اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے سبب قریب ترین لیاقت میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسزمیں پہلے 47 سیٹیں مختص تھیں، وہ بھی اب گھٹا کر37 کر دی گئی ہیں۔ مہران انجینئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں حیدرآباد ڈومیسائل کے حامل طلبہ و طالبات کے لیے صرف 88 نشستیں ہیں جب کہ پبلک یونیورسٹی سندھ کے مین کیمپس سمیت لاڑکانہ، نوشہروفیروز، دادو، میرپور، حیدرآباد، ٹھٹھہ اوربدین کیمپس میں کل 18930 گریجویشن اورپوسٹ گریجویشن داخلے کی گنجائش ہے۔ قانوناً 60 اور 40 کا دیہی اور شہری کوٹہ نافذ ہے۔ پروفیشنل کالجز کیا، سندھ جیسی جنرل یونیورسٹی میں حیدرآباد کے طلبہ کی غالب اکثریت داخلوں سے محروم ہیں۔ معدودے چند سو کے علاوہ باقی ماندہ طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم ایک خواب ہی ٹھہرتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد حیدرآباد شرح خواندگی کے لحاظ سے پانچ سرفہرست شہروں میں شامل تھا،70 سال بعد یعنی اکیسویں صدی بھی میں اس کا شمارپہلے دس شہروں میں بھی نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مختلف الخیال، عقائد، رنگ اورنسل کی اجتماعیت میں رواداری نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، یہاں اس کے برعکس کو فروغ دیا گیا ہے۔ سرمئی شاموں اور ہوادانوں کے اس شہرکو لسانیت کی راہ دکھائی اور اپنے کہلائے جانے والے اور پرائے قرار دیے جانے دونوں اس عصبیت میں اپنا ہی نقصان کرتے رہے ہیں۔ حیدرآباد ضلع چار تحصیلوں حیدرآباد سٹی، لطیف آباد، قاسم آباد اورحیدرآباد دیہی (ٹنڈوجام) پر مشتمل ہے۔ اردواورسندھی بولنے والوں کے ساتھ پختون، پنجابی، کشمیری و دیگر اس کے باسی ہیں۔ یہ سب کے سب حیدرآباد کا ڈومیسائل رکھنے کے سبب یونی ورسٹی میں داخلے سے محروم ہیں۔ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق کوٹے کی وجہ سے انہیں بیرونی جامعات میں بھی نہ ہونے کے برابر داخلہ مل پاتا ہے۔ بیرونی جامعات میں یہاں کے طلبہ وطالبات جس گریڈ پر داخلے سے محروم ہو جاتے ہیں اسی گریڈ اور اس سے کمتر گریڈ پر دیگراضلاع کے طلبہ وطالبات کو باآسانی داخلہ مل جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے محدود ترین مواقع ہونے کی وجہ سے وفاقی اورصوبائی مقابلے امتحانات میں بھی کم تعداد شریک ہوتی ہے۔

مقامی نوجوانوں کے اس مقدمے کے بعد ایک امید افزاء خبر ضرور زیر گردش ہے۔ خبر اس لیے کہ ابھی تک میڈیا سے ایوانوں تک محدود ہے۔ گزشتہ سال مئی میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے حیدرآباد آمد پر اسے یونیورسٹی دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں یونیورسٹی کے لیے قرارداد منظور ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ ہی کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہی بات کراچی میں دہرائی۔ ہائرایجوکیشن کمیشن نے بھی ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا اُصولی فیصلہ کیا۔ سندھ اسمبلی بھی حیدرآباد کے سوسالہ قدیم تاریخی گورنمنٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے لیے ایک قرارداد منظور کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے مزید آگے بڑھ کر وزیرِ تعلیم جام مہتاب ڈھرکی سربراہی میں کمیٹی کو قائم کرکے خصوصی ٹاسک دیا۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں صوبائی کابینہ نے اس کی منظوری دی اور 2 مارچ کوسندھ اسمبلی نے گورنمنٹ کالج حیدرآباد کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا تاریخی بل منظورکیا ہے۔

یونیورسٹی کا قیام حیدرآباد کے شہریوں خصوصاً طلبہ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ بلا امتیازحیدرآباد کے شہری سندھ اسمبلی کے اس تاریخی بل کو اسی سال مدت ختم ہونے سے پہلے عملی جامہ پہنتے دیکھنے کے شدید خواہش مند ہیں۔ یونیورسٹی کے قیام سے جہاں معیارتعلیم بلند ہوگا، جامعات کے درمیان علمی و تحقیقی مسابقت پیدا ہوگی وہیں حکومت وقت کو بھی اس کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ بشرط یہ کہ صوبائی حکومت اپنی مدت کے اختتام سے پہلے یہ اہم کام کر گرزے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت عمدہ پروفیسر صاحب بہت عمدہ طریقے سے آپ نے حیدرآباد کا مقدمہ لڑا ہے میری خواہش ہے کہ آپ کی تحریرحکمرانوں تک ضرور پہنچے اور جس طرح آپ نے مثبت سوچ کے ساتھ درخواست کی ہے اسی جزبے سے حکومت کو بھی اس معاملے میں تیزی دکھانی چاہیے آپ نے عملی طور پر یہ کر دکھایا ک آدھا گلاس بھرا ہوا ہے والی مثبت سوچ کے ساتھ بغیر حکمرانوں گالیاں دیئے بھی اپنا مقدمہ لڑا جا سکتا ہے مزید تحریروں کا انتظار رہے گا

تبصرے بند ہیں.