میرا جسم میری مرضی۔۔ کیوں نہیں؟

2,086

مغرب میں چلنے والی اس تحریک کے ساتھ ساری مسلم اور غیر مسلم خواتین کھڑی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ مجھے کیا پہننا ہے اس کا فیصلہ مجھے خود کرنا ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری عورتیں برہنہ گھومنا چاہتی ہیں؟ نہیں بلکل نہیں، اس تحریک کا حصہ بن کر یہ خواتین اپنے لیے اپنے مزاج، اقدار، طبیعت یا مذہب کے مطابق لباس کے انتخاب کا اختیار چاہتی ہیں۔

آج کل مغرب میں موجود کئی ممالک میں نقاب پر پابندی عائد کی جا رہی ہے وہاں انسانی حقوق کی تنطیمیں یہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی۔ مجھے حق ہے کہ میں نقاب پہنوں یا حجاب لوں یا جس طرح کے کپڑے میری طبیعت سے میل کھائیں، میں پہنوں۔ جب یہ بات مغرب میں موجود مسلمان عورتوں کے حق میں غیر مسلم کرتے ہیں تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے لیکن اگر یہی بات پاکستان میں کوئی عورت کر دے تو اخلاقیات اور مذہب کے ٹھیکیدار ان عورتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان خواتین کے ذریعے مغرب مسلمانوں اور ان کی اقدار کے خلاف کوئی سازش کر رہا ہے۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں کوئی عورت اپنا لباس خود چننے کا حق مانگتی ہے تو کیا وہ مادر پدر آزاد ہو جائے گی؟ آپ کو خدا کا خوف ہے تو کیا اسے اپنے رب کے سامنے جواب دہی کا احساس نہیں؟ اسلام تو پوری دنیا کے لیے آیا تھا اسی لیے اسلام نے ہر چیز بشمول لباس کے بنیادی اصول بتائے۔ اپنے علاقے، ثقافت اور موسم کے لحاظ سے لباس مختلف ہو سکتا ہے ہاں بس اس میں عریانیت نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی عورت یا مرد بےحیائی کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو نہ اسے برقع روکتا ہے نہ داڑھی، اگر ایسی بات ہوتی تو مدرسوں میں بد فعلی کا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہ ہوتا۔

اگر ایک عورت کو خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس نہیں ہے یا اس نے اپنی طرف سے مناسب لباس پہنا ہے پر اس کے کپڑے آپ کے بنائے ہوئے “ٹھیک لباس” کے پیمانے پر پورا نہیں اتر رہے اور وہ آپ کی نظر میں گناہ کی مرتکب ہو رہی ہے تو اس کی فکر کرنے سے پہلے آپ اپنی عاقبت سنوار لیں۔ الله کی نظر میں اس عورت اور آپ میں کوئی فرق نہیں، اس عورت کو تو بعد میں مناسب لباس پہننے کا حکم دیا گیا ہے، پہلے آپ کو نظریں جھکانے کا کہا گیا ہے۔ اگر آپ کی آنکھیں نیچی ہیں تو آپ کو نہ کسی کی چست قمیض نظر آئے اور نہ ہی اونچی شلواریں۔ ایک اور بات اپنی گرہ میں باندھ لیں، آپ خدا کو قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہم نے نظریں اس لیے نہیں جھکائیں کہ عورت نے نا مناسب لباس پہنا ہوا تھا۔

“جو دکھا رہی ہو، وہی دیکھ رہے ہیں” کی دلیل اتنی ہی کمزور ہے جتنا بدنام مردوں کا کردار ہے۔ مجھے خود بھی اس کا تجربہ ہے۔ میں نے نقاب بھی پہنا ہے، بڑی چادر بھی اوڑھی ہے اور پاکستانی روائیتی شلوار، قمیض بمع دوپٹہ بھی  زیب تن کیا ہے لیکن کسی لباس نے بھی مرد کی نظر کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا۔ یہاں ڈنمارک میں آپ شلوار قمیض پہنیں یا برقع، جینز پہنیں یا سکرٹ، کوئی آپ کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ اس سے یہی پتہ لگتا ہے کہ خرابی دوسرے کے لباس میں نہیں بلکہ آپ کی تربیت میں ہے۔

ہمارے یہاں لڑکوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ کسی کے لباس، جسمانی معذوری، موٹاپے، رنگ و نسل یا کسی اور وجہ سے کسی بھی شخص کو دیر تک دیکھنا بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کسی خاتون کو اس کے لباس یا شکل کی وجہ سے گھورتے رہنا بھی انتہائی نا مناسب ہے۔

کسی کا کوئی بھی لباس آپ کو اسے گھورنے کا حق نہیں دیتا۔ ہر خاتون کو آزادی ہونی چاہئیے کہ وہ اپنے لیے اپنی مرضی کا لباس منتخب کرے۔ اسی اصول کی بنیاد پر ہم مغرب میں عورتوں کے برقع اور حجاب پہننے کا دفاع کرتے ہیں پر ہماری بدقسمتی ہے کہ اس اصول کا اطلاق ہم اپنی خواتین پر نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم منافق ہیں۔

ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے۔ کسی بھی انسان سے اس کا یہ بنیادی حق نہ چھینیں۔ مذہب اور اخلاق کی تعلیم صرف عورت کے لیے مختص نہ کریں بلکہ مردوں کو بھی دیں تب کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرے گا، تب بھی نہیں جب وہ کہیں “میرا جسم،میری مرضی”۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

27 تبصرے

  1. Aiman کہتے ہیں

    wese apka ye blog mjy bilkul b pasand nhi aya.. islam jab aya tha tab to… hmare Nabiyob ki biwiyon ko betiyon ko yani hr orat ko parday ka huqam dia gya tha… Hlanky wo us doar main b bht ba-parda thi..lekin phr b Allah ne Quran pak main hukam dia hy Musalman orat ki ye pehchan hy k wo parda kre…. or apne jism ki numayish mat kre….or apne chehron ko apni chadron se dhamp len take wo pehchani ja sken k wo Islam ki shehzadiyan hy… kyu k jism b rab ka or marzi b rab ki hy…

  2. شیراز کیانی کہتے ہیں

    اس طرح کے خیالات اسلام سے دُوری کا نتیجہ ہیں،
    اس طرح کے دلائل اس وقت کیوں نہیں دئے جاتے جب غیر ممالک میں مسلمان عورتوں کے سر سے دُوپٹہ چھینا جاتا ہے، یا دوپٹے کے خلات
    قانون سازی کی جاتی ہے؟
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو احکامات مردوں کے لئے ہیں اُن پر مردوں کو عمل پیرا ہونا چاہئے، اور جو احکام عورتوں کے لئے ہیں وہ عورتوں کے لئے لازم ہیں، اگر کوئی دوسرا عمل پیرا نہیں ہے تو اس وجہ سے خود بھی عمل کرنا چھوڑ دیں، یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟
    جس کے دماغ میں اسلام کی تعلیمات سما جائیں اس کی دُنیا اور آخرت سنور جاتی ہے،

  3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    دو نمبر بلاگ. پہلے بھی کہیں چھپ چکا. تحریر کاپی کر کے یہاں اپنے نام سے لگوا دی یے.

    1. صائمہ وقاص کہتے ہیں

      محترم یہ تحریر میری ہی ویب سائٹ پر موجود ہے اگر آپ نے کہیں اور پڑھی ہے تو براہ مہربانی لنک پوسٹ کریں

    2. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Please paste the link of that blog here so that she can be proved cheater.

    3. فاروق کہتے ہیں

      بہت شرمناک بات ہےایسا کرنا

  4. صفیہ پروین کہتے ہیں

    لکھ دی لعنت.!
    جا امریکہ یا ڈنمارک میں دفع ھوجا. تو عورت کےنام پر دھبہ ھے بغیرت کہیں کی.

  5. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Good one.

  6. Farooq کہتے ہیں

    محترمہ صائمہ وقاص صاحبہ ’‘گونگلووں سے مٹی جھاڑنےکی’’ کوشش کررہی ہیں۔ سب سے بڑا آپکا دماغی فتنہ یہ ہے کہ آپ آج تک کوئی چیز یا پراڈکٹ ایسی نہیں دکھا سکتی جو اپنے بنانے والے کے پروگرام کے خلاف چلنے کی خواہش کرے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔ انسان کے بنانے والے نے اسے اختیار عطا کیا چاہو تو میری مرضی کے مطابق چل چلو چاہو تو خلاف لیکن یاد رکھو تمہارے وجود کے سارے نظام میرے حکم، فیصلے اور ارادے کے پابند
    ہونگے۔ یہ میری مرضی کے پابند ہونگے۔ یہ بات اگر سمجھ آجائے تو اس ڈائلاگ میں چھپا فتنہ اور فساد سب کھل جاتا ہے۔

  7. سجاد کہتے ہیں

    جناب عالیہ ڈنمارک میں راہ چلتے کسی کیوں دیکھیں گے وہاں تو یہ کام آمنے سامنے بیٹھ کر تسلی سے کرتے ہیں

  8. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    میں ضرور لنک پیسٹ کروں گا. میں نے ایکسپریس یا کہیں اور کچھ روز قبل ہی پڑھا تھا. بالکل یہی الفاظ میں. کہ عورت مرضی چاہتی ہے. برہنہ ہونے کا نہیں کہہ رہی. ویسے اویس صاحب ، عدنان بھائی نے بھی آپ سے لنک مانگا تھا جب آپ نے جیلانی صاحب کے بلاگ پر کچھ کنٹ کیا تھا. وہ لنک اب تک اپ پر ادھار ہے. وقت نکال کر وہ بھی پیسٹ کر ہی دیں. تا کہ آپ کی بات کی بھی سچائی سامنے آ سکے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اس کو میں نے تلاش کیا تھا مگر مجھے ملا نہیں تھا۔ کوئی اخباری انٹرویو تھا۔ میں دوبارہ تلاش کروں گا۔ مگر وہ انٹرویو تو چلیں کافی پرانی بات ہے۔ آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ کچھ دن پہلے ہی یہ بلاگ آپ نے پڑھا ہے۔ تو آپ اس کا لنک تو مہیا کریں۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        میں نے یہ کہا تھا کہ میں نے پڑھا تھا یہ نہیں کہا تھا کہ لنک بھی ڈھونڈ کے دوں گا. میں نے ایگزیکٹلی یہی ورڈنگ پڑی تھی. میں کوشس کروں گا لنک ڈھونڈ سکوں. میں ایک دن میں سب نیوز پیپپرز اور سب بلاگز پڑھتا ہوں. تحریر یاد رہ جاتی ہے. کہاں پڑھا تھا یہ یاد نہیں رہتا. لیکن میں کوشش کروں گا. انشاء اللہ

  9. کاشف احمد کہتے ہیں

    میں کو شش کرتا ہوں کہ ایسے متنازع ایشوز پر کمنٹ نہ کروں کیونکہ جتنے کمنٹس ہونگے اس سے ایسا محسوس ہوگا دیکھنے اور لکھنے والوں کو کہ شاید ایسے بلاگ کی ریٹنگ بہت زیادہ ہے اسی طرح جتنے زیادہ کمنٹس ہونگے اتنے ہی وویوز بھی بڑھ جاتے ہیں اس لیئے یہ گمان بھی کیا جا سکتا ہے کہ شاید بلاگ بہت ہٹ ہوگیا ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ معاملہ ہمارے ایمان اور دین اسلام سے منسلک ہے اور میں کوئی بہت بڑااسلام کا عالم نہیں اور نہ ہی میرے اعمال اتنے اچھے ہیں کہ میں دوسروں کو نصیحت کروں لیکن پھر بھی میں مجبور ہو کر یہ کہنہ چاہتا ہوں کہ

    بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ نہ تو جسم ہمارا ہے اور نہ ہی مرضی ہماری ہوسکتی ہے یہ جسم بھی اللہ کی امانت ہے اور ایک مسلمان کی زندگی قرآن اور حدیث کی مرضی سے گزارنی ہوتی ہے اس لیئے جو بھی ایسے موضوعات پر لکھنا چاہے ضرور لکھے لیکن اس کا عنوان کسی بھی طرح ایک مسلمان کے لیئے قابل قبول نہیں ہوسکتا اس لیئے سب سے پہلے تو ان نظریات کا عنوان بد لہ جائے اور پھر بجائے لفاظی کرنے کے قرآن اور حدیث سے اپنے نظریات کو ثابت کیا جائے اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر جتنا مرضی لکھتے رہیں جتنا مرضی بولتے رہیں سوائے چند لوگوں کے کوئی بھی آپ کی بات سے متفق نہیں ہوگا نہ ہی آپ کوئی تبدیلی اس طرح لا سکتے ہیں ہاں اس طرح فتنہ فساد ضرور برپا ہو سکتا ہے

    اور ایک بات یہ بھی کہ پاکستان میں تو حکومتی سطح پر تو لباس پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ باہر کے ممالک میں ایسا ہے کہیں برقع پہننے کی پابندی ہے تو کہیں اسکارف پہننے پر پابندی ہے تو آپ کا یہ مطالبہ ہے کس سے اگر حکومت سے ہے تو بلکل ہی غلط ہے اور اگر عوام کا ذہن بدلنا چاہتی ہیں آپ تو آپ کو عنوان بدلنا پڑے گا کیونکہ جسم اللہ کی امانت ہے اور مرضی بھی قرآن اور حدیث کی ہے اس لیئے مستند حوالہ دیں تب ہی ایک صحت مند بحث کا آغاز ہوگا اور یہ کہاں لکھا ہے کہ عورت جیس مرضی لباس پہن لے اور مرد نظر نیچے رکھے احکامات دونوں کے لیئے برابر ہیں جو خلاف ورزی کرے اس کو اپنا حساب دینا ہے دوسرے کا نہیں آخر میں ایک مشہور زمانہ حدیث قدسی

  10. کاشف احمد کہتے ہیں

    بلکہ میں حدیث قدسی بیان نہیں کرتا یہاں کیونکہ وہ بھی متنازع ہے

  11. کاشف احمد کہتے ہیں

    اور کیونکہ لباس اور عورت کی آزادی کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی پابندی نہیں ہے اس لیئے بجائے آپ دوسروں کو نصیحت کریں جس کو بھی اپنی مرضی کرنی ہے وہ اپنے گھر والوں اور خاندان
    تو والوں سے اجازت طلب کرے اور ان کے خیالات بدلے تو مسئلہ با آسانی حل ہوجائے گا

  12. Adam Farooq کہتے ہیں

    I am sorry for such cheating in this blog.
    Mera jism meri marzi
    Is not about dress
    Butt about body
    About womb
    About choice of sex with any male or any animal
    Right of marriage
    Living with male or female with or without wedlock
    About clothing is not a issue in west.
    Even in Scandinavian countries having children from father or son is not a crime.
    (Seven children case of a father from his daughter who keep her in his house confinedfor 19y and he was punished only not helping one child for medical treatments same).
    And last year women protest against Trump in NY please watch video’s from YouTube.
    It is not matter of dress.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      Agree with u adam

    2. sullu کہتے ہیں

      very nice this what exactly what she mean by a baysharam women

  13. TAYYABA کہتے ہیں

    ISLAM GIVES A DRESS CODE FOR BOTHMEN AND WOMEN.The areas that should not open in front of any one by male is b/w bellybutton and knees joint. IT IS CALL SATTER OF MALE .For women Satter for going out,infront of non Mahram Iside home is only face, hands till wrist and feet till ankles. All other body parts beside above mentioned areas should be covered. Islam holybook Quran Kareem describes these in following chapters:versis ranges .Pl check yourselves and comply.
    Alahzab #33:54,52-59
    Alnoor #24: 29-31,58-61
    Nahal#16:90
    wama allina illal ballah means you had received Allah order so atamana and saqana means I will obey is Muslims response.
    Tayyaba KS from usa

  14. muneeb shah کہتے ہیں

    bkwas hai sb

  15. Kimberly Suzzane کہتے ہیں

    es ko yeh article likhny kay kitna pisay miley hy?

  16. sullu کہتے ہیں

    you own something when you had paid for it, how much paid by you for you body, ??? before calling my body my dress??? shame on writer.

  17. M ZIA کہتے ہیں

    MERI ANKHEN MERI MARZI!!!

  18. M ZIA کہتے ہیں

    What a mean thinking!
    Then porn stars are not bad because “unka jism unki marzi”!
    Waiting for your response!

  19. wasif malik کہتے ہیں

    اللہ کی مرضی ہو ہمارے وجود پر تو بہتر ہے۔ بہر حال اچھی کوشش

  20. نبیحہ ارشد کہتے ہیں

    محترمہ آپ اپنے ذہنی شعور کو درست الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکیں۔ آپ کے دلائل انتہائی کمزور ہیں اور آپ کی کم فہمی کے عکاس بھی۔ پہلے مذہب کی بات کر کے بعد میں اپنی مرضی کی بات کیسے کر سکتی ہیں آپ؟ اپنے مذہب اسلام کے بارے میں ہم لوگ نہایت غلط قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور یہی وجہ کہ بیرون ممالک مقیم مسلمان ان تنازعات کا شکار ہیں۔ آپ جا کر احادیث کا مطالعہ کریں پھر اپنی بات میں وزن پیدا کر کے دلائل کے ساتھ لکھیں۔

تبصرے بند ہیں.