ریل گاڑی تا جہاز کا سفر

8,214

ریل گاڑی تا جہاز تک کا فرق وہی بتا سکتا ہے جس نے اپنے سفر کا آغاز ریل گاڑی سے کیا ہو اور کئی برسوں تک ریل گاڑی پر سفر کرنے کے بعد اسے اتفاقاَ جہاز کا سفر کرنے کا موقع ملا ہو۔

مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا پاکستانی طبقہ پاکستان کی کل آبادی کا 80 فیصد ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جن کے کمرے کا پنکھا چل چل کر شور کرنا شروع ہو جاتا ہے مگر وہ ہزار روپے خرچ کرکے پنکھا نہیں بدلتا کیونکہ اب اس کو اپنے پنکھے کے شور کے بغیر نیند بھی نہیں آتی۔

اس کو ہر سال دو سے تین مرتبہ کراچی تا فیصل آباد تک ریل گاڑی میں سفر کرنا پڑتا ہے، جانے کی وجہ یا تو عید ہوتی تھی یا کسی عزیزو اقارب کی شادی میں شرکت۔ اس سفر کا واحد راستہ ریل گاڑی ہے، جس کی کم سے کم ٹکٹ ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو روپے تک ہوتی ہے۔

ریل گاڑی کے ذریعے کراچی تا فیصل آباد تک کا سفر کم سے کم بیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ریل گاڑی مقررہ وقت پر ہی منزل مقصود پر پہنچے۔ ٹکٹ بکنگ فل ہونے کی صورت میں کچھ دن پہلے ہی سے بکنگ کروانی ہوتی ہے، جس کے لیے گھنٹوں قطاروں میں لگ کر اپنے نمبر کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔

بیماریوں سے بچنے کے لیے دو وقت کا کھانا گھر سے تیار کر کے لے جانا پڑتا ہے، واش روم میں لوٹا اور ہاتھ دھونے کے لیے صابن نہ ہونے کی صورت میں یہ اشیاء بھی ساتھ میں لازمی رکھنی ہوتی ہیں۔ کمپارٹمنٹ کا پنکھا خراب ہو تو شدید گرمی سے بچنے کے لیے ہاتھ والا پنکھا بھی ساتھ ہونا چاہئیے۔ ان تمام اشیاء کے ساتھ اپنا سامان لے کر ریلوے سٹیشن پہنچ کر اپنی ریل گاڑی کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ اگر اتفاق سے ریل گاڑی اپنے مقررہ وقت پر پہنچ جائے تو اس پر اپنا سامان لے کر سب کو دھکے دیتے ہوئے اپنی سیٹ تلاش کرنے کے بعد قبضہ کر کے بیٹھ جانا ہوتا ہے، نہیں تو کسی اور کا قبضہ بھی ہوسکتا ہے جس کے بعد طویل بحث ومباحثہ کرکے اپنی ٹکٹ دکھا کر سمجھانا ہوتا ہے کہ اس سیٹ پر سفر کرنے کا حق میرا ہے۔

288647_79943225

جس کے بعد اٹھارہ گھنٹے کا سفر ایسے ہوتا ہے کہ جسم کا انجر پنجر ہل جاتا ہے اور ایسا سفر ہر سال میں دو سے تین مرتبہ کرنے کی عادت ڈال لینا ہی غریب کے لیے آخری اور واحد راستہ ہوتا ہے۔

مگر ایک دن اس غریب کے ساتھ ایسا اتفاق ہوتا ہے جو پہلے نہیں ہوا ہوتا۔ اس بار اس کو یہ سفر ہوائی جہاز میں کرنا نصیب ہوتا ہے۔ یہ سفر شاید اس کے خوابوں میں سے ایک خواب ہے جس کی تکمیل کی وجہ اس کے کسی عزیز کی اچانک وفات ہے جس میں شرکت کے لیے اسے فوری طور پر فیصل آباد پہنچنا ہے۔

اب وہ ریلوے اسٹیشن کی بجائے ہوائی اڈے کا رْخ کرتا ہے۔ اسے اپنے سامان میں لوٹے یا صابن رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جہاز کا واش روم اس کے گھر کے بیت الخلاء سے بھی اچھا ہے۔ جیسے ہی وہ جہاز کے اندر پہلا قدم رکھتا ہے تو ائیر ہوسٹس اس کو سلام کرکے خوش آمدید کرتی ہے جس سے اس کے مزاج پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

xPIA1.jpg.pagespeed.ic.aBMpZg6aPS

اب اگر اسے پیاس بھی لگے تو سیٹ کے ساتھ لگا بٹن دبانے پر ائیر ہوسٹس پانی لیے حاضر ہو جاتی ہے، یہی ائیر ہوسٹس مقررہ وقت پر اس کا کھانا لیے بھی حاضر ہوتی ہے۔ جہاز میں چلنے والے اے سی کی وجہ سے اسے اپنے سامان میں رکھا ہاتھ والا پنکھا بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سفر کے دوران اسے اپنا ریل گاڑی کا وہ اٹھارہ گھنٹے کا سفر یاد آتا ہے جو سفر کم اور ذلت زیادہ ہے۔ 45 منٹ گزرنے کے بعد ہی جہاز میں اعلان ہو جاتا ہے کہ فیصل آباد آنے والا ہے جس کو سن کر وہ دل ہی دل میں کہتا ہے کہ کاش یہ سفر طویل ہوتا۔

جہاز سے اترتے ہوئے یہ غریب دعا کرتا ہے کہ اے خدا! پاکستان کے ہر غریب کو جہاز میں سفر کرنے کی استطاعت فرما اورہمارے ملک میں بھی باعزت، تیز رفتار اور آرام دہ سفری سہولتیں بنائی جائیں تاکہ عوام انگریزی والے suffer کی بجائے اردو والا سفر کیا کرے۔ آمین۔

 

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

37 تبصرے

  1. MUHAMMAD ALI کہتے ہیں

    IN SAHAB NA RAIL KA SAFAR KYA NAI SHAID WARNA YA AISI TAHRER KABI NA LIKHTA, JO MAZA RAIL KA SAFAR MA HA WO MERA KHYAL MA KISI B DOSRA SAFAR MA NAI HA CHAHA WO AIRPLANE KA SAFAR HI KYON NA HO

    1. عدنان کہتے ہیں

      یار ریل گاڑی پر میں نے سفر کیوں نہیں کیا ہوگا؟ ریل گاڑی کی ٹکٹ خریدنے کے لیے میڈیا سائینس کی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی، قومی شناختی کارڈ اور کچھ پیسے۔ بس

  2. چاوید صدیقی کہتے ہیں

    انتہائی ناقص تحریر

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    موجودہ دور حکومت میں ریلوے کے نظام میں بھی خاصی بہتری آئی ہے اچھا ہوتا اگر آپ سردست اس کا بھی ذکر کردیتے ایک تو ریلوے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے دوسرا پانی موجود ہوتا ہے اب تیسرا لوٹا بھی اب موجود ہوتا ہے لیکن یہ بات ٹھیک ہے کہ صابن موجود نہیں ہوتا حکومتی وزیر کو ضرور اس کا بندوبست کرنا چاہیے چوتھا پنکھے بھی اب چلتے ہوئے پائے جاتے ہیں پانچواں ریلوے اب ٹائم پر آتی اور جاتی ہیں بشرطیکہ کوئی بڑا حادثہ یا موسم کی خرابی نہ ہو ہاں لیکن بنا سیٹ اور ٹکٹ کے افراد اب بھی تنگ کرتے ہیں اور سیٹ پر قبضہ کرلیتے ہیں اس مسئلے پر ابھی تک قابو نہیں پایہ جا سکا میں نے ان باتوں کا ذکر اسلیئے کیا کیونکہ ان باتوں کا میں چشم دید گواہ ہوں اور دوسری بات یہ کہ اس حکومت کے وزیر نے انتھک محنت کرکے مردہ ریلوے میں جان ڈالی ہے ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے اور تیسری بات یہ کہ تنقید کے ساتھ اچھے کام بھی بتانے چاہیے تاکہ ریلوے پر عوام کس اعتماد خراب نہ ہوکیونکہ اس وقت ریلوے بحالی کی طرف جارہی ہے جتنے زیادہ لوگ ریلوے سے سفر کریں گے اتنا ہی ریلوے کی ترقی اور اہمیت میں اضافہ ہوگا اس ادارے سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے

    1. عدنان کہتے ہیں

      اور آخر میں کاشف صاحب کہ، میں نے اپنی کہانی میں کہیں بھی ایسا زکر نہیں کیا کے ریلوے کو بند کر کے ملازمین کو بے روزگار کردیا جاے،

      1. کاشف احمد کہتے ہیں

        ضروری نہیں کہ ہر بات کہی جائے لکھتے ہوئے یہ بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اس کا اثر لوگ کس طرح لے سکتے ہیں اور کیا کیا مطلب نکال سکتے ہیں لیکن آپ کی تحریر مجموعی طور پر اچھی میں نے اسے برا نہیں کہا کمی کی نشاندہی کی امید ہے آپ مثبت انداز سے لیں گے

        1. عدنان کہتے ہیں

          کاشف بھائی آپ تو استاد کی طرح سمجھا رہے ہیں، میں بس جاوید بھائی کی موبائل کی چارجنگ کا انتظار کرہا ہوں جنہوں نے *بےتکی* کہا۔

          1. کاشف احمد کہتے ہیں

            آپ انتظار نہ کریں انہوں ے شرارت کرنی تھی وہ کرلی

  4. عدنان کہتے ہیں

    کاشف بھائی،بہت شکریہ کے آپ نے اپنا وقت نکال کر میرا مضمون پڑھا، اور اس کے بعد نہایت ہی عمدہ طریقے سے اپنی رائے بیان کی، جس سے میں سو فیصد متفق رہتے ہوئے کہ بے شک موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان ریلوے میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے، مگر پھر بھی مزید بہتری لانے کی ضرورت درکار ہے ۔ میرے زہن میں ابھی آیا کے ٹرین میں بعض اوقات کھٹمل بھی بہت کاٹتے ہیں ، اور ایک مرتبہ میں کھڑکی کی طرف بیٹھا باہر کے نظارے کر رہا تھا اور میرے اپر برتھ میں ایک بچہ بیٹھا پیشاب کر رہا تھا، جس کے قطرے میرے اپر آرہے تھے۔

    1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      جی بالکل. میرا سیل فون چارج ہونے والا ہے. اس کو چارج کر لوں پھر ضرور ہائی لائٹ کر دیتا ہوں.انتظار فرمائے

      1. عدنان کہتے ہیں

        اوکے جی۔

  5. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    کاشف صائب آپ نے بہت شاندار کمنٹ کرتے ہوئے اس کالم کی غلطیاں واضح کر دی ہیں. انتہائی بے تکی تحریر ہے.

    1. عدنان کہتے ہیں

      جاوید پاین۔کیا آپ واضح کرسکتے ہیں کہ کونسی غلطیاں نظر آئی ہیں آپ کو۔

  6. نبیحہ کہتے ہیں

    ایک وقت تھا میڈیا میں صرف پولیٹیکل سائینس یا جرنلزم کرنے والے لوگ آتے تھے. سب کوئی بھی اٹھ کر کالم لکھ مارتا ہے جس سے معیاری کام ناپید ہے. یہ تحریر بھی لایعنی اور بے ربط الفاظوں کا مجموعہ ہے. جب تک میرٹ پرلوگ نہیں آئے گے ایسی ہی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی

    1. عدنان کہتے ہیں

      تعلیم یافتہ نبیحہ جی، آپ شاید سمجھ رہی ہیں کہ میرا مندرجہ بالا بلاگ پبلش ہونے کے بعد میں نے ایک عدد بلڈنگ بنا لی ہے، جب کے ایسا کچھ بھی نہیں، میرے پاس بی کام کی ڈگری ہے، کم سے کم دنیا نیوز کے ہیڈ آفس کے باہر گارڈ کی نوکری تو مل جائے گی۔

  7. کاشف احمد کہتے ہیں

    میرے کمنٹس کو اہمیت دینے کیلیئے شکریہ

    1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      کاشف بھائی اپ کے بلاگز پڑھے..مجھے پسند ہہں. لیکن میں نے شرارت نہہں کی نو یہ کہا کہ یہ اچھاضمون نہیں ہے. اب میں ریڈی ہوںمیں بتاتا ہوں کہ اس میں کیا کمیاں ہیں.

  8. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    ریل گاڑی تا جہاز تک کا فرق وہی بتا سکتا ہے جس نے اپنے سفر کا آغاز ریل گاڑی سے کیا ہو اور کئی برسوں تک ریل گاڑی پر سفر کرنے کے بعد اسے اتفاقاَ جہاز کا سفر کرنے کا موقع ملا ہو۔
    “”””””
    رہل گاڑی اور جہاز کا فرق بتانے کے لئے برسوں ریل گاڑی
    کے سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی. آپ ایک اہک دفعہ ہی دونوں میں سفر کر کے یہ فرق بتا سکتے ہیں)
    “”””””””،،،،،

    مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا پاکستانی طبقہ پاکستان کی کل آبادی کا 80 فیصد ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جن کے کمرے کا پنکھا چل چل کر شور کرنا شروع ہو جاتا ہے مگر وہ ہزار روپے خرچ کرکے پنکھا نہیں بدلتا کیونکہ اب اس کو اپنے پنکھے کے شور کے بغیر نیند بھی نہیں آتی۔
    جس کے بعد اٹھارہ گھنٹے کا سفر ایسے ہوتا ہے کہ جسم کا انجر پنجر ہل جاتا ہے اور ایسا سفر ہر سال میں دو سے تین مرتبہ کرنے کی عادت ڈال لینا ہی غریب کے لیے آخری اور واحد راستہ ہوتا ہے۔
    “””،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    ” پاکستان کی 80% آبادی شور والے پنکھے پسند کرتی ہے اور ریل گاڑی میں آٹھارہ آٹھارہ گھنٹے سفر کرتی ہے یہ درست نہیں ہے. انجر پنجر کیا ہوتا ہے؟ یہ اٹھارہ گھنٹے کے سفر سے تو ہل جاتا ہوگا لیکن ریل کا سفر قطعا بے آرام نہیں ہے. جہاز سے زیادہ آرام دے ہے.””
    “”””””””””،،،،،،،،،،،،،،،

    مگر ایک دن اس غریب کے ساتھ ایسا اتفاق ہوتا ہے جو پہلے نہیں ہوا ہوتا۔ اس بار اس کو یہ سفر ہوائی جہاز میں کرنا نصیب ہوتا ہے۔ یہ سفر شاید اس کے خوابوں میں سے ایک خواب ہے جس کی تکمیل کی وجہ اس کے کسی عزیز کی اچانک وفات ہے جس میں شرکت کے لیے اسے فوری طور پر فیصل آباد پہنچنا ہے۔

    اب وہ ریلوے اسٹیشن کی بجائے ہوائی اڈے کا رْخ کرتا ہے۔ اسے اپنے سامان میں لوٹے یا صابن رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جہاز کا واش روم اس کے گھر کے بیت الخلاء سے بھی اچھا ہے۔
    “”””””””””””” ،
    انتیہائی گمراہ کن بات ہے جہاز کا. اتھ رومبہت چھوٹا اور بے آرام ہوتا ہے اس کو باتھ روم نہیں کہہا جا سکتا بلکہ مجبوری کا نام شکرہہ والی بات ہے. وہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ ٹھیک سے بیٹھا بھی نہیں جا سکتا. اور کسی بھی مڈل کلاس آدمی کا واشروم بلکہ غریبوں کا بھی اس سے بہتر ہوتا ہے
    “”””::::::::::;;;;;;;;;;;;;

    جیسے ہی وہ جہاز کے اندر پہلا قدم رکھتا ہے تو ائیر ہوسٹس اس کو سلام کرکے خوش آمدید کرتی ہے جس سے اس کے مزاج پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
    :”””::::::::::::::
    پاکستان کا ٹرانسپورٹ کا نظام مجموعی طور پر بہت اچھا ہے، ٹرین سمیت بسیں بھی موجود ہیں اور بہت آرام دہ بھی. جہاں تک بات ہے ائیر ہوسٹس کے سلام کی وہ سلام آپ کو ڈائیو یا دوسری بسوں کے کرو بھی کرتی ہیں
    “””””””””””””””””””””””””””””

    اس کو ہر سال دو سے تین مرتبہ کراچی تا فیصل آباد تک ریل گاڑی میں سفر کرنا پڑتا ہے، جانے کی وجہ یا تو عید ہوتی تھی یا کسی عزیزو اقارب کی شادی میں شرکت۔ اس سفر کا واحد راستہ ریل گاڑی ہے، جس کی کم سے کم ٹکٹ ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو روپے تک ہوتی ہے۔

    ریل گاڑی کے ذریعے کراچی تا فیصل آباد تک کا سفر کم سے کم بیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ریل گاڑی مقررہ وقت پر ہی منزل مقصود پر پہنچے۔ ٹکٹ بکنگ فل ہونے کی صورت میں کچھ دن پہلے ہی سے بکنگ کروانی ہوتی ہے، جس کے لیے گھنٹوں قطاروں میں لگ کر اپنے نمبر کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔
    “””””””””””””””””””””””””””””””””
    ریلوے نظام میں جس تاخیر کا زکر کیا گیا ہے یہ بات سچ نہیں. سوائے کسی بڑے مسئلے کے ٹرین اپنے وقت پر ہی چلتی ہے کافی برسوں سے
    “””””””””””””””””””””””””” ”
    بیماریوں سے بچنے کے لیے دو وقت کا کھانا گھر سے تیار کر کے لے جانا پڑتا ہے، واش روم میں لوٹا اور ہاتھ دھونے کے لیے صابن نہ ہونے کی صورت میں یہ اشیاء بھی ساتھ میں لازمی رکھنی ہوتی ہیں۔ کمپارٹمنٹ کا پنکھا خراب ہو تو شدید گرمی سے بچنے کے لیے ہاتھ والا پنکھا بھی ساتھ ہونا چاہئیے۔ ان تمام اشیاء کے ساتھ اپنا سامان لے کر ریلوے سٹیشن پہنچ کر اپنی ریل گاڑی کا انتظار کرنا ہوتا ہے
    ” “”””””””””””””””””
    پنکھے ایسے بھی خراب نہیں ویسے بھی آپ ہزار روپے کی ٹکٹ کا مقابلہ بیس ہزار والی ٹکٹ سے کر رہے یہ عجیب لایعنی بات ہے، آپ تھوڑے پیسے خرچو تو اے سی پارلر لے لو. ٹرین کی کھڑکیاں کھلتی ہیں جس سے ہوا آتی ہے جہاز کے برخلاف
    “””””””،،،،،،،،،””””””””””””””

    ۔ اگر اتفاق سے ریل گاڑی اپنے مقررہ وقت پر پہنچ جائے تو اس پر اپنا سامان لے کر سب کو دھکے دیتے ہوئے اپنی سیٹ تلاش کرنے کے بعد قبضہ کر کے بیٹھ جانا ہوتا ہے، نہیں تو کسی اور کا قبضہ بھی ہوسکتا ہے جس کے بعد طویل بحث ومباحثہ کرکے اپنی ٹکٹ دکھا کر سمجھانا ہوتا ہے کہ اس سیٹ پر سفر کرنے کا حق میرا ہے۔
    اب اگر اسے پیاس بھی لگے تو سیٹ کے ساتھ لگا بٹن دبانے پر ائیر ہوسٹس پانی لیے حاضر ہو جاتی ہے، یہی ائیر ہوسٹس مقررہ وقت پر اس کا کھانا لیے بھی حاضر ہوتی ہے۔ جہاز میں چلنے والے اے سی کی وجہ سے اسے اپنے سامان میں رکھا ہاتھ والا پنکھا بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
    “”””””””””””””””””””””””””” ”
    یہ موازنہ کرتے ہوئے آپ نے دونوں کے کرائے میں فرق کا خیال کیوں نہیں کیا. اگر آپ کو کھانا اور سروسز چائیے تو بزنس وی آئی پی ٹرینز بھی ہیں ان میں بیٹھیں
    “””””””””””””” “””””””””””،، ،”
    اس سفر کے دوران اسے اپنا ریل گاڑی کا وہ اٹھارہ گھنٹے کا سفر یاد آتا ہے جو سفر کم اور ذلت زیادہ ہے۔ 45 منٹ گزرنے کے بعد ہی جہاز میں اعلان ہو جاتا ہے کہ فیصل آباد آنے والا ہے جس کو سن کر وہ دل ہی دل میں کہتا ہے کہ کاش یہ سفر طویل ہوتا۔
    “”””””””””””””””””””” “”
    خیرت ہے آپ نے فوتیدگی کی وجہ سے جلدی پہنچ جانے کے کئے جہاز کا سفر کیا تھا، ٹرین کے مقابکے میں کئی گنا پیسے خرچے تھے لیکن آپ کومرنے والے کا غم نہیں بلکہ جہاز کا سفر جلد ختم ہونے کا غم یے. کیا یہ بات ہضم ہو سکتی ہے؟
    جہاز سے اترتے ہوئے یہ غریب دعا کرتا ہے کہ اے خدا! پاکستان کے ہر غریب کو جہاز میں سفر کرنے کی استطاعت فرما اورہمارے ملک میں بھی باعزت، تیز رفتار اور آرام دہ سفری سہولتیں بنائی جائیں تاکہ عوام انگریزی والے suffer کی بجائے اردو والا سفر کیا کرے۔ آمین۔
    “””””””””””””””””””””” “””
    آپ کا تجزی100% نا مناسب غیر متوازن اور غیر حقیقی ہے. جو صرف چپھنے کے شوق میں زبردستی لکھا گیا ہے. اب آپ کی مرضی آپ جو بھی سمجھ کیں. میں نے آپ کا مضمون کاپی کر دیا ہے. اور جہاں ضروری تھا اپنے کمنٹ دے دئے ہیں. آپ چیک کر لیں

    1. عدنان کہتے ہیں

      جاوید بھائی، آپ سچ میں شرارتی لڑکے لگ رہیں، مگر ساتھ میں تھوڑا ڈیپریشن میں بھی لگ رہے ہیں۔ خوش رہا کریں بس۔

    2. عدنان کہتے ہیں

      محترم جاوید صاحب، سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ آپ کا موبائل چارج ہوچکا۔
      میری تحریر کو سو فیصد نامناسب قرار دینے کا شکریہ، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ میرے جواب سے کبھی متمعین نہیں ہوسکتے، مگر پھر بھی فارمیلیٹی تو پوری کرنی ہوگی مجھے، اور کاشف بھائی کا حکم بھی ہے۔ گزارش ہے کہ،

      اگر ایک ٹرین میں 20 ڈبے لگے ہوئے ہیں ،جن میں سے 15 اکانومی کلاس کے ہیں اور باقی اے سی کلاس، اب اگر بات کرلی جائے اکانومی کلاس کے 15 ڈبوں کی، جس میں ایک ڈبے میں اگر 10 کمرے ہیں، اور ہر ایک میں 6 لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے،
      مطلب 15 ڈبوں میں 150 کمرے ہوئے، اب یہ سب آپ کہ قسمت پر ہے کہ آپ کے کمرے میں موجود دونوں پنکھے چل رہے ہیں، تمام بتیاں بھی روشن ہیں، ڈسٹ بن بھی موجود ہے،کھٹمل بھی نہیں ہیں، سفائی کا نظام بھی بہتر ہے، ہر ایک ڈبے میں موجود چار واش روم جس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد کم سے کم 60 افراد پر مشتمل ہے، اور اگر ہر فرد اپنے بیس گھنٹے کے سفر میں تین بار واش روم جاتا ہے تو مطلب 180 مرتبہ واش روم استعمال ہورہا ہے، پانی کی ٹینکی میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی، اور یہ بھی لازم نہیں کہ ہر اسٹیشن کے اسٹاپ پر ٹینکی میں پانی بھرا جائے، جیسا کہ ضروری نہیں کہ ہر ٹرین اپنے مقررہ وقت میں ہی اپنی منزل پر پہنچے، کیونکہ دوسری ٹرین کے آنے کی وجہ سے کراسنگ کے لیے ایک ٹرین کو انتظار کروایا جاتا ہے، اور اس انتظار کا کوئی وقت بھی مقرر نہیں ہوتا، اس کے علاوہ انجن میں خرابی بھی اتفاقاً ہوجاتی ہے،
      اور اگر غریب تھوڑا سکون دہ سفر کرنا چاہتا ہے تو اس کو اے سی پارلر کی ٹکٹ لینی پڑتی ہے، جس کی صرف جانے رقم اتنی ہے کہ اس سے کم رقم میں وہ اکانومی کلاس میں آنا اور جانا کر سکتا ہے،
      فلہال اس مضمون میں ڈائیوو بس کا زکر نہیں کیا جارہا، ایک غریب کی ریل گاڑی کے سفر کا ایک امیر کے جہاز کے سفر سے موازنہ کیا جارہا ہے، جو کہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے ار سمجھنا چاہیں،

      مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غریب کو غریب ہونے کی سزا نہیں دی جائے ،غریب کو بھی سکون دیا جائے اور اگر سکون نہیں دیا جاسکتا تو کم سے کم ازیت دی جائے ۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        مین متفق ہو گیا ہوں. اپ نے جتنی محبت سے سمجھایا ہے . صرف اسی کے لئے میں آپ کا شکرگزار ہوں. . لکھتے رہئے.

      2. کاشف احمد کہتے ہیں

        عدنان صاحب کی بھرپور واپسی بہترین اور مدلل جواب پڑھ کر اچھا لگا اور جاوید صدیقی صاحب بھی مطمئن ہوگئے واہ عدنان صاحب آپ تو چھا گئے مارکیٹ میں

  9. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    جاوید صدیقی صاحب کے اٹھائے گئے اعتراضات قابل غور اور درست ہیں. بجائے یہ کہ ان کو شرارتی کہہ کع جان چھڑا کی جاتی. مصنف کو اپنا موقف دینا چاہئے تھا.

    1. عدنان کہتے ہیں

      جاوید صاحب کو متمعین کرنے کی تھوڑی سی کوشش کی ہے میں نے ساجد صاحب۔

  10. کاشف احمد کہتے ہیں

    جاوید صدیقی صاحب آپ نے بھرپور پوسٹ مارٹم کردیا بیشتر اعتراضات درست ہیں مصنف کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کی غرض سے ان اعتراضات کو مثبت انداز میں لے ایک بات کی خوشی یہ کہ اچھا لگا کہ یہاں ایسے لوگ بھی پڑھنے والے ہیں جو بغور ہر بات کا جائزہ لیتے ہیں اور اردو پر بھی عبور رکھتے ہیں اس لیئے مجھے بھی احساس ہوا آج پہلی بار کہ لکھتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ سوچ سمجھ کر لکھنا چاہیے کیونکہ یہاں پڑھنے والے لکھنے والوں سے بھی زیادہ قابل ہیں اور لکھنے والوں کو بھی چاہیے کہ پڑھنے والوں کی رائے کا احترام کریں کیونکہ یہ پڑھنے والے ہی تو ہیں جن کے لیئے ہم لکھتے ہیں

    1. عدنان کہتے ہیں

      سر بس سارا کمال جاوید بھائی کے موبائل کا ہے جو چارج ہو گیا ہے،

  11. Danish کہتے ہیں

    1999 main tezgaam main Karachi se Rawalpindi ka safar kiya tha. Intihayee thakan wala safar. Dust se kaprhay ganday ho gaye thay. Stations pe khana muzre sehat tha. Raat ke waqt bahir ghup andhera, khatra bhi mojood tha. Al gharz, jahaz ka safar behter, aram deh hota hai.

    1. عدنان کہتے ہیں

      دانش بائی، ابھی تو شکر ہے کہ آپ نے عوامی ایکسپریس میں سفر نہیں کیا،
      بہت شکریہ اپنی رائے دینے کے یے۔

  12. captain bunty کہتے ہیں

    hehe achi story hai 😀

    1. عدنان کہتے ہیں

      شکریہ کیپٹن صاحب

  13. واصف ملک کہتے ہیں

    Great work. Adnan sb

  14. کاشف احمد کہتے ہیں

    آخر میں ایک بات اور جاوید صدیقی صاحب آپ زرا ٹائٹل پر لگی تصویر پر غور فرمائیں جس میں ٹرین کی چھت تک لوگ بھرے ہوئے ہیں مجھے یہ تصویر پاکستان کی نہیں لگتی کیونکہ میں نے بہت ٹرین پر سفر کیا ہے لیکن ایسی صورت حال کھی نہیں دیکھی اور مجھے اس تصویر کے استعمال پر اچھا نہیں لگا کیونکہ یہ تصویر مجھے انڈیا یا بنگلہ دیش کی لگتی ہیں وہ لوگ ایسی تصویریں چھپاتے تاکہ ان کی غربت نظر نہ آئے اور ہم ان کی تصویریں اٹھا کر اپنی ریلوے کی منظر کشی کر رہےایسا نہیں ہونا چاہیے

    1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      یہ تصویر بے نظیر کے ٹرین مارچ کے دوران کی ہے. میں عدنان صاحب کی اپروچ سے بالکل متفق نہیں ہوں لیکن جسطرح انہوں نے تنقید خنداں پیشانئ سے برداشت کی ہے اور مجھےوضاحت دی ہے. یہ ان کے بااخلاق ہونے کی دلیل ہے. لکھتے رہیں گے تو پختگی بھی آجائے گی. آج کے بعد میں ان کی پوسٹ پر ایسے کمنٹ نہیں کروں گا جس سے ان کی دل آزاری ہو. ویسے بھی ہر انسان کی سوچ مختلفہو سکتی ہے. ضروری نہیں کہ جیسا میں سوچوں ویسا ہی وہ بھی سوچیں.

      1. کاشف احمد کہتے ہیں

        بلکل ٹھیک کہا آپ نے میں بھی اسی بات کا قائل ہو ں کہ کسی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے پر میں ابھی تحریر کی نہیں تصویر کی بات کر رہا تھا

        1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

          وہ میں نے اپ کو واضخ کر دیا ہے کہ پاکستان کی ہے اور ٹرین مارچ کی ہے. دنیا نیوز بہت اچھا مام کر رہا ہے. کبھی کبھسر غلطی کسی سے بھی کو سکتی ہے. لیکن پھیر بھی تصویر انڈیا یا بنگلہ دیش کی نہیں پاکستان کی ہی ہے. گڈ ورک دنیا نیوز اینڈ ایڈیٹوریم ٹیم. اس وقت ایکسپریس، ڈان اور جہو جنگ کے ہوتے ہوئے بھی سب سے بہتر پیج دنیا نیوز بلاگز کا ہی ہے. ہر وقت تنقید کی بجائے ہمیں تعریف کرنا بھی سیکھنی چاہئے. کاشف صاحب میں نے دیکھا ہے کہ اپ بھی میری ہی طرح دوسروں کی تحریر میں غلطیاں نکالنے کے ہی شوقین ہیں. نقاد ہونا اچھی بات ہے لیکن کبھی کبھی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہوجاتی یے.

          1. عدنان کہتے ہیں

            واہ، happy ending.

          2. کاشف احمد کہتے ہیں

            دنیا نیوز گروپ کی تو میں نے کوئی بات ہی نہیں کی تصویر پر آپ کی رائے مانگی اور اپنا موقف دیا اور میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ دنیا نیوز کی ایڈیٹوریل ٹیم سب سے بیسٹ ہے اور دوسری بات یہ کہ میں نے کھی بھی ایڈیٹوریل ٹیم پر تنقید نہیں کی اور نہ ہی ایسا کچھ کہا تصویر پر میں نے اپنا موقف دیا اسے کوئی تنقید نہیں سمجھے گا مجھے تو یہی امید ہے بلکہ مجھ سے زیادہ دنیا نیوز کا معترف کون ہوگا جنہوں نے مجھ جیسے گمنام انسان کو بھی موقع دیا اپنی بات کہنے کا مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میرے بارے میں اس طرح کے کمینٹس پاس کریں گے لیکن اگر آپ کو میرا کوئی بھی تبصرہ برا لگا ہو تو معذرت اور شاید آپ نے میرے وہ کمنٹس نہیں پڑھے جس میں میں نے کھل کر لوگوں کی تعریف کی اور میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ میری تنقید یا تعریف سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ میں تو اس بات کو صحیح یا غلط کہتا ہوں جس کو میں سمجھتا ہوں کہ وہ صحیح یا غلط ہے اور میرے سمجھنے سے کی کوئی حیثیت نہیں

تبصرے بند ہیں.