انسٹن گرین، اک جہاں اور بھی ہے

8,587

جب کبھی بھی انگلینڈ کی بات ہو تو سب سے پہلے لندن ہی ذہن میں آتا ہے۔ لندن کی بات بھی تو کچھ اور ہے۔

جہاں تک میری بات ہے تو مجھے لندن کا خیال  نہیں آتا۔ ایسا نہیں کہ لندن مجھے پسند نہیں، بہت پسند ہے۔ وہاں کا زیر زمین ریلوے کا نظام، ملٹی کلچرڈ سوسائٹی، پکاڈلی کی شامیں، ہائیڈ پارک، میرا پسند یدہ ڈونر کباب، غرض بہت کچھ۔۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ پسند ہی لندن کی وجہ سے ہے۔ لیکن میرے لئے برطانیہ کو پسند کرنے کی دو ہی وجوہات ہیں۔ ایک آکسفورڈ شائر کاونٹی کا قصبہ “انسٹن گرین” اور دوسرا برطانیہ کا فیروز کسام۔ سفر برطانیہ کی روداد تو آپ میرے سفرنامہ “جاناں ترے شہر میں” پڑھ سکتے ہیں۔ آج میرا موضوع میرا عشق میرا پسندیدہ گائوں “انسٹن گرین” اور میرے ہیروز میں سے ایک “فیروز کسام” ہے۔

instein green

آکسفورڈ شہر سے شمال مغرب میں چپنگ نارٹن شہر کی طرف سفر کریں تو قریب دس میل کی مسافت پر یہ گائوں آباد ہے۔ میں جب سے انگلینڈ آیا تھا فیروز کسام سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ان کی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ درجنوں بار کوشش کرنے کے باوجود ناکامی ہی حصے میں آئی تھی۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ اب یہ ملاقات شائد ممکن نہ ہو کہ ایک دن اچانک مجھے ایک کال موصول ہوئی۔ یہ کال کسام کے سٹاف میں سے کسی نے کی تھی۔ مجھے کہا گیا کہا گر کسام صاحب سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں تو آکسفورڈ کے لئے بس پکڑ لوں جو میں نے فوراً پکڑ لی۔ لندن سے چلنے والی یہ وائی فائی بس آکسفورڈ شہر کے دل میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے قرب میں واقع اسٹیشن پر اتارتی ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ انسٹن گرین جانے سے پہلے کیوں نہ اس یونیورسٹی کے درشن کر لوں جس کی شہرت بچپن سے ہی سنتا آیا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر اس خیال کو عملی جامہ نہ پہنایا کہ یونیورسٹی تو صدیوں سے یہیں موجود ہے، کل بھی دیکھ سکتا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ فیروز کسام سے ملاقات کا موقع گنوا بیٹھوں۔

Heythrop-Park

اس لئے چپنگ نارٹن جانے کے لئے بس پکڑ لی جس کے راستے میں انسٹن گرین نامی قصبہ پڑتا تھا۔ آکسفورڈ سٹی سے انسٹن گرین تک کا یہ سفر بمشکل پچیس منٹ کا تھا۔ اس دوران میں یہی سوچتا رہا کہ فیروز کسام نے کس ویرانے میں بلا لیا ہے۔ اس جگہ رہنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟

آپ یقیناً سوچ رہے ہں گے کہ میں کسام کا بار بار ذکر کیوں کر رہا ہوں۔ یہ کون صاحب ہیں۔ تو دوستوں کہانی کچھ یوں ہے کہ فیروز کسام ایک برٹش بزنس مین ہے جو تنزانیہ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ انیس سال کی عمر میں تنزانیہ سے برطانیہ چلا آیا۔ ستر کی دہائی کے آخر میں اس نے لندن کی ایک فش اینڈ چپس کی شاپ سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1980ء میں اس نے اپنا ایک چھوٹا سے ہوسٹل قائم کیا جہاں سیاسی پناہ لینے والے لوگوں کو رہائش مہیا کی جاتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ترقی کرتا گیا اور نوے کی دہائی میں فیروز کسام کئی فائیو سٹار ہوٹلز کا مالک بن گیا۔ اس نے آکسفورڈ شائر فٹبال کلب بھی خرید لیا، آکسفورڈ فٹبال سٹیدیم بھی بنا ڈالا۔ اب یہ آکسفورڈ اور برطانیہ کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گیا۔ فیروز کسام پر بننے والی ایک دستاویزی فلم میں نے دیکھ رکھی تھی اور میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسا کیسے ہوتا ہے کہ ایک محنت کش بغیر کسی سرمائے کے صرف اپنی محنت کے بَل بوتے پر اتنا آگے جا پائے۔

imgID147208289.jpg.gallery

انسٹن گرین کے بے نشان سے سٹاپ پر بس سے اترا تو فیروز کسام کا ڈرائیور مجھے وہاں لینے کے لئے آیا ہوا تھا۔ یہاں تک میں خاصا مایوس تھے کہ کہاں اتنی دور جنگلوں میں آ گیا ہوں جہاں نہ تو کوئی کبابش ہے، نہ ہی ڈکسی نہ ہے کے ایف سے اور مکڈونلڈ بھی کوئی نہیں۔ اور تو اور نہ بندہ نہ بندی زات۔ اس وقت تک میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا جائوں گے ویسے ویسے ہی اس قصبے کے عشق میں مبتلا ہوتا جائوں گا۔

گاڑی گائوں کے بیچ و بیچ جا رہی تھی اور میں اس علاقے کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لش گرین وادیاں، چاروں طرف سیب کے درخت۔ درختوں کو بے انتہا سرخ سیبوں نے جھکا رکھا تھا۔ میرا دل چاہا، گاڑی رکوائوں اور چند سیب ضرور توڑ لوں۔ برابر میں بہتی ندی کا ہلکا ہکا شور، بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ہماری منزل یہاں موجود ہیتھروپ پارک ہوٹل، کنٹری اینڈ گالف کلب تھا جسے حال ہی میں کسام نے خریدا تھا۔

ہوٹل کیا ایک سلطنت تھی۔ پرشکوہ عمارت، وسیع رقبہ، سبزہ، گالف کلب۔ سینکڑوں رومز، بڑے کشادہ ہالز، ہوٹل کی بار اور ریسٹورنٹ سے بھی باہر ندی اور سیب کے باغات کا نطارہ کیا جا سکتا تھا۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ میں نے فیروز کسام کو کہا تھا کہ میں آپ کو مل کر اگلے ہی روز واپس لندن آنا چاہتا ہوں لیکن اس نے کہا کہ نہیں آپ ایک رات یہاں قیام کرو گے۔ یہ جگہ ایسی تھی کہ ایک رات تو کیا بلاشبہ میں زندگی کی ساری راتیں بخوشی یہاں گزار سکتا تھا۔

heythrop-park-park-restaurant

رات کے کھانے پر فیروز کسام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا، سر کوئی بہت لمبے چوڑے سوالات نہیں ہیں۔ صرف ایک سوال ہے کہ وہ کیا فارمولہ ہے جس کو لگا کر ایک بے وسیلہ نوجوان دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہو سکتا ہے؟ فیروز کسام مسکرایا، اس نے کہا، سوال ایک ہے لیکن جواب ایسا بھی سادہ نہیں۔ برسوں کا سفر ہے جواب کے لئے پوری رات بھی ناکافی ہے۔ مختصر بتائے دیا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ پر بھروسہ۔ ایک ناکامی کچھ نہیں ہوتی، پے درپے ناکامیوں کو سہنا اور ٹوٹنا نہیں۔ اس نے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ ایک کامیاب شخص جتنی بار زندگی میں فیل ہوتا ہے اتنی بار تو ایک ناکام شخص نے کوشش بھی نہیں کی ہوتی۔ اس نے کہا کہ اس نے کوشش کرنی کبھی نہیں چھوڑی اسی لئے وہ کامیاب ہے۔ اس نے مجھے کچھ دستاویزی فلمیں دیں جو اس کی زندگی اور کامیابی پر فلمبند کی گئی تھیں۔ جنہیں اکثر میں تب دیکھتا ہوں جب میں اپنے آپ کو بہت ٹوٹا ہوا پاتا ہوں۔ ایسا کرکے مجھے نئی تازگی، جذبہ اور توانائی ملتی ہے۔

wasif malik and feroz kassam

آپ نے سفر برطانیہ کی رودادیں تو بہت پڑھ رکھ ہوں گی۔ یہ کتابیں، بلاگز، اور کالمز آپ کو مادام تساو، بکھنگم پیلس، لندن بریج، آکسفورڈ، برمنگھم، مانچسٹر اور گلاسگو کی کہانیاں تو بتاتے ہوں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ انسٹن گرین آپ نے آج ہی دریافت کیا ہو گا اور شائد فیروز کسام کو بھی۔ کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے، انسٹن گرین کا سفر میں کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ سفر میرے لئے واقعی وسیلہ ظفر ثابت ہوا کیونکہ اسی سفر کی بدولت مجھے انسٹن گرین جیسی جگہ اور فیروز کسام جیسا استاد ملا۔

واصف ملک شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹر، کالم نگار، اور بلاگر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

102 تبصرے

  1. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    بہترین تحریر. واصف ملک ہم کو تو آپ سے جیلسی ہونے لگی ہے. آپ نے تو لگتا پوری دنیا ہی دیکھ لی ہے. کبھی پاکستان آو تو ملنا. غریب خانہ اسلام اباد میں ہے. زندگی نے وفا کی تو انسٹن گرین تو ضرور دیکھیں گے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      جی سر ضرور

  2. Jamshed asad کہتے ہیں

    چھا گئے ہیں آپ

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thanks jamshed

  3. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    آپ نے سفر برطانیہ کی رودادیں تو بہت پڑھ رکھ ہوں گی۔ یہ کتابیں، بلاگز، اور کالمز آپ کو مادام تساو، بکھنگم پیلس، لندن بریج، آکسفورڈ، برمنگھم، مانچسٹر اور گلاسگو کی کہانیاں تو بتاتے ہوں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ انسٹن گرین آپ نے آج ہی دریافت کیا ہو گا اور شائد فیروز کسام کو بھی۔ کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے، انسٹن گرین کا سفر میں کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ سفر میرے لئے واقعی وسیلہ ظفر ثابت ہوا کیونکہ اسی سفر کی بدولت مجھے انسٹن گرین جیسی جگہ اور فیروز کسام جیسا استاد ملا۔

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank u

  4. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    واقعی انسٹن گرین کا بھی پتہ آج ہی چلا اور فیروز صاحب کا بھی. نیچے والی پکچر میں فیروز کسام کے ساتھ آپ ہیں ملک صاحب؟

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      جی خان صاحب یہ میری ہی تصویر ہے

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        کیا بات ہے جی

  5. Shahida latif کہتے ہیں

    Super duper blogger you are. You set new standard for travelogue writing. Respect and love. Stay safe.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank you very much indeed ma’m shahida. i ll see you in islamabad.

      1. Shahida latif کہتے ہیں

        Most welcome.

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

      Agreed shahida g

  6. Waqar کہتے ہیں

    اس نے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ ایک کامیاب شخص جتنی بار زندگی میں فیل ہوتا ہے اتنی بار تو ایک ناکام شخص نے کوشش بھی نہیں کی ہوتی۔
    Agree

    1. wasif malik کہتے ہیں

      shukria

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

      Me too

  7. Abid salim کہتے ہیں

    Way to go. Strikingly Beautiful, High-Value Content. Wondering how you could add tiny hooks to your content pieces to make your audience read your written materials first thing in the morning, i am impressed.
    Salam

    1. wasif malik کہتے ہیں

      wailiakum assallam abid sahib

    2. Wasif malik کہتے ہیں

      Thank u indeed.

  8. فیصل جمیل کہتے ہیں

    میں نے ٹویٹر پر بھی شئیر کیا ہے آپ کا بلاگ. مجھے بہت اچھا لگا.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      i am grateful faisal bhai.

  9. Nadia کہتے ہیں

    انسٹن گرین کے بے نشان سے سٹاپ پر بس سے اترا تو فیروز کسام کا ڈرائیور مجھے وہاں لینے کے لئے آیا ہوا تھا۔ یہاں تک میں خاصا مایوس تھے کہ کہاں اتنی دور جنگلوں میں آ گیا ہوں جہاں نہ تو کوئی کبابش ہے، نہ ہی ڈکسی نہ ہے کے ایف سے اور مکڈونلڈ بھی کوئی نہیں۔ اور تو اور نہ بندہ نہ بندی زات۔ اس وقت تک میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا جائوں گے ویسے ویسے ہی اس قصبے کے عشق میں مبتلا ہوتا جائوں گا۔

    گاڑی گائوں کے بیچ و بیچ جا رہی تھی اور میں اس علاقے کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لش گرین وادیاں، چاروں طرف سیب کے درخت۔ درختوں کو بے انتہا سرخ سیبوں نے جھکا رکھا تھا۔ میرا دل چاہا، گاڑی رکوائوں اور چند سیب ضرور توڑ لوں۔ برابر میں بہتی ندی کا ہلکا ہکا شور، بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ہماری منزل یہاں موجود ہیتھروپ پارک ہوٹل، کنٹری اینڈ گالف کلب تھا جسے حال ہی میں کسام نے خریدا تھا۔

    ہوٹل کیا ایک سلطنت تھی۔ پرشکوہ عمارت، وسیع رقبہ، سبزہ، گالف کلب۔ سینکڑوں رومز، بڑے کشادہ ہالز، ہوٹل کی بار اور ریسٹورنٹ سے بھی باہر ندی اور سیب کے باغات کا نطارہ کیا جا سکتا تھا۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ میں نے فیروز کسام کو کہا تھا کہ میں آپ کو مل کر اگلے ہی روز واپس لندن آنا چاہتا ہوں لیکن اس نے کہا کہ نہیں آپ ایک رات یہاں قیام کرو گے۔ یہ جگہ ایسی تھی کہ ایک رات تو کیا بلاشبہ میں زندگی کی ساری راتیں بخوشی یہاں گزار سکتا تھا۔

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thanks for sharing.

  10. Nadia کہتے ہیں

    FEATUREDآوارہ گردی
    انسٹن گرین، اک جہاں اور بھی ہے
    By واصف ملک On Mar 24, 2018
    Share 9 213
    جب کبھی بھی انگلینڈ کی بات ہو تو سب سے پہلے لندن ہی ذہن میں آتا ہے۔ لندن کی بات بھی تو کچھ اور ہے۔

    جہاں تک میری بات ہے تو مجھے لندن کا خیال نہیں آتا۔ ایسا نہیں کہ لندن مجھے پسند نہیں، بہت پسند ہے۔ وہاں کا زیر زمین ریلوے کا نظام، ملٹی کلچرڈ سوسائٹی، پکاڈلی کی شامیں، ہائیڈ پارک، میرا پسند یدہ ڈونر کباب، غرض بہت کچھ۔۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ پسند ہی لندن کی وجہ سے ہے۔ لیکن میرے لئے برطانیہ کو پسند کرنے کی دو ہی وجوہات ہیں۔ ایک آکسفورڈ شائر کاونٹی کا قصبہ “انسٹن گرین” اور دوسرا برطانیہ کا فیروز کسام۔ سفر برطانیہ کی روداد تو آپ میرے سفرنامہ “جاناں ترے شہر میں” پڑھ سکتے ہیں۔ آج میرا موضوع میرا عشق میرا پسندیدہ گائوں “انسٹن گرین” اور میرے ہیروز میں سے ایک “فیروز کسام” ہے۔

    instein green

    آکسفورڈ شہر سے شمال مغرب میں چپنگ نارٹن شہر کی طرف سفر کریں تو قریب دس میل کی مسافت پر یہ گائوں آباد ہے۔ میں جب سے انگلینڈ آیا تھا فیروز کسام سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ان کی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ درجنوں بار کوشش کرنے کے باوجود ناکامی ہی حصے میں آئی تھی۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ اب یہ ملاقات شائد ممکن نہ ہو کہ ایک دن اچانک مجھے ایک کال موصول ہوئی۔ یہ کال کسام کے سٹاف میں سے کسی نے کی تھی۔ مجھے کہا گیا کہا گر کسام صاحب سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں تو آکسفورڈ کے لئے بس پکڑ لوں جو میں نے فوراً پکڑ لی۔ لندن سے چلنے والی یہ وائی فائی بس آکسفورڈ شہر کے دل میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے قرب میں واقع اسٹیشن پر اتارتی ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ انسٹن گرین جانے سے پہلے کیوں نہ اس یونیورسٹی کے درشن کر لوں جس کی شہرت بچپن سے ہی سنتا آیا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر اس خیال کو عملی جامہ نہ پہنایا کہ یونیورسٹی تو صدیوں سے یہیں موجود ہے، کل بھی دیکھ سکتا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ فیروز کسام سے ملاقات کا موقع گنوا بیٹھوں۔

    Heythrop-Park

    اس لئے چپنگ نارٹن جانے کے لئے بس پکڑ لی جس کے راستے میں انسٹن گرین نامی قصبہ پڑتا تھا۔ آکسفورڈ سٹی سے انسٹن گرین تک کا یہ سفر بمشکل پچیس منٹ کا تھا۔ اس دوران میں یہی سوچتا رہا کہ فیروز کسام نے کس ویرانے میں بلا لیا ہے۔ اس جگہ رہنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟

    آپ یقیناً سوچ رہے ہں گے کہ میں کسام کا بار بار ذکر کیوں کر رہا ہوں۔ یہ کون صاحب ہیں۔ تو دوستوں کہانی کچھ یوں ہے کہ فیروز کسام ایک برٹش بزنس مین ہے جو تنزانیہ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ انیس سال کی عمر میں تنزانیہ سے برطانیہ چلا آیا۔ ستر کی دہائی کے آخر میں اس نے لندن کی ایک فش اینڈ چپس کی شاپ سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1980ء میں اس نے اپنا ایک چھوٹا سے ہوسٹل قائم کیا جہاں سیاسی پناہ لینے والے لوگوں کو رہائش مہیا کی جاتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ترقی کرتا گیا اور نوے کی دہائی میں فیروز کسام کئی فائیو سٹار ہوٹلز کا مالک بن گیا۔ اس نے آکسفورڈ شائر فٹبال کلب بھی خرید لیا، آکسفورڈ فٹبال سٹیدیم بھی بنا ڈالا۔ اب یہ آکسفورڈ اور برطانیہ کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گیا۔ فیروز کسام پر بننے والی ایک دستاویزی فلم میں نے دیکھ رکھی تھی اور میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسا کیسے ہوتا ہے کہ ایک محنت کش بغیر کسی سرمائے کے صرف اپنی محنت کے بَل بوتے پر اتنا آگے جا پائے۔

    imgID147208289.jpg.gallery

    انسٹن گرین کے بے نشان سے سٹاپ پر بس سے اترا تو فیروز کسام کا ڈرائیور مجھے وہاں لینے کے لئے آیا ہوا تھا۔ یہاں تک میں خاصا مایوس تھے کہ کہاں اتنی دور جنگلوں میں آ گیا ہوں جہاں نہ تو کوئی کبابش ہے، نہ ہی ڈکسی نہ ہے کے ایف سے اور مکڈونلڈ بھی کوئی نہیں۔ اور تو اور نہ بندہ نہ بندی زات۔ اس وقت تک میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا جائوں گے ویسے ویسے ہی اس قصبے کے عشق میں مبتلا ہوتا جائوں گا۔

    گاڑی گائوں کے بیچ و بیچ جا رہی تھی اور میں اس علاقے کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لش گرین وادیاں، چاروں طرف سیب کے درخت۔ درختوں کو بے انتہا سرخ سیبوں نے جھکا رکھا تھا۔ میرا دل چاہا، گاڑی رکوائوں اور چند سیب ضرور توڑ لوں۔ برابر میں بہتی ندی کا ہلکا ہکا شور، بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ہماری منزل یہاں موجود ہیتھروپ پارک ہوٹل، کنٹری اینڈ گالف کلب تھا جسے حال ہی میں کسام نے خریدا تھا۔

    ہوٹل کیا ایک سلطنت تھی۔ پرشکوہ عمارت، وسیع رقبہ، سبزہ، گالف کلب۔ سینکڑوں رومز، بڑے کشادہ ہالز، ہوٹل کی بار اور ریسٹورنٹ سے بھی باہر ندی اور سیب کے باغات کا نطارہ کیا جا سکتا تھا۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ میں نے فیروز کسام کو کہا تھا کہ میں آپ کو مل کر اگلے ہی روز واپس لندن آنا چاہتا ہوں لیکن اس نے کہا کہ نہیں آپ ایک رات یہاں قیام کرو گے۔ یہ جگہ ایسی تھی کہ ایک رات تو کیا بلاشبہ میں زندگی کی ساری راتیں بخوشی یہاں گزار سکتا تھا۔

    heythrop-park-park-restaurant

    رات کے کھانے پر فیروز کسام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا، سر کوئی بہت لمبے چوڑے سوالات نہیں ہیں۔ صرف ایک سوال ہے کہ وہ کیا فارمولہ ہے جس کو لگا کر ایک بے وسیلہ نوجوان دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہو سکتا ہے؟ فیروز کسام مسکرایا، اس نے کہا، سوال ایک ہے لیکن جواب ایسا بھی سادہ نہیں۔ برسوں کا سفر ہے جواب کے لئے پوری رات بھی ناکافی ہے۔ مختصر بتائے دیا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ پر بھروسہ۔ ایک ناکامی کچھ نہیں ہوتی، پے درپے ناکامیوں کو سہنا اور ٹوٹنا نہیں۔ اس نے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ ایک کامیاب شخص جتنی بار زندگی میں فیل ہوتا ہے اتنی بار تو ایک ناکام شخص نے کوشش بھی نہیں کی ہوتی۔ اس نے کہا کہ اس نے کوشش کرنی کبھی نہیں چھوڑی اسی لئے وہ کامیاب ہے۔ اس نے مجھے کچھ دستاویزی فلمیں دیں جو اس کی زندگی اور کامیابی پر فلمبند کی گئی تھیں۔ جنہیں اکثر میں تب دیکھتا ہوں جب میں اپنے آپ کو بہت ٹوٹا ہوا پاتا ہوں۔ ایسا کرکے مجھے نئی تازگی، جذبہ اور توانائی ملتی ہے۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Nice

  11. Nadia کہتے ہیں

    سچ مچ مسمرائز کر دینے والی تحریر ہے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      sab aap logon ki waja se hai. parrhne wala na ho tu likh kar faeda kya?

  12. Naeem akram کہتے ہیں

    Thank you for sharing this article with us.
    Dunya news

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank u naeem sb and thanks to dunya news.

  13. Maryam humza کہتے ہیں

    Truely beautiful piece.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      so are you maryam.

  14. Munna کہتے ہیں

    100
    ——
    100
    Number
    Good
    Writing
    Good
    Information

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank u munna bhai

  15. کرن نور کہتے ہیں

    آپ کی زنبیل میں کتنا کچھ ہے؟

    1. wasif malik کہتے ہیں

      kuch zada nahin miss kiran noor

      1. nadia کہتے ہیں

        میرا خیال ہے کہ کافی کچھ ہے

  16. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

    انسٹن گرین تو کیمرون سے بھی اچھا لگ رہا ہے آپ کی قسمت بہت اچجی ہے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank u jahanzeb sb

  17. Wajid khan کہتے ہیں

    Oxfordshire is beautiful county. Lancashire as well.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      sahi bat hai wajid sb

  18. نیا پاکستانی کہتے ہیں

    پاکستان کے بھی کسی شہر پر لکھیں

    1. wasif malik کہتے ہیں

      why not

  19. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    میں اور میری آوارگی
    کبھی اس نگر کبھی اس نگر. بھئی مزے ہیں آپ کے ہم کبھی کاغان ناران نہیں گئے آپ ورلڈ ٹور کر رہے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank u javed bhai

  20. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    اس طرح کی پوسٹ کر کےآپ ہماری محرومیوں پر نمک چھڑک رہے ہیں

    1. wasif malik کہتے ہیں

      mera aisa koi irada nahin tha. phir bhe taklif ke liye muazrat chahta hon javed bhai

  21. فاحد انعام کہتے ہیں

    انگلینڈ کا ویزہ ہوتا تو میں ضرور جاتا اس جگہ پر. دبئی اور سنگاپور ملاشیا وغیرہ کا بتائیں. وہا. ں کا ویزہ مل سکتا ہے ارام سے ان ملکوں کی اچھی اچھی جگہوں کے بارے میں لکھیں

    1. wasif malik کہتے ہیں

      okay sir

  22. Shaikh waseem کہتے ہیں

    فیروز کسام تو میرا بھی ہیرو بن گیا. سلیوٹ دس مین
    خدا سب کو ایسی کامیابی دے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      no doubt he is a role model for all of us.

  23. کامران شیخ کہتے ہیں

    ان ملکوں میں بندے کو صلہ بھی تو ملتا ہے محنت کا.تبھی ترقی کرتے ہیں ناں

    1. wasif malik کہتے ہیں

      allah sab ke madad farmae. aamin

  24. Hammad کہتے ہیں

    We arr far behind. In pakistan you cant be successful. Every one is against you. Leg pulling, jalousy everywhere.

    1. رانا فرمان کہتے ہیں

      پاکستان میں بھی کامیابی ممکن ہے. فارمولہ وہی ہے جو واصف ملک کو فیروز کسام نے بتایا ہے

    2. wasif malik کہتے ہیں

      we can.

    3. واصف ملک کہتے ہیں

    4. Wasif malik کہتے ہیں

      we can learn

  25. رانا فرمان کہتے ہیں

    بہت خوب. ترقی کے لئے نیک نیتی اور ناکامی کو قبول کرنے کی صلاحیت بہت ضروری ہے. فیروز کسام نے کامیابی کا بالکل درست فارمولا بتا یا ہے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      no doubt rana sb

  26. عرفان احمد کہتے ہیں

    کیا خوبصورت داستان ہے ترقی کی. فیروز کسام

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Thank u irfan

  27. Nadia کہتے ہیں

    مجھے لگتا ہے کہ ایک دن آنا ہیں کہ ہم نے آپ کی ترقی کی کہانی سنایا کرنی ہیں.☺

    1. واصف ملک کہتے ہیں
  28. علی عمران کہتے ہیں

    دیکھتے ہی دیکھتے میں تو آپ کا جبرا فین ہو گیا. آپ کی کتابیں بھی خرید کر لایا ہوں اور ڈسکایونٹ بھی نہیں ملا

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Lolz. Thanks ali

  29. امجد اقبال کہتے ہیں

    واہ بھئی واہ. تصویر تو بہت اچھی ہے.

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Thanks sir.

  30. Danish کہتے ہیں

    یہاں تو جو کسی ریسٹورنٹ میں نوکری لگ جائے. ساری عمر ویٹر ہی رہتا ہے. کسام جیسی قسمت بھی تو چاہئے

  31. Zahid shaikh کہتے ہیں

    Khubsurat insan khubsurat tahreer.

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Hahaha shaikh sb the great.

      1. Zahid shaikh کہتے ہیں
  32. Sabir کہتے ہیں

    How many counteries have you visited mr wasif?

  33. Kamran کہتے ہیں

    ✏ wanna write thw way you do.

  34. Waqar کہتے ہیں

    Food lahore ka
    Zindgi UK ki

    1. Jamshed Asad کہتے ہیں

      paya, chicken karahi, halwa puri

  35. ahmed moosa کہتے ہیں

    beautiful contribution. you will be great addition in travel-tale writing gener.

  36. ahmed moosa کہتے ہیں

    admirable @ # FEROZKASSAM #EINSTONGREEN #WASIFMALIK

  37. ali ahmad کہتے ہیں

    ایمانداری کی بات ہے یہ بلاگ بہت پسند آیا ہے

  38. afzaal chattha کہتے ہیں

    کیا نقشہ کھینچتے ہو ظالم۔ تمھارا کالم پر کے تو پاکستان میں د ہی نہیں لگ رہا۔

  39. afzaal chattha کہتے ہیں

    گاڑی گائوں کے بیچ و بیچ جا رہی تھی اور میں اس علاقے کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لش گرین وادیاں، چاروں طرف سیب کے درخت۔ درختوں کو بے انتہا سرخ سیبوں نے جھکا رکھا تھا۔ میرا دل چاہا، گاڑی رکوائوں اور چند سیب ضرور توڑ لوں۔ برابر میں بہتی ندی کا ہلکا ہکا شور، بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ہماری منزل یہاں موجود ہیتھروپ پارک ہوٹل، کنٹری اینڈ گالف کلب تھا جسے حال ہی میں کسام نے خریدا تھا۔

    ہوٹل کیا ایک سلطنت تھی۔ پرشکوہ عمارت، وسیع رقبہ، سبزہ، گالف کلب۔ سینکڑوں رومز، بڑے کشادہ ہالز، ہوٹل کی بار اور ریسٹورنٹ سے بھی باہر ندی اور سیب کے باغات کا نطارہ کیا جا سکتا تھا۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ میں نے فیروز کسام کو کہا تھا کہ میں آپ کو مل کر اگلے ہی روز واپس لندن آنا چاہتا ہوں لیکن اس نے کہا کہ نہیں آپ ایک رات یہاں قیام کرو گے۔ یہ جگہ ایسی تھی کہ ایک رات تو کیا بلاشبہ میں زندگی کی ساری راتیں بخوشی یہاں گزار سکتا تھا۔

  40. afzaal chattha کہتے ہیں

    جان من جان ہی نکال لی

  41. adil bashir کہتے ہیں

    wasif bhai thumbs up

  42. salman bin ali کہتے ہیں

    کہتے ہیں کامیابی تو نصیب سے ملتی ہے۔ کبھی کبھی ہمارے سامنے ایسی مثالیں بھی آجاتی ہیں جب کوئی ایسا انسان ملتا ہے جس نے اپنا نصیب خود بنایا ہوتا ہے۔ فیروز کسام کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ انسٹن گرین کے لئے صرف یہ کہوں گا کہ۔۔۔۔۔ میں جلد آؤں گا۔

  43. shabana sadiq کہتے ہیں

    تو جس لفظ ہر انگلی رکھ دے ۔۔۔ وہ روشن ہو جائے۔

  44. mustafa کہتے ہیں

    write something on singapore.

  45. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت عمدہ تحریر ہے انداز بیاں بھی خوب اور منظر کشی بھی بہترین ایسا لگا جیسے میں بھی آپ کا ہمسفر تھا تحریر ختم ہونے تک اور سب سے اچھی
    بات یہ لگی کے مسلسل کوشیش نیک نیتی اور خود پہ یقین سے ہی کامیابی ممکن ہے لیکن زندگی اور حالات سب کو یہ موقع فراہم نہیں کرتے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نیک نیت بھی ہوتے ہیں مسلسل کوشش بھی کرسکتے ہیں لیکن حالات انہیں اجازت نہیں دیتے ایسی صورت میں اگر آپ کے سینے میں پتھر دل ہو تو ہی آپ رسک لیتے ہیں اور رسک لیئے بغیر کامیابی ممکن نہیں اس لیئے میری نظر میں نصیب کا بھی زندگی میں ایک کردار ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی بادشاہ کے گھر اور کوئی فقیر کے گھر پیدا نہ ہوتا

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Thank u kashif bhai

  46. Adnan کہتے ہیں

    Bohat jald Wasi bhai k blogs main Views se zyada Comments hua karen gy !!

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Apka b shukriya adnan bhai

  47. Gulraiz کہتے ہیں

    Andaz e biyan kamal ka hy

  48. Munna کہتے ہیں

    کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے، انسٹن گرین کا سفر میں کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ سفر میرے لئے واقعی وسیلہ ظفر ثابت ہوا کیونکہ اسی سفر کی بدولت مجھے انسٹن گرین جیسی جگہ اور فیروز کسام جیسا استاد ملا۔

    سفر تو بے شک وسیلہ ظفر ہے

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ خضور

  49. Munna کہتے ہیں

    انسٹن گرین کے بے نشان سے سٹاپ پر بس سے اترا تو فیروز کسام کا ڈرائیور مجھے وہاں لینے کے لئے آیا ہوا تھا۔ یہاں تک میں خاصا مایوس تھے کہ کہاں اتنی دور جنگلوں میں آ گیا ہوں جہاں نہ تو کوئی کبابش ہے، نہ ہی ڈکسی نہ ہے کے ایف سے اور مکڈونلڈ بھی کوئی نہیں۔ اور تو اور نہ بندہ نہ بندی زات۔ اس وقت تک میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا جائوں گے ویسے ویسے ہی اس قصبے کے عشق میں مبتلا ہوتا جائوں گا۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      میں مشکور ہوں

  50. حامد چوہدری کہتے ہیں

    چار سو خوشبو پھیلاتی تحریر. مصنف کا فن تحریر کمال ہے. امید ہو اور بھی ایسی تحاریر دیکھنے کو ملیں گی.

  51. Aftab cheema کہتے ہیں

    زندگی ایک سفر ہے سہانہ. یہاں کل کیا ہو کس نے جانا. آپ کی بک جانا. تیرے شہر میں کہاں سے ملے گی؟

  52. کرن نور کہتے ہیں

    خوبصورت انداز بیاں

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ

  53. Gulraiz کہتے ہیں

    I wish you all the best.

  54. نیا پاکستانی کہتے ہیں

    بھائئ پاکستان پر لکھنے کی کئی بار گزارش کی ہے. کوئی مصنف تو لکھے پاکستان کے علاقوں پر.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      ایک دوست نے پتریاتہ پر لکھا ہے. وہ پڑھیئے

  55. واصف ملک کہتے ہیں

    میری سب پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ کمنٹ ضرور کیا کریں. تنقید کریں یا تعریف لیکن کمنٹ ضروری ہیں. تاکہ آپ کی آراء معلوم ہو سکیں

تبصرے بند ہیں.