الیکشن 2018ء میں عزت دار کو ووٹ دو

2,607

الیکشن 2018ء کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف اس کا شور شرابا نظرآ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بہت آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ووٹ کے حوالے سے مقبول ہونے والا ایک نعرہ یہ بھی ہے کہ “عزت دار کو ووٹ دو “۔

انتظار کیا جا رہا ہے کہ کب نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ انتظار الیکشن کے امیدوار اور عوام دونوں کر رہے ہیں۔ عوام کا انتظار بھی عجیب ہے۔ انہیں ابھی تک یہ علم بھی نہیں کہ انہوں نے ووٹ کس امیدوار کو دینا ہے۔ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہم نے ووٹ فلاں جماعت کو دینا ہے یا برادری ازم کے رواج میں دینا ہے، بس ووٹ دینا ہے۔

ووٹ کی اہمیت کیا ہے، اس کی طاقت کیا ہے، اس سے عوام کو کوئی غرض نہیں اور غرض ہو بھی کیوں جب پورا الیکشن کا نظام ہی ایک بزنس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جمہوری حکومتوں میں ووٹ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ووٹر کو حکومتوں کی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں الیکشن سے پہلے صدارتی امیدوار اپنا منشور، میڈیا اور الیکشن کمپین کے ذریعے عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔ عوام اس منشور کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اپنا ووٹ کا استعمال کرتے ہیں مگر پاکستان میں عوام کا ووٹ دینے کیلئے طریقہ مختلف ہے۔

ہمارے ہاں عوام کی نظروں میں امیدوار کے اہل یا نااہل ہونے کا پیمانہ عجیب ہی ہوتا ہے۔ اس پیمانے میں بریانی کی پلیٹ، گلی کی نالی کو پختہ کروانا، اپنے بچوں کیلئے نوکری کا وعدہ لینا، امیدوار کا برادری سے تعلق ہونا، گاؤں یا حلقہ کے چوہدری کا حکم ہونا، آپ کی پسندیدہ پارٹی کا نشان ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام اپنے ووٹ کو بیچتی ہے۔ اس طرح الیکشن کے اس کرپٹ بزنس میں عوام بھی برابر کی شریک ہوتی ہے۔

ووٹ دینے سے پہلے عوام کے نزدیک امیدوار کی قابلیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن الیکشن کے بعد ہم نیک، اہل، قابل اور ایماندار حکومت کی خواہش کرتے ہیں۔ جن سیاسی لوگوں کو ہم نے اپنا ووٹ بیچا ہوتا ہے، الیکشن کے بعد ان کو کو ہی ہم 5 سال گالیاں نکالتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں۔ اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک پر ان کرپٹ مافیا کو مسلط کرنے میں ہمارا ہی کردار شامل ہے۔

عوام کوجب موقع ملتا ہے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا تو اس وقت اپنے ووٹ کو بیچنے کی بجائے ذرا سوچیں کہ کیا ہم اپنے ووٹ کا صیح استعمال کر رہے ہیں؟ جس امیدوار کو ہم ووٹ دے رہے ہیں کیا وہ ملک پاکستان کی ترقی و سلامتی کیلئے مناسب ہے؟ کیا وہ ملک پاکستان کو دنیا میں ایک باعزت مقام دلا سکے گا؟ مسلم ممالک میں ایٹمی پاور رکھنے والا واحد ملک ملک امت مسلمہ کی قیادت کے قابل ہو سکے گا؟ اگر ووٹ دینے سے پہلے ایسے کئی سوالوں پر غور کیے بغیر اس کرپٹ بزنس کا حصہ بننا ہے تو پھر زینب جیسی معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعات کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ یاد رکھیں اگر کسی عزت دار کو ووٹ دیں گے تو ہمارے گھروں کی اور اس ملک کی ہی عزت محفوظ ہو گی۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

41 تبصرے

  1. captain bunty کہتے ہیں

    bas is bar voting bhi khatarnak ho gai sharif awam kia kare sare k sare hukamran chor aa gay hoy hain

  2. کاشف احمد کہتے ہیں

    آپ کا تجزیہ بہت زبردست اور تلخ حقائق پر مبنی ہے ہم سب بحیثیت قوم اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا ہوگا ورنہ ہم یو نہی خوار ہوتے رہیں گے لیکن اگرعظت دار سے آپ کی مراد عمران خان ہیں تو کیا ہی اچھاہوتا اگر آپ آخر میں زینب قتل کیس کا تڑکا نہ لگاتے کیونکہ ایسے واقعات تو کے پی کے سمیت دوسرے صوبوں میں بھی ہورہے ہیں لیکن میڈیا کی زینت نہیں بنتے زینب قتل کے چند ہی دنوں بعد کراچی کے علاقے لانڈھی میں بھی ایک ایسا ہی واقع پیش آیا لیکن کسی بھی ادارے یا میڈیا نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ ابھی ہمارے ملک کے اداروں کو پی پی پی کی ضرورت ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے کیس بھی پراکسی سیاست کی نظر ہورہے ہیں اس لیئے اگر اگر آپ کسی خاص کیس کا حوالہ دینے کے
    بجائے عمومی بات کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا اور آپ کی بات زیادہ لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی شکریہ

  3. محمد محسن رضا کہتے ہیں

    زبردست جناب آپ کا تجزیہ لیکن لوگوں کو سمجھنے میں ابھی کافی عرصہ درکار ہے آپ جیسے لوگ کوشش کرتے رہے ایک دن بدل جائے گا انشاءاللہ

  4. Nadia کہتے ہیں

    الیکشن 2018ء کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف اس کا شور شرابا نظرآ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بہت آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ووٹ کے حوالے سے مقبول ہونے والا ایک نعرہ یہ بھی ہے کہ “عزت دار کو ووٹ دو “۔
    ۔

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  5. Nadia کہتے ہیں

    انتظار کیا جا رہا ہے کہ کب نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ انتظار الیکشن کے امیدوار اور عوام دونوں کر رہے ہیں۔ عوام کا انتظار بھی عجیب ہے۔ انہیں ابھی تک یہ علم بھی نہیں کہ انہوں نے ووٹ کس امیدوار کو دینا ہے۔ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہم نے ووٹ فلاں جماعت کو دینا ہے یا برادری ازم کے رواج میں دینا ہے، بس ووٹ دینا ہے۔

  6. Nadia کہتے ہیں

    ہم اپنے ووٹ کا صیح استعمال کر رہے ہیں؟و

    Buht acha article he.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  7. Jamshed asad کہتے ہیں

    عوام کوجب موقع ملتا ہے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا تو اس وقت اپنے ووٹ کو بیچنے کی بجائے ذرا سوچیں کہ کیا ہم اپنے ووٹ کا صیح استعمال کر رہے ہیں؟ جس امیدوار کو ہم ووٹ دے رہے ہیں کیا وہ ملک پاکستان کی ترقی و سلامتی کیلئے مناسب ہے؟ کیا وہ ملک پاکستان کو دنیا میں ایک باعزت مقام دلا سکے گا؟ مسلم ممالک میں ایٹمی پاور رکھنے والا واحد ملک ملک امت مسلمہ کی قیادت کے قابل ہو سکے گا؟ اگر ووٹ دینے سے پہلے ایسے کئی سوالوں پر غور کیے بغیر اس کرپٹ بزنس کا حصہ بننا ہے تو پھر زینب جیسی معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعات کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ یاد رکھیں اگر کسی عزت دار کو ووٹ دیں گے تو ہمارے گھروں کی اور اس ملک کی ہی عزت محفوظ ہو گی

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  8. Jamshed asad کہتے ہیں

    تھوڑا اختلاف ہے جزوی طور پر اچھی تحریر ہے

  9. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    واقعتا اچھی تحریر ہے. یہاں فضولیات لکھنے والے بھی ہیں جیسے کہ محمد علی میو اور عدنان احمد. آپ زیادہ لکھا کریں

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  10. Farid khattak کہتے ہیں

    سیاسی لوگوں کو ہم نے اپنا ووٹ بیچا ہوتا ہے، الیکشن کے بعد ان کو کو ہی ہم 5 سال گالیاں نکالتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں۔ اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک پر ان کرپٹ مافیا کو مسلط کرنے میں ہمارا ہی کردار شامل ہے
    Agree with you sir

  11. کامران شیخ کہتے ہیں

    بہت عمدہ صادق صاحب

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  12. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    پیارا لکھتے ہو بھائی

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

  13. Maryam humza کہتے ہیں

    ووٹ دینے سے پہلے عوام کے نزدیک امیدوار کی قابلیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن الیکشن کے بعد ہم نیک، اہل، قابل اور ایماندار حکومت کی خواہش کرتے ہیں۔ جن سیاسی لوگوں کو ہم نے اپنا ووٹ بیچا ہوتا ہے، الیکشن کے بعد ان کو کو ہی ہم 5 سال گالیاں نکالتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں۔ اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک پر ان کرپٹ مافیا کو مسلط کرنے

  14. مریم حمزہ کہتے ہیں

    بہت اچھی تحریر

  15. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

    چکا ہے۔

    جمہوری حکومتوں میں ووٹ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ووٹر کو حکومتوں کی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں الیکشن سے پہلے صدارتی امیدوار اپنا منشور، میڈیا اور الیکشن کمپین کے ذریعے عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔ عوام اس منشور کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اپنا ووٹ کا استعمال کرتے ہیں مگر پاکستان میں عوام کا ووٹ دینے کیلئے طریقہ مختلف

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  16. جہانزیب کہتے ہیں

    سعودیہ کے حالات پر بھی لکھیں

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  17. Danish کہتے ہیں

    Great

  18. امجد اقبال کہتے ہیں

    بہتر آرٹیکل ہے.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  19. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    خوب سے خوب تر کی تلاش ہے

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  20. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    آپ سعودیہ میں کیا کرتے ہو؟

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  21. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    آپ کی تعلیم کیا ہے؟ میں نے سنا ہے سعودیہ سے سب کو نکالا جا رہا ہے؟

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  22. Jamshed asad کہتے ہیں

    جاوید صدیقی ویسے تمھارے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں رہا

  23. Jamshed asad کہتے ہیں

    تو ہر پوسٹ کے نیچے جا کر فضول بکواس کرتا ہے.

    1. فاحد انعام کہتے ہیں

      ہاہاہا. واقعی یہ ہر پوسٹ کے نیچے جا کر فضولیات لکھتا ہے. صادق بھائی کی تو پھر تعریف کر رہا ہے ورنہ تو برائی ہی کرتا ہے

  24. فاحد انعام کہتے ہیں

    گنی چنی چند تحاریر میں سے ایک.گڈ ورک صادق بھائی

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  25. فاحد انعام کہتے ہیں

    ویسے میرا خیال ہے جب تک ووٹر ٹھیک نہیں ہوں گے مسئلہ حل نہیں ہو گا

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  26. Danish کہتے ہیں

    Awam main aur jahil awam main farq hai. Jahil awam ke vote ki waja se ba shaoor awam ko suffer karna parhta hai. Jab tak yeh jahalat khatam nahin hogi, us waqt tak awam ko vote ki samajh nahin ayegi. Jahil awam ke votes ki waja se Zardari jaisa insaan Pakistan ka president bun ke chala bhi gaya, kisi ne ek lafz nahin kaha.

تبصرے بند ہیں.