ایک دن کے لیے ملک کے حالات بہت اچھے رہے

1,896

کچھ عرصہ سے بلکہ کافی عرصہ سے ملک کے حالات خراب تھے۔ آئے دن کوئی نا کوئی بری خبر ہی مل رہی ہوتی تھی۔ صبح کے اخبارات میں سیاست دانوں کی بدعنوانیاں، دشمنیاں، پریشانیاں، اداروں پر تنقید اور اداروں کی سیاست دانوں پر تنقید، پس پشت قوتوں کی دہائی اور پس پشت قوتوں کی طرف سے دھلائی کی خبریں، قتل و غارت، لوٹ مار، راؤ انوار کا فرار، عدالت میں پیشی، اغوا اور قتل کی خبریں، کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات روز کا معمول تھیں۔

ٹی وی کھول لیں تو پہلے سے موجود ذہنی دباؤ اور بڑھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ انواع و اقسام کے نجی نیوز چینلز قسما قسم کی خبریں دوڑا رہے ہوتے تھے۔ دھماکے دار بریکنگ نیوز اپنی مخصوص دل دہلا دینے والی پس پردہ آواز کے ساتھ کچوکے دیتی تھیں۔ ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والی پٹی پر بری سے بری خبریں چل رہی ہوتی تھیں اور قوم کو ذہنی اور جسمانی طور پر مریض بنا رہی ہوتی تھیں۔ کہیں از خود نوٹسز کی خبریں ہوتی تھیں تو کہیں از خود نوٹسز پر تبصرے اور بیانات چل رہے ہوتے تھے۔ نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی دکھائی جا رہی ہوتی تھی تو عمران خان کی پریس کانفرنس کے چرچے چل رہے ہوتے تھے۔

ان سب کو دیکھ دیکھ کر نہ صرف ایک عام پاکستانی بلکہ دوسرے ملکوں کے رہنے والے بھی جو ہمارے میڈیا پر نظر رکھتے ہیں عجیب و غریب ذہنی تناؤ کا شکار رہتے تھے۔ مسلسل منفی خبروں کے باعث بے چاری قوم کا سوچ بھی منفی ہو کر رہی گئی تھی۔ ہر اچھی چیز کو بھی کسی سانحے، کسی بحران یا کسی مفاد کی بنیاد پر پرکھنا شروع کر دیا گیا تھا۔

ایسے میں پرسوں ایک عجیب ماجرا ہوا۔ پرسوں ٹی وی لگایا تو ہر طرف خوشی کا سماں ہے۔ پہلے تو آنکھیں ملیں کہ غلطی سے کہیں ناروے کے چینلز تو نہیں کھول بیٹھے۔ مگر پھر جیو، اے آر وائی، دنیا، سما، ایکسپریس اور ڈان وغیرہ کے شناسا بلکہ ہراساں ناموں کو دیکھا تو کچھ کچھ یقین آنا شروع ہوا کہ یہ اپنے ہی نجی چینلز تھے۔ صبح کی چائے کا کپ ہاتھ میں تھا مگر چائے بدمزہ ہو گئی جب پورے ستائیس نجی نیوز چینلز پر کوئی ایک بھی منفی خبر نظر نہیں آئی۔ ہر چینل پر خوشی کا عالم تھا۔ ہر نیوز کاسٹر چہک رہا تھا۔ اسکرینوں پر رنگ برنگے مناظر بہار دکھا رہے تھے۔ اور قوم سکتے کے عالم میں تھی۔ کسی کی سمجھ  میں نہیں آ رہاتھا کہ آخر کیوں ان نیوز چینلز نے یکایک خوشی بکھیرنی شروع کر دی ہے۔

تب یاد آیا کہ آج 25 مارچ ہے اور آج کراچی میں پی ایس ایل کا فائنل میچ اسلام آباد یونائیٹد اور پشاور زلمی کے مابین کھیلا جانے والا ہے۔ نو برس کے بعد کراچی میں کرکٹ بحال ہو رہی ہے اور قوم خوشی میں بے حال ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے لاہور میں لاہوری بے حال ہو چکے تھے۔ پچیس سے تیس ہزار وہ جو خوشی سے بے حال ہوئے کہ وہ قذافی اسٹیڈیم میں میچ دیکھ رہے تھے۔ اور اس سے کچھ زیادہ تعداد غصے میں بے حال ہوئی جن کو راستوں کی بندش کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آفرین ہے لاہور والوں پر جنہوں نے اپنے جوش و خروش اور جذبے سے دنیا پر یہ واضح کیا کہ پاکستان ایک پر امن اور خوشیاں منانے پر یقین رکھنے والی قوم ہے۔ اور اسی خوشی نے پرسوں نیوز چینلز کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ تمام منفی خبروں کو بھول کر صرف مثبت اور خوشیوں بھری ٹرانسمیشن چلا رہے تھے۔

اب ان خوشیوں کا رخ کراچی کی طرف تھا جہاں کچھ عرصہ قبل تک ایسی خوشیوں کا تصور بھی مشکل تھا۔ مگر اس دن کراچی والوں کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔ وہ پرجوش تھے۔ پر امید تھے۔ ہنس رہے تھے۔ گا رہے تھے اور کرکٹ کو کراچی میں خوش آمدید کہ رہے تھے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ یہ فائنل میچ جیت گیا۔ مگر اصل جیت امن کی ہو گئی۔ فتح کا تاج پاکستانی قوم کے سر پر سج گیا۔

ان خوشیوں کو پوری قوم کے ساتھ شیئر کرنے میں ہمارے نیوز چینلز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس دن میڈیا پر چاہے ایک دن کے لیے ہی سہی مگر ملک کے حالات بہت اچھے رہے۔ اگر ہمارا میڈیا 25 مارچ کے دن کو مثال بنا لے اور روز منفی کے بجائے مثبت خبروں کو ترجیح دے تو قوم کی مایوس اور منفی سوچ دیکھتے ہی دیکھتے امید اور یقین میں بدل سکتی ہے۔

مجھے تو یقین ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

18 تبصرے

  1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    آپ کو اچانک پتہ چل ہو گا یا پھر اپ قومے سے اچانک جاگے ہوں ھے جو اتنے حیران ہو رہے ورنہ تو پی ایس ایل گزشتہ ایک ہفتے سے یہی عالم تھا. یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ اس دن کو منفی خبر نہیں چلی. ڈکیتی،چوری مارکٹائی اور سیاسی دنگل اس دن بھی جاری رہے تھے. شائد آپ کا مشاہدہ کمزور ہے یا آپ کی کیبل کوئی الگ نیوز چینلز دکھاتی ہو.

    1. عدنان کہتے ہیں

      جاوید بھائی، دل تو میرا بھی بہت کرتا ہے تنقید کرنے کا۔ مگر اویس بھائی نے میری تحاریر پر آج تک کچھ نہیں بولا۔ اسلیے میں بھی کچھ نہیں بول رہا۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        تنقید کرنا قاری کا حق ہے اور میں نے کبھی ناجائز تنقید نہیں کی. اچھا لکھنے والوں کی تعریف بھی دل کھول کر کرتا یوں میں . عدنان بھائی. تنقید بہتری کے لئے ہوتی ہے. اگر آپ نہیں کریں گے تو یہ ناانصافی یوگی اویس صاحب کے ساتھ.

        1. عدنان کہتے ہیں

          جاوید بھائی بلکل درست، بس آپکی یہ بات تنقید سن نے والا بھی سمجھ جائے تو دنیا کے مسائل ختم ہوجائیں گے۔

          1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

            دیکھیں آپ پر میں نے کتنی کڑی تنقید کی. آپ نے اس کو مثبت لیا اور بڑی محبت سے اپنا نقطہ نظر واضح کیا. یہ سپرٹ آپ کو اوپر لے کر جائے گی. یقین کریں اس وقت میں آپ کے مضامین پڑھ رہا تھا، چائے پانی، یوم حیا، عمران خان پلے بوائے، اور احساس. آپ کے موضوع کا چناو اچھا ہوتا ہے. اور علم بھی ہے آپ کے پاس. جب آپ نے کسی کمنٹ کے جواب میں لکھا کہ پلے بوائے آپ نے نہیں کہا بلکہ انٹرنیشنل میڈیا کہتا ہے. اور گارڈین کا لنک بطور ثبوت پیش کیا. مطلب آپ پڑھتے ہو. یہ اچھی عادت ہے. دوسرا یہ جواب کہ نواز کرپٹ زرداری قاتل ہو سکتا عمران پر تنقید نہیں ہو سکتی. بہت عمدہ ردعمل تھا. آپ جس چیز سے مار کھا رہے وہ آپ کی ناتجربہ کاری ہے. جلد آپ اچھے رائٹر بن جاو گے.

        2. Awais Ahmad کہتے ہیں

          بالکل جی۔ میں آپ سے متفق ہوں۔

      2. Awais Ahmad کہتے ہیں

        جناب آپ ضرور کریں۔ تنقید تو مجھے بہت خوشی دیتی ہے۔ مدد بھی ملتی ہے۔

        1. عدنان کہتے ہیں

          بس آپ دعا کریں کے پہلے اتنا قابل ہوجاؤں تاکہ تنقید کرتا ہوا بھی اچھا لگوں، ،ابھی تو چ لگوں گا :پ

          1. Awais Ahmad کہتے ہیں

            دعا تو آپ کریں جناب۔ میں کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑا ماروں

  2. شاہد علی جنگ گروپ کہتے ہیں

    اویس میں نے آپ کی کسی دوسری پوسٹ کے نیچے معروف جرنلسٹ امجد اقبال صاحب کے کمنٹس پڑھے تھے. انہوں نے آپ کو بہت خوبصورت نصیحت کی تھی لیکن آپ اس نصیحت کو سمجھ نہیں پائے. آپ کے مضمون میں معلومات کا شدید فقدان ہوتا ہے. جس میں گہرائی ندارت ہوتی ہے. اسلوب سے یہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ دراصل آپ مزاح پیدا کرنا چاہتے ہیں یا کوئی سنجیدہ بات کر رہے ہیں. مضمون کچھ ایسا باندھتے ہیں کہ نہ اس کو سنجیدہ تحریر کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ مزاح کے زمرے میں اتی یے. اس طرح اگر آپ سو سال بھی لکھتے رہیں تب بھی نہ تو اس کا آپ کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی قارئین کے لئے اہمیت ہوگی. آپ اپنا مطالعہ بڑیھائیں. ضروری نہیں کہ ہر وقت، ہر معاملہ پر مضمون لکھا جائے. بلکہ ضروری یہ ہے کہ جتنا لکھا جائے اس میں مطالعہ، معیار اور گرفت جھلکے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      آپ کے کمینٹ کا شکریہ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میرے کسی بلاگ پر امجد اقبال صاحب کا کوئی کمینٹ آیا ہو۔ اور بدقسمتی سے میں امجد اقبال صاحب کو جانتا بھی نہیں۔ غالباً آپ مجھے کسی اور اویس احمد کے ساتھ مکس کر رہے ہیں۔
      جہاں تک بات ہے معلومات کے فقدان کی تو میں صحافی تو ہوں نہیں کہ اپنے بلاگز میں خبریں مہیا کروں۔ میں واقعات پر تجزیہ اپنے ہلکے پھلکے انداز میں لکھ دیتا ہوں۔ بہرحال یہ ضرور ہے کہ جس بھی واقعہ پر لکھوں پہلے اس کی مکمل معلومات ضرور حاصل کر لیتا ہوں تاکہ کچھ ایسا نہ لکھا جائے جو کہ غلط ہو۔
      رہی بات میرے طرز تحریر کی کہ نہ تو سنجیدہ ہے نہ مزاح تو ممکن ہے یہ بات ٹھیک ہو مگر محض اس لیے کہ میری تحریر سجنیدہ یا مزاحیہ کہلائے میں اپنا لکھنے کا انداز تو نہیں نا بدل سکتا۔
      میرا کام لکھ دینا ہے۔ پسند نا پسند پڑھنے والے کی ہے۔ نا تو کسی کہ مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کو پڑھے اور نا ہی کسی کو روکا جا سکتا ہے۔
      آئندہ بھی تنقید کرتے رہیئے گا۔ اچھا لگتا ہے۔

  3. Anjum Amin Siddiqui کہتے ہیں

    In 2009 Karachi Test against Sri Lanka was successfully completed and it was in Lahore that terror incident occur. It is unfortunate that Karachi was labelled as no go city for cricket. Despite incident of terror Lahore was declared safe city for International cricket and Karachi was forgotten.

  4. کاشف احمد کہتے ہیں

    ان خوشیوں کو پوری قوم کے ساتھ شیئر کرنے میں ہمارے نیوز چینلز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس دن میڈیا پر چاہے ایک دن کے لیے ہی سہی مگر ملک کے حالات بہت اچھے رہے۔ اگر ہمارا میڈیا 25 مارچ کے دن کو مثال بنا لے اور روز منفی کے بجائے مثبت خبروں کو ترجیح دے تو قوم کی مایوس اور منفی سوچ دیکھتے ہی دیکھتے امید اور یقین میں بدل سکتی ہے۔

    مجھے تو یقین ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔

    آپ آپکی بات سے متفق ہوں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ کہنہ چاہتا ہوں میڈیا کو چاہیے کہ وہ منفی چیز بھی ضرور دکھائے ہر خبر دکھائے لیکن جس خبر کی جتنی اہمیت ہو اس کو اتنی ہی اہمیت دی جائے مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مثبت یا منفی خبر کو بڑھا چڑھا کر کسی کے حق میں خلاف استعمال کیا جاتا ہے

    شکریہ

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بالکل ٹھیک بات کی ہے۔ کلی طور پر متفق ہوں۔

  5. Wasif malik کہتے ہیں

    Beautiful article.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  6. عدنان کہتے ہیں

    جاوید بھائی بہت شکریہ اور آپ درست فرما رہے ہیں، اب یہ بات دماغ میں گھس چکی ہے کہ میرے کالم کو پڑھنے والے اور دیکھنے والے بھی ہیں اسلیے اب مکھی پر مکھی نہیں مارنی، جیسے میٹرک میں اردو کے پیپر میں مضمون لکھتے تھے جس کا پہلا پیراگراف اور آخری پیرا گراف تھوڑا کام کا لکھ کر باقی بیچ میں سارا کچرا لکھتے تھے، کیونکہ سنا یہ تھا کہ چیکر کو ایک کاپی چیک کرنے کےصرف تین روپے ملتے ہیں ، اسلیے پکڑ میں نہیں آئیں گے،
    مھر یہاں ایسا نہیں چل سکتا، کیونکہ یہاں کے چیکر کو بہت ملتے ہیں :پ

    1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      ہاہاہا. ایسا کرنے میں آپ کا ہی فائدہ ہے. وگرنہ چیکر کو دھوکہ دینے والے تو لکھ ہی رہے. آپ ا میں شامل نہ ہوں تو ہی اچھا ہے.

تبصرے بند ہیں.