وہ کیسا مرد تھا؟

3,177

وہ ایک سیاہ فام مسلمان تھا۔ اس کا تعلق تنزانیہ کی آزاد اسلامی ریاست زنجبار سے تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی تھا۔ وہ اپنے ملک میں کافی مشہور تھا۔  وہ اینکر پرسن تھا، نیوز کاسٹر تھا، پروڈیوسر تھا، ڈائریکٹر تھا اور ایف ایم پر بھی ایک پراگرام کی میزبانی کرتا تھا۔

چین میں وہ میرا ہم جماعت تھا۔ کلاس میں ہم گنتی کے ہی چند مسلمان تھے، اس لیے دنوں میں ہی آپس میں گھل مل گئے۔ اکثر ہی ہم سب شام کو مل بیٹھتے تھے اور اپنے ملک ا ور گھر والوں کی باتیں کیا کرتے تھے۔ دیارِ غیر میں اپنا ملک اور گھر والے یاد ہی اتنا آتے ہیں کہ انسان غیر ارادی طور پر بس انہی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔

اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ اس کے والد کی وفات کے بعد گھر کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر آ گئی تھی۔ اب تک وہ گھر کے بیشتر اخراجات برداشت کرتا ہے۔ گرچہ اس کی والدہ ایک سکول میں پڑھاتی ہیں اور بہنیں بھی اپنا کام کرتی ہیں لیکن گھر کا سربراہ اب وہ ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس کے آگے اس نے جو بتایا وہ مجھے بے ہوش کر دینے کے لیے کافی تھا۔

گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھنے کے باوجود وہ اپنے گھر کی کسی عورت پر حکم نہیں چلا سکتا۔ کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور گلاس خود دھو کر کچن میں رکھتا ہے۔ اتوار کے روز اپنے کپڑے خود دھوتا ہے اور استری کرکے رکھتا ہے۔ اپنے کمرے کی صفائی بھی وہ اسی روز کرتا ہے۔

15871710_1749496281742811_1548079238338772003_n

میں نے حیرانی سے پوچھا کہ تم اتنے مشہور صحافی ہو، گھر کے سربراہ ہو، اس کے باوجود اپنے کام تم خود کرتے ہو؟ وہ آگے سے مجھ سے زیادہ حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا۔ اس نے پوچھا کہ میں اپنے کام نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ میں نے اسے کہا کہ دیکھو، میرا ایک بھائی ہے جو مجھ سے چھوٹا ہے۔ اس نے پانی بھی پینا ہو تو ہم بہنوں میں سے کوئی اسے لا کر دیتی ہے۔ اس کے کپڑے بھی ہم میں سے کوئی استری کر دیتی ہے۔ وہ برتن دھوئے، اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

میرے والد گھر کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں وہ تقریباً ہمارے گھر میں ایک آمر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو وہ کہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی ہمارے گھر پر نہیں مار سکتا۔ گرچہ وہ بہت آزاد خیال انسان ہیں لیکن گھر کے سربراہ کی حیثیت سے گھر کے تمام فیصلے یا تو وہ کرتے ہیں یا حتمی مہر وہ لگاتے ہیں۔

وہ کافی حیران ہوا۔ اس نے بتایا کہ ان کے ملک میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد گھر اور گھر والوں کی ذمہ داری اس نے خودبخود اپنے سر لے لی کیونکہ اس کا معاشرہ اور اسلام اسے یہی سکھاتا ہے۔

17155169_1873528339339604_1916264305645634821_n

اپنی شادی کے حوالے سے اس نے بتایا کہ اپنی بیوی کا انتخاب وہ خود اپنی مرضی سے کرے گا۔ اپنے ملک میں رائج رواج کے مطابق وہ اپنے علیحدہ گھر کی تعمیر تقریباً مکمل کر چکا ہے اور اب چین سے واپس جا کر وہ اپنے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈے گا جس سے وہ شادی کر سکے۔

کیا؟ تم شادی کے بعد الگ رہو گے جبکہ تم اپنے گھر کے واحد کفیل ہو، بڑے بیٹے ہو اور ماں کے لاڈلے بھی ہو۔” ”

“ہاں، اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ ہمارے ہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ میرا اپنا گھر میری والدہ کے گھر سے پانچ کلومیٹر دور ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے دور ہو جائوں گا یا ان کی ذمہ داری نہیں اٹھائوں گا۔”

“ہمارے ہاں تو ایک شادی شدہ جوڑا اپنے پانچ بچوں کے ساتھ پندرہ بیس سال ایک ہی کمرے میں گزار دیتا ہے کہ الگ گھر کے فیصلے پر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

چین میں قیام کے دوران دو رمضان آئے۔ ہم چند دوست مل کر سحری افطاری کرتے تھے۔ ہم میں سے ہر کوئی کچھ نہ کچھ بنا لاتا تھا یا باہر سے خرید لاتا تھا اور پھر سب مل کر کھاتے تھے۔ ہر روز افطاری کے بعد وہ میز پر پڑے برتن اکٹھے کرتا تھا اور باورچی خانے میں جا کر دھوتا تھا۔

17990708_10155222051769664_4928056229763434002_n

ہماری واپسی میں چند ماہ رہ گئے تھے۔ ایک دن اس کا پیغام موصول ہوا۔ وہ اپنی بہن کے لیے چین میں سکالرشپ اپلائی کر رہا تھا، اسے اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لیے اب اسے میرا لیپ ٹاپ چاہئیے تھا۔ میں اس بار بھی حیران رہ گئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم تو چند ماہ بعد واپس جا رہے ہو، تمہاری بہن کا اگر داخلہ ہو جاتا ہے تو وہ یہاں آ کر پڑھے گی۔ تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟ اس نے کہا مجھے کیوں اعتراض ہوگا؟ میں خود بھی تو یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوں تو میری بہن کیوں نہیں؟

میرے لیے اس کا یہ جواب اتنا حیران کن کیوں تھا؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہوں جہاں عورت کی تعلیم کو ضروری تصور نہیں کیا جاتا۔ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اب تعلیم حاصل کر رہی ہے لیکن ان کی اکثریت کے والدین انہیں تعلیم صرف اس لیے اور تب تک دلوا رہے ہیں جب تک ان کا کوئی مناسب رشتہ نہیں آ جاتا۔

گو پاکستان میں اب کافی تبدیلی آ گئی ہے لیکن ابھی بھی ایک مڈل کلاس گھر میں بیٹی کا باہر کے ملک جا کر پڑھنا ناممکن ہے۔ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو بھیج بھی دے تو اسے رشتے داروں کی باتیں سننا پڑتی ہیں جس کے بعد یا تو وہ اپنی بیٹی کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس بلوا لیتا ہے یا اس کی واپسی کے بعد دوسری بیٹی کو باہر نہیں بھیجتا۔ کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں بیٹے تو ڈاکٹر، انجینئیر، صحافی اور دیگر اہم شعبہ جات کی ڈگری لیے ہوتے ہیں جبکہ بیٹیاں سادہ بی اے یا ایف اے کر کے گھر بٹھا لی جاتی ہیں۔

ایسے ملک میں پچیس سال گزارنے کے بعد جب میں نے اُس کی باتیں سنیں تو میرا حیران ہونا تو بنتا ہی تھا۔ آج بھی اکثر میں اسے یاد کرتے ہوئے سوچتی ہوں کہ وہ کیسا مرد تھا؟

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

60 تبصرے

  1. واصف ملک کہتے ہیں

    بہترین تحریر. آپ میں بہت ٹیلنٹ ہے ماہ شاءاللہ
    مزہ آتا ہے اپ کو پڑھ کر.ہم سب میں بھی آپ کے کالمز پڑھے. بہت اچھے تھے. پاکستان میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنے کام خود کرتے ہیں. بلکہ ماں بہین، ارر بیوی کے بھی کر دیتے ہیں. بس آپ کا سامنا نہیں ہوا کبھی کسی ایسے شخص سے.
    اللہ بہت کامیابیاں دے.
    آمین

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ واصف۔ بس آپ لوگوں کی حوصلہ افزاء باتیں ہی مجھے آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہم سب کی میری زندگی میں ایک خاص جگہ ہے۔ ہم سب پر ہی میں نے لکھنا شروع کیا تھا اور وہاں لکھ لکھ کر ہی میری تحریر اب کچھ اچھی ہوئی ہے، مزید بہتری بھی وقت کے ساتھ ساتھ ہو رہی ہے۔

      1. واصف ملک کہتے ہیں

        آپ کی تحریر اچھی نکیں بہت اچھی ہے. ایمانداری سے آپ کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ایک کم عمر لڑکی بڑے بڑے جغادری لکھاریوں سے اچھا لکھ رہی ہے. اپ کی سب سے زبردست بات آپ کا واضح کانسپٹ ہے. آپ بہت آگے جائیں گی. میری پیش گوئی لکھ رکھئے

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          اور میں واصف ملک صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔

        2. Jamshed asad کہتے ہیں

      2. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. Jamshed asad کہتے ہیں
  2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھنے کے باوجود وہ اپنے گھر کی کسی عورت پر حکم نہیں چلا سکتا۔ کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور گلاس خود دھو کر کچن میں رکھتا ہے۔ اتوار کے روز اپنے کپڑے خود دھوتا ہے اور استری کرکے رکھتا ہے۔ اپنے کمرے کی صفائی بھی وہ اسی روز کرتا ہے۔

  3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    اچھی تحریر ہے.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں
  4. Nadia کہتے ہیں

    ہماری واپسی میں چند ماہ رہ گئے تھے۔ ایک دن اس کا پیغام موصول ہوا۔ وہ اپنی بہن کے لیے چین میں سکالرشپ اپلائی کر رہا تھا، اسے اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لیے اب اسے میرا لیپ ٹاپ چاہئیے تھا۔ میں اس بار بھی حیران رہ گئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم تو چند ماہ بعد واپس جا رہے ہو، تمہاری بہن کا اگر داخلہ ہو جاتا ہے تو وہ یہاں آ کر پڑھے گی۔ تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟ اس نے کہا مجھے کیوں اعتراض ہوگا؟ میں خود بھی تو یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوں تو میری بہن کیوں نہیں؟
    اکثر میں اسے یاد کرتے ہوئے سوچتی ہوں کہ وہ کیسا مرد تھا؟

    1. جاوید صدیقی کہتے ہیں
  5. Nadia کہتے ہیں

    میرے لیے اس کا یہ جواب اتنا حیران کن کیوں تھا؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہوں جہاں عورت کی تعلیم کو ضروری تصور نہیں کیا جاتا۔ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اب تعلیم حاصل کر رہی ہے لیکن ان کی اکثریت کے والدین انہیں تعلیم صرف اس لیے اور تب تک دلوا رہے ہیں جب تک ان کا کوئی مناسب رشتہ نہیں آ جاتا۔

    گو پاکستان میں اب کافی تبدیلی آ گئی ہے لیکن ابھی بھی ایک مڈل کلاس گھر میں بیٹی کا باہر کے ملک جا کر پڑھنا ناممکن ہے۔ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو بھیج بھی دے تو اسے رشتے داروں کی باتیں سننا پڑتی ہیں جس کے بعد یا تو وہ اپنی بیٹی کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس بلوا لیتا ہے یا اس کی واپسی کے بعد دوسری بیٹی کو باہر نہیں بھیجتا۔ کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں بیٹے تو ڈاکٹر، انجینئیر، صحافی اور دیگر اہم شعبہ جات کی ڈگری لیے ہوتے ہیں جبکہ بیٹیاں سادہ بی اے یا ایف اے کر کے گھر بٹھا لی جاتی ہ

  6. Nadia کہتے ہیں

    Wao. Truely too good.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      Thanks Nadia.

      1. Nadia کہتے ہیں

        U welcome tehreem.

  7. عدنان کہتے ہیں

    میڈم آپ نے بہت ہی عمدہ یادیں شئیر کی، جس میں اپنے خیالات بیان کیے، اور بے شک اور بھی بہت یادیں زہن میں ہونگی جن کو بیان کرنے کے لیے جتنے بھی اچھے لکھاری بن جائیں، مگر وہ یادیں الفاظ میں بیان نہیں ہورہی ہوتی،

    دنیا میں ہر قسم کے انسان پائے جاتے ہیں، ویسے ہی ہمارے ملک میں بھی ہر قسم کی سوچ اور نظریہ کے لوگ پائے جاتے ہیں، جس سوچ کے لوگ تعداد میں زیادہ ہونگے ، اگلی نسل بھی اس ہی سوچ کو آگے لے کر چلے گی، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر انسان پوری عمر ایک ہی سوچ لے کر چل سکے، کیونکہ وقت ہمیشہ ایک نہیں رہتا، بدلتا رہتا ہے، جس کے ساتھ ساتھ سوچ بھی بدلتے رہتی ہے۔
    کوئی لڑکے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی جوانی میں سوچا ہوتا ہے کے زندگی میں سکون دینے والی ایک لڑکی آئیگی، جس کو جو حکم کروں گا وہ کرے گی، مگر اس کی والدہ اس دنیا سے چلے جاتی ہیں، اب وہ اپنے بوڑھے والد کو اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر دیتا ہے، گھر کی سفائی بھی خود کرتا ہے، کپڑے بھی خود دھوتا ہے، اب اس کو ہمارے معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جگہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ‘بیٹا شادی کرلو’ جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ سارے کام کاج کرنے والی ایک لڑکی گھر لے آؤ ۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      آپ کے کمنٹ کا شکریہ، میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ پاکستان میں ایسے مرد نہیں ہوگے، ضرور ہوں گے مگر بہت کم۔

  8. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Very good. He is the man.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      A real man.

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        In my opinion, real man is nothing. Either one is man or not a man 😀

      2. Jamshed asad کہتے ہیں
  9. آصف جیلانی کہتے ہیں

    ںحریم لاجواب تحریر ہے ۔یہ پڑھ کر پاکستان کے مردوں ئںکی آنکھیں کھل جانی چاہیں ۔ امید کم ہی ہے۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ سر۔ آپ میری تحریر پڑھتے ہین، یہی میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

  10. امجد کہتے ہیں

    تبھی تو وہ ممالک ہم سے اگے نکل گئے ہیں

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      اخلاقی طور پر بہت آگے ہیں وگرنہ تنزانیہ بہت پسماندہ ملک ہے۔

  11. captain bunty کہتے ہیں

    kamal ka article hai

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ

  12. ZAIN کہتے ہیں

    Wow this blog is very nice …
    Usually I never comment on blogs but your article is so convincing that I never stop myself to say something about it. You’re doing a great job,Keep it up.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      thanks

  13. Jamshed asad کہتے ہیں

    وہ ایک سیاہ فام مسلمان تھا۔ اس کا تعلق تنزانیہ کی آزاد اسلامی ریاست زنجبار سے تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی تھا۔ وہ اپنے ملک میں کافی مشہور تھا۔ وہ اینکر پرسن تھا، نیوز کاسٹر تھا، پروڈیوسر تھا، ڈائریکٹر تھا اور ایف ایم پر بھی ایک پراگرام کی میزبانی کرتا تھا۔

  14. Jamshed asad کہتے ہیں

    میرے والد گھر کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں وہ تقریباً ہمارے گھر میں ایک آمر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو وہ کہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی ہمارے گھر پر نہیں مار سکتا۔ گرچہ وہ بہت آزاد خیال انسان ہیں لیکن گھر کے سربراہ کی حیثیت سے گھر کے تمام فیصلے یا تو وہ کرتے ہیں یا حتمی مہر وہ لگاتے ہیں۔
    Humary ghar bhi yei rule hy

  15. Jamshed asad کہتے ہیں

    گو پاکستان میں اب کافی تبدیلی آ گئی ہے لیکن ابھی بھی ایک مڈل کلاس گھر میں بیٹی کا باہر کے ملک جا کر پڑھنا ناممکن ہے۔ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو بھیج بھی دے تو اسے رشتے داروں کی باتیں سننا پڑتی ہیں جس کے بعد یا تو وہ اپنی بیٹی کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس بلوا لیتا ہے یا اس کی واپسی کے بعد دوسری بیٹی کو باہر نہیں بھیجتا۔ کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں بیٹے تو ڈاکٹر، انجینئیر، صحافی اور دیگر اہم شعبہ جات کی ڈگری لیے ہوتے ہیں جبکہ بیٹیاں سادہ بی اے یا ایف اے کر کے گھر بٹھا لی جاتی ہ

  16. Salma khalid کہتے ہیں

    Boihat kkhobsoorat lekha miss tehreem

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      thanks

  17. Shahida latif کہتے ہیں

    Beutifil art. What a vision

  18. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    آپ کو زیادہ سے زیادہ لکھنا چاہئیے. دنیا بلاگ پر مجھے صرف دو ہی لکھنے والے پسند ہیں. ان میں سے ایک آپ ہیں.

  19. عرفان احمد کہتے ہیں

    عورت نے جنم دیا مردوں کو
    مردوں نے اسے بازار دیا.
    اسلام نے عورت کو مکمل آزادی دی ہے.انڈیا پاکستان کا معاشرہ ایسا ہے کہ ہم نے عورتوں کا یہ حق سلب کر رکھا ہے. میں آپ سے متفق ہوں

  20. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    تحریم آپ کی تحریر بھی اپ کی طرح پیاری ہے. زینب پر بھی لکھو.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      I have written few on Zainab.

  21. Kiran noor کہتے ہیں

    آج کل عورت کے حقوق پر لکھنا خاصا مشکل کام ہے. لگتا آپ نے معاشرے سے اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے کمر کس لی ہے. اور جب ایک عورت کچھ ٹھان لے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا. یم آپ کے ساتھ ہیں اس سفر میں.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  22. جہانزیب کہتے ہیں

    دنیا نیوز کا پلیٹ فارم ایکسپریس، ڈان اور جیو نیوز کے بلاگرز پلیٹ فارم پر بازی لے گیا ہے. جتنے اچھے آرٹییکل یہاں شائع ہوتے ہیں. کہں اور کم ہی دیکھے ہیں. دنیا نیوز آڈیٹوریل ٹیم کو سیلوٹ ہے جو آپ جیسے بہترین قلمکار سامنے لا رہی ہے.

  23. واجد خان کہتے ہیں

    آپ عورتوں کے حق میں لکھتی ہیں. ہم مردوں کو بھی آپ کا بلاگ پسند آیا

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ

  24. Jamshed asad کہتے ہیں
  25. امجد اقبال کہتے ہیں

    میں ایک بڑے میڈیا ہاوءس میں ایڈیڑ ہوں. ساری زندگی اسی دشت میں گزری ہے. روزانہ بلا ناغہ سینکڑوں کالمز موصول ہوتے ہیں. صرف چند ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ چھپ سکیں. آپ کی تحریر میں وہ کاٹ ہے جسے قاری محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا. اگر تحریر میں یہ خوبی نہ ہو تو چاہے عمر بھر لکھتے رہیں وہ چھپتا بھی جائے تو نوٹس نہیں ہوتا. اور کچھ لوگ آپ جیسا لکھتے ہیں جو کہیں بھی بھی چھپ جائے اپنا آپ منوا لیتا ہے. گڈ ورک بیٹا

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      درست کہا اپ نے امجد صاحب. یہاں ایسے ایسے لکھنے والے بھی موجود ہیں جو کئی برسوں سے دنیا نیوز پر لکھ اور چھپ بھی رہے ہیں مگر ان خی تحریر بالکل بے اثر ہوتی ہے. ایسے میں تحریم عظیم کا بلاگ تازہ ہوا کا جھونکا ہی ہے. اچھی تحریر ہو تو خود بخود کمنٹ اور تعریف کرنے کو دل کرتا ہے.

      1. تحریم عظیم کہتے ہیں

        آپ کو میری تحریر اچھی لگی، یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      سر میں بھی آپ سے متفق ہوں. میں کراچی میں ایک نیوز چیننل کا بیورو چیف ہوں. آپ کے متعلق جان کر خوشی ہوئی

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        واہ جاوید بھائی. آپ تو چھپے رستم نکلے.

    4. تحریم عظیم کہتے ہیں

      بہت شکریہ۔ جی میرے پاس بھی بہت سے ایسے بلاگز آتے ہیں جن میں بہت زیادہ ایڈیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ان میں سے کچھ کو ضرور جگہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ لوگ لکھنے سے ہی سیکھتے ہیں۔ میں نے بھی ایسے ہی سیکھا ہے اور ابھی بھی سیکھ رہی ہوں۔ بطور ایڈیٹر اگر ہمیں کچھ اختیارات حاصل ہیں تو ان کا استعمال لوگوں کی بھلائی کے لیے کرنا چاہئیے۔

  26. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    تحریم صاحبہ کے خیالات میں پختگی انہیں ممتاز بناتی ہیں ورنہ پچیس سال کیا پچاس سال کی عورتیں بھی عمیرہ احمد اور نمرہ احمد جیسی فضول کہانیاں لکھنے والوں کو پڑھنے میں وقت گزار دیتی ہیں.

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      نمرہ احمد تو بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ انہیں میں بھی پڑھ رہی ہوں اور بہت کچھ سیکھ رہی ہوں ان سے۔ آپ ان کا ناول جنت کے پتے اور نمل پڑھئیے گا، آپ کو اندازہ ہوگا ان کے کام کا

  27. سیخ وسیم کہتے ہیں

    سماں باندھ دیا تحریم

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      شکریہ

  28. شاہد علی جنگ گروپ کہتے ہیں

    “وہ کیسا مرد تھا”
    عنوان ایسا تھا کہ پڑھنے پر مجبور ہو گیا. میں مرد اور عورت کی برابری کا قائل نہیں ہوں. لیکن آپ کی لکھنے کی صلاحیت کا قائل ہو گیا ہوں. مضمون ،انداز بیاں، اسلوب سب بہترین ہے. ایک لکھاری کی حصوصیت ہے یہ ہوتی ہے کہ چاہے کوئی اس سے متفق ہو یا نہ ہو لیکن پر مصنف کی گرفت پر اعتراض نہ اٹھ سکے. اور یہ کمال آپ کے ہاں واضح ہے. آپ کی تحریر آپ کے وسیع مطالعہ کی ائینہ دار ہے

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      تعریف کا بہت شکریہ

تبصرے بند ہیں.