فواد چوہدری سے عامر لیاقت تک

9,533

یہ جولائی 2011ء کی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹیریٹ میں کیپٹن (ر) حسن کے ساتھ موجود تھا۔ وہ میرے ساتھ چئیر مین پی ٹی آئی کے ویژن اور ملکی سیاست میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر ینگ انٹلکچوئیلز کا ایک تھنک ٹینک قائم کیا جائے تاکہ پاکستان کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر پالیسیز بنائی جائیں اور نوجوانوں میں سے بہترین دماغوں کو آگے لایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہی نوجوان پاکستان اور یہاں کی سیاست کا چہرہ بنیں۔ یہ تھنک ٹینک نوجوانوں کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کرے تاکہ پاکستان تحریکِ انصاف ان سفارشات کی روشنی میں پالیسیز مرتب کرکے نئے پاکستان کی تشکیل کر سکے۔ عمران خان نئے پاکستان میں پرانے گھسے پٹے سیاست دانوں کا کوئی کرداردیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اور وہ فرسودہ نظامِ سیاست کو یکسر بدل کر رکھ دینا چاہتے تھے۔

ینگ انٹلکچوئلز کی ٹیم تشکیل دینے کا کام انہوں نے کیپٹن حسن کو سونپا تھا، کیپٹن حسن کو اس سلسلے میں مدد درکار تھی۔ میرے لئے یہ بڑی خوشی کی بات تھی کہ آخر کار پاکستان نے ایک ایسا لیڈر پا لیا ہے جوروایت سے ہٹ کر سوچ سکتا ہے اور اس کے لئے عملی کام کر رہا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خان، شیخ رشید احمد ایسے” کامیاب “سیاستدان بننے کی نسبت ناکام ہونا پسند کرتے تھے۔ تب وہ شیخ رشید کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ تو دور انہیں اپنا چپڑاسی بنانے لائق بھی نہ سمجھتے تھے۔

بعد ازاں کیپٹن حسن نے میری ملاقات عمران خان سے بھی کروائی۔ چند منٹ کے لئے ہونے والی یہ ملاقات قریب پون گھنٹہ جاری رہی۔ عمران خان نے ینگ انٹلکچوئیل پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کوئی کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں تو آپ کو خواب دیکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے فاسٹ باؤلر بننے سے لے کر ورلڈ کپ جیتنے تک اور پھر شوکت خانم اسپتال کے قیام تک سب لوگ اس کو ناممکن کہتے رہے۔ لیکن وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے جتے رہے۔ اور انہوں نے سب کر دکھایا۔ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی اس لئے انہیں زندگی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اب لوگ کہتے ہیں کہ بڑے بڑے ناموں کے بغیر تحریکِ انصاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن وہ نوجوانوں کی مدد سے ملکی سیاست کے چلن کو ہمیشہ کے لئے بدل دیں گے۔ وہ کسی طور اپنے اصولوں کو قربان نہیں کریں گے۔ اس ملاقات نے مجھے بڑا متاثر کیا۔

عمران خان کی اِن باتوں نے مجھے 1992ء کی وہ صبح یاد دلادی جس روز فاتح کپتان، سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال کے اسمبلی ہال میں ہمارے سامنے موجود تھا۔ اسی جذباتی انداز میں انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے لئے باتیں کی تھیں۔ پھر انہوں نے اسپتال بارے جو خواب قوم کو دکھائے انہیں سچ کر دکھایا۔ اس ملاقات کے بعد مجھے پورا یقین ہو گیا کہ عمران خان پاکستان اور پاکستانیوں کی تقدیر بھی ضرور بدل دیں گے۔
لیکن اب کی بار میں غلط تھا، یہ مجھے 30 اکتوبر 2011ء کو پتہ لگا۔ اس دن نے عمران خان اور تحریک انصاف دونوں کا رخ بدل دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔ تحریکِ انصاف صفِ اول کی جماعت بن گئی اور عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہنما ہو گئے۔ پاکستانی سیاست کے کرپٹ اور گھسے پٹے چہرے جن سے عمران خان کو شدید نفرت تھی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر عمران خان کی جھولی میں گرنے لگے۔ عمران خان نے بھی “فرشتے کہاں سے لاؤں” کہہ کر انہیں سینے سے لگا لیا۔ جاگیر داروں، وڈیروں، پیروں اور سابق وزیروں کی یہ پلٹن تحریک انصاف کے سر کا تاج ہوئی۔ عمران خان روائیتی سیاست کا حصہ بن گئے۔ ہو سکتا ہے ان” منجھے” ہوئے سیاستدانوں کی انجمن سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ بھی پہنچا ہو لیکن ان کی شمولیت نے عمران خان کولاکھوں مخلص نوجوانوں سے دور کر دیا جو عمران خان کو نئے پاکستان کا سرخیل سمجھتے تھے۔

30 اکتوبر 2011ء سے عمران خان نے ‘ہیروں’ کی تلاش شروع کر دی ، ان کی یہ ہیروں کی تلاش فواد چوہدری اور عامر لیاقت پر آکر رکی۔ کہتے ہیں انسان کو خوش گمان ہونا چاہئیے لیکن اب انسان کتنا بھی خوش گمان ہو جائے تب بھی یہ گمان کیسے کئے جا سکتا ہے کہ فواد چوہدری اور عامر لیاقت جیسوں کے سنگ نئے پاکستان کی تعمیر کر لی جائے گی۔

پی ٹی آئی کا سارا ووٹ بنک عمران خان کی شخصیت ہی کی وجہ سے ہے، پھر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کرپٹ ٹولے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ ابھی بھی عام انتخابات میں کچھ وقت پڑا ہے۔ عمران خان نوسربازوں سے جان چھڑوا کر نوجوانوں کی نئی ٹیم بنائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو پھرآنے والے انتخابات میں انہیں کسی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی کوئی دھاندلی انہیں شکست دے پائے گی۔ عمران خان کو یاد رکھنا ہو گا کہ ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم جیسا ورلڈ کلاس اسپتال بنانے میں اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ تب انہوں نے اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا تھا، اس لئے انہیں سمجھوتہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔

واصف ملک شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹر، کالم نگار، اور بلاگر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

128 تبصرے

  1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    عمران نیازی کے قول و فعل میں تضاد ہے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      کچھ ایسا ہہ ہے صدیقی صاحب

    2. علی عمران کہتے ہیں

      میں تو سمجھا تھا آپ پی ٹی آئی کے ہو؟

      1. واصف ملک کہتے ہیں

        میں پاکستان کا ہوں

    3. Jamshed asad کہتے ہیں

      Beshak

  2. Jamshed asad کہتے ہیں

    ی ٹی آئی کا سارا ووٹ بنک عمران خان کی شخصیت ہی کی وجہ سے ہے، پھر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کرپٹ ٹولے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ ابھی بھی عام انتخابات میں کچھ وقت پڑا ہے۔ عمران خان نوسربازوں سے جان چھڑوا کر نوجوانوں کی نئی ٹیم بنائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو پھرآنے والے انتخابات میں انہیں کسی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی کوئی دھاندلی انہیں شکست دے پائے گی۔

    Main IK ka fan no 1 hon. Kash woh ye cheez smjh jae. K maqbooliyat uski hai in fraudioon ki nahin.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank you jamshed sahib.

    2. واصف ملک کہتے ہیں

      میرا خیال ہے کہ اب دیر ہو گئی ہے. سمجھ بھی جائے تو وقت گزر گیا ہے

    3. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      Kash.

  3. سیخ وسیم کہتے ہیں

    فواد چوہدری کی شکل سے ہی خباثت ٹپکتی ہے. رہی سہی کسر عامر لیاقت نے نکال دی ہے. بہترین تجزیہ

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      درست فرمایا

    2. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      Aisi wesi khabasat.

  4. Jamshed asad کہتے ہیں

    یہ مجھے 30 اکتوبر 2011ء کو پتہ لگا۔ اس دن نے عمران خان اور تحریک انصاف دونوں کا رخ بدل دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔ تحریکِ انصاف صفِ اول کی جماعت بن گئی اور عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہنما ہو گئے۔ پاکستانی سیاست کے کرپٹ اور گھسے پٹے چہرے جن سے عمران خان کو شدید نفرت تھی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر عمران خان کی جھولی میں گرنے لگے۔ عمران خان نے بھی “فرشتے کہاں سے لاؤں” کہہ کر انہیں سینے سے لگا لیا۔

    Yahin IK ghalati kar gya. Warna jese hospital ban gya tha. World cup bhi jeet gya tha. Ye PM bhi ban jata

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      یہ تو پتہ نہیں لیکن ان کو ساتھ نہ ملاتا تو اچھا تھا

    2. عرفان احمد کہتے ہیں

      سچی بات ہے جمشید بھائی.

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        شکریہ

  5. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    عمران خان اب بھی جیت سکتا ہے. اگر ججوں کا دفاع کرنا چھوڑ دے. اور سارے دو نمبر مال کو پارٹی سے نکال دے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      ہو بھی سکتا ہے

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        ایسا پونا مشکل ہے.

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

      مشکل ہے.

    3. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      Aisa waqiye mushkil hai.

  6. فاحد انعام کہتے ہیں

    اک واری فیر شیر ہی آئے گا. چاہے سارے جہاں کے چور اکھٹے کر لے. جیسے میراثی کا بچہ کبھی چوہدری نہیں بن سکتا ویسے ہی عمران خان کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      Ye aap kese kah sktay ho fahid saab kay imran khan wazeee e azam nahi banay ga. Is bar inshallah IK

      1. فاحد انعام کہتے ہیں

        جمشید صاب جو اپ کو پسند آپ اس کی تعریف کرو جو مجھکو پسند میں تو اسی کے لئے دعا کروں گا. اس میں آپ کو مسلہ نہیں ہونا چاہئے. میں نے آپ کے بلاگ پر کمنٹ نہیں کیا جو آپ کو آگ لگ رہی ہے.

        1. Jamshed asad کہتے ہیں

          Ja bhae apna kam kr. Aise e mera damagh na kharab kr. Choron ko side lete sharam bhi nahi ati.

          1. فاحد انعام کہتے ہیں

            عمران خان کیا ہے؟ وہ چور نہیں ہے؟ ناجائز اولاد کس کی ہے؟ اے ٹی ایم مشینیں کس نے رکھی ہوئی ہیں؟ آپ کو شرم آتی ہے ایک ناجائز بچی کے باپ کی سپورٹ کرتے ہوئے؟

          2. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

            آپس میں لڑائی کا کیا فائدہ ہے. کچھ مہینوں کی بات ہے. فیصلہ ہو جائے گا. بلا یا شیر

          3. واصف ملک کہتے ہیں

            ویسے عمران خان کیا ہے؟

    2. واصف ملک کہتے ہیں

      بچہ تو بچہ ہوتا ہے چاہئے میراثی کا ہو یا امام مسجد کا۔ قسمت اچھی ہو تو نظام سقہ بھی بادشاہ بن جاتا ہے

    3. واصف ملک کہتے ہیں

      وزیر اعظم بن بھی سکتا ہے اور نہیں بھی.

    4. Jamshed asad کہتے ہیں

      درست

  7. کاشف احمد کہتے ہیں

    میں اس بات سے متفق نہیں کے اگر ع۔ران خان الیکٹیبلز اکھٹے نہ کرے تو جیت جا میری نظر میں اگر عمران خان نے کبھی ایسا کیا تو موجودہ ووٹوں سے بھی کم ووٹ ملیں گے لیکن میں ضرور کہتہ ہوں فواد چوہدری اور عمر لیاقت جیسے سرٹیفائیڈ جھوٹے اور بے نسلے انسانوں کو بلکل نہیں لینا چاہیے اور قوم کو بھی تو سوچنا چاہیے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جو ہر سال پارٹی بدلتے ہیں اور جس پارٹی میں بھی جاتے ہیں وہاں فرنٹ مین بن جاتے ہیں آخر ان کے پاس ایسا کیا جادو ہے ؟

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      کاشف صاحب آپ نے بالکل درست کہا ہے. میں اکثر مختلف پوسٹس کے نیچے آپ کے کمنٹس پڑھتا ہوں. اور میں اپ سے اکثر و بیشتر متفق بھی ہوتا ہوں. آپ سے میری گزارش ہے کہ میری ہر تحریر پر اپنی رائے ضرور دیا کریں. آپ کی رائے واقع دوٹوک اور ایماندرانہ ہوتی ہے. میرا بھی خیال ہے عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتا. اور فواد و عامر کو لے کر بھی کوئی چانس نہیں ہے. تو پھر بدنام لوگوں کو لے کر اپنی عزت خراب کرنے کا کیا فائدہ ہے. یہ میرا اصل پوائنٹ ہے. ہاں جب کا یہ زکر ہے اگر تب وہ نوجوانوں کا چانس دیتا اور خیبر پختونخواہ میں کچھ کام کیا ہوتا تو بات دوسری تھی.

    2. عرفان احمد کہتے ہیں

      میرا خیال ہے جیت سکتا ہے.

    3. Jamshed asad کہتے ہیں

      آپ کی بات درست ہے.

  8. فرید خٹک کہتے ہیں

    عمران خان جعلی خان ہے. عقل سے پیدل ہے. یہ تو کبھی نہ بنے وزیراعظم

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      جعلی خان کیا ہوتا ہے؟

      1. فرید خٹک کہتے ہیں

        جعلی جیسے ڈگری جعلی ہوتی ہے

  9. رانا فرمان کہتے ہیں

    جو کارکردگی صوبہ سرحد میں دکھائی ہے وہی مرکز میں دکھائے گا اس کو موقع دینے کا کوئی فاعدہ نہیں

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں جناب

    2. واصف ملک کہتے ہیں

      عمران کے پاس کچھ بھی نہیں ہے بیچنے کے لئے

  10. سلیم عابد کہتے ہیں

    ڈاکٹر عامر لیاقت، فواد چوہدری بابر اعوان اور شیخ رشید پہلے عمران خان کو اور عمران خان ان مو گالیاں دیتا تھا. اب
    سب بھائی بھائی بنے ہوئے ہیں. ان کواتنی شرم نہیں آتی کہ عوام کے سامنے یہ سب کر رہے لوگ کیا کہیں گے. یہ بے شرم لوگ ہیں

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      بس سر ایسا ہی ہے

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

      بے شرم لوگ ہیں یہ

  11. Salma khalid کہتے ہیں

    Whats wrong with pak political leaders. They are all fake.

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      درست فرمایا آپ نے

  12. کامران شیخ کہتے ہیں

    میں تو ہمیشہ ایک ہی بات کہتا ہوں اور یہی ہوتا رہے گا. پی ٹی آئی کل کل کر کہے گی گو نواز گو پر اس نے نہیں جانا اور ہونا یہی ہے کہ رو عمران رو

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      وہ گو کرتے جائیں ھے آپ رو کرتے جانا

      1. Kamran کہتے ہیں

        وہی کر رہے ہیں سر ہم.

  13. کرن نور کہتے ہیں

    بہت جامع تحریر. عمران کا وقت اب گزر چکا ہے

    1. wasif malik کہتے ہیں

      Allah knows.

  14. Wajid khan کہتے ہیں

    شیر ہی باری لے گا دوبارہ

  15. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    عمران خان کے لئے..
    کیا چیتنے کا فاعدہ جب شب میں چیتا
    سونے کا سماء آیا تو بیدار ہوا میں

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      بہت عمدہ شعر سید صاحب

  16. نعیم اکرم کہتے ہیں

    عامر لیاقت اور فواد چوہدری کے حوالے سے لکھی گئی یہ سب سے بہترین تحریر ہے. ایکسپریس سمیت سب اخبارات میں اس پر کالم اور بلاگز چھپے ہیں. بلاشبہ دنیا نیوز بازی مار گیا ہے

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      بہت شکریہ نعیم اکرم صاحب سب تحاریر اچھی ہیں. میرا لکھا تو کچھ خاص نہیں.بس محبت ہے آپ کی. محبتیں ہی میرا سرمایہ ہیں سر.

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

      سو فیصد متفق.

  17. Shahida latif کہتے ہیں

    Top Article on this topic. Truely winner

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      سر تسلیم خم ہے

  18. عرفان احمد کہتے ہیں

    میں تو پی ٹی آئی سے ہوں. اور میں دکھی ہوں عامر لیاقت کے آنے پر.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      پی ٹی آئی کے ہر ایماندار سپورٹر کی آپ والی حالت ہی ہے. عرفان صاحب

    2. Faisal Raza کہتے ہیں

      bilkul drust, esy log jo kisi gali ke kan tuttay jesi zaban or jhoot ki shohrat rakhtay hon, jin kay paas 2 numbri kay certificate hon, jhooti doctorate ki shahkal main un key PTI main aany say kisi bhi PTI supporter ka khush hona kese mumkin hay

      1. واصف ملک کہتے ہیں

        Agree faisal sb

      2. Jamshed asad کہتے ہیں

        Agree with faisal sahab.

    3. واصف ملک کہتے ہیں

      درست فرمایا

    4. Jamshed asad کہتے ہیں

      دکھ بےکار ہے.

  19. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

    پیپلز پارٹی سے بھی ہاتھ ملا لیا. عامر لیاقت جیسے اچکے بھی آگئے.
    Inna lillahe innahw ilaahe raajiun

  20. Nadia کہتے ہیں

    0 اکتوبر 2011ء سے عمران خان نے ‘ہیروں’ کی تلاش شروع کر دی ، ان کی یہ ہیروں کی تلاش فواد چوہدری اور عامر لیاقت پر آکر رکی۔ کہتے ہیں انسان کو خوش گمان ہونا چاہئیے لیکن اب انسان کتنا بھی خوش گمان ہو جائے تب بھی یہ گمان کیسے کئے جا سکتا ہے کہ فواد چوہدری اور عامر لیاقت جیسوں کے سنگ نئے پاکستان کی تعمیر کر لی جائے گی۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ

      1. Nadia کہتے ہیں

        My pleasure.

        1. Nadia کہتے ہیں

          گوگل.پلس پر آپ کی ویب سائٹ دیکھی. بہت کچھ پڑھا . مزہ آیا. ویڈیوز بھی لاجواب رہیں.

    2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

      خوش گمانی کی بھی حد ہوتی ہے

  21. Nadia کہتے ہیں

    اور یہ تلاش جے آئی ٹی کے ہیروں تک آکر تمام ہو گئی.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      کہہ سکتے ہیں

  22. Amjad iqbal کہتے ہیں

    V nice

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      Agree.

  23. مریم حمزہ کہتے ہیں

    خوب سے خوب تر لیڈرران ملت مل رہے ہمیں

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  24. رانا فرمان کہتے ہیں

    عمران خان کی اِن باتوں نے مجھے 1992ء کی وہ صبح یاد دلادی جس روز فاتح کپتان، سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال کے اسمبلی ہال میں ہمارے سامنے موجود تھا۔ اسی جذباتی انداز میں انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے لئے باتیں کی تھیں۔ پھر انہوں نے اسپتال بارے جو خواب قوم کو دکھائے انہیں سچ کر دکھایا۔ اس ملاقات کے بعد مجھے پورا یقین ہو گیا کہ عمران خان پاکستان اور پاکستانیوں کی تقدیر بھی ضرور بدل دیں گے۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ

  25. رانا فرمان کہتے ہیں

    ملک صاحب آپ بھی سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال سے فارغ التحصیل ہیں

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      ہاں جی

  26. نیا پاکستانی کہتے ہیں

    اچھا ہے

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      نوازش

  27. Hammad کہتے ہیں

    ۔ عمران خان کو یاد رکھنا ہو گا کہ ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم جیسا ورلڈ کلاس اسپتال بنانے میں اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ تب انہوں نے اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا تھا، اس لئے انہیں سمجھوتہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا
    Imran kay liye jan by qurban۔

  28. Hammad کہتے ہیں

    Lakin aamir liquat hussain namanzor

    1. جہانزیب کہتے ہیں

      ہمیں بھی.

  29. afzaal chattha کہتے ہیں

    پی ٹی آئی کا سارا ووٹ بنک عمران خان کی شخصیت ہی کی وجہ سے ہے، پھر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کرپٹ ٹولے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ ابھی بھی عام انتخابات میں کچھ وقت پڑا ہے۔ عمران خان نوسربازوں سے جان چھڑوا کر نوجوانوں کی نئی ٹیم بنائیں۔

  30. afzaal chattha کہتے ہیں

    ab waqt guzar chuka hay

  31. سجیل سرور کہتے ہیں

    اب واپسی ناممکن ہے۔ کپتان اب آشکار ہو رہا ہے زمانے پر۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      آپ سب کے کمنٹس سے تو یہی لگ رہا کہ مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے.

  32. گوہر کہتے ہیں

    انہوں نے کہا کہ اب لوگ کہتے ہیں کہ بڑے بڑے ناموں کے بغیر تحریکِ انصاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن وہ نوجوانوں کی مدد سے ملکی سیاست کے چلن کو ہمیشہ کے لئے بدل دیں گے۔ وہ کسی طور اپنے اصولوں کو قربان نہیں کریں گے۔ اس ملاقات نے مجھے بڑا متاثر کیا۔

    پھر یوں ہوا کہ سیاست کا چلن تو نہ بدل پائے خود کو بدل دہا

  33. Nadia کہتے ہیں

    افسوس اس بات کا ہے کہ آس بہت لگا دی تھی. اب ٹوٹی ہے تو غم ہو رہا

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      True

  34. سلیم عابد کہتے ہیں

    غیر حقیقی امیدیں یوں ہی ٹوٹتی ہیں

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Beshak

  35. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    فیصل رضا آپ بھی پی ٹی ائی سے مایوس لگ رہے ہیں

  36. Waqar کہتے ہیں

    Very balanced analaysis

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Thanks

  37. Waqar کہتے ہیں

    Pakistan seeks one honest man

  38. واصف ملک کہتے ہیں

    سب دوستوں کی محبتوں کا شکریہ اپ سب کے کمنٹس اور وقت نکال کر اس ناچیز کی تحاریر پڑھنا میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے. آپ مجھ سے براہ راست یہاں رابطہ کر سکتے ہیں.
    an.objective@gmail.com
    Twitter: @wasifmalik23

    1. Kamran کہتے ہیں

      Thanks

    2. Kiran noor کہتے ہیں

      Thank you

  39. sobia anjum کہتے ہیں

    i wish to read you on regular basis. keep writing.

  40. Jamshed Asad کہتے ہیں

    sab he mayoos hain pti se

  41. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت شکریہ واصف صاحب کبھی کبھی میں بہت سخت تنقید بھی کردیتا ہوں امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے کیونکہ میرا مقصد اصلاح اور حقائق کی درستگی کے سوا کچھ نہیں ہوتا

    1. wasif malik کہتے ہیں

      کاشف صاحب سر آنکھوں پر۔ شوق سے کیجئے گا۔

      +601114473149 my whatsapp
      بلکہ آپ واشنگٹن پوسٹ، ایشیا ٹائمز، دئ سٹار میں چھپنے والے میرے بلاگز اور تجزیات کا بھی سخت پوسٹ مارٹم کیا کیجئے۔

  42. mustafa کہتے ہیں

    یکن اب کی بار میں غلط تھا، یہ مجھے 30 اکتوبر 2011ء کو پتہ لگا۔ اس دن نے عمران خان اور تحریک انصاف دونوں کا رخ بدل دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔ تحریکِ انصاف صفِ اول کی جماعت بن گئی اور عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہنما ہو گئے

    he is exposing now

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Aisa he hai

  43. aaliya کہتے ہیں

    عمران خان کو بے وقوف بنا کر سیاست سے آوٹ کر دیا گیا ہے

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Usko bewaqof ni ban’na. CHahy tha

  44. Ali imran کہتے ہیں

    Acha subject hai

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Thanks

  45. Ali imran کہتے ہیں

    عمران خان کی اِن باتوں نے مجھے 1992ء کی وہ صبح یاد دلادی جس روز فاتح کپتان، سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال کے اسمبلی ہال میں ہمارے سامنے موجود تھا۔ اسی جذباتی انداز میں انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے لئے باتیں کی تھیں۔ پھر انہوں نے اسپتال بارے جو خواب قوم کو دکھائے انہیں سچ کر دکھایا۔ اس ملاقات کے بعد مجھے پورا یقین ہو گیا کہ عمران خان پاکستان اور پاکستانیوں کی تقدیر بھی ضرور بدل دیں گے۔
    لیکن اب کی بار میں غلط تھا، یہ مجھے 30 اکتوبر 2011ء کو پتہ لگا۔ اس دن نے عمران خان اور تحریک انصاف دونوں کا رخ بدل دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔ تحریکِ انصاف صفِ اول کی جماعت بن گئی اور عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہنما ہو گئے۔ پاکستانی سیاست کے کرپٹ اور گھسے پٹے چہرے جن سے عمران خان کو شدید نفرت تھی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر عمران خان کی جھولی میں گرنے لگے۔ عمران خان نے بھی “فرشتے کہاں سے لاؤں” کہہ کر انہیں سینے سے لگا لیا۔ جاگیر داروں، وڈیروں، پیروں اور سابق وزیروں کی یہ پلٹن تحریک انصاف کے سر کا تاج ہوئی۔ عمران خان روائیتی سیاست کا حصہ بن گئے۔ ہو سکتا ہے ان” منجھے” ہوئے سیاستدانوں کی انجمن سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ بھی پہنچا ہو لیکن ان کی شمولیت نے عمران خان کولاکھوں مخلص نوجوانوں سے دور کر دیا جو عمران خان کو نئے پاکستان کا سرخیل سمجھتے تھے۔

    1. Wasif malik کہتے ہیں

      Shukriya

  46. captain bunty کہتے ہیں

    pti jitni gandi jamat puri dunya main nahi ho gi in k opar thok bhi phenko to apna thok bhi ganda ho jay ga itni gandi jamat hai truely mailay log

  47. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    سب کہہ دیا

  48. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    پی ٹی آئی کا سارا ووٹ بنک عمران خان کی شخصیت ہی کی وجہ سے ہے، پھر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کرپٹ ٹولے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ ابھی بھی عام انتخابات میں کچھ وقت پڑا ہے۔ عمران خان نوسربازوں سے جان چھڑوا کر نوجوانوں کی نئی ٹیم بنائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو پھرآنے والے انتخابات میں انہیں کسی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی کوئی دھاندلی انہیں شکست دے پائے گی۔ عمران خان کو یاد رکھنا ہو گا کہ ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم جیسا ورلڈ کلاس اسپتال بنانے میں اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ تب انہوں نے اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا تھا، اس لئے انہیں سمجھوتہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا

  49. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    عمران خان بے شرم آدمی ہے. وہ کبھی ان کو نہیں نکالے گا. اے ٹی ایم کا زکر تو آپ بھول ہی گئے.

  50. Irfan ahmed کہتے ہیں

    I love imran khan.

  51. Kaleem Ullah کہتے ہیں

    wasif sb jab aap kay blog me dilchaspi barhni shoro howi to blog hi khatam hogaya. nice work.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      ہاہا. بہت شکریہ کلیم بھائی. دلچسپی کے لئے میں آپ کا مشکور ہوں. . مجھے پڑھتے رہئے اور کمنٹ بھی کرتے رہئے.

  52. Shabbir کہتے ہیں

    Let him comes in power.
    With ideal principle politics he can only win in urban areas but in rural area electable are required to win election unfortunately.
    What we observe in 2013 election ?

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Agree.shabbir sb.

  53. Wajid khan کہتے ہیں

    Best of the best.

  54. تحریم عظیم کہتے ہیں

    same IP address as of Wasif Malik

  55. تحریم عظیم کہتے ہیں

    same IP address as of Wasif Malik

  56. تحریم عظیم کہتے ہیں

    same IP address as of Wasif Malik

تبصرے بند ہیں.